🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. باب وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ:
باب: طواف وداع کے وجوب اور حائضہ عورت سے طواف معاف ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1328 ترقیم شاملہ: -- 3221
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ، فقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِمَّا لَا فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَجَعَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَضْحَكُ، وَهُوَ يَقُولُ: مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ.
حسن بن مسلم نے طاؤس سے خبر دی انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ عورت آخری وقت میں بیت اللہ کی حاضری (طواف) سے پہلے (اس کے بغیر) لوٹ سکتی ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: اگر (آپ کو یقین) نہیں تو فلاں انصاریہ سے پوچھ لیں کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات کا حکم دیا تھا؟ کہا: اس کے بعد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ واپس آئے وہ ہنس رہے تھے اور کہہ رہے تھے میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے سچ ہی کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3221]
طاؤس بیان کرتے ہیں، میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ عورت آخری وقت میں بیت اللہ کا طواف کیے بغیر واپس جا سکتی ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر آپ یہ نہیں مانتے، تو آپ فلاں انصاری عورت سے پوچھیں، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا تھا؟ تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ہنستے ہوئے واپس آئے اور وہ کہہ رہے تھے: میرے خیال میں آپ نے سچ ہی فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3221]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1328
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 3222
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، حدثنا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعُرْوَةَ أن عائشة ، قَالَت: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ، قَالَت عَائِشَةُ: فَذَكَرْتُ حِيضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟ "، قَالَت: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَفَاضَتْ، وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَة، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " فَلْتَنْفِرْ "،
ہمیں لیث نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوسلمہ اور عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا طواف افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو گئیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے حیض کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ ہمیں (واپسی سے) روکنے والی ہیں؟“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ (طواف افاضہ کے لیے) گئی تھیں اور بیت اللہ کا طواف کیا تھا پھر (طواف) افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہوئی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو (پھر ہمارے ساتھ ہی) کوچ کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3222]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو طوافِ افاضہ کے بعد حیض شروع ہو گیا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے حیض کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ ہمیں روک لے گی؟“ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ طوافِ افاضہ میں بیت اللہ کا طواف کر چکی ہے اور طوافِ افاضہ کے بعد حیض شروع ہوا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو چلے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3222]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 3223
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ حدثنا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَت: طَمِثَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ طَاهِرًا، بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ،
یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا حجۃ الوداع کے موقع پر طہارت کی حالت میں طواف افاضہ کر لینے کے بعد حائضہ ہو گئیں۔۔۔ آگے لیث کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3223]
امام صاحب اپنے اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو طہارت کی حالت میں طوافِ افاضہ کرنے کے بعد حیض شروع ہو گیا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3223]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 3224
وحدثنا قُتَيْبَةُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ . ح وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حدثنا أَيُّوبُ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ صَفِيَّةَ قَدْ حَاضَتْ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
عبدالرحمان بن قاسم نے اپنے والد (قاسم بن محمد بن ابی بکر) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں آگے زہری کی حدیث کے ہم معنی (الفاظ ہیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3224]
امام صاحب مختلف اساتذہ سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آنے لگا ہے، زہری کی حدیث والا مفہوم ہے جو اوپر گزر چکی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3224]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 3225
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا أَفْلَح ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: كُنَّا نَتَخَوَّفُ أَنْ تَحِيضَ صَفِيَّةُ قَبْلَ أَنْ تُفِيضَ، قَالَت: فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " أَحَابِسَتُنَا صَفِيَّةُ؟ "، قُلْنَا: قَدْ أَفَاضَتْ، قَالَ: " فَلَا إِذَنْ ".
افلح نے ہمیں قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا ہم ڈر رہی تھیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا طواف افاضہ کرنے سے پہلے حائضہ نہ ہو جائیں۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا صفیہ ہمیں روکنے والی ہیں؟“ ہم نے عرض کی وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں آپ نے فرمایا: ”تو پھر نہیں روکیں گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3225]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ہمیں اندیشہ تھا کہ صفیہ کو طوافِ افاضہ سے پہلے حیض شروع ہو جائے گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور پوچھا: ”کیا صفیہ ہمیں روک لے گی؟“ ہم نے عرض کیا، وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3225]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 3226
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَت لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا، أَلَمْ تَكُنْ قَدْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ؟ "، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " فَاخْرُجْنَ ".
عمرہ بنت عبدالرحمان نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید ہمیں (واپسی سے) روک لیں گی کیا انہوں نے تمہارے ساتھ بیت اللہ کا طواف (طواف افاضہ) نہیں کیا؟“ انہوں نے کہا کیوں نہیں آپ نے فرمایا: ”تو پھر کوچ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3226]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آنے لگا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”شاید وہ ہمیں روک لے گی، کیا اس نے تمہارے ساتھ بیت اللہ کا طوافِ افاضہ نہیں کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو چلو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3226]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 3227
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، لَعَلَّهُ قَالَ: عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ بَعْضَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ، فقَالُوا: إِنَّهَا حَائِضٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَإِنَّهَا لَحَابِسَتُنَا "، فقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ زَارَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: " فَلْتَنْفِرْ مَعَكُمْ ".
ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے ایسا کوئی کام چاہا جو ایک آدمی اپنی بیوی سے چاہتا ہے تو سب (ازواج) نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ حائضہ ہیں آپ نے فرمایا: ”تو (کیا) یہ ہمیں (کوچ کرنے سے) روکنے والی ہیں؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے قربانی کے دن طواف زیارت (طواف افاضہ) کر لیا تھا آپ نے فرمایا: ”تو وہ بھی تمہارے ساتھ کوچ کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3227]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے وہ ارادہ کیا، جو مرد اپنی بیوی سے کرتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو حائضہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ ہمیں روک لے گی۔“ سب ازواج نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ قربانی کے دن طوافِ زیارت کر چکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تمہارے ساتھ روانہ ہو جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3227]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 3228
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ . ح وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً، فقَالَ: " عَقْرَى حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا "، ثُمَّ قَالَ لَهَا: " أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟ "، قَالَت: نَعَمْ، قَالَ: " فَانْفِرِي "،
حکم نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب روانگی کا ارادہ کیا تو اچانک (دیکھا کہ) حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر دل گیر اور پریشان کھڑی تھیں آپ نے فرمایا: ”تمہارا نہ کوئی بال نہ بچہ! (پھر بھی) تم ہمیں (یہیں) روکنے والی ہو۔“ پھر آپ نے ان سے پوچھا: ”کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں آپ نے فرمایا: ”تو (پھر) چلو۔“ (یعنی ان کے پاس جا کر ان سے بھی پوچھا اور تصدیق کی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3228]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کرنے کا ارادہ کیا، تو اچانک دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر کبیدہ خاطر، غمزدہ کھڑی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈی! تو ہمیں روک لے گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے قربانی کے دن طوافِ افاضہ کیا تھا؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو چل۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3228]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 3229
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَكَمِ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَا يَذْكُرَانِ: كَئِيبَةً حَزِينَةً.
اعمش اور منصور دونوں نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔۔ (آگے) حکم کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے البتہ وہ دونوں (ان کے) غمزدہ اور پریشان ہونے کا ذکر نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3229]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں لیکن اس میں کبیدہ خاطر غمزدہ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3229]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. باب اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ وَالصَّلاَةِ فِيهَا وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا:
باب: حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبہ میں داخل ہونے اور اس کے تمام اطراف میں نماز پڑھنے اور دعا کرنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1329 ترقیم شاملہ: -- 3230
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، هُوَ وَأُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ، فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ مَكَثَ فِيهَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " جَعَلَ عَمُودَيْنِ، عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا، عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى ".
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ انہوں (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) نے (آپ کے لیے) اس کا دروازہ بند کر دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر ٹھہرے رہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اندر) کیا کیا؟ انہوں نے کہا آپ نے دو ستون اپنی بائیں طرف ایک ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کی طرف رکھے۔ ان دنوں بیت اللہ (کی عمارت) چھ ستونوں پر (قائم) تھی پھر آپ نے نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3230]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت اسامہ، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور اس کا دروازہ بند کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ وقت اندر ٹھہرے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب وہ باہر نکلے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر کیا عمل کیا؟ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستون اپنے بائیں اور ایک دائیں اور تین ستون اپنے پیچھے کیے، اس وقت بیت اللہ کے چھ ہی ستون تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3230]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1329
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں