🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا وَبَيَانِ مَحِلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِهَا:
باب: شب قدر کی فضیلت اور اس کو تلاش کرنے کی ترغیب، اور اس کے تعین کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1168 ترقیم شاملہ: -- 2775
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ: عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَأَرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ "، قَالَ: فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْصَرَفَ، وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ: ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ.
بسر بن سعید نے حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر مجھے بھلا دی گئی۔ اس کی صبح میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ کہا: تیئسویں رات ہم پر بارش ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی پھر آپ نے (رخ) پھیرا تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشانات تھے، کہا: اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے (لیلۃ القدر) تیئیسویں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2775]
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی اور میں نے اس کی صبح اپنے آپ کو پانی اور مٹی میں سجدے کرتے دیکھا۔ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تیئسویں کی رات ہم پر بارش برسی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو پانی اور مٹی کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر موجود تھا، عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ شب قدر تیئسویں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2775]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1168
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1169 ترقیم شاملہ: -- 2776
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: " الْتَمِسُوا "، وَقَالَ وَكِيعٌ: " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2776]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ ابن نمیر نے «الْتَمِسُوهَا» کہا اور وکیع نے «تَحَرَّوْا» کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2776]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1169
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 762 ترقیم شاملہ: -- 2777
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدَةَ ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، سمعا زر بن حبيش ، يَقُولُ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ: " رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ "، فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ؟، قَالَ: " بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا ".
سفیان بن عیینہ نے عبدہ اور عاصم بن ابی نجود سے روایت کی، ان دونوں نے حضرت زر بن حبیش سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، میں نے کہا: آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو سال بھر (رات کو) قیام کرے گا، وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا۔ انہوں نے فرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے، انہوں نے چاہا کہ لوگ (کم راتوں کی عبادت پر) قناعت نہ کر لیں، ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ رمضان ہی میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔ پھر انہوں نے استثناء (ان شاء اللہ کہے) بغیر قسم کھا کر کہا: وہ ستائیسویں رات ہی ہے۔ اس پر میں نے کہا: ابومنذر! یہ بات آپ کس بنا پر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے کہ اس دن سورج نکلتا ہے، اس کی شعائیں (نمایاں) نہیں ہوتیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2777]
زر بن حبیش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو پورے سال کی راتوں میں کھڑا ہو گا (سال کی ہر رات قیام کرے گا) اس کو شب قدر نصیب ہو گی تو انہوں نے فرمایا: عبداللہ (رضی اللہ عنہ) پر اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے، ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگ (کسی ایک رات کے قیام) پر اعتماد و قناعت نہ کر لیں، ورنہ ان کو خوب پتہ تھا کہ شب قدر رمضان میں ہے اور اس کے بھی آخری عشرہ میں، اور وہ ستائیسویں (27) رات ہے پھر انہوں نے (پوری قطعیت کے ساتھ) بغیر «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» کہے قسم کھا کر کہا: وہ ستائیسویں رات ہی ہے تو میں نے دریافت کیا: اے ابوالمنذر! (حضرت ابی کی کنیت ہے) یہ آپ کس بنا پر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس علامت یا نشانی کی بنا پر کہتا ہوں جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی تھی، اور وہ یہ کہ شب قدر کی صبح کو جب سورج نکلتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2777]
ترقیم فوادعبدالباقی: 762
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 762 ترقیم شاملہ: -- 2778
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ أُبَيٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا "، قَالَ شُعْبَةُ: " وَأَكْبَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا، هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ "، وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ ".
شعبہ نے کہا: میں نے عبدہ بن ابی لبابہ سے سنا، وہ حضرت زر بن حبیش سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہا: حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے لیلۃ القدر کے بارے میں کہا: «واللہ! إني لأعلمها» ۔ شعبہ نے (روایت کے الفاظ بیان کرتے ہوئے) کہا: میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس (پر پوری رات) کے قیام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا (اور) وہ ستائیسویں رات ہے۔ اس فقرے میں شعبہ نے شک کیا: یہ وہی رات ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا۔ اور کہا: اس کے بارے میں مجھے میرے ایک ساتھی نے ان (عبدہ) کے حوالے سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2778]
زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے شبِ قدر کے بارے میں کہا: اللہ تعالیٰ کی قسم! میں اسے جانتا ہوں۔ شعبہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے زیادہ یقین (ظنِ غالب) اس بات پر ہے کہ یہی وہ رات ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کا حکم دیا اور یہ ستائیسویں رات ہے۔ ان الفاظ میں شک شعبہ کو ہے کہ یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا، شعبہ کہتے ہیں: یہ الفاظ میرے ایک ساتھی نے استاد سے نقل کیے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2778]
ترقیم فوادعبدالباقی: 762
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1170 ترقیم شاملہ: -- 2779
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ، وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہم نے آپس میں لیلۃ القدر کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کس کو یاد ہے جب چاند طلوع ہوا اور وہ پیالے کے ایک ٹکڑے کے مانند تھا (وہی رات تھی)؟ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2779]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہم نے لیلة القدر کا باہمی تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس کو یاد ہے کہ شبِ قدر اس رات میں ہے جس کی صبح چاند طشت کے ایک ٹکڑے کی طرح طلوع ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2779]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1170
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں