🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ:
باب: رات کی نماز دو دو رکعت ہیں اور وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 749 ترقیم شاملہ: -- 1760
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَجُلًا نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أُوتِرُ صَلَاةَ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى، فَلْيُصَلِّ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ أَحَسَّ أَنْ يُصْبِحَ سَجَدَ سَجْدَةً فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا صَلَّى "، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: وَلَمْ يَقُلْ ابْنِ عُمَرَ.
ابوکریب اور ہارون بن عبداللہ نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے ولید بن کثیر سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے حدیث سنائی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ ایک آدمی نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے آپ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں رات کی نماز کو وتر (طاق) کیسے بناؤں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو (رات) کی نماز پڑھے وہ دو دو رکعت پڑھے، پھر وہ اگر محسوس کرے کہ صبح ہو رہی ہے تو ایک رکعت پڑھ لے، یہ (ایک رکعت) اس کی ساری نماز کو وتر (طاق) بنا دے گی۔“ ابوکریب نے کہا، عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا، (آگے) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1760]
عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک آدمی نے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں رات کی نماز کو وتر (طاق) کیسے بناؤں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو (رات) کی نماز پڑھے وہ دو، دو رکعت پڑھے، پھر وہ اگر محسوس کرے کہ صبح ہو رہی ہے تو ایک رکعت پڑھ لے، یہ (ایک رکعت) اس کی ساری نماز کو وتر (طاق) بنا دے گی۔“ ابو کریب نے عبیداللہ بن عبداللہ کہا، (آگے) ابن عمر رضی اللہ عنہما نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1760]
ترقیم فوادعبدالباقی: 749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 749 ترقیم شاملہ: -- 1761
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، أَأُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ، قَالَ: إِنَّكَ لَضَخْمٌ، أَلَا تَدَعُنِي أَسْتَقْرِئُ لَكَ الْحَدِيثَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ، كَأَنَّ الأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ "، قَالَ خَلَفٌ: أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ؟ وَلَمْ يَذْكُرْ صَلَاةِ.
خلف بن ہشام اور ابوکامل نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے انس بن سیرین سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کی: صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، کیا میں ان میں طویل قراءت کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک رکعت سے اس کو وتر بناتے، میں نے کہا: میں آپ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا۔ انہوں نے کہا: تم ایک بوجھل آدمی ہو (اپنی سوچ کو ترجیح دیتے ہو) کیا مجھے موقع نہ دو گے کہ میں تمہارے لیے بات کو مکمل کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک وتر پڑھتے اور صبح (کی نماز) سے پہلے (مختصر سی) دو رکعتیں پڑھتے، گویا کہ اذان (اقامت) آپ کے کانوں میں (سنائی دے رہی) ہے۔ خلف نے اپنی حدیث میں کہا: صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ اور انہوں نے "صلاۃ" کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1761]
ابن سیرین کہتے ہیں، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، کیا میں ان میں طویل قراءت کر سکتا ہوں؟“ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک رکعت سے اس کو وتر بناتے“، میں نے کہا: ”میں آپ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا“۔ انہوں نے کہا: ”تم ایک بوجھل آدمی ہو (اپنی سوچ کو ترجیح دیتے ہو) کیا مجھے موقع نہ دو گے کہ میں تمہارے لیے بات کو مکمل کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک وتر پڑھتے اور صبح (کی نماز) سے پہلے (مختصر سی) دو رکعتیں پڑھتے، گویا کہ اذان (اقامت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں (سنائی دے رہی) ہے“۔ خلف کی حدیث میں ہے، ”مجھے صبح سے پہلے دو رکعت کے بارے میں بتائیے“، انہوں نے «الْغَدَاةِ» کے لفظ سے پہلے «صَلَاةِ» کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1761]
ترقیم فوادعبدالباقی: 749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 749 ترقیم شاملہ: -- 1762
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، بِمِثْلِهِ، وَزَادَ وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، وَفِيهِ فَقَالَ: بَهْ، بَهْ، إِنَّكَ لَضَخْمٌ.
شعبہ نے انس بن سیرین سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: رات کے آخری حصے میں ایک رکعت وتر پڑھتے۔ اس میں ہے (اور میرے دوبارہ سوال پر) کہا: بس، بس، تم ایک بوجھل آدمی ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1762]
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا، پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ ”رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت وتر پڑھتے“ اور میرے دوبارہ سوال پر انہوں نے کہا: «بَهْ بَهْ» ”بس بس، رک جا تو ایک کند ذہن آدمی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1762]
ترقیم فوادعبدالباقی: 749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 749 ترقیم شاملہ: -- 1763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا رَأَيْتَ أَنَّ الصُّبْحَ يُدْرِكُكَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ "، فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: مَا مَثْنَى مَثْنَى؟ قَالَ: أَنْ تُسَلِّمَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ.
عقبہ بن حریث نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور جب تم دیکھو کہ صبح آنے والی ہے تو ایک رکعت سے (اپنی نماز کو) وتر کرو۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کی گئی: مثنیٰ، مثنیٰ، کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے کہا: یہ کہ تم ہر دو رکعتوں (کے آخر) میں سلام پھیرو۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1763]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو رکعت ہے اور جب تم دیکھو کہ صبح آیا چاہتی ہے تو ایک رکعت سے (اپنی نماز کو) وتر کرو۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا گیا: «مَثْنٰى مَثْنٰى» کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے کہا: ”یہ کہ تم ہر دو رکعتوں (کے آخر) میں سلام پھیرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1763]
ترقیم فوادعبدالباقی: 749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 754 ترقیم شاملہ: -- 1764
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا ".
معمر نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1764]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر صبح سے پہلے پہلے پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1764]
ترقیم فوادعبدالباقی: 754
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 754 ترقیم شاملہ: -- 1765
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوَقِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: " أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ ".
شیبان نے یحییٰ (بن ابی کثیر) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ابونضرہ عوقی نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں (صحابہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1765]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر صبح سے پہلے پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1765]
ترقیم فوادعبدالباقی: 754
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب مَنْ خَافَ أَنْ لاَ يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ:
باب: جسے رات کے آخر میں نہ اٹھنے کا اندیشہ ہو وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 755 ترقیم شاملہ: -- 1766
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ، وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ، فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ "، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: مَحْضُورَةٌ.
حفص اور ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا، وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے۔ اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھ جائے گا، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ افضل ہے۔“ ابومعاویہ نے (مشہودہ کی بجائے) محضورہ (اس میں حاضری دی جاتی ہے) کہا۔ (مفہوم ایک ہی ہے) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1766]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا، وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے۔ اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھ جائے گا، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ افضل ہے۔“ ابومعاویہ نے «مَشْهُودَةٌ» کی بجائے «مَحْضُورَةٌ» کہا (دونوں کا معنی ایک ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1766]
ترقیم فوادعبدالباقی: 755
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 755 ترقیم شاملہ: -- 1767
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَيُّكُمْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ، ثُمَّ لِيَرْقُدْ، وَمَنْ وَثِقَ بِقِيَامٍ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”تم میں سے جسے یہ خدشہ ہو کہ وہ رات کے آخر میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ وتر پڑھ لے، پھر سو جائے اور جسے رات کو اٹھ جانے کا یقین ہو، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے میں قراءت کے وقت حاضری دی جاتی ہے اور یہ بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1767]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے تم میں سے خدشہ ہو کہ وہ رات کے آخر میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ وتر پڑھ لے، پھر سو جائے اور جسے رات کو اٹھنے کا وثوق و اعتماد ہو، وہ اس کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے میں قراءت کے وقت رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں یا دل حاضر ہوتا ہے اور یہ بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1767]
ترقیم فوادعبدالباقی: 755
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب أَفْضَلُ الصَّلاَةِ طُولُ الْقُنُوتِ:
باب: افضل نماز وہ ہے جس کا قیام لمبا ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 756 ترقیم شاملہ: -- 1768
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیام کا لمبا ہونا بہترین نماز ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1768]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین نماز وہ ہے جس میں قنوت لمبا ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1768]
ترقیم فوادعبدالباقی: 756
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 756 ترقیم شاملہ: -- 1769
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: طُولُ الْقُنُوتِ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الأَعْمَشِ .
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب دونوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”قیام کا لمبا ہونا۔“ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1769]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”کون سی نماز افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لمبا قیام“ یعنی جس نماز میں قیام طویل ہو۔ ابوبکر نے «حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ» کی جگہ «عَنِ الْأَعْمَشِ» کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1769]
ترقیم فوادعبدالباقی: 756
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں