صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
59. باب اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلاَةِ بِهِ:
باب: کوچ کے دن وادی محصب میں اترنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1311 ترقیم شاملہ: -- 3171
حدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَابْنَ عُمَرَ: كَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَح، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ، وَقَالَتْ: " إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلًا أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ ".
زہری نے سالم سے روایت کی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ابطح میں پڑاؤ کیا کرتے تھے۔ زہری نے کہا مجھے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ وہ ایسا نہیں کرتی تھیں اور (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ پڑاؤ کی وہ جگہ آپ کے (مکہ سے) نکلنے کے لیے زیادہ آسان تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3171]
سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر، عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم وادیِ «الْأَبْطَح» میں اترتے تھے، عروہ رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کرتی تھیں، وہ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں محض اس لیے اترے تھے کیونکہ وہ ایسی منزل تھی جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (مدینہ منورہ کے لیے) نکلنا آسان تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3171]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1311
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1312 ترقیم شاملہ: -- 3172
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا تحصب (محصب میں ٹھہرنا) کوئی چیز نہیں وہ تو پڑاؤ کی ایک جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3172]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ «مُحَصَّب» میں اترنا کوئی دینی مسئلہ نہیں ہے، وہ تو محض ایک منزل ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3172]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1312
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1313 ترقیم شاملہ: -- 3173
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو رَافِعٍ : " لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْزِلَ الْأَبْطَحَ حِينَ خَرَجَ مِنْ مِنًى، وَلَكِنِّي جِئْتُ فَضَرَبْتُ فِيهِ قُبَّتَهُ فَجَاءَ فَنَزَلَ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَةِ صَالِح، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: عَنْ أَبِي رَافِعٍ: وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب ان سب نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی انہوں نے صالح بن کیسان سے اور انہوں نے سلیمان بن یسار سے روایت کی انہوں نے کہا حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ نے منیٰ سے نکلے مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں ابطح میں قیام کروں لیکن میں (خود) وہاں آیا اور آپ کا خیمہ لگایا اس کے بعد آپ تشریف لائے اور قیام کیا۔ ابوبکر (بن ابی شیبہ) نے صالح سے (بیان کردہ) روایت میں کہا انہوں (صالح) نے کہا میں نے سلیمان بن یسار سے سنا اور قتیبہ کی روایت میں ہے۔ (سلیمان نے) کہا حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان (کی حفاظت اور نقل و حمل) پر مامور تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3173]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابطح میں ٹھہرنے کا حکم نہیں دیا تھا، لیکن میں اپنے طور پر آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ یہاں لگا دیا، آپ وہاں آ کر ٹھہر گئے، امام صاحب کے ایک استاد قتیبہ کی روایت میں ہے کہ ابو رافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی حفاظت پر مامور تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3173]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1313
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1314 ترقیم شاملہ: -- 3174
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " نَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ".
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”کل ہم ان شاء اللہ خیف بنی کنانہ (وادی محصب) میں قیام کریں گے جہاں انہوں (قریش) نے باہم کفر پر (قائم رہنے کی) قسم کھائی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3174]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل ہم «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ خیف بنو کنانہ میں ٹھہریں گے، جہاں انہوں نے کفر پر باہمی قسمیں اٹھائی تھیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3174]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1314
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1314 ترقیم شاملہ: -- 3175
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حدثنا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى: " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ، وَذَلِكَ إِنَّ قُرَيْشًا، وَبَنِي كِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ، وَلَا يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، يَعْنِي بِذَلِكَ: الْمُحَصَّبَ.
اوزاعی نے حدیث بیان کی، (کہا) مجھے زہری نے حدیث سنائی ہے (کہا) مجھ سے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم منیٰ میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”کل ہم خیف بنو کنانہ میں قیام کریں گے جہاں انہوں (قریش) نے آپس میں مل کر کفر پر (ڈٹے رہنے کی) قسم کھائی تھی۔“ واقعہ یہ تھا کہ قریش اور بنو کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ وہ نہ ان سے شادی بیاہ کریں گے نہ ان سے لین دین کریں گے۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کر دیں۔ اس (خیف بنی کنانہ) سے آپ کی مراد وادی محصب تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3175]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ منیٰ میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل ہم خیفِ بنی کنانہ میں اتریں گے، جہاں انہوں نے آپس میں کفر پر قسمیں اٹھائی تھیں۔“ اس کی صورت یہ ہے کہ قریش اور بنو کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف آپس میں قسمیں اٹھائی تھیں کہ ہم ان سے اس وقت تک شادی و بیاہ اور خرید و فروخت نہیں کریں گے، جب تک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے نہیں کر دیتے، خیفِ بنی کنانہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد وادیِ محصب تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3175]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1314
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1314 ترقیم شاملہ: -- 3176
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْزِلُنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا فَتَحَ اللَّهُ الْخَيْفُ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاء اللہ جب اللہ نے فتح دی تو ہمارا قیام خیف (محصب) میں ہو گا۔جہاں انہوں (قریش) نے باہم مل کر کفر پر (قائم رہنے کی قسم کھا ئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3176]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری قیام گاہ «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“، جب اللہ تعالیٰ نے فتح دی ہے، خیف ہو گی، جہاں انہوں نے آپس میں کفر پر قسمیں اٹھائی تھیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3176]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1314
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
60. باب وُجُوبِ الْمَبِيتِ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَالتَّرْخِيصِ فِي تَرْكِهِ لأَهْلِ السِّقَايَةِ:
باب: ایام تشریق کی راتیں منی میں گزارنا واجب ہیں، اور پانی پلانے والوں کو اس کو چھوڑنے کی رخصت۔
ترقیم عبدالباقی: 1315 ترقیم شاملہ: -- 3177
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا: حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِي مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ "،
(محمد بن عبداللہ) بن نمیر اور ابواسامہ دو نوں نے کہا ہمیں عبید اللہ نے حدیث بیان کی اور ابن نمیر نے۔۔۔الفا ظ انھی کے ہیں۔۔۔ اپنے والد کے واسطے سے بھی عبید اللہ سے روایت کی کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بن المطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ (زمزم پر حاجیوں کو) پا نی پلانے کے لیے منیٰ کی را تیں مکہ میں گزار لیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت مرحمت فرما دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3177]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1315
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1315 ترقیم شاملہ: -- 3178
وحدثناه إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عیسیٰ بن یو نس اور ابن جریج دونوں نے عبید اللہ بن عمر (بن حفص) سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3178]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت بعض دوسرے اساتذہ سے بھی بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3178]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1315
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1316 ترقیم شاملہ: -- 3179
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حدثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْدَ الْكَعْبَةِ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ، فقَالَ: مَا لِي أَرَى بَنِي عَمِّكُمْ يَسْقُونَ الْعَسَلَ وَاللَّبَنَ، وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ؟ أَمِنْ حَاجَةٍ بِكُمْ، أَمْ مِنْ بُخْلٍ؟ فقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ، وَلَا بُخْلٍ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ، فَاسْتَسْقَى فَأَتَيْنَاهُ بِإِنَاءٍ مِنْ نَبِيذٍ، فَشَرِبَ وَسَقَى فَضْلَهُ أُسَامَةَ وَقَالَ: أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ كَذَا، فَاصْنَعُوا، فَلَا نُرِيدُ تَغْيِيرَ مَا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
بکر بن عبداللہ مزنی نے کہا: میں کعبہ کے پاس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا: کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے چچا زاد (حاجیوں کو) دودھ اور شہد پلاتے ہیں اور تم نبیذ پلاتے ہو؟ یہ تمہیں لازماً حاجت مندی کی وجہ سے ہے یا بخیلی کی وجہ سے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: الحمد للہ نہ ہمیں حاجت مندی لازماً ہے اور نہ بخیلی (اصل بات یہ ہے کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر (سوار ہو کر) تشریف لائے اور آپ کے پیچھے اسامہ رضی اللہ عنہ سوار تھے، آپ نے پانی طلب فرمایا تو ہم نے آپ کو نبیذ کا ایک برتن پیش کیا، آپ نے خود پیا اور باقی ماندہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو پلایا اور فرمایا: ”تم لوگوں نے اچھا کیا اور بہت خوب کیا، اسی طرح کرتے رہنا۔“ لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہم اسے بدل دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3179]
بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس کعبہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بدوی آپ کے پاس آ کر کہنے لگا: کیا وجہ ہے، میں دیکھ رہا ہوں، تمہارے چچا زاد دودھ اور شہد پلاتے ہیں اور آپ نبیذ پلاتے ہیں؟ اس کا سبب احتیاج و فقر ہے یا بخل و کنجوسی؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“، ہم نہ محتاج ہیں اور نہ بخیل، (بات یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اسامہ رضی اللہ عنہ سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیذ کا ایک برتن پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا اور باقی ماندہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو پلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے بہت اچھا اور خوب کام کیا، ایسے ہی کرتے رہنا۔“ اس لیے ہم نہیں چاہتے جس چیز کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اس میں تبدیلی کریں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3179]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1316
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
61. باب فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلاَلِهَا:
باب: قربانی کے گوشت، کھال اور جھول کو صدقہ کرنے کا حکم، اور قصائی کو ان میں سے کوئی چیز نہ دینے کا حکم، اور قربانی کی نگرانی کے لیے اپنا نائب مقرر کرنے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1317 ترقیم شاملہ: -- 3180
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا، وَجُلُودِهَا، وَأَجِلَّتِهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا، قَالَ: نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عَنْدِنَا "،
ابو خثیمہ نے ہمیں عبدالکریم سے خبر دی، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کروں اور یہ کہ ان کا گوشت کھا لیں اور جھولیں صدقہ کروں، نیز ان میں سے قصاب کو بطور اجرت کچھ بھی نہ دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اس کو اپنے پاس سے اجرت دیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3180]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کا حکم دیا، اور یہ کہ ان کا گوشت، چمڑے اور جھل صدقہ کر دوں، اور قصاب کی اجرت میں اس سے کچھ نہ دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اسے اجرت اپنے پاس سے دیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3180]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1317
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة