Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 783
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 783
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، فَأُتِيَ بِلَحْمِ دَجَاجٍ، فَتَنَحَّى رَجُلٌ لَمْ يَأْكُلْ، فَدَعَاهُ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ: إِنِّي" رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا، فَقَذَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ" .
زہدم جرمی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے۔ وہاں مرغی کا گوشت لایا گیا تو ایک شخص پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے کھانے میں حصہ نہیں لیا، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے دعوت دی تو وہ بولا: میں نے اسے گندگی کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لیے میں اسے گندا سمجھتا ہوں۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 783]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3133، 4385، 5517، 5518، 6623، 6649، 6680، 6718، 6719، 6721، 7555، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1649، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4354، 5222، 5255، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3788، 3789، 4357، 4358، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3276، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1826، 1827، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2099، 2100، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2107، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19467، 19541، 19867، 19902، 19903، أحمد فى «مسنده» برقم: 13033 برقم: 13827»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 784
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 784
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَأُتِيَ بِذُودٍ غُرِّ الذُّرَى، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِلْنَا، فَحَلَفَ أَنْ لا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ أُتِيَ بِذُودٍ أُخْرَى، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِلْنَا، فَحَمَلَنَا، فَلَمَّا أَدْبَرْنَا، قُلْنَا: مَاذَا صَنَعْنَا؟ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ يَمِينَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سفید کوہان والے کچھ اونٹ پیش کئے گئے تھے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں سواری کے لیے دیجئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سواری کے لیے جانور نہیں دیں گے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ اور اونٹ پیش کئے گئے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ہماری سواری کے لیے دیجئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سواری کے لیے دے دئے، جب ہم وہاں سے واپس آئے تو ہم نے سوچا، یہ ہم نے کیا کیا، کیا ہے؟ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ آپ کی قسم کی طرف مبذول نہیں کروائی، پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے اس بات کا تذکرہ آپ سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جب بھی قسم اٹھاؤں گا اور پھر اس کے برعکس کام کو بہتر سمجھوں گا، تو وہ کام کروں گا، جو زیادہ بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 784]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3133، 4385، 5517، 5518، 6623، 6649، 6680، 6718، 6719، 6721، 7555، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1649، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4354، 5222، 5255، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3788، 3789، 4357، 4358، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3276، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1826، 1827، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2099، 2100، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2107، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19467، 19541، 19867، 19902، 19903، أحمد فى «مسنده» برقم: 13033 برقم: 13827»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 785
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 785
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ شُعْبَةُ وَكَانَ ثِقَةً، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى فِي دَارِهِ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِهِ، فَدَعَا بَنِيهِ، فَقَالَ: يَا بَنِيَّ، تَعَالَوْا حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ" .
شعبہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر کی پشت کی طرف کے کمرے میں موجود تھا۔ انہوں نے اپنے بچوں کو بلایا اور بولے: اے میرے بچو! آگے آؤ تاکہ میں تمہیں وہ حدیث سناؤں جو میں نے اپنے والد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص ایک گردن (یعنی غلام یا کنیز) کو آزاد کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس (غلام یا کنیز) کے ہر ایک عضو کے عوض میں اس (آزاد کرنے والے کے) ہر ایک عضو کو جہنم سے آزاد کر دے گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 785]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 2859، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4858، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21367، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19932، والطحاوي فى "شرح مشكل الآثار" برقم: 718»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 786
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 786
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الشَّعْبِيِّ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عُمَرَ، وَإِنَّ نَاسًا عِنْدَنَا بِخُرَاسَانَ يَقُولُونَ: إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا، فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ , قَالَ الشَّعْبِيُّ : حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: الرَّجُلُ مِنَ أَهْلِ الْكِتَابِ كَانَ مُؤْمِنًا قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ آمَنَ بِالنَّبِيِّ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَعَلَّمَهَا، فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ أَطَاعَ اللَّهَ، وَأَدَّى حَقَّ سَيِّدِهِ، فَلَهُ أَجْرَانِ" , خُذْهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِي أَدْنَى مِنْهَا إِلَى الْمَدِينَةِ.
صالح بن حیی کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں: ایک شخص امام شعبی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا، میں اس وقت ان کے پاس موجود تھا۔ وہ بولا: اے ابوعمرو! خراسان میں ہمارے ہاں کچھ ایسے لوگ ہیں، جو اس بات کے قائل ہیں، اگر کوئی شخص اپنی کنیز کو آزاد کرنے کے بعد پھر اس سے شادی کر لے، تو وہ اپنے قربانی کے جانور پر سوار ہونے والے شخص کی مانند ہے، تو امام شعبی رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا: سیدنا ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔ تین لوگوں کو دگنا اجر ملے گا۔ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا وہ شخص جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی مومن تھا اور پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لے آیا، تو اسے دگنا اجر ملے گا۔ ایک وہ شخص جس کی کوئی کنیز ہو وہ اس کی تعلیم و تربیت کرے اور اچھی تعلیم و تربیت کرے، پھر وہ اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کر لے۔ اور ایک وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی بھی فرمانبرداری کرے اور اپنے آقا کے حق کو بھی ادا کرے تو اسے دگنا اجر ملے گا۔ (امام شعبی نے فرمایا): تم کسی معاوضے کے بغیر اسے حاصل کر لو۔ حالانکہ پہلے کوئی شخص اس سے کم مضمون والی روایت کے لیے مدینہ منورہ تک کا سفر کیا کرتا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 786]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 97، 2544، 2547، 2551، 3011، 3446، 5083، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 154، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 227، 4053، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3344، 3345، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5476، 5477، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2053، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1116، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2290، 2291، وابن ماجه فى «سننه» 1956، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13851، 13852، 13853 15902، 15908، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19841 برقم: 19873»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 787
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 787
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَازِنُ الأَمِينُ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ مُؤْتَجِرًا أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: وہ امانت دار خزانچی جو اجر کی امید رکھتے ہوئے وہ چیز (اللہ کی راہ میں کسی کو) دیتا ہے۔ جس کا اسے حکم دیا گیا ہے، تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک شمار ہوگا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 787]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 481، 1438، 2101، 2260، 2319، 2446، 5534، 6026، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1023، 2585، 2628، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 231، 232، 561، 579، 3359، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2559، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2352، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1684، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1928، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7941، 11245، 11628، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19821 برقم: 19933»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 788
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، كَمَثَلِ الْعَطَّارِ، إِنْ لَمْ يَحْذِكَ مِنْ عِطْرِهِ عَلِقَ بِكَ مِنْ رِيحِهِ، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السُّوءِ، كَمَثَلِ الْقَيْنِ، إِنْ لَمْ يَحْرِقَكَ بِشَرَرِهِ، عَلِقَ بِكَ مِنَ رِيحِهِ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اچھے ہم نشین کی مثال عطار کی مانند ہے اگر وہ تمہیں اپنا عطر نہیں بھی دے گا، تو اس کی خوشبو تم تک پہنچے گی۔ اور برے ہم نشین کی مثال لوہار کی مانند ہے اگر وہ اپنے شراروں کے ذریعے تمہیں نہیں جلائے گا، تو بھی اس کی بدبو تم تک پہنچے گی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 788]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2101، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2628، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 231، 232، 561، 579، 3359، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5041، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2352، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4830، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2865، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7941، 11245، 11628، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19821 برقم: 19933»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 789
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 789
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْفَعُوا إِلَيَّ فَلْتُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میرے سامنے سفارش کیا کرو۔ تمہیں اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو چاہے فیصلہ دے دیتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 789]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1432، 6027، 6028، 7476، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2627، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 531، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2555، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2348، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5131، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2672، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16777، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19893 برقم: 20020، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7296، والبزار فى «مسنده» برقم: 3181»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 790
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 790
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ثنا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 790]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 481، 6026، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2585، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 231، 232، 561، 579، 3359، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2561، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2352، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1684، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1928، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7941، 11245، 11628، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19821 برقم: 19933»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 791
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 791
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَلْيَرْجِعْ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص (کسی گھر میں داخل ہونے کے لئے) تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے، تو وہ واپس چلا جائے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 791]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2062، 6245، 7353، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2153، 2154، ومالك فى «الموطأ» برقم: 3539، 3540، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5806، 5807، 5810، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5180، 5181، والترمذي فى «جامعه» ، برقم: 2690، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2671، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3706، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13692، 17742، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11186 برقم: 11314 برقم: 19819»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 792
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 792
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: " لَيْسَ أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَيَّ أَذَى إِذَا يَسْمَعَهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، يَدْعُونَ لَهُ نِدًّا ثُمَّ هُوَ يَرْزُقُهُمْ وَيْعَافِيهِمْ" , قَالَ الأَعْمَشُ: فَقِيلَ لَهُ: مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَكْذِبْ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعید بن جبیر فرماتے ہیں: تکلیف دہ بات کو سن کر اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ لوگ اس کے شریک کو پکارتے ہیں، لیکن وہ پھر بھی ان لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ انہیں عافیت فراہم کرتا ہے۔ اعمش کہتے ہیں: سعید بن جبیر سے کہا گیا: اے عبداللہ! آپ نے یہ روایت کس سے سنی ہے؟ تو وہ بولے: میں غلط بیانی نہیں کروں گا، ابوعبدالرحمن سلمی نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نقل کی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 792]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6099، 7378، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2804، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 642، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7661، 11261، 11381، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19836 برقم: 19898 برقم: 19943، والبزار فى «مسنده» ، برقم: 3006، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20250 20273، والطبراني فى "الأوسط" برقم: 3470»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں