🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. بَابُ جَوَازِ تَقْدِيمِ الذَّبْحِ عَلَي الرَّمْيِ، وَالْحَلْقِ عَلَي الذَّبْح وَعَلَي الرِّمْيِ، وَتَقْدِيمِ الطَّوَافِ عَلَيْهَا كُلِّهَا
باب: کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرنے کا جواز، اور قربانی کرنے اور شیطان کو کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈا لینے کا جواز، اور طواف کو ان سب سے پہلے کرنے کا جواز۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1306 ترقیم شاملہ: -- 3161
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ فقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَح، قَالَ: " فَاذْبَحْ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "،
ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: کوئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے آپ نے فرمایا: ”(اب) قربانی کر لو رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ (کسی اور نے) کہا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے تو آپ نے فرمایا: ”(اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3161]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ایک آدمی نے کہا: میں نے قربانی ذبح کرنے سے پہلے حلق کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذبح کرو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ اس نے کہا: کنکریاں مارنے سے پہلے ذبح کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنکریاں مارو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3161]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1306
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1306 ترقیم شاملہ: -- 3162
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ بِمِنًى، فَجَاءَهُ رَجُلٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ (یہی) روایت کی (حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا (آپ) منیٰ میں اونٹنی پر (سوار) تھے تو آپ کے پاس ایک آدمی آیا۔۔۔ آگے سفیان بن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3162]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں اونٹنی پر سوار دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3162]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1306
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1306 ترقیم شاملہ: -- 3163
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَنْدَ الْجَمْرَةِ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فقَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، وَأَتَاهُ آخَرُ، فقَالَ: إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، وَأَتَاهُ آخَرُ، فقَالَ: إِنِّي أَفَضْتُ إِلَى الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ، إِلَّا قَالَ: " افْعَلُوا وَلَا حَرَجَ ".
محمد بن ابی حفصہ نے ہمیں زہری سے خبر دی انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب آپ کے پاس قربانی کے دن ایک آدمی آیا آپ جمرہ عقبہ کے پاس رکے ہوئے تھے۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے رمی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے آپ نے فرمایا: ”(اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ ایک اور آدمی آیا۔ وہ کہنے لگا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ پھر آپ کے پاس ایک اور آدمی آیا اور کہا: میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ہے؟ فرمایا: ”(اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ کہا: میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ اس دن آپ سے کسی بھی چیز (کی تقدیم و تاخیر) کے بارے میں سوال کیا گیا ہو مگر آپ نے یہی فرمایا: ”کر لو کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3163]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جبکہ آپ قربانی کے دن عقبہ کے پاس کھڑے تھے، آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنکریاں مارو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ دوسرا آ کر کہنے لگا: میں نے رمی سے پہلے ذبح کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کرو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ ایک اور آدمی آ کر کہنے لگا: میں نے رمی سے پہلے طوافِ افاضہ کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کرو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے نہیں دیکھا کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سوا کوئی اور جواب دیا ہو: ”کرو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3163]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1306
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1307 ترقیم شاملہ: -- 3164
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: فِي الذَّبْحِ، وَالْحَلْقِ، وَالرَّمْيِ، وَالتَّقْدِيمِ، وَالتَّأْخِيرِ، فقَالَ: " لَا حَرَجَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی کرنے سر منڈوانے رمی کرنے اور (کاموں کی) تقدیم و تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3164]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذبح، حلق، رمی اور تقدیم و تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3164]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1307
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. باب اسْتِحْبَابِ طَوَافِ الإِفَاضَةِ يَوْمَ النَّحْرِ:
باب: قربانی کے دن طواف افاضہ کرنا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1308 ترقیم شاملہ: -- 3165
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى "، قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًى وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ.
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا۔ پھر واپس آ کر ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی۔ نافع نے کہا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما قربانی کے دن طواف افاضہ کرتے پھر واپس آتے ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کرتے اور بیان کیا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3165]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طوافِ افاضہ نحر کے دن کیا، پھر واپس آ کر نمازِ ظہر منیٰ میں پڑھی، نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما طوافِ افاضہ نحر کے دن کرتے تھے، (یوم النحر سے مراد دس 10 ذوالحجہ کا دن ہوتا ہے) پھر واپس آ کر ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھتے تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہی بتاتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3165]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1308
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. باب اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلاَةِ بِهِ:
باب: کوچ کے دن وادی محصب میں اترنا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1309 ترقیم شاملہ: -- 3166
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ شَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنًى، قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟، قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ مَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ.
عبدالعزیز بن رفیع سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا: مجھے ایسی چیز بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو (اور یاد رکھی ہو) آپ نے ترویہ کے دن (آٹھ ذوالحجہ کو) ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے بتایا منیٰ میں۔ میں نے پوچھا: آپ نے (منیٰ سے) واپسی کے دن عصر کی نماز کہاں ادا کی؟ انہوں نے کہا ابطح میں۔ پھر کہا: (لیکن تم) اسی طرح کرو جیسے تمہارے امراء کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3166]
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، مجھے ایسی بات کی روشنی میں بتائیے، جو آپ نے براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) پانی پلانے کے دن نمازِ ظہر کہاں ادا کی؟ انہوں نے جواب دیا: منیٰ میں، میں نے پوچھا: آپ نے روانگی کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی؟ جواب دیا: ابطح (محصب) میں، پھر فرمایا: تم اس طرح کرو جس طرح تمہارے امرا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3166]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1309
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1310 ترقیم شاملہ: -- 3167
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ ".
ایوب نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابطح میں پڑاؤ کیا کرتے تھے (واپسی کے وقت مدینہ کے راستے میں منیٰ کے باہر وہیں پڑاؤ کیا جا سکتا تھا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3167]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما وادی «أَبْطَحَ» [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3167]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1310
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1310 ترقیم شاملہ: -- 3168
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حدثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حدثنا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يَرَى التَّحْصِيبَ سُنَّةً، وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَةِ "، قَالَ نَافِعٌ: قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ.
صخر بن جویریہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما محصب میں پڑاؤ کرنے کو سنت سمجھتے تھے اور وہ روانگی کے دن ظہر کی نماز حصبہ (محصب) میں ادا کرتے تھے۔ نافع نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء نے وادی محصب میں قیام کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3168]
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما وادیِ محصب میں ٹھہرنا سنت سمجھتے تھے، اور وہ سفر کے دن ظہر کی نماز حصبہ میں پڑھتے تھے، نافع بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء محصب میں اترتے رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3168]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1310
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1311 ترقیم شاملہ: -- 3169
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ إِذَا خَرَجَ "،
عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ہشام نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا ابطح میں ٹھہرنا (اعمال حج کی سنتوں میں سے کوئی) سنت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ (مکہ سے) روانہ ہوتے وقت وہاں سے نکلنا آسان تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3169]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اَبطح میں اترنا سنت نہیں ہے، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محض اس لیے اترے تھے کہ وہاں سے جاتے وقت نکلنا آپ کے لیے آسان تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3169]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1311
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1311 ترقیم شاملہ: -- 3170
حفص بن غیاث، حماد بن زید اور حبیب المعلم سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3170]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے تین اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3170]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1311
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں