صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
65. باب جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا:
باب: بوقت ضرورت قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1323 ترقیم شاملہ: -- 3211
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَا: حدثنا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: وَأَظُنُّنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَنَسٍ. ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً، فقَالَ: " ارْكَبْهَا "، فقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: " ارْكَبْهَا "، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.
ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو قربانی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے جواب دیا یہ قربانی کا اونٹ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ دو یا تین مرتبہ (فرمایا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3211]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1323
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1323 ترقیم شاملہ: -- 3212
وَحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ، فقَالَ: " ارْكَبْهَا "، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ، فقَالَ: " وَإِنْ "،
ہمیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی انہوں نے بکیر بن اخنس سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے ان (حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ) سے سنا کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قربانی کے ایک اونٹ یا (حرم کے لیے) ہدیہ کیے جانے والے ایک جانور کا گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ یا ہدی کا جانور ہے آپ نے فرمایا: ”چاہے (ایسا ہی ہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3212]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک بدنہ یا ہدیہ (قربانی کا اونٹ) لے جایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے عرض کیا: یہ بدنہ یا ہدیہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواہ یہی ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3212]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1323
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1323 ترقیم شاملہ: -- 3213
وحدثناه أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدَنَةٍ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ہمیں ابن بشر نے مسعر سے حدیث بیان کی، (کہا) مجھے بکیر بن اخنس نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قربانی کا ایک اونٹ گزارا گیا آگے اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3213]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اس میں صرف «بُدْنَة» کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3213]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1323
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1324 ترقیم شاملہ: -- 3214
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، فقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا ".
ابن جریج سے روایت ہے (انہوں نے کہا) مجھے زبیر نے خبر دی کہا میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ان سے ہدی پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: ”جب اس (پر سوار ہونے) کی ضرورت ہو تو اور سواری ملنے تک معروف (قابل قبول) طریقے سے اس پر سواری کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3214]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہدی پر سوار ہونے کا مسئلہ پوچھا گیا، انہوں نے جواب دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب لاچار ہو جاؤ، تو سواری ملنے تک عرف و دستور کے مطابق سوار ہو جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3214]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1324
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1324 ترقیم شاملہ: -- 3215
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حدثنا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حدثنا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، فقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا ".
ہمیں معقل نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہدی (بیت اللہ کی طرف بھیجے گئے ہدیہ قربانی) پر سواری کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دوسری سواری ملنے تک اس پر معروف طریقے سے سوار ہو جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3215]
ابوزبیر کہتے ہیں، میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے جواب دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جب تک سواری نہ ملے تو دستور و عرف کے مطابق سوار ہو جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3215]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1324
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
66. باب مَا يُفْعَلُ بِالْهَدْيِ إِذَا عَطِبَ فِي الطَّرِيقِ:
باب: قربانی کا جانور چلتے چلتے راستے میں تھک جائے تو کیا کیا جائے؟
ترقیم عبدالباقی: 1325 ترقیم شاملہ: -- 3216
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ مُعْتَمِرَيْنِ، قَالَ: وَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا، فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إِنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا، فقَالَ: لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لَأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَضْحَيْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قَالَ: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ، فقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا، قَالَ: فَمَضَى، ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ: " انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ "،
ہمیں عبدالوارث بن سعید نے ابوتیاح ضبعی سے خبر دی (کہا) مجھ سے موسیٰ بن سلمہ ہذلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے اور سنان اپنے ساتھ قربانی کا اونٹ لے کر چلے وہ اسے ہانک رہے تھے تو راستے ہی میں تھک کر رک گیا وہ اس کی حالت کے سبب سے (یہ سمجھنے سے) عاجز آگئے کہ اگر وہ بالکل ہی رہ گیا تو اسے مکہ کیسے لائیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں بلد (امین مکہ) پہنچ گیا تو میں ہر صورت اس کے بارے میں اچھی طرح پوچھوں گا۔ (موسیٰ نے) کہا تو مجھے دن چڑھ گیا جب ہم نے بطحاء میں قیام کیا تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلیں تاکہ ہم ان سے بات کریں۔ کہا انہوں نے ان کو اپنی قربانی کے جانور کا حال بتایا تو انہوں نے کہا تم جاننے والے کے پاس پہنچے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ بیت اللہ کے پاس قربانی کے لیے سولہ اونٹ روانہ کیے اور اسے ان کا نگران بنایا۔ کہا وہ (تھوڑی دور) گیا پھر واپس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے کوئی تھک کر رک جائے اس کے ساتھ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے نحر کر دینا پھر اس کے (گلے میں ڈالے گئے) دونوں جوتے اس کے خون سے رنگ دینا پھر انہیں (بطور نشانی) اس کے پہلو پر رکھ دینا۔ اور (احرام کی حالت میں) تم اور تمہارے ساتھ جانے والوں میں سے کوئی اس (کے گوشت میں) سے کچھ نہ کھائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3216]
موسیٰ بن سلمہ ہذلی بیان کرتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ عمرہ کے لیے روانہ ہوئے، سنان اپنے ساتھ قربانی کا اونٹ لے کر چلا اور وہ راستہ میں ٹھہر گیا، تو سنان اس کے معاملہ میں بے بس ہو گیا کہ اگر وہ اونٹ تھک ہار گیا تو وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے، اس نے سوچا اگر میں مکہ مکرمہ پہنچ گیا تو میں اس کے بارے میں تحقیق کروں گا، اس نے بتایا: میں دوپہر کے وقت چل پڑا، تو جب ہم بطحاء میں اترے اس نے کہا: آؤ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے گفتگو کریں، اس نے جا کر ان سے اپنی قربانی کی صورت حال بیان کی تو انہوں نے فرمایا: تم نے مسئلہ واقف کار سے دریافت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی سپرداری میں سولہ (16) قربانیاں روانہ فرمائیں، وہ شخص چل پڑا پھر واپس آ گیا اور پوچھنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ان میں سے کوئی تھک ہار کر بیٹھ جائے تو میں اس کا کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو نحر کر کے، اس کے گلے میں دونوں جوتے، اس کے خون میں رنگ دینا، پھر اس کے پہلو پر رکھ دینا پھر تو اور تیرے رفقاء میں سے کوئی بھی اس سے نہ کھائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3216]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1325
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1325 ترقیم شاملہ: -- 3217
وحدثناه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاح ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ.
اسماعیل بن علیہ نے ابوتیاح سے حدیث بیان کی انہوں نے موسیٰ بن سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ روانہ کیے۔۔۔ پھر عبدالوارث کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، اور انہوں نے حدیث کا ابتدائی حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3217]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی معیت میں اٹھارہ قربانیاں روانہ فرمائیں، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، لیکن اس میں ابتدائی واقعہ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3217]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1325
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1326 ترقیم شاملہ: -- 3218
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حدثنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ، ثُمَّ يَقُولُ: " إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهِ مَوْتًا، فَانْحَرْهَا، ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا، وَلَا تَطْعَمْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ ".
ابوقبیصہ ذؤیب نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ قربانی کے اونٹ بھیجتے پھر فرماتے اگر ان میں سے کوئی تھک کر رک جائے اور تمہیں اس کے مر جانے کا خدشہ ہو تو اسے نحر کر دینا پھر اس کے (گلے میں لٹکائے گئے) جوتے کو اس کے خون میں ڈبونا پھر اسے اس کے پہلو پر ڈال دینا پھر تم اس میں سے (کچھ) کھانا نہ تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی (اس میں کھائے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3218]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو قبیصہ ذویب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قربانیاں دے کر بھیجتے اور فرماتے: ”اگر تھکنے سے کسی کی ہلاکت کا خطرہ محسوس کرو، تو اسے نحر کر دینا، پھر اس کی جوتیوں کو اس کے خون میں ڈبو کر، اس کے پہلو پر مارنا، لیکن تو خود اور تیرے قافلہ والوں میں سے کوئی اسے نہ کھائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3218]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1326
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
67. باب وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ:
باب: طواف وداع کے وجوب اور حائضہ عورت سے طواف معاف ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1327 ترقیم شاملہ: -- 3219
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ "، قَالَ زُهَيْرٌ: يَنْصَرِفُونَ كُلَّ وَجْهٍ، وَلَمْ يَقُلْ فِي.
سعید بن منصور اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا: ہمیں سفیان نے سلیمان احول سے حدیث بیان کی انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: لوگ (حج کے بعد) ہر سمت میں نکل (کر چلے) جاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی شخص ہرگز روانہ نہ ہو یہاں تک کہ اس کی آخری حاضری (بطور طواف) بیت اللہ کی ہو۔“ زہیر نے کہا: ”ہر سمت“ اور ”(ہر سمت) میں“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3219]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (حج کے بعد) لوگ ہر طرف سے نکل جاتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی انسان سفر اختیار نہ کرے، جب تک آخری وقت میں بیت اللہ کا طواف نہ کر لے۔“ زہیر کی روایت میں «يَنْصَرِفُوْنَ» کے بعد «فِي» کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3219]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1327
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1328 ترقیم شاملہ: -- 3220
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ، عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ ".
طاؤس کے بیٹے (عبداللہ) نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کی آخری حاضری بیت اللہ کی ہو مگر اس میں حائضہ عورت کے لیے تخفیف کی گئی ہے (وہ آخری طواف سے مستثنیٰ ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3220]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ آخری وقت میں بیت اللہ کا طواف کریں، لیکن حیض والی عورت کو سہولت دی گئی ہے، (وہ پہلے جاسکتی ہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3220]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1328
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة