🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لاَ يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلاَئِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لاَ يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلاَ يَحْرُمُ عَلَيْهِ شيء بِذَلِكَ:
باب: بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کا استحباب، اور بھیجنے والا محرم نہیں ہو گا، اور نہ اس پر کوئی چیز حرام ہو گی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3201
وَحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ فَيَبْعَثُ بِهِ، ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلَالًا ".
منصور نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے خود دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی (قربانی) کے لیے بکریوں کے ہار بٹ رہی ہوں اس کے بعد آپ انہیں (مکہ) بھیجتے پھر ہمارے درمیان احرام کے بغیر ہی رہتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3201]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو پایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بکریوں کی قربانی کے ہار بٹتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بھیج دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں حلال ہی رہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3201]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3202
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " رُبَّمَا فَتَلْتُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ، ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب میں یحییٰ نے کہا: ابومعاویہ نے ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: ایسا ہوا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی (قربانی کے لیے بیت اللہ بھیجے جانے والے جانور) کے لیے ہار تیار کرتی آپ وہ (ہار) ان جانوروں کو ڈالتے پھر انہیں (مکہ) بھیجتے پھر آپ (مدینہ ہی میں) ٹھہرتے آپ ان میں سے کسی چیز سے اجتناب نہ فرماتے جن سے احرام باندھنے والا شخص اجتناب کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3202]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، بسا اوقات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہار قربانی کے گلے میں ڈال کر اسے روانہ کر دیتے اور خود ٹھہرے رہتے، کسی ایسی چیز سے پرہیز نہ کرتے جس سے محرم پرہیز کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3202]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3203
وَحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا، فَقَلَّدَهَا ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بیت اللہ کی طرف ہدی (قربانی) کی بکریاں بھیجیں تو آپ نے انہیں ہار ڈالے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3203]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی قربانی کے لیے بکریوں کو بھیجا اور ان کے گلوں میں ہار ڈالے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3203]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3204
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ، فَنُرْسِلُ بِهَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ ".
حکم نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا ہم بکریوں کو ہار پہناتے پھر انہیں (بیت اللہ کی طرف) بھیجتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر محرم رہتے اس سے کوئی چیز (جو پہلے آپ پر حلال تھی) حرام نہ ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3204]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم بکریوں کے گلے میں ہار ڈال کر انہیں (قربانی کے لیے) بھیج دیتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلال ہی ہوتے، ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہ ہوتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3204]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3205
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ ابْنَ زِيَادٍ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ الْهَدْيُ، وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيِي، فَاكْتُبِي إِلَيَّ بِأَمْرِكِ، قَالَت عَمْرَةُ، قَالَت عَائِشَةُ : " لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، " أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي، فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْيُ ".
عمرہ بنت عبدالرحمان نے خبر دی کہ ابن زیاد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے جس نے ہدی (بیت اللہ کے لیے قربانی) بھیجی اس پر وہ سب کچھ حرام ہو جائے گا جو حج کرنے والے کے لیے حرام ہوتا ہے یہاں تک کہ ہدی کو ذبح کر دیا جائے۔ اور میں نے اپنی ہدی بھیجی ہے تو مجھے (اس بارے میں) اپنا حکم لکھ بھیجیے عمرہ نے کہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (بات) اس طرح نہیں جیسے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے میں نے خود اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار بٹے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے وہ (ہار) انہیں پہنائے پھر انہیں میرے والد کے ساتھ (مکہ) بھیجا اس کے بعد ہدی نحر (قربان) ہونے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر (ایسی) کوئی چیز حرام نہ ہوئی جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3205]
عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں، ابنِ زیاد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خط لکھا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، جو شخص قربانی روانہ کرتا ہے، اس پر وہ تمام چیزیں حرام ہو جائیں گی جو حج کرنے والے پر حرام ہوتی ہیں، حتی کہ قربانی نحر کر دی جائے، اور میں اپنی ہدی روانہ کر چکا ہوں، آپ مجھے اپنا نظریہ لکھ بھیجیں، عمرہ بیان کرتی ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا، بات وہ نہیں ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار اپنے ہاتھوں سے بٹے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے قربانیوں کے گلے میں ڈالا، اور میرے باپ کے ہاتھ انہیں روانہ کر دیا، اور قربانیوں کے نحر کرنے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہوئی، جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3205]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3206
وحدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ تصفق، وتقول: " كنت أفتل قلائد هدي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُمْسِكُ، عَنْ شَيْءٍ مِمَّا يُمْسِكُ، عَنْهُ الْمُحْرِمُ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ "،
اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں خبر دی انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی، انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ پردے کی اوٹ سے ہاتھ پر ہاتھ مار رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار بٹا کرتی تھی، پھر آپ انہیں (مکہ) بھیجتے اور ہدی کو ذبح کرنے (کے وقت) تک آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ فرماتے جس سے احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3206]
مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے پردے کی اوٹ سے تالی بجا کر بتایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار اپنے ہاتھوں سے بناتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روانہ کر دیتے، اور کسی ایسی چیز سے، قربانی نحر کرنے تک باز نہ رہتے، جس سے محرم باز رہتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3206]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3207
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حدثنا دَاوُدُ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا زَكَرِيَّاءُ ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِمِثْلِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
داود اور زکریا دونوں نے شعبی سے حدیث بیان کی انہوں نے مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے اسی سند (حدیث) کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3207]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3207]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. باب جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا:
باب: بوقت ضرورت قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کا جواز۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1322 ترقیم شاملہ: -- 3208
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فقَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ، فقَالَ: ارْكَبْهَا وَيْلَكَ فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ فِي الثَّالِثَةِ "،
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوزناد سے انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا وہ قربانی کا اونٹ ہانک رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قربانی کا اونٹ ہے آپ نے فرمایا: ”تمہاری ہلاکت! اس پر سوار ہو جاؤ۔“ دوسری یا تیسری مرتبہ (یہ الفاظ کہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3208]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انسان کو قربانی کا اونٹ ہانکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: «ارْكَبْهَا» ”اس پر سوار ہو جا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ہدی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ارْكَبْهَا» ”سوار ہو جا۔“ دوسری یا تیسری دفعہ فرمایا: «وَيْلَكَ» ”تیرے لیے خرابی ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3208]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1322
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1322 ترقیم شاملہ: -- 3209
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً.
مغیرہ بن عبدالرحمان حزامی نے ابوزناد سے اور انہوں نے اعرج سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا اس اثنا میں کہ ایک آدمی ہار ڈالے گئے اونٹ کو ہانک رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3209]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، جس میں ہے کہ اسی اثناء میں ایک آدمی گلے میں ہار پڑا ہوا اونٹ ہانک رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3209]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1322
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1322 ترقیم شاملہ: -- 3210
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حدثنا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْلَكَ ارْكَبْهَا "، فقَالَ: بَدَنَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَيْلَكَ ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ ارْكَبْهَا ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے چند احادیث ذکر کیں ان میں سے ایک یہ ہے اور کہا اس اثنا میں کہ ایک شخص ہار والے قربانی کے اونٹ کو ہانک رہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تمہاری ہلاکت! اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قربانی کا اونٹ ہے آپ نے فرمایا: ”تمہاری ہلاکت! اس پر سوار ہو جاؤ۔ تمہاری ہلاکت! اس پر سوار ہو جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3210]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی گلے میں ہار ڈالا ہوا اونٹ ہانک رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تمہارے لیے خرابی ہو، اس پر سوار ہو جا۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ حج کی قربانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر افسوس، اس پر سوار ہو جا، تم پر افسوس! اس پر سوار ہو جا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3210]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1322
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں