صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب جَامِعِ صَلاَةِ اللَّيْلِ وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ:
باب: رات کی نماز کے احکام اور جس سے سونے یا بیمار ہونے کی وجہ سے رہ جائے۔
ترقیم عبدالباقی: 746 ترقیم شاملہ: -- 1740
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارَهُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
معاذ بن ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے سعد بن ہشام سے روایت کی کہ انہوں نے بیوی کو طلاق دے دی، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اپنی جائیداد فروخت کریں۔ آگے (اسی سابقہ حدیث کی) طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1740]
سعد بن ہشام رحمہ اللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر مدینہ کی طرف چل پڑے تاکہ اپنی جائیداد فروخت کر دیں، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1740]
ترقیم فوادعبدالباقی: 746
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 746 ترقیم شاملہ: -- 1741
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْوِتْرِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَقَالَ فِيهِ: قَالَتْ: مَنْ هِشَامٌ؟ قُلْتُ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَتْ: نِعْمَ، الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ، أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ.
محمد بن بشر نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے حدیث سنائی، کہا: ہم سے قتادہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے سعد بن ہشام سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے وتر کے بارے میں سوال کیا۔ (اس کے بعد) انہوں نے اپنے پورے قصے سمیت حدیث بیان کی اور اس میں کہا: انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: کون ہشام؟ میں نے عرض کی: عامر رضی اللہ عنہ کے بیٹے۔ انہوں نے کہا: عامر بہت اچھے انسان تھے، احد کے دن شہید ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1741]
سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں کہ ”میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے وتر کے بارے میں سوال کیا،“ اس کے بعد پوری حدیث ہے اور اس میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ”ہشام کون ہے؟“ جواب ملا: ”عامر کا بیٹا،“ انہوں نے کہا: ”عامر اچھا آدمی تھا، احد کے دن شہید ہوا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1741]
ترقیم فوادعبدالباقی: 746
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 746 ترقیم شاملہ: -- 1742
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ كَانَ جَارًا لَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سَعِيدٍ، وَفِيهِ قَالَتْ: مَنْ هِشَامٌ؟ قَالَ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَتْ: نِعْمَ، الْمَرْءُ كَانَ أُصِيبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَفِيهِ فَقَالَ حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ: أَمَا إِنِّي لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا، مَا أَنْبَأْتُكَ بِحَدِيثِهَا.
معمر نے قتادہ سے اور انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے روایت کی کہ سعد بن ہشام ان کے پڑوسی تھے، انہوں نے ان کو بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ آگے سعید (بن ابی عروبہ) کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ اس میں ہے، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: کون ہشام؟ عرض کی: عامر رضی اللہ عنہ کے بیٹے۔ انہوں نے کہا: وہ اچھے انسان تھے، غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (لڑتے ہوئے) تھے، شہید ہوئے، نیز اس (روایت) میں ہے کہ (سعد کے بجائے) حکیم بن افلح نے کہا: اگر میں جانتا کہ آپ ان کے پاس حاضر نہیں ہوتے تو میں آپ کو ان کی حدیث نہ بتاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1742]
زرارہ بن اوفی بیان کرتے ہیں کہ سعد بن ہشام ان کے پڑوسی تھے، انہوں نے ان کو بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ آگے سعید (بن ابی عروبہ) کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی۔ اس میں ہے، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: ”کون ہشام؟“ عرض کی: ”عامر رضی اللہ عنہ کے بیٹے“۔ انہوں نے کہا: ”وہ اچھے انسان تھے، غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (لڑتے ہوئے) شہید ہوئے“، نیز اس (روایت) میں ہے کہ (سعد کی بجائے) حکیم بن افلح نے کہا: ”اگر میں جانتا کہ آپ ان کے پاس حاضر نہیں ہوتے تو میں آپ کو ان کی حدیث نہ بتاتا“۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1742]
ترقیم فوادعبدالباقی: 746
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 746 ترقیم شاملہ: -- 1743
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جميعا، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً ".
ابوعوانہ نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے، انہوں نے سعد بن ہشام سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ کی رات کی نماز بیماری یا کسی اور وجہ سے رہ جاتی تو دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1743]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز جب رہ جاتی، بیماری یا کسی اور وجہ سے تو دن کو 12 رکعات پڑھتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1743]
ترقیم فوادعبدالباقی: 746
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 746 ترقیم شاملہ: -- 1744
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً "، قَالَتْ: وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا، إِلَّا رَمَضَانَ.
شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام کرتے تو اس کو برقرار رکھتے اور جب آپ رات سوتے رہ جاتے یا بیمار ہو جاتے تو آپ دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (کبھی) نہیں دیکھا کہ آپ نے ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہو اور نہ (کبھی) آپ نے رمضان کے سوا مسلسل مہینے بھر کے روزے رکھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1744]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی عمل شروع کرتے تو اس کو قائم رکھتے، اور جب رات کی نماز سے سو جاتے یا بیمار ہو جاتے تو دن کو بارہ رکعات پڑھ لیتے“ اور فرماتی ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح تک نماز پڑھتے نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا مسلسل مہینہ بھر روزے رکھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1744]
ترقیم فوادعبدالباقی: 746
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 747 ترقیم شاملہ: -- 1745
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ . ح، وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أخبراه، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ ".
عبدالرحمان بن عبدالقاری سے روایت ہے، کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا حزب (قرآن کا 1/7 حصہ جو عموماً ایک رات میں تہجد کے دوران پڑھا جاتا تھا) یا اس کا کچھ حصہ سوتے رہ جانے کی وجہ سے رہ گیا اور اس نے اسے نماز فجر اور نماز ظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اس کے حق میں یہ لکھا جائے گا، جیسے اس نے رات ہی کو اسے پڑھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1745]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے وظیفہ (معمول) سے سویا رہا یا اس کے کچھ حصہ سے سو گیا، اور اس نے اسے نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اسے اس کے لیے ایسے ہی لکھا جائے گا گویا کہ اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1745]
ترقیم فوادعبدالباقی: 747
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
19. باب صَلاَةُ الأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ:
باب: اوابین (چاشت) کی نماز کا وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں تپش محسوس کریں۔
ترقیم عبدالباقی: 748 ترقیم شاملہ: -- 1746
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنَ الضُّحَى، فَقَالَ: أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ الأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ ".
ایوب نے قاسم شیبانی سے روایت کی کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کے وقت نماز پڑھتے دیکھا تو کہا: ہاں، یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نماز اس وقت کی بجائے ایک اور وقت میں پڑھنا افضل ہے۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَوَّابِينَ» (اطاعت گزار، توبہ کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے لوگوں) کی نماز اس وقت ہوتی ہے، جب (گرمی سے) اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1746]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کے وقت نماز پڑھتے دیکھا تو کہا: ”ہاں یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نماز اس وقت کی بجائے ایک اور وقت میں پڑھنا افضل ہے۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَوَّابِيْنَ» (اطاعت گزار، توبہ کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے لوگوں) کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب (گرمی سے) اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں۔““ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1746]
ترقیم فوادعبدالباقی: 748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 748 ترقیم شاملہ: -- 1747
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ قُبَاءَ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَقَالَ: " صَلَاةُ الأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ ".
ہشام بن ابی عبداللہ نے کہا: ہمیں قاسم شیبانی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل قباء کے پاس تشریف لائے، وہ لوگ (اس وقت) نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ” «أَوَّابِينَ» کی نماز اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے کے وقت (پر ہوتی) ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1747]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل قباء کے پاس اس وقت پہنچے جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”توبہ کرنے والوں کی نماز کا وقت وہ ہے جبکہ اونٹوں کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1747]
ترقیم فوادعبدالباقی: 748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
20. باب صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ:
باب: رات کی نماز دو دو رکعت ہیں اور وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں۔
ترقیم عبدالباقی: 749 ترقیم شاملہ: -- 1748
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً، تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى ".
نافع اور عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں، جب تم میں سے کسی کو صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے، یہ اس کی پڑھی ہوئی (تمام) نماز کو وتر (طاق) بنا دے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1748]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو رکعتیں ہیں، جب تم میں سے کسی کو صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے، یہ اس کی پڑھی ہوئی (تمام) نماز کو وتر (طاق) بنا دے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1748]
ترقیم فوادعبدالباقی: 749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 749 ترقیم شاملہ: -- 1749
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ح. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: " مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ ".
سفیان نے زہری سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دو رکعتیں۔ اور جب تمہیں صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1749]
ترقیم فوادعبدالباقی: 749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة