🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب الْعَمَلِ بِإِلْحَاقِ الْقَائِفِ الْوَلَدَ:
باب: قائف کی بات کا اعتبار کرنا الحاق ولد میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1459 ترقیم شاملہ: -- 3618
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالُوا: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا، فقَالَ: " يَا عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ، فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا، وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا "، فقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ.
سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش خوش میرے پاس تشریف لائے۔ اور فرمایا: عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا، اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا، ان دونوں پر ایک چادر تھی جس نے ان کے سروں کو ڈھانپا ہوا تھا اور ان کے پاؤں ننگے تھے تو اس نے کہا: بلاشبہ یہ قدم ایک دوسرے میں سے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3618]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش تشریف لائے اور فرمایا: اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہوا ہے کہ میرے پاس مجزز مدلجی آیا اور اس نے اسامہ اور زید رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے اپنے سر ایک چادر سے ڈھانپا ہوا تھا اور ان کے پاؤں ننگے تھے، تو اس نے کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے کا جز ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3618]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1459
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1459 ترقیم شاملہ: -- 3619
وحدثناه مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حدثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " دَخَلَ قَائِفٌ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شاهد وأسامة بن زيد، وزيد بن حارثة، مضطجعان، فقال: إن هذه الأقدام بعضها من بعض، فسر بذلك النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ، وَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ "،
ابراہیم بن سعد نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک قیافہ شناس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے، اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما (ایک چادر میں) لیٹے ہوئے تھے تو اس نے کہا: بلاشبہ یہ قدم ایک دوسرے میں سے ہیں۔ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی ہوئی اور آپ کو بہت اچھا لگا، آپ نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی بتائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3619]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک قیافہ شناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں آیا، جبکہ اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما دونوں لیٹے ہوئے تھے، تو اس نے کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے کا جز ہیں، اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی لگی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اطلاع عائشہ رضی اللہ عنہا کو دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3619]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1459
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1459 ترقیم شاملہ: -- 3620
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ: وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا.
یونس، معمر اور ابن جریج سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ، ان (لیث، سفیان اور ابراہیم بن سعد) کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی اور (ابن وہب نے) یونس کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: اور مجزز ایک قیافہ شناس تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3620]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی روایت دو اور اساتذہ کی سندوں سے زہری رحمہ اللہ کی سند ہی سے بیان کرتے ہیں، اور یونس رحمہ اللہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ مجزز رضی اللہ عنہ قیافہ شناس تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3620]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1459
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عَقِبَ الزِّفَافِ:
باب: باکرہ اور ثیبہ کے پاس زفاف کے بعد شوہر کے ٹھہرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1460 ترقیم شاملہ: -- 3621
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عَنْدَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي ".
محمد بن ابوبکر نے عبدالملک بن ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کے ہاں تین دن قیام کیا اور فرمایا: اپنے اہل (شوہر) کے نزدیک تمہاری قدر و منزلت میں کسی طرح کی کمی نہیں، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس (قیام کے لیے) سات دن رکھ لیتا ہوں اور اگر میں نے تمہارے ہاں سات دن قیام کیا تو اپنی ساری بیویوں کے ہاں سات سات دن قیام کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3621]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سند سے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کے ہاں تین دن ٹھہرے اور فرمایا: تم اپنے شوہر کی نظروں میں کم تر نہیں ہو، یا تمہاری وجہ سے تمہارے خاندان کی حیثیت کم نہ ہوگی، اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن ٹھہروں گا اور اگر تمہارے ہاں سات دن قیام کروں گا تو اپنی دوسری بیویوں کو بھی سات دن دوں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3621]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1460
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1460 ترقیم شاملہ: -- 3622
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عَنْدَهُ، قَالَ لَهَا: " لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عَنْدَكِ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ "، ثُمَّ دُرْتُ قَالَت: ثَلِّثْ.
عبداللہ بن ابوبکر نے عبدالملک بن ابوبکر سے، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہائش پذیر ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اپنے شوہر کے سامنے تمہارے مرتبے میں کوئی کمی نہیں، اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن قیام کروں گا، اور اگر تم چاہو تو تین دن قیام کروں گا پھر (باری باری) سب کے ہاں جانا شروع کروں گا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: آپ تین دن قیام فرمائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3622]
ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور ان کے ہاں ٹھہرے، تو انہیں صبح فرمایا: تم اپنے خاوند کے نزدیک کم رتبہ نہیں ہو، اگر تم چاہو تو تمہارے ہاں سات دن تک ٹھہروں اور چاہو تو تین دن ٹھہر کر باری شروع کر دوں۔ انہوں نے عرض کیا: تین دن ہی دیجیے (تاکہ باری جلد آ سکے۔)۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3622]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1460
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1460 ترقیم شاملہ: -- 3623
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعَنْبِيُّ ، حدثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَأَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَخَذَتْ بِثَوْبِهِ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتِ زِدْتُكِ وَحَاسَبْتُكِ بِهِ لِلْبِكْرِ سَبْعٌ، وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ "،
سلیمان بن بلال نے ہمیں عبدالرحمٰن بن حمید سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالملک بن ابوبکر سے، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ ان کے پاس گئے، اس کے بعد آپ نے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے آپ کے کپڑے کو پکڑ لیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں مزید تمہارے ہاں قیام کروں گا اور تمہارے ساتھ اس کا حساب رکھوں گا، کنواری کے لیے سات راتیں ہیں اور ثیبہ (دوہاجو) کے لیے تین راتیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3623]
ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کے ہاں گئے، پھر ان کے ہاں سے نکلنے کا ارادہ کیا، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا تھام لیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو تمہیں اور وقت دے دیتا ہوں اور میں اس کا حساب رکھوں گا، کیونکہ کنواری کو نکاح سے سات راتیں ملتی ہیں اور شوہر دیدہ کو تین۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3623]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1460
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1460 ترقیم شاملہ: -- 3624
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابوضمرہ نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3624]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی روایت ایک اور استاذ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3624]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1460
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1460 ترقیم شاملہ: -- 3625
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حدثنا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ هَذَا فِيهِ، قَالَ: " إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ، وَأُسَبِّعَ لِنِسَائِي، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِنِسَائِي ".
عبدالواحد بن ایمن نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں (عبدالواحد) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے شادی کی، اور بہت سی باتوں کا ذکر کیا، ان میں یہ بات بھی تھی: آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو کہ میں تمہارے ہاں سات سات دن قیام کروں (تو ہو سکتا ہے) اور اگر میں نے تمہارے ہاں سات دن قیام کیا تو اپنی ساری بیویوں کے ہاں سات سات دن قیام کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3625]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور اس سلسلہ میں ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے کچھ باتیں بیان کیں، ان میں یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو کہ میں تمہیں سات راتیں دوں تو دوسری بیویوں کو بھی سات راتیں دوں گا۔ کیونکہ اگر میں تمہیں سات راتیں دوں، تو دوسری بیویوں کو بھی سات راتیں دوں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3625]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1460
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1461 ترقیم شاملہ: -- 3626
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عَنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عَنْدَهَا ثَلَاثًا "، قَالَ خَالِدٌ: وَلَوْ قُلْتُ: إِنَّهُ رَفَعَهُ لَصَدَقْتُ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: السُّنَّةُ كَذَلِكَ.
ہشیم نے ہمیں خالد سے خبر دی، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب کوئی دوہاجو (ثیبہ) کے بعد باکرہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات دن قیام کرے اور جب باکرہ کے بعد کسی ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین دن قیام کرے۔ خالد نے کہا: اگر میں کہوں کہ انہوں نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، تو میں سچ کہوں گا لیکن انہوں نے کہا تھا: سنت اسی طرح ہے۔ (یہ حدیث کو مرفوع کرنے کے مترادف ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3626]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر (کوئی شخص) شوہر دیدہ کے بعد کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات دن قیام کرے اور اگر کنواری کے بعد شوہر دیدہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین دن ٹھہرے، خالد کہتے ہیں: اگر میں کہوں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس قول کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا تو میں سچا ہوں گا، لیکن انہوں نے (یہی) کہا تھا: سنت یہی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3626]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1461
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1461 ترقیم شاملہ: -- 3627
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُقِيمَ عَنْدَ الْبِكْرِ سَبْعًا "، قَالَ خَالِدٌ: وَلَوْ شِئْتُ قُلْتُ: رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سفیان نے ایوب اور خالد حذاء سے خبر دی، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: سنت میں سے ہے کہ (دلہا) باکرہ کے ہاں سات راتیں قیام کرے۔ خالد نے کہا: اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں: انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3627]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سنت یہ ہے کہ کنواری کے ہاں سات دن ٹھہرے، خالد کہتے ہیں: اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے اس کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3627]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1461
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں