🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ:
باب: رات کی نماز دو دو رکعت ہیں اور وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 749 ترقیم شاملہ: -- 1750
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ ".
عمرو نے کہا: ابن شہاب نے اس سے بیان کیا کہ اسے سالم بن عبداللہ بن عمر اور حمید بن عبدالرحمان بن عوف دونوں نے عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے کہا: ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور جب تمہیں صبح ہونے کا خطرہ ہو تو ایک ایک رکعت (پڑھ کر انہیں) وتر کر لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1750]
عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! رات کی نماز کی کیا کیفیت ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو، دو رکعت ہے اور جب تمہیں صبح ہونے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1750]
ترقیم فوادعبدالباقی: 749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 749 ترقیم شاملہ: -- 1751
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَبُدَيْلٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّائِلِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ قَالَ: " مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً، وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا "، ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، وَأَنَا بِذَلِكَ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي هُوَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ.
ابوربیع زہرانی نے کہا: ہمیں حماد نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ایوب اور بدیل نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اور میں آپ اور پوچھنے والے کے درمیان میں تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دو رکعتیں، پھر جب تمہیں صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو اور وتر کو اپنی نماز کا آخری حصہ بناؤ۔“ پھر سال کے بعد ایک آدمی نے آپ سے پوچھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اسی جگہ (درمیان میں) تھا اور مجھے معلوم نہیں کہ وہ پہلے والا آدمی تھا یا کوئی اور، اسے بھی آپ نے اسی طرح جواب دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1751]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور پوچھنے والے کے درمیان میں تھا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! رات کی نماز کیسے ہوتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو، دو رکعتیں، پھر جب تمہیں صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو اور وتر کو اپنی نماز کا آخری حصہ بناؤ۔“ پھر سال کے بعد ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اسی جگہ (درمیان میں) تھا اور مجھے معلوم نہیں وہ پہلے والا آدمی تھا یا کوئی اور، اسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح جواب دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1751]
ترقیم فوادعبدالباقی: 749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 749 ترقیم شاملہ: -- 1752
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَبُدَيْلٌ ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَا بِمِثْلِهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ وَمَا بَعْدَهُ.
ابوکامل نے کہا: ہمیں حماد نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ایوب، بدیل اور عمران بن حدیر نے عبداللہ بن شقیق سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، نیز (دوسری سند سے) محمد بن عبید غبری نے کہا: ہمیں حماد نے حدیث سنائی، کہا: ہم سے ایوب اور زبیر بن خریت نے عبداللہ بن شقیق سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ پھر دونوں (ابوکامل اور محمد بن عبید) نے اوپر والی روایت بیان کی مگر ان دونوں کی روایت میں "ایک آدمی نے آپ سے ایک سال گزرنے کے بعد پوچھا" اور اس کے بعد کا حصہ مروی نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1752]
ترقیم فوادعبدالباقی: 749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 750 ترقیم شاملہ: -- 1753
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر پڑھنے میں صبح سے سبقت کرو۔“ (صبح ہونے سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو۔) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1753]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1753]
ترقیم فوادعبدالباقی: 750
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 751 ترقیم شاملہ: -- 1754
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ ".
لیث نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جو شخص رات کو نماز پڑھے، وہ وتر کو اپنی نماز کا آخری حصہ بنائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا حکم دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1754]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ”جو رات کو نماز پڑھے، وہ نماز کی انتہا وتر پر کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا حکم دیتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1754]
ترقیم فوادعبدالباقی: 751
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 751 ترقیم شاملہ: -- 1755
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا ".
عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”رات کے وقت وتر کو اپنی نماز کا آخری حصہ بناؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1755]
امام صاحب دوسری سندوں سے بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”رات کو اپنی نماز کے آخر میں وتر پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1755]
ترقیم فوادعبدالباقی: 751
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 751 ترقیم شاملہ: -- 1756
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا قَبْلَ الصُّبْحِ، كَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُمْ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے نافع نے بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: جو شخص رات کو نماز پڑھے وہ صبح سے پہلے نماز کا آخری حصہ وتر کو بنائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان (اپنے ساتھیوں) کو یہی حکم دیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1756]
ابن جریج نے کہا: نافع نے بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: ”جو شخص رات کو نماز پڑھے وہ صبح سے پہلے نماز کا آخری حصہ وتر کو بنائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان (اپنے ساتھیوں) کو یہی حکم دیا کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1756]
ترقیم فوادعبدالباقی: 751
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 752 ترقیم شاملہ: -- 1757
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ".
ابوتیاح نے کہا: مجھے ابومجلز نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1757]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر رات کے آخر میں ایک رکعت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1757]
ترقیم فوادعبدالباقی: 752
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 752 ترقیم شاملہ: -- 1758
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ".
شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے ابومجلز سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا: ”وتر رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1758]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر، رات کے آخر میں ایک رکعت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1758]
ترقیم فوادعبدالباقی: 752
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 753 ترقیم شاملہ: -- 1759
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ "، وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ".
ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے ابومجلز سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”(وتر) رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے۔“ اور میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”(وتر) رات کے آخر کی ایک رکعت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1759]
ابومِجْلَز بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”(وتر) رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے“۔“ اور میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”(وتر) رات کے آخر کی ایک رکعت ہے“۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1759]
ترقیم فوادعبدالباقی: 753
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں