صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ:
باب: صوم دھر یہاں تک کہ عیدین اور ایام تشریق میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1159 ترقیم شاملہ: -- 2735
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ، قَالَ مُسْلِم: أَبُو الْعَبَّاسِ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ثِقَةٌ عَدْلٌ.
محمد بن بکر نے ہم سے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابن جریج نے اسی سند سے (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی اور کہا کہ ابوعباس الشاعر نے ان کو خبر دی۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: ابوعباس سائب بن فروخ اہل مکہ سے ہیں، ثقہ اور عدول ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2735]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے ابن جریج رحمہ اللہ ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں، اس میں عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ابو العباس الشاعر نے خبر دی ہے“، امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ابو العباس السائب بن فروخ مکہ کا باشندہ، ثقہ اور عادل ہے (عام شاعروں کی طرح غیر معتبر نہیں ہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2735]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1159 ترقیم شاملہ: -- 2736
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ، وَنَهَكَتْ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الشَّهْرِ كُلِّهِ "، قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى "،
شعبہ نے ہمیں حبیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعباس (سائب بن فروخ) سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! تم ہمیشہ (بلاوقفہ روزانہ) روزے رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو اور جب تم ایسا ہی کرو گے تو (ایسا کرنے والے کی) آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور (جاگ جاگ کر) کمزور ہو جائیں گی، (اور جہاں تک اجر کا تعلق ہے تو) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے روزہ نہ رکھا، مہینے میں سے تین دن کے روزے پورے مہینے کے روزے (متصور) ہوں گے۔“ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ (روزے رکھنے) کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ترک کرتے تھے اور (دشمن سے) آمنے سامنے کے وقت بھاگتے نہیں تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2736]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! تم روزانہ روزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو اور تم جب ایسا کرتے رہو گے تو تمھاری آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور کمزور ہو جائیں گی، جس نے ہر دن روزہ رکھا اس نے روزہ نہیں رکھا، ہر ماہ تین روزے رکھنا پورے ماہ کے روزے رکھنا ہے“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو داؤدی روزے رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑتے تھے اور مقابلہ کے وقت بھاگتے نہیں تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2736]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1159 ترقیم شاملہ: -- 2737
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " وَنَفِهَتِ النَّفْسُ ".
مسعر سے روایت ہے، کہا: ہمیں حبیب بن ابی ثابت نے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی اور کہا: ”اور (ہمیشہ روزے رکھنے والے کی) جان درماندہ ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2737]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا نفس تھک ہار جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2737]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1159 ترقیم شاملہ: -- 2738
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ "، قُلْتُ: إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: " فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنَاكَ، وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ، لِعَيْنِكَ حَقٌّ، وَلِنَفْسِكَ حَقٌّ، وَلِأَهْلِكَ حَقٌّ، قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ ".
سفیان بن عینیہ نے عمرو سے، انہوں نے ابوعباس سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم رات بھر قیام کرتے ہو اور (روزانہ) دن کا روزہ رکھتے ہو؟“ میں نے عرض کی: میں یہ کام کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم یہ کام کرو گے تو (اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ) تمہاری آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی۔ اور تمہاری جان کمزور ہو جائے گی۔ تم پر تمہاری آنکھ کا حق ہے۔ تمہاری اپنی ذات کا حق ہے۔ اور تمہارے گھر والوں کا حق ہے۔ قیام کرو اور نیند بھی لو، روزہ رکھو بھی اور روزہ چھوڑو بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2738]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مجھے اطلاع نہیں ملی کہ رات قیام کرتے ہو اور ہر دن روزہ رکھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں یہ کام کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم یہ کام کرتے رہو گے تیری آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور تیرا نفس عاجز آ جائے گا، تیری آنکھ کا حق ہے، تیرے نفس کا حق ہے اور تیرے گھر والوں کا حق ہے، قیام کرو اور نیند کرو، روزہ رکھو اور افطار کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2738]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1159 ترقیم شاملہ: -- 2739
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، وَأَحَبَّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا ".
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن اوس سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ (نفلی) روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ (نفلی) نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے تھے اور اس کے (آخری) چھٹے حصے میں سو جاتے تھے۔ اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے (روزہ نہ رکھتے) تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2739]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب روزوں سے زیادہ پسند داؤدی روزے ہیں اور سب نفلی نمازوں سے داؤد علیہ السلام کی نماز پسند ہے، وہ آدھی رات تک سوتے پھر تہائی رات قیام کرتے اور آخری چھٹے حصہ میں سو جاتے (گویا رات کا صرف تہائی حصہ قیام کرتے اور رات کے اول اور آخر میں نیند کرتے تھے) اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2739]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1159 ترقیم شاملہ: -- 2740
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ، يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ "، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَعَمْرُو بْنُ أَوْسٍ كَانَ يَقُولُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ.
ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ ان کو عمرو بن اوس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے (یہ) خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ وہ آدھا زمانہ روزے رکھتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ آدھی رات تک سوتے تھے پھر قیام کرتے تھے، پھر اس کے آخری حصے میں سو جاتے تھے، وہ آدھی رات کے بعد رات کا ایک تہائی حصہ قیام کرتے تھے۔“ میں (ابن جریج) نے عمرو بن دینار سے پوچھا: کیا عمرو بن اوس یہ کہتے تھے: ”وہ آدھی رات کے بعد رات کا تہائی حصہ قیام کرتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2740]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب روزوں سے زیادہ پسند روزے داؤد علیہ السلام کے ہیں۔ وہ «نِصْفَ الدَّهْرِ» (ایک دن روزہ ایک دن ناغہ) روزے رکھتے تھے اور اللہ کو سب نمازوں سے زیادہ (رات کی نماز) داؤد علیہ السلام کی نماز پسند ہے، وہ آدھی رات تک سوتے، پھر (تہائی رات) قیام کرتے، پھر آخر میں سو جاتے، وہ آدھی رات کے بعد تہائی رات قیام کرتے تھے۔“ ابن جریج کہتے ہیں: ”میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا: کیا عمرو بن اوس یہ کہتے تھے کہ وہ آدھی رات کے بعد تہائی رات قیام کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2740]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1159 ترقیم شاملہ: -- 2741
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَقَالَ لِي: " أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ؟ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " خَمْسًا ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " سَبْعًا ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " تِسْعًا "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " أَحَدَ عَشَرَ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ، شَطْرُ الدَّهْرِ، صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ".
ابوقلابہ (بن زید بن عامر الجرمی البصری) نے کہا: مجھے ابوملیح نے خبر دی، کہا: میں تمہارے والد کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو انہوں نے ہمیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرے روزوں کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کا ایک تکیہ رکھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور تکیہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تمہیں ہر مہینے میں سے تین دن (کے روزے) کافی نہیں؟“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! (اس سے زیادہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! (اس سے زیادہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! (اس سے زیادہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نو۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! (اس سے زیادہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیارہ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کے روزوں سے بڑھ کر کوئی روزے نہیں ہیں، آدھا زمانہ، ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2741]
ابو قلابہ بیان کرتے ہیں، مجھے ابو المسیح نے بتایا کہ میں تیرے باپ کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرے روزوں کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کا ایک تکیہ پیش کیا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر فروکش ہو گئے اور تکیہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تجھے ہر ماہ تین روزے کفایت نہیں کرتے؟“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! (یہ کافی نہیں ہیں)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نو۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیارہ۔“ میں نے عرض کیا: ”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داؤدی روزوں سے اوپر کوئی روزہ نہیں، آدھا زمانہ، ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2741]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1159 ترقیم شاملہ: -- 2742
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ "، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ "، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ "، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ "، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ، صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ".
زیاد بن فیاض سے روایت ہے، کہا: میں نے ابوعیاض سے سنا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”ایک دن کا روزہ رکھو اور تمہارے لیے ان (دنوں) کا اجر ہے جو باقی ہیں۔“ کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دن روزے رکھو اور تمہارے لیے ان (دنوں) کا اجر ہے جو باقی ہیں۔“ کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن روزے رکھو اور تمہارے لیے ان (دنوں) کا اجر ہے جو باقی ہیں۔“ کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار دن روزے رکھو اور تمہارے لیے ان (دنوں) کا اجر ہے جو باقی ہیں۔“ کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت والے روزے، یعنی داود علیہ السلام کے روزے کی طرح (روزے) رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2742]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور باقی کا تمہیں ثواب مل جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دن روزے رکھو، باقی (عشرے) کا تمہیں ثواب مل جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن روزے رکھو، باقی کا اجر تمہیں مل جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ہاں بہترین روزے «صَوْمُ دَاوُدَ» ”داؤد علیہ السلام کے روزے“ ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن چھوڑتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2742]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1159 ترقیم شاملہ: -- 2743
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ جميعا، عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، فَلَا تَفْعَلْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، صُمْ وَأَفْطِرْ، صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ: " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، صُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا "، فَكَانَ يَقُولُ: يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ.
سعید بن میناء نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! مجھے خبر ملی ہے کہ تم (روزانہ) دن کا روزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو، ایسا مت کرو کیونکہ تم پر تمہارے جسم کا حصہ (ادا کرنا ضروری) ہے، تم پر تمہاری آنکھ کا حصہ (ادا کرنا ضروری) ہے، تم پر تمہاری بیوی کا حصہ (ادا کرنا ضروری) ہے، روزے رکھو اور ترک بھی کرو، ہر مہینے میں سے تین دن کے روزے رکھ لیا کرو۔ یہ سارے وقت کے روزوں (کے برابر) ہیں۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے اندر (زیادہ روزے رکھنے کی) قوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح (روزے) رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے۔“ وہ کہا کرتے تھے: کاش! میں نے رخصت کو قبول کیا ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2743]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! مجھے خبر ملی ہے کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو، ایسا نہ کرو، کیونکہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے، تیری آنکھوں کا تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے، روزہ رکھو بھی اور روزہ افطار بھی کرو، ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو تو یہ «صَوْمُ الدَّهْرِ» ”ہمیشہ کے روزے“ ہو جائیں گے۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے اندر قوت پاتا ہوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔“ (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بعد میں) کہا کرتے تھے: ”اے کاش! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کر لیتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2743]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
36. باب اسْتِحْبَابِ صِياَمِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.
باب: ہر مہینے تین دن کے روزے اور یوم عرفہ کا روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استحباب کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1160 ترقیم شاملہ: -- 2744
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ "، قَالَتْ: " نَعَمْ "، فَقُلْتُ لَهَا: " مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ "، قَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ ".
سیدہ معاذہ العدویہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر پوچھا کہ کن دنوں میں (روزے رکھتے تھے؟) انہوں نے کہا: کچھ پرواہ نہ کرتے، کسی بھی دن روزہ رکھ لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2744]
معاذہ عدویہ رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں۔“ تو میں نے پوچھا: ”مہینے کے کن دنوں میں (کن تاریخوں میں) روزہ رکھتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اس کی فکر و اہتمام نہیں فرماتے تھے مہینہ کے کن دنوں میں روزہ رکھیں (یعنی جن دنوں چاہتے روزہ رکھ لیتے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2744]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1160
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة