صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
40. باب فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلاِسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ:
باب: قرآن سننے، حافظ سے اس کی فرمائش کرنے اور بوقت قرأت رونے اور غور کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 800 ترقیم شاملہ: -- 1867
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ حَفْصٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي، فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 رَفَعْتُ رَأْسِي، أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ ".
حفص بن غیاث نے اعمش سے روایت کی، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ (سلمانی) سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "میرے سامنے قرآن مجید کی قراءت کرو۔" انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کو سناؤں، جبکہ آپ پر ہی تو (قرآن مجید) نازل ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: "میری خواہش ہے کہ میں اسے کسی دوسرے سے سنوں۔" تو میں نے سورہ نساء کی قراءت شروع کی، جب میں اس آیت پر پہنچا: «فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِن کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَیٰ ہَـٰؤُلَاءِ شَہِیدًا» "اس وقت کیا حال ہوگا، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کر لائیں گے۔" تو میں نے اپنا سر اٹھایا، یا میرے پہلو میں موجود آدمی نے مجھے ٹھونک دیا تو میں نے اپنا سر اٹھایا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1867]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”مجھے قرآن مجید سناؤ۔“ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سناؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو اترا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ میں اسے دوسرے سے سنوں۔“ تو میں نے سورہ نساء پڑھنی شروع کی، جب میں اس آیت پر پہنچا: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [سورة النساء: 41] (اس وقت کیا حال ہوگا، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر گواہ بنا کر لائیں گے)۔ میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا، یا میرے پہلو میں موجود آدمی نے مجھے دبایا تو میں نے اپنا سر اٹھایا، میں نے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو جاری تھے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1867]
ترقیم فوادعبدالباقی: 800
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 800 ترقیم شاملہ: -- 1868
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَمِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ جميعا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَزَادَ هَنَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: اقْرَأْ عَلَيَّ.
ہناد بن سری اور منجانب بن حارث تمیمی نے علی بن مسہر سے روایت کی، انہوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، ہناد نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جب آپ منبر پر تشریف فرما تھے، مجھ سے کہا: "مجھے قرآن سناؤ۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1868]
امام صاحب رحمہ اللہ نے یہ روایت دوسرے اساتذہ سے بیان کی ہے اور ہناد کی روایت میں جو اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے، فرمایا: ”مجھے قرآن سناؤ۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1868]
ترقیم فوادعبدالباقی: 800
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 800 ترقیم شاملہ: -- 1869
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ ، وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : " اقْرَأْ عَلَيَّ، قَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي، قَالَ: فَقَرَأَ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَاءِ إِلَى قَوْلِهِ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 فَبَكَى "، قَالَ مِسْعَرٌ : فَحَدَّثَنِي مَعْنٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيهِمْ، أَوْ مَا كُنْتُ فِيهِمْ شَكَّ مِسْعَرٌ.
مسعر نے عمرو بن مرہ سے اور انہوں نے ابراہیم سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: "مجھے قرآن مجید سناؤ۔" انہوں نے کہا: کیا میں آپ کو سناؤں جبکہ (قرآن) اترا ہی آپ پر ہے؟ آپ نے فرمایا: "مجھے اچھا لگتا ہے کہ میں اسے کسی دوسرے سے سنوں۔" (ابراہیم) نے کہا: انہوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء ابتداء سے اس آیت تک سنائی: «فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِن کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَیٰ ہَـٰؤُلَاءِ شَہِیدًا» "اس وقت کیا حال ہوگا، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کر لائیں گے۔" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس آیت پر) رو پڑے۔ مسعر نے ایک دوسری سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں ان پر اس وقت تک گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا۔" مسعر کو شک ہے۔ «ما دمت فیہم» کہا یا «ما کنت فیہم» (جب تک میں ان میں تھا) کہا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1869]
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ: ”مجھے قرآن مجید سناؤ۔“ انہوں نے کہا: ”کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سناؤں جبکہ قرآن تو آپ ہی پر اترا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے اپنے غیر سے سننا پسند کرتا ہوں۔“ ابراہیم کہتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورہ نساء ابتدا سے اس آیت تک سنائی ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [سورة النساء: 41] ”(اس وقت کیا حال ہوگا، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر گواہ بنا کر لائیں گے۔)“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر رو پڑے۔ مسعر نے ایک دوسری سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان پر اس وقت تک گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا۔“ مسعر کو شک ہے کہ «مَا دُمْتُ فِيهِمْ» کہا یا «مَا كُنْتُ فِيهِمْ» کہا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1869]
ترقیم فوادعبدالباقی: 800
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 801 ترقیم شاملہ: -- 1870
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّه ، قَالَ: كُنْتُ بِحِمْصَ، فَقَالَ لِي بَعْضُ الْقَوْمِ " اقْرَأْ عَلَيْنَا، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ سُورَةَ يُوسُفَ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَاللَّهِ مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ، قَالَ: قُلْتُ: وَيْحَكَ وَاللَّهِ، لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: أَحْسَنْتَ فَبَيْنَمَا أَنَا أُكَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَتُكَذِّبُ بِالْكِتَابِ، لَا تَبْرَحُ حَتَّى أَجْلِدَكَ، قَالَ: فَجَلَدْتُهُ الْحَدَّ ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے مجھے کہا: ہمیں قرآن مجید سنائیں، تو میں نے انہیں سورہ یوسف سنائی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! یہ اس طرح نہیں اتری تھی۔ میں نے کہا: تجھ پر افسوس، اللہ کی قسم! میں نے یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تھی تو آپ نے مجھ سے فرمایا: "تو نے خوب قراءت کی۔" اسی اثنا میں کہ میں اس سے گفتگو کر رہا تھا تو میں نے اس (کے منہ) سے شراب کی بو محسوس کی، میں نے کہا: تو شراب بھی پیتا ہے اور کتاب اللہ کی تکذیب بھی کرتا ہے؟ تو یہاں سے نہیں جا سکتا حتیٰ کہ میں تجھے کوڑے لگاؤں، پھر میں نے اسے حد کے طور پر کوڑے لگائے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1870]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں حمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے مجھے کہا: ہمیں قرآن مجید سنائیں، تو میں نے انہیں سورہ یوسف سنائی، تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! یہ اس طرح نہیں اتری، میں نے کہا: تم پر افسوس! اللہ کی قسم! میں نے یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تو نے خوب قراءت کی۔“ اسی اثنا میں کہ میں اس سے گفتگو کر رہا تھا کہ اچانک میں نے اس سے شراب کی بدبو محسوس کی، تو میں نے کہا: کیا تو شراب پی کر کتاب اللہ کی تکذیب کرتا ہے؟ تو یہاں سے جا نہیں سکتا حتیٰ کہ میں تجھے کوڑے لگواؤں، پھر میں نے اسے حد لگوائی۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1870]
ترقیم فوادعبدالباقی: 801
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 801 ترقیم شاملہ: -- 1871
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ لِي: أَحْسَنْتَ.
عیسیٰ بن یونس اور ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی لیکن ابومعاویہ کی روایت میں «فقال لی احسنت» (آپ نے مجھے فرمایا: "تو نے بہت اچھا پڑھا۔") کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1871]
امام صاحب نے یہی حدیث دوسرے اساتذہ سے بیان کی ہے، لیکن ابو معاویہ کی روایت میں «فَقَالَ لِيْ» اور «أَحْسَنْتَ» کے الفاظ نہیں ہیں کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تو نے بہت اچھا پڑھا۔“) [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1871]
ترقیم فوادعبدالباقی: 801
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
41. باب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الصَّلاَةِ وَتَعَلُّمِهِ:
باب: نماز میں قرآن پڑھنے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 802 ترقیم شاملہ: -- 1872
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ جب وہ (باہر سے) اپنے گھر واپس آئے تو اس میں تین بڑی فربہ حاملہ اونٹنیاں موجود پائے؟" ہم نے عرض کی: جی ہاں! آپ نے فرمایا: "تین آیات جنہیں تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں پڑھتا ہے، وہ اس کے لیے تین بھاری بھرکم اور موٹی تازی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1872]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ جب اپنے گھر واپس آئے تو اس میں «ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ» ”تین حاملہ بڑی بڑی فربہ اونٹنیاں“ پائے؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آیات جنہیں تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں پڑھتا ہے، وہ اس کے لیے تین حاملہ بھاری بھرکم اور موٹی تازی اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1872]
ترقیم فوادعبدالباقی: 802
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 803 ترقیم شاملہ: -- 1873
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ، أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ، فِي غَيْرِ إِثْمٍ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: " أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ، أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ؟ ".
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر تشریف لائے۔ ہم صفہ (چبوترے) پر موجود تھے، آپ نے فرمایا: "تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ روزانہ صبح بطحان یا عقیق (کی وادی) میں جائے اور وہاں سے بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہانوں والی اونٹنیاں لائے؟" ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم سب کو یہ بات پسند ہے، آپ نے فرمایا: "پھر تم میں سے صبح کوئی شخص مسجد میں کیوں نہیں جاتا کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں سیکھے یا ان کی قراءت کرے تو یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں (کے حصول) سے بہتر ہے اور یہ تین آیات تین اونٹنیوں سے بہتر اور چار آیتیں اس کے لیے چار سے بہتر ہیں اور (آیتوں کی تعداد جو بھی ہو) اونٹوں کی اتنی تعداد سے بہتر ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1873]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ ہم چبوترے پر تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص پسند کرتا ہے کہ روزانہ صبح «بُطْحَان» یا «عَقِیْق» کی وادی میں جائے، اور وہاں سے بغیر کسی کی حق تلفی اور قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہان والی اونٹنیاں لائے؟“ تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سب کو یہ بات پسند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم میں سے صبح کوئی شخص مسجد میں کیوں نہیں جاتا کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں سیکھے یا ان کی قراءت کرے تو یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں کے ملنے سے بہتر ہے اور تین آیات، تین سے بہتر اور چار اس کے لیے چار سے بہتر، اس طرح جتنی آیات سیکھے، سکھائے یا پڑھے گا وہ اتنی تعداد میں بہتر ہیں۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1873]
ترقیم فوادعبدالباقی: 803
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
42. باب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ:
باب: قرأت قرآن اور سورۂ بقرہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 804 ترقیم شاملہ: -- 1874
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ، اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا، اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ "، قَالَ مُعَاوِيَةُ: بَلَغَنِي أَنَّ الْبَطَلَةَ السَّحَرَةُ.
ابوتوبہ ربیع بن نافع نے بیان کیا کہ ہم سے معاویہ، یعنی ابن سلام نے حدیث بیان کی، انہوں نے زید سے روایت کی کہ انہوں نے ابوسلام سے سنا، وہ کہتے تھے: مجھ سے حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اصحاب قرآن (حفظ و قراءت اور عمل کرنے والوں) کا سفارشی بن کر آئے گا۔ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں: البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان ہوں یا جیسے وہ ایک سیدھ میں اڑتے پرندوں کی وہ ڈاریں ہوں، وہ اپنی صحبت میں (پڑھنے اور عمل کرنے) والوں کی طرف سے دفاع کریں گی۔ سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے حاصل کرنا باعث برکت اور اسے ترک کرنا باعث حسرت ہے اور باطل پرست اس کی طاقت نہیں رکھتے۔" معاویہ نے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ باطل پرستوں سے ساحر (جادوگر) مراد ہیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1874]
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ» ”قرآن پڑھا کرو، کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے سے تعلق وربط رکھنے والوں کا سفارشی بن کر آئے گا۔“ «اقْرَؤُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ» ”دو روشن نورانی سورتیں البقرہ اور آلِ عمران پڑھا کرو، کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی گویا کہ وہ دو بادل یا دو سائبان ہوں یا گویا کہ وہ پرندوں کی صف باندھے ہوئے دو قطاریں ہیں، اور اپنے سے تعلق وربط رکھنے والوں کی طرف سے مدافعت کریں گی، «اقْرَؤُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ» ”سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس کی تلاوت پر مواظبت اور غوروفکر کرنا باعثِ برکت ہے اور اس کو نظر انداز کرنا باعثِ حسرت ہے، اور «لَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ» ”اہلِ باطل اس کی طاقت نہیں رکھتے۔““ معاویہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ «الْبَطَلَةُ» ”اہلِ باطل“ سے ساحر یعنی جادو گر مراد ہیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1874]
ترقیم فوادعبدالباقی: 804
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 804 ترقیم شاملہ: -- 1875
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَكَأَنَّهُمَا فِي كِلَيْهِمَا، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ مُعَاوِيَةَ: بَلَغَنِي.
یحییٰ بن حسان نے کہا: معاویہ بن سلام نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی لیکن انہوں نے دونوں جگہوں پر «أو كأنہما» (یا جیسے وہ) کی جگہ «وكأنہما» (اور جیسے وہ) کہا اور معاویہ کا قول ہے کہ "مجھے یہ خبر پہنچی" ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1875]
امام صاحب اپنے دوسرے استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں «أَوْ كَأَنَّهُمَا» کی جگہ «وَكَأَنَّهُمَا» ہے اور معاویہ رحمہ اللہ کا قول کہ ” «الْبَطَلَةُ» کا معنی «السَّحَرَةُ» ہے“ بیان نہیں کیا گیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1875]
ترقیم فوادعبدالباقی: 804
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 805 ترقیم شاملہ: -- 1876
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ، تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ، قَالَ: كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ، أَوْ كَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا ".
حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "قیامت کے دن قرآن اور قرآن والے ایسے لوگوں کو لایا جائے گا جو اس پر عمل کرتے تھے، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران اس کے آگے آگے ہوں گی۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سورتوں کے لیے تین مثالیں دیں جن کو (سننے کے بعد) میں (آج تک) نہیں بھولا، آپ نے فرمایا: "جیسے وہ دو بادل ہیں یا دو کالے سائبان ہیں جن کے درمیان روشنی ہے، جیسے وہ ایک سیدھ میں اڑنے والے پرندوں کی دو ٹولیاں ہیں، وہ اپنے صاحب (صحبت میں رہنے والے) کی طرف سے مدافعت کریں گی۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1876]
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”قیامت کے دن قرآن کو اور قرآن والوں کو لایا جائے گا جو اس پر عمل کرتے تھے، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پیش پیش ہوں گی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سورتوں کے لیے تین مثالیں دیں جن کو (سننے کے بعد) میں (آج تک) نہیں بھولا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ وہ دو بادل ہیں یا دو سیاہ سائبان ہیں جن کے درمیان روشنی اور نور ہے گویا کہ وہ دو صف باندھے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہیں، وہ اپنے سے تعلق و رشتہ رکھنے والوں کی طرف سے وکالت کریں گی۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1876]
ترقیم فوادعبدالباقی: 805
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة