صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ وَأَنَّ الأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلاَ ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ:
باب: رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کا بیان، اور بہتر یہ ہے کہ جو باب: روزہ کی طاقت رکھتا ہے وہ روزہ رکھے، اور جس کے لیے مشقت ہو تو وہ نہ رکھے۔
ترقیم عبدالباقی: 1116 ترقیم شاملہ: -- 2615
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ "،
ہداب بن خالد، ہمام بن یحییٰ، قتادہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سات سولہ رمضان کو ایک غزوہ میں گئے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزے سے تھے اور کچھ بغیر روزے کے چنانچہ نہ تو روزہ رکھنے والوں نے نہ رکھنے والوں کی مذمت کی اور نہ ہی نہ رکھنے والوں نے رکھنے والوں پر کوئی نکیر کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2615]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سولہ رمضان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگی سفر پر تھے ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا تھا اور بعض نے روزہ نہ رکھا تھا روزہ داروں نے روزہ نہ رکھنے والوں کی مذمت نہ کی اور نہ روزہ نہ رکھنے والوں نے روزہ داروں پر عیب لگایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2615]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1116
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1116 ترقیم شاملہ: -- 2616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ . ح وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ هَمَّامٍ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ، وَعُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، وَهِشَامٍ " لِثَمَانَ عَشْرَةَ خَلَتْ "، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ " فِي ثِنْتَيْ عَشْرَةَ "، وَشُعْبَةَ: " لِسَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ ".
محمد بن ابی بکر مقدمی، یحییٰ بن سعید تیمی، محمد بن مثنیٰ، ابن مہدی، شعبہ، ابوعامر، ہشام، سالم بن نوح، عمر (ابن عامر)، ابوبکر بن ابی شیبہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے ہمام کی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ تیمی اور عمر بن عامر اور ہشام کی روایت میں اٹھارہ تاریخ اور سعید کی حدیث میں بارہ تاریخ اور شعبہ کی حدیث میں سترہ یا انیس تاریخ ذکر کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2616]
امام صاحب نے اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کی سند سے مذکورہ روایت بیان کی ہے لیکن تاریخیوں میں اختلاف ہے تیمی عمر بن عامر اور ہشام کی حدیث میں 18 رمضان سعید کی حدیث میں 12رمضان اور شعبہ کی روایت میں 18 یا 19 رمضان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2616]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1116
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1116 ترقیم شاملہ: -- 2617
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَمَا يُعَابُ عَلَى الصَّائِمِ صَوْمُهُ، وَلَا عَلَى الْمُفْطِرِ إِفْطَارُهُ ".
نصر بن علی جہضمی، بشر (ابن مفضل)، ابومسلمہ، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو کوئی بھی روزہ رکھنے والے کے روزہ پر تنقید نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ کے افطار کرنے والے پر کوئی تنقید کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2617]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے تو روزے دار پر اس کے روزہ کے سبب اعتراض نہیں کیا جاتا تھا اور نہ افطار کرنے والے پر روزہ نہ رکھنے کے سبب۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2617]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1116
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1116 ترقیم شاملہ: -- 2618
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَلَا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ "، يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ، وَيَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ، فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ.
عمرو ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، جریری، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں ایک غزوہ میں تھے تو ہم میں سے کوئی روزہ دار ہوتا اور کوئی افطار ہوتا تو نہ تو روزہ دار افطار کرنے والے پر تنقید کرتا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی طاقت رکھتا ہے تو روزہ رکھ لے تو یہ اس کے لیے اچھا ہے اور وہ یہ بھی سمجھتے اگر کوئی ضعف پاتا ہے تو وہ افطار کر لے تو یہ اس کے لیے اچھا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2618]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد پر نکلتے تو ہم میں روزے دار بھی ہوتے اور روزہ نہ رکھنے والے بھی، نہ صائم مفطر پر ناراض ہوتا اور نہ مفطر صائم پر، ان کا نظریہ تھا جو طاقت اور ہمت پا کر روزہ رکھ لے تو یہ بہتر ہے اور جو کمزوری محسوس کرکے روزہ نہ رکھے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2618]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1116
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1117 ترقیم شاملہ: -- 2619
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ كُلُّهُمْ، عَنْ مَرْوَانَ ، قَالَ سَعِيدٌ: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنهم، قَالَا: " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ، فَلَا يَعِيبُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ".
سعید بن عمر، سہل بن عثمان، سوید بن سعید، حسین بن حریث، سعید، مروان بن معاویہ، عاصم، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا اور افطار کرنے والا روزہ افطار کر لیتا تھا اور ان میں سے کوئی کسی کو ملامت نہیں کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2619]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو روزہ کی ہمت پانے والا روزہ رکھتا تھا اور ہمت طاقت سے محروم روزہ چھوڑ دیتا تھا تو کوئی دوسرے کو برا نہیں کہتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2619]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1117
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1118 ترقیم شاملہ: -- 2620
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صَوْمِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابوخثیمہ، حضرت حمید سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سفر میں رمضان کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا ہے تو کوئی روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے کی ملامت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی ملامت کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2620]
حمید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سفر میں رمضان کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا؟ تو انھوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو روزے دار نے بے روزہ پر اعتراض نہ کیا اور نہ بے روزے نے روزے دار پر۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2620]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1118
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1118 ترقیم شاملہ: -- 2621
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ فَصُمْتُ، فَقَالُوا لِي: أَعِدْ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنِي: " أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يُسَافِرُونَ، فَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ "، فَلَقِيتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ فَأَخْبَرَنِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، بِمِثْلِهِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر، حضرت حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرمایا کہ میں نکلا اور میں نے روزہ رکھ لیا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تم دوبارہ روزہ رکھو میں نے کہا حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سفر کرتے تھے تو کوئی بھی روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے کی ملامت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی ملامت کرتا تھا پھر میں نے ابن ابی ملیکہ سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے اس طرح کی خبر دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2621]
حمید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سفر میں روزہ رکھا تو ساتھیوں نے مجھے کہا: دوبارہ روزہ رکھو تو میں نے انہیں بتایا کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سفر کرتے تھے تو رزوے دار روزہ نہ رکھنے والے پر تنقید نہ کرتا اور نہ ہی بے روزہ رکھنے والے پر پھر میں ابن ابی ملیکہ سے ملا اس نے مجھے یہی خبر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2621]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1118
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
16. باب أَجْرِ الْمُفْطِرِ فِي السَّفَرِ إِذَا تَوَلَّى الْعَمَلَ:
باب: سفر میں روزہ چھوڑنے والے کے اجر کا بیان جبکہ وہ خدمت والے کام میں لگا رہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1119 ترقیم شاملہ: -- 2622
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ أَكْثَرُنَا ظِلًّا صَاحِبُ الْكِسَاءِ، وَمِنَّا مَنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ، قَالَ: فَسَقَطَ الصُّوَّامُ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ، فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةِ وَسَقَوْا الرِّكَابَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، عاصم، مورق، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو ہم میں کچھ روزہ دار تھے اور کچھ روزہ چھوڑے ہوئے تھے راوی نے کہا کہ ہم ایک جگہ سخت گرمی کے موسم میں اترے اور ہم میں سب سے زیادہ سایہ حاصل کرنے والا وہ آدمی تھا کہ جس کے پاس چادر تھی ہم میں سے کچھ اپنے ہاتھوں سے دھوپ سے بچ رہے تھے راوی نے کہا کہ روزہ رکھنے والے تو گر گئے اور روزہ چھوڑنے والے قائم رہے انہوں نے خیمے لگائے اور اونٹوں کو پانی پلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے دن روزہ چھوڑنے والے اجر حاصل کر گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2622]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہم میں سے بعض روزے سے تھے اور بعض روزے سے نہیں تھے تو ایک سخت گرمی کے دن ہم ایک منزل پر اترے اور ہم میں سے سب سے زیادہ سایہ حاصل کرنے والا شخص وہ تھا جس کے پاس کمبل تھا اور ہم میں سے بعض وہ تھے جو سورج سے اپنے ہاتھ سے بچ رہے تھے، روزے رکھنے والے تو گرپڑے اور روزہ نہ رکھنے والے اٹھے۔ انھوں نے سب کے لیے خیمے لگائے اور سب کی سواریوں کو پانی پلایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تو اجر روزہ نہ رکھنے والے لے گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2622]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1119
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1119 ترقیم شاملہ: -- 2623
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَصَامَ بَعْضٌ وَأَفْطَرَ بَعْضٌ، فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ وَعَمِلُوا، وَضَعُفَ الصُّوَّامُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ، قَالَ: فَقَالَ فِي ذَلِكَ: " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ ".
ابوکریب، حفص، عاصم، مورق، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ چھوڑ دیا روزہ نہ رکھنے والے تو خدمت کے کام پر لگ گئے اور روزہ رکھنے والے خدمت کے کام میں کمزور پڑ گئے راوی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: ”روزہ افطار کرنے والے اجر پا گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2623]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفرمیں تھے تو بعض نے روزہ رکھا اور بعض نےنہ رکھا تو بے روزہ خدمت کمر بستہ ہو گئےیا انھوں نے کمر بند باندھ لیے اور کام کرنے لگے اور روزے دار کام نہ کر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تو اجر بےروز لے گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2623]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1119
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1120 ترقیم شاملہ: -- 2624
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَزَعَةُ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ، قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ، سَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ "، فَكَانَتْ رُخْصَةً فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ، فَأَفْطِرُوا "، وَكَانَتْ عَزْمَةً فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ.
محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی، معاویہ بن صالح، حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے قزعہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس لوگوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا تو لوگ ان سے علیحدہ ہو گئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ میں آپ سے وہ نہیں پوچھوں گا جس کے بارے میں یہ پوچھ رہے ہیں (راوی کہتے ہیں) کہ میں نے سفر کے روزہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ تک سفر کیا ہے اور ہم روزہ کی حالت میں تھے انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک جگہ اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دشمن کے قریب ہو گئے ہو اور اب افطار کرنا (روزہ نہ رکھنا) تمہارے لیے قوت و طاقت کا باعث ہو گا۔“ تو روزہ کی رخصت تھی پھر ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ نہ رکھا پھر جب ہم دوسری منزل تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کے وقت اپنے دشمن کے پاس گئے روزہ نہ رکھنے سے تمہارے اندر طاقت زیادہ ہو گی اس لیے روزہ نہ رکھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ضروری تھا اس لیے ہم نے روزہ نہیں رکھا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2624]
قزعہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ ان کے پاس بہت سے لوگ جمع ہو چکے تھے جب لوگ ان کے پاس سے بکھرگئے تو میں نے کہا جو یہ لوگ پوچھ رہے تھے میں اس کے بارے میں آپ سے نہیں پوچھوں گا، میں نے ان سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا؟ تو انھوں نے بتایا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کے سفر کے لیےنکلے جبکہ ہم روزہ دار تھے تو ہم ایک منزل پر اترے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو اور روزہ نہ رکھنا یہ تمھارے لیے زیادہ طاقت بخش ہے۔“ یہ روزہ نہ رکھنے کی رخصت تھی تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھاپھر ہم ایک دوسری منزل پر اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح دشمن تک پہنچ جاؤگے اور روزہ نہ رکھنا یہ تمھارے لیے زیادہ طاقت کا باعث ہو گا لہٰذا روزہ نہ رکھو،“ اور یہ حکم قطعی تھا اس لیے ہم نے روزہ نہ رکھا پھر انھوں نے بتایا میں نے اس کے بعد سفر میں ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزہ رکھتے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2624]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1120
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة