🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا وَبَيَانِ مَحِلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِهَا:
باب: شب قدر کی فضیلت اور اس کو تلاش کرنے کی ترغیب، اور اس کے تعین کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1165 ترقیم شاملہ: -- 2765
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ، فَلَا يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي ".
عقبہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس یعنی لیلۃ القدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو، اگر تم میں سے کوئی کمزور پڑ جائے یا بے بس ہو جائے تو وہ باقی کی سات راتوں میں (کسی صورت سستی یا کمزوری سے) مغلوب نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2765]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ اگر تم میں سے کوئی کمزور اور عاجز ہو جائے تو وہ آخری سات دنوں میں تلاش میں سست نہ پڑے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2765]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1165 ترقیم شاملہ: -- 2766
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ كَانَ مُلْتَمِسَهَا، فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ".
شعبہ نے جبلہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: جو اس رات کا متلاشی ہو تو وہ اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2766]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص شب قدر کو ڈھونڈنا چاہے وہ اسے آخری عشرے میں ڈھونڈے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2766]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1165 ترقیم شاملہ: -- 2767
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ جَبَلَةَ ، وَمُحَارِبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَحَيَّنُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، أَوَ قَالَ: فِي التِّسْعِ الْأَوَاخِرِ ".
شیبانی نے جبلہ اور محارب سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لیلۃ القدر کے وقت آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔ یا فرمایا: آخری سات راتوں میں (تلاش کرو)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2767]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کا وقت آخری عشرے یا آخری سات دنوں میں تلاش کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2767]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1166 ترقیم شاملہ: -- 2768
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ "، وقَالَ حَرْمَلَةُ: فَنَسِيتُهَا.
ہمیں ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی (کہا:) مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے (خواب میں) شب قدر دکھائی گئی پھر مجھے میرے گھر والوں میں سے کسی نے بیدار کر دیا تو وہ مجھے بھلا دی گئی، تم اسے بعد میں آنے والی (آخری) دس راتوں میں تلاش کرو۔ حرملہ نے (مجھے بھلا دی گئی کے بجائے) میں اسے بھول گیا کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2768]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خواب میں شب قدر دکھائی گئی، پھر مجھے گھر کے کسی فرد نے جگا دیا تو میں اسے بھول گیا، اس لیے اسے باقی (آخری) عشرے میں تلاش کرو۔ (ایک راوی نے «نُسِّيتُهَا» نون کے پیش اور سین مشدد کے ساتھ پڑھا ہے اور ایک نے «نَسِيتُهَا» نون کے زبر اور سین کو مخفف پڑھا ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2768]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1166
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1167 ترقیم شاملہ: -- 2769
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ، فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ تَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً، وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ، ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا، فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَبِتْ فِي مُعْتَكَفِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَأُنْسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وِتْرٍ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً،
ہمیں بکر نے ابن ہاد سے حدیث سنائی، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے جو مہینے کے درمیان میں ہوتے ہیں، جب وہ وقت آتا کہ بیس راتیں گزر جاتیں اور اکیسویں رات کی آمد ہوتی تو اپنے گھر لوٹ جاتے اور وہ شخص بھی لوٹ جاتا جو آپ کے ساتھ اعتکاف کرتا تھا۔ پھر آپ ایک مہینے، جس میں آپ نے اعتکاف کیا تھا، اس رات ٹھہرے رہے جس میں آپ (گھر) لوٹ جایا کرتے تھے۔ آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، جو اللہ تعالیٰ نے چاہا اس کا حکم دیا۔ پھر فرمایا: میں ان (درمیانے) دس دنوں کا اعتکاف کرتا تھا۔ پھر مجھ پر منکشف ہوا کہ میں اس آخری عشرے کا اعتکاف کروں۔ تو جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنے اعتکاف کی جگہ ہی میں رات بسر کرے اور بلاشبہ میں نے یہ رات خواب میں دیکھی ہے اس کے بعد وہ مجھے بھلا دی گئی۔ لہٰذا تم اسے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو۔ میں اپنے آپ کو (خواب میں) دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اکیسویں رات ہم پر بارش ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ میں مسجد (کی چھت) ٹپک پڑی، میں نے جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو چکے تھے، آپ کو دیکھا تو آپ کا چہرہ مبارک مٹی اور پانی سے بھیگا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2769]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہینہ کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف بیٹھتے تھے، تو جب بیس راتیں گزر جاتیں اور اکیسویں شب کی آمد ہوتی تو اپنے گھر لوٹ جاتے اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معتکف ہوتے وہ بھی گھروں کو لوٹ جاتے، پھر ایک ماہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا تھا اس رات ٹھہر گئے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹ جایا کرتے تھے یعنی اکیسویں رات بھی ٹھہر گئے، لوگوں کو خطاب فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو چاہا اس کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس (درمیان) عشرہ کا اعتکاف کرتا تھا، اب مجھ پر ظاہر ہوا ہے کہ میں اس آخری عشرہ کا اعتکاف کروں، تو جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف بیٹھے ہیں وہ رات اپنے معتکف (جائے اعتکاف) میں بسر کریں کیونکہ مجھے یہ رات خواب میں دکھائی گئی تھی پھر بھلا دی گئی، اس لیے اسے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو، میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اکیسویں رات ہم پر بارش ہوئی اور مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلی (نماز گاہ) میں پانی ٹپکا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مٹی اور پانی سے تر ہو چکا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2769]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1167 ترقیم شاملہ: -- 2770
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ "، وَقَالَ: " وَجَبِينُهُ مُمْتَلِئًا طِينًا وَمَاءً ".
عبدالعزیز، یعنی دراوردی نے یزید (بن ہاد) سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں درمیانے عشرے کا اعتکاف کرتے تھے۔۔۔ (آگے) اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے (اپنے اعتکاف کی جگہ میں رات گزارنے کے بجائے) اپنے اعتکاف کی جگہ میں ٹھہرے رہے کہا اور کہا: آپ کی پیشانی مٹی اور پانی سے بھری ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2770]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کرتے تھے اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی، صرف اتنا فرق ہے کہ اس میں «لِيَثْبُتَ» رات گزارے کی بجائے «فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ» ٹھہرا اور جما رہے کے الفاظ ہیں، اور «مُبْتَلًّا» تر تھی کی جگہ «مُمْتَلِئًا» آلودہ تھی ہے، اور «وَجْهِهِ» کی بجائے «جَبِينِهِ» کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2770]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1167 ترقیم شاملہ: -- 2771
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْهُ، فَقَالَ: " إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ، ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ "، فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ، قَالَ: " وَإِنِّي أُرْبِئْتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ، وَإِنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ "، فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ، فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ، وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ.
ہم سے عمارہ بن غزیہ انصاری نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے محمد بن ابراہیم سے سنا، وہ ابوسلمہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمے کے اندر، جس کے دروازے پر چٹائی تھی، رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا۔ کہا: تو آپ نے چٹائی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر خیمے کے ایک کونے میں کیا، پھر اپنا سر مبارک خیمے سے باہر نکال کر لوگوں سے گفتگو فرمائی، لوگ آپ کے قریب ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس شب (قدر) کو تلاش کرنے کے لیے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر میرے پاس (بخاری حدیث: 813 میں ہے: جبریل علیہ السلام کی آمد ہوئی تو مجھ سے کہا گیا: وہ آخری دس راتوں میں ہے) تو اب تم میں سے جو اعتکاف کرنا چاہے وہ اعتکاف کر لے۔ لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا۔ آپ نے فرمایا: اور مجھے وہ ایک طاق رات دکھائی گئی اور یہ کہ میں اس (رات) کی صبح مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کی صبح کی، اور آپ نے (اس میں) صبح تک قیام کیا تھا پھر بارش ہوئی تو مسجد (کی چھت) ٹپک پڑی، میں نے مٹی اور پانی دیکھا، اس کے بعد جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے دونوں میں مٹی اور پانی (کے نشانات) موجود تھے اور یہ آخری عشرے میں اکیسویں کی رات تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2771]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا۔ پھر ایک ترکی خیمہ میں، جس کے دروازے پر چٹائی تھی، درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے چٹائی کو پکڑ کر خیمہ کے ایک طرف ہٹا دیا۔ پھر اپنا سر خیمہ سے نکالا اور لوگوں سے گفتگو شروع کی تو وہ آپ کے قریب ہو گئے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس شبِ قدر کی تلاش میں پہلے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر میں نے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا، پھر مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ وہ آخری عشرے میں ہے، تو جو تم میں سے اعتکاف کرنا پسند کرے تو وہ اعتکاف کرے۔ تو لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا (یعنی معتکف آپ کے ساتھ بیٹھے رہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مجھے دکھایا گیا کہ وہ طاق رات ہے اور میں اس کی صبح مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات پھر قیام کیا، جب اکیسویں کی صبح ہوئی تو بارش ہو چکی تھی جس سے مسجد ٹپک پڑی، تو میں نے مٹی اور پانی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہو کر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک کا بانسہ مٹی اور پانی سے تر تھا اور یہ آخری عشرے کی اکیسویں رات تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2771]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1167 ترقیم شاملہ: -- 2772
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ لِي صَدِيقًا، فَقُلْتُ: أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ، فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ، فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نَسِيتُهَا أَوْ أُنْسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ كُلِّ وِتْرٍ، وَإِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ "، قَالَ: فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، قَالَ: وَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ، قَالَ: حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ،
ہشام نے یحییٰ سے اور انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: ہم نے آپس میں لیلۃ القدر کے بارے میں بات چیت کی، پھر میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ میرے دوست تھے، میں نے کہا: کیا آپ ہمارے ساتھ نخلستان میں نہیں چلیں گے؟ وہ نکلے اور ان (کے کندھوں) پر دھاری دار چادر تھی، میں نے ان سے پوچھا: (کیا) آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا، ہم بیسویں (رات) کی صبح کو (اعتکاف سے) نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی اور اب میں بھول گیا ہوں۔۔۔ مجھے بھلا دی گئی ہے۔۔۔ اس لیے تم اس کو آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں (اس رات) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ واپس (اعتکاف میں) چلا جائے۔ کہا: ہم واپس ہو گئے اور ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، کہا: ایک بدلی آئی، ہم پر بارش ہوئی یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہہ پڑی۔ وہ کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی اور نماز کھڑی کی گئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے، کہا: یہاں تک کہ میں نے آپ کی پیشانی پر مٹی کا نشان بھی دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2772]
ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے آپس میں شب قدر کا تذکرہ کیا، پھر میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ میرے دوست تھے، تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ ہمارے ساتھ نخلستان میں جائیں گے؟ وہ پانچ گزی چادر اوڑھے ہوئے نکلے (اگر لفظ «خَمِيْسَة» ہو تو معنی پانچ گزی چادر ہوگا، اگر «خَمِيْصَة» ہو تو معنی گرم منقش چادر ہوگا)، میں نے ان سے پوچھا کہ: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کا ذکر سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی دہاکے کا اعتکاف کیا، تو ہم نے بیسویں کی صبح نکلنے کی تیاری کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا: مجھے «لَيْلَةُ الْقَدْرِ» لیلۃ القدر دکھائی گئی اور میں بھول گیا ہوں یا بھلا دیا گیا ہوں، اسے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو اور میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں (اس رات) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں، تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ واپس آ جائیں (یعنی اپنا سامان واپس منگوا لیں اور معتکف میں رہیں)۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم (ذہنی طور پر) واپس لوٹ آئے (اور سامان منگوا لیا اور خیموں میں لوٹ گئے) اور ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بادل امنڈ آئے اور ہم پر مینہ برسا، حتیٰ کہ چھت ٹپک پڑی کیونکہ وہ کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی، پھر نماز کھڑی کی گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے، حتیٰ کہ میں نے آپ کی پیشانی پر مٹی کا نشان دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2772]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1167 ترقیم شاملہ: -- 2773
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِهِمَا " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ، وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرُ الطِّينِ ".
معمر اور اوزاعی دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے ہم معنی روایت کی۔ اور ان دونوں کی حدیث میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے (فارغ ہو کر) پلٹے تو میں نے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے پر مٹی کا نشان تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2773]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت نقل کرتے ہیں، اس میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فراغت حاصل کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک کے بانسہ پر مٹی کا اثر (نشان) تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2773]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1167 ترقیم شاملہ: -- 2774
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ، يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ، فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَقُوِّضَ، ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا كَانَتْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَإِنِّي خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِهَا، فَجَاءَ رَجُلَانِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، الْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ "، قَالَ: قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ: إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: أَجَلْ، نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكُمْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ، قَالَ: إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ وَهِيَ التَّاسِعَةُ، فَإِذَا مَضَتْ ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، فَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ، وَقَالَ ابْنُ خَلَّادٍ: مَكَانَ يَحْتَقَّانِ يَخْتَصِمَانِ.
محمد بن مثنیٰ اور ابوبکر بن خلاد نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا اس سے پہلے کہ آپ کے سامنے اس کو کھول دیا جائے۔ آپ لیلۃ القدر کو تلاش کر رہے تھے۔ جب یہ (دس راتیں) ختم ہو گئیں تو آپ نے حکم دیا اور ان خیموں کو اکھاڑ دیا گیا، پھر (وہ رات) آپ پر واضح کر دی گئی کہ وہ آخری عشرے میں ہے۔ اس پر آپ نے (خیمے لگانے کا) حکم دیا تو ان کو دوبارہ لگا دیا گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا: اے لوگو! مجھ پر لیلۃ القدر واضح کر دی گئی اور میں تم کو اس کے بارے میں بتانے کے لیے نکلا تو دو آدمی (ایک دوسرے پر) اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہوئے آئے، ان کے ساتھ شیطان تھا۔ اس پر وہ مجھے بھلا دی گئی۔ تم اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔ تم نویں، ساتویں اور پانچویں (رات) میں تلاش کرو۔ (ابونضرہ نے) کہا: میں نے کہا: ابوسعید! ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، ہم اسے جاننے کے تم سے زیادہ حقدار ہیں۔ کہا: میں نے پوچھا: نویں، ساتویں، اور پانچویں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جب اکیسویں رات گزرتی ہے تو وہی رات جس کے بعد بائیسویں آتی ہے وہی نویں ہے اور جب تیئسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد (آخر سے گنتے ہوئے ساتویں رات آتی ہے) ساتویں ہے، اس کے بعد جب پچیسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد پانچویں رات آتی ہے، پانچویں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2774]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا شب قدر کی تلاش میں اعتکاف کیا، جبکہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم نہیں دیا گیا تھا، جب یہ دن رات ختم ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیموں کو اکھاڑنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ آخری عشرے میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ خیمہ لگانے کا حکم دیا، پھر لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا: اے لوگو! شب قدر میرے لیے بیان کر دی گئی تھی اور میں تمہیں بتانے کے لیے نکلا تو دو آدمی آئے، ان میں سے ہر ایک حق پر ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا، ان کے ساتھ شیطان تھا، تو میں وہ بھول گیا، پس اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔ اسے نویں، ساتویں اور پانچویں میں تلاش کرو۔ ابو نضرہ کہتے ہیں میں نے کہا: اے ابو سعید! ہماری نسبت اس گنتی کو آپ لوگ زیادہ جانتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس کام کے ہم لوگ تمہاری بہ نسبت زیادہ حقدار ہیں۔ ابو نضرہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: نویں، ساتویں اور پانچویں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جب بیس کے بعد ایک گزر جائے تو اس سے متصل بائیس ہے وہ نویں ہے، تیئیسویں گزر جائے اس کے بعد جو رات آئے گی وہ ساتویں ہے، تو جب پچیسویں رات گزر جائے گی تو اس کے ساتھ والی پانچویں ہے۔ ابن خلاد نے «يَحْتَقَّانِ» (ہر ایک حق پر ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا) کی جگہ «يَخْتَصِمَانِ» کہا ہے کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2774]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں