صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
36. باب نُزُولِ السَّكِينَةِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ:
باب: قرأت قرآن کی برکت سے تسکین کا اترنا۔
ترقیم عبدالباقی: 795 ترقیم شاملہ: -- 1857
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: " قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ، وَفِي الدَّارِ دَابَّةٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ، فَنَظَرَ، فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ قَدْ غَشِيَتْهُ، قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اقْرَأْ فُلَانُ، فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہم سے شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک آدمی نے سورہ کہف کی قراءت کی، گھر میں (اس وقت) ایک چوپایہ بھی تھا، وہ بدکنے لگا، اس شخص نے دیکھا کہ جانور کے اوپر دھندلی بدلی تھی جو اس پر چھائی ہوئی ہے، تو اس نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، آپ نے فرمایا: "اے شخص! پڑھا کرو، یہ تو سکینت تھی جو قراءت کے وقت اتری (یا قرآن کی خاطر نازل ہوئی۔)" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1857]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورہ کہف کی قراءت شروع کی اور گھر میں ایک چوپایہ تھا، وہ بدکنے لگا، اس نے دیکھا کہ جانور کو دھند یا بدلی نے ڈھانپا ہوا ہے، اس نے یہ واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے شخص! پڑھتے رہتے، یہ تو سکینت تھی جو قراءت کے وقت اتری یا قرآن کی خاطر نازل ہوئی۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1857]
ترقیم فوادعبدالباقی: 795
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 795 ترقیم شاملہ: -- 1858
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: فَذَكَرَا نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا: تَنْقُزُ.
عبدالرحمن بن مہدی اور داؤد نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا۔ آگے دونوں (عبدالرحمن بن مہدی اور داؤد) نے سابقہ حدیث کے مانند ذکر کیا، البتہ اتنا فرق ہے کہ انہوں نے ("تنفر" وہ بدکنے لگا کے بجائے) «تنقز» (وہ اچھلنے لگا) کہا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1858]
امام صاحب نے اپنے دوسرے استاد سے روایت بیان کی ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ اس میں «تَنْفِرُ» کی بجائے «تَنْقُزُ» ہے۔ «تَنْفِرُ» کا معنی ”بدکنا“ ہے اور «تَنْقُزُ» کا ”اچھلنا کودنا کہ وہ کودنے لگا یا اچھلنے لگا“ ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1858]
ترقیم فوادعبدالباقی: 795
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 796 ترقیم شاملہ: -- 1859
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ فَقَرَأَ، ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى فَقَرَأَ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، قَالَ أُسَيْدٌ: فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى، فَقُمْتُ إِلَيْهَا، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي، فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي، إِذْ جَالَتْ فَرَسِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ، قَالَ: فَقَرَأْتُ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ، قَالَ: فَقَرَأْتُ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ، قَالَ: فَانْصَرَفْتُ، وَكَانَ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا، خَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ، فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ كَانَتْ تَسْتَمِعُ لَكَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَرَاهَا النَّاسُ مَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے باڑے میں قراءت کر رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، انہوں نے پھر پڑھا، وہ دوبارہ بدکا، پھر پڑھا، وہ پھر بدکا۔ اسید رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے خوف پیدا ہوا کہ وہ (میرے بیٹے) یحییٰ کو روند ڈالے گا، میں اٹھ کر اس کے پاس گیا تو اچانک چھتری جیسی کوئی چیز میرے سر پر تھی، اس میں کچھ چراغوں جیسا تھا، وہ فضا میں بلند ہو گئی حتیٰ کہ مجھے نظر آنا بند ہو گئی، کہا: میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس اثنا میں کہ کل میں آدھی رات کے وقت اپنے باڑے میں قراءت کر رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔" میں نے عرض کی: میں پڑھتا رہا، پھر اس نے دوبارہ اچھل کود کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔" میں نے کہا: میں نے قراءت جاری رکھی، اس نے کچھ بدک کر چکر لگانے شروع کر دیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔" میں نے کہا: پھر میں نے چھوڑ دیا۔ (میرا بیٹا) یحییٰ اس کے قریب تھا، میں ڈر گیا کہ وہ اسے روند دے گا۔ تو میں نے چھتری جیسی چیز دیکھی، اس میں چراغوں کی طرح کی چیزیں تھیں، وہ فضا میں بلند ہوئی حتیٰ کہ مجھے نظر آنی بند ہو گئی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ فرشتے تھے جو تمہاری قراءت سن رہے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو لوگ صبح کو دیکھ لیتے، وہ ان سے اوجھل نہ ہوتے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1859]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے کھلیان میں قراءت کر رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا یا گھوڑی کودنے لگی، وہ پڑھتے رہے، پھر وہ دوبارہ کودنے لگی، وہ پڑھتے رہے، وہ پھر گردش کرنے لگی، اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”مجھے خوف پیدا ہوا کہ وہ (میرے بیٹے) یحییٰ کو روند ڈالے گی، میں اٹھ کر گھوڑی کے پاس گیا تو اچانک میرے سر پر سائبان جیسی کوئی چیز تھی، اس میں چراغوں جیسی چیزیں تھیں، وہ سائبان فضا میں چڑھ گیا تھا حتیٰ کہ مجھے نظر آنا بند ہو گیا، میں صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس اثنا میں کہ میں کل آدھی رات اپنے کھلیان میں قراءت کر رہا تھا کہ اچانک میری گھوڑی چکر لگانے لگی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔“ میں نے کہا: ”میں نے قراءت جاری رکھی، پھر وہ گھومی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔“ میں نے کہا: ”میں ہٹ گیا اور قراءت سے باز آ گیا۔ (میرا بیٹا) یحییٰ اس کے قریب تھا، میں ڈر گیا کہ وہ اسے روند دے گی تو میں نے سائبان جیسی چیز دیکھی، اس میں چراغوں جیسی چیزیں تھیں، وہ فضا میں چڑھنے لگی حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئی“، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ فرشتے تھے، تیری قراءت سن رہے تھے، اور اگر تم پڑھتے رہتے تو لوگ صبح ان کو دیکھ لیتے، وہ ان سے اوجھل نہ ہوتے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1859]
ترقیم فوادعبدالباقی: 796
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
37. باب فَضِيلَةِ حَافِظِ الْقُرْآنِ:
باب: حافظ قرآن کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 797 ترقیم شاملہ: -- 1860
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الأُتْرُجَّةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ، وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ، لَا رِيحَ لَهَا، وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، لَيْسَ لَهَا رِيحٌ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ ".
ابوعوانہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس مومن کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے نارنگی کی سی ہے، اس کی خوشبو بھی عمدہ ہے اور اس کا ذائقہ (بھی خوشگوار) ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا کھجور کی سی ہے، اس کی خوشبو نہیں ہوتی جبکہ اس کا ذائقہ شیریں ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے ایزو جیسی ہے، اس کی خوشبو عمدہ ہے اور ذائقہ کڑوا ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن (تمے) کی طرح ہے، جس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی اور اس کا ذائقہ (بھی سخت) کڑوا ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1860]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مومن کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے نارنگی کی سی ہے، اس کی خوشبو بھی عمدہ اور اس کا ذائقہ خوشگوار ہے، اور وہ مومن جو قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا، اس کی مثال کھجور کی سی ہے، اس کی خوشبو نہیں اور اس کا ذائقہ شیریں ہے، اور وہ منافق جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال ریحانہ کے پھول کی ہے، اس کی خوشبو عمدہ ہے اور ذائقہ کڑوا ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن (تُمّے) کی طرح ہے، اس کی خوشبو نہیں ہوتی اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1860]
ترقیم فوادعبدالباقی: 797
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 797 ترقیم شاملہ: -- 1861
وحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ: بَدَلَ الْمُنَافِقِ، الْفَاجِرِ.
ہمام اور شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث روایت کی، اس میں یہ فرق ہے کہ ہمام کی روایت میں منافق کی جگہ فاجر (بدکردار) کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1861]
امام صاحب اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی یہی روایت بیان کرتے ہیں، جس میں ہمام کی روایت میں ”منافق“ کی جگہ ”فاجر“ (بدکار) کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1861]
ترقیم فوادعبدالباقی: 797
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
38. باب فَضْلِ الْمَاهِرِ بِالْقُرْآنِ وَالَّذِي يَتَتَعْتَعُ فِيهِ:
باب: قرآن کے ماہر اور اس کو اٹک اٹک کر پڑھنے والے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 798 ترقیم شاملہ: -- 1862
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ، لَهُ أَجْرَانِ ".
ابوعوانہ نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ (عامری) سے، انہوں نے سعد بن ہشام سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قرآن مجید کا ماہر قرآن لکھنے والے انتہائی معزز اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو انسان قرآن مجید پڑھتا ہے اور ہکلاتا ہے، اور وہ (پڑھنا) اس کے لیے مشقت کا باعث ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1862]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن مجید میں مہارت پیدا کر لی (اور اس کی بنا پر قرآن کو بے تکلف رواں پڑھنے لگا) وہ معزز اور فرمانبردار فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو انسان قرآن مجید پڑھتا ہے اور (مہارت نہ ہونے کی وجہ سے زحمت اور مشقت کے ساتھ) اس میں اٹکتا ہے اور دشواری محسوس کرتا ہے، اس کو دو اجر ملیں گے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1862]
ترقیم فوادعبدالباقی: 798
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 798 ترقیم شاملہ: -- 1863
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وقَالَ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَالَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ، لَهُ أَجْرَانِ.
ابن ابی عدی نے سعید سے روایت کی، وکیع نے ہشام دستوائی سے روایت کی، ان دونوں نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، البتہ وکیع کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: "جو اسے پڑھتا ہے اور وہ اس پر گراں ہوتا ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1863]
امام صاحب اپنے دوسرے اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، وکیع کے الفاظ یہ ہیں: ”جو قراءت کرتا ہے اور وہ اس کے لیے گراں اور مشقت کا باعث ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1863]
ترقیم فوادعبدالباقی: 798
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
39. باب اسْتِحْبَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى أَهْلِ الْفَضْلِ وَالْحُذَّاقِ فِيهِ وَإِنْ كَانَ الْقَارِئُ أَفْضَلَ مِنَ الْمَقْرُوءِ عَلَيْهِ:
باب: افضل کا اپنے سے کم کے آگے قرآن پڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 799 ترقیم شاملہ: -- 1864
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأُبَيٍّ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ، قَالَ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ، قَالَ: اللَّهُ سَمَّاكَ لِي، قَالَ: فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي ".
ہمام نے کہا: ہم سے قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قراءت کروں۔" انہوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمہارا نام لیا۔" تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1864]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں۔“ انہوں نے پوچھا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا نام لے کر فرمایا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے تیرا نام لے کر فرمایا ہے۔“ تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1864]
ترقیم فوادعبدالباقی: 799
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 799 ترقیم شاملہ: -- 1865
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا، قَالَ: وَسَمَّانِي لَكَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَبَكَى ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے «لَمْ یَکُنِ الَّذِینَ کَفَرُوا» کی قراءت کروں۔" انہوں نے کہا: اور (اللہ تعالیٰ نے) آپ کے سامنے میرا نام لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "ہاں۔" (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو وہ رو دیے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1865]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں سورہ ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة البينة: 1] سناؤں۔“ انہوں نے پوچھا: ”اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرا نام لیا ہے؟ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا نام بتایا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو وہ رونے لگے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1865]
ترقیم فوادعبدالباقی: 799
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 799 ترقیم شاملہ: -- 1866
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ، بِمِثْلِهِ.
خالد بن حارث نے کہا: شعبہ نے ہمیں قتادہ کے حوالے سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی رضی اللہ عنہ سے کہا۔ آگے (سابقہ حدیث) کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1866]
امام صاحب رحمہ اللہ نے اپنے دوسرے استاد سے یہی روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1866]
ترقیم فوادعبدالباقی: 799
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة