🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 963
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 963
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ، سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلائِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ، الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ، وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ، فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةُ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا"، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، ذَكَرَ الأَغَرَّ قَطُّ، مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُه إِلا عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب جمعہ کا دن آتا ہے، تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر فرشتے موجود ہوتے ہیں جو لوگوں کی آمد کے اعتبار سے ان کے نام نوٹ کرتے ہیں۔ پہلے آنے والوں کا نام پہلے لکھا جاتا ہے، پھر امام آ جاتا ہے، تو (فرشتوں کے) صحیفے لپیٹ لیے جاتے ہیں اور وہ خطبہ سننے لگتے ہیں، تو جمعے کے دن جلدی جانے والا اس طرح ہے جیسے وہ اونٹ کی قربانی کرتا ہے، پھر اس کے بعد والا اس طرح ہے جیسے وہ گائے کی قربانی کرتا ہے، پھر اس کے بعد والا اس طرح ہے جیسے وہ دنبے کی قربانی کرتا ہے، یہاں تک کہ راوی نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر کیا۔
امام حمیدی کہتے ہیں: سفیان سے کہا گیا: دیگر محدثین نے اس روایت کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے کہ یہ روایت اغر نامی راوی سے منقول ہے، تو سفیان نے کہا: میں نے زہری کو کبھی بھی اغر کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں سنا۔ میں نے تو انہیں یہی سنا ہے کہ انہوں نے اسے سعید کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 963]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 929، 3211، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 850، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1727، 1768، 1769، 1770، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2770، 2774، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 863، 1384، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1584، 1585، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1092، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5941، 5942، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7378، 7379»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 964
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 964
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاةَ فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَونَ، وَائتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكَمْ فَاقْضُوا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ چلتے ہوئے آؤ تم پر سکون لازم ہے جتنا حصہ تمہیں ملے اسے ادا کر لو اور جو گزر جائے اسے بعد میں ادا کر لو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 964]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 636، 908، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 602، ومالك فى «الموطأ» برقم: 221، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1065، 1505، 1646، 1772، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2145، 2146 2148، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 860، وأبو داود فى «سننه» برقم: 572، 573، والترمذي فى «جامعه» برقم: 327، 328، 329، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1319، وابن ماجه فى «سننه» 775، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1947، 3243، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7350، برقم: 7370»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 965
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 965
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ، أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالاسْتِحْدَادُ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الإِبِطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: فطرت پانچ چیزیں ہیں۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال صاف کرنا اور مونچھیں چھوٹی کرنا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 965]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5889، 5891، 6297، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 257، ومالك فى «الموطأ» برقم: 711، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5479، 5480، 5481، 5482، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 9، 10، 11، 5058، 5059، 5240 وأبو داود فى «سننه» برقم: 4198، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2756، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 292، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 697، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7260»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 966
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 966
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ" . وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لِرَجُلٍ يَسْأَلُهُ:" أَتَعْرِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَإِنَّهُ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَإِنَّ ثِيَابَهُ مَوضُوعَةٌ عَلَى الْمِشْجَبِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص کھڑا ہوا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز ادا کر سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہوتے ہیں؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا: جس نے ان سے سوال کیا تھا، کیا تم ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) کو جانتے ہو؟ وہ ایک ہی کپڑے میں نماز ادا کر لیتا ہے۔ حالانکہ اس کا دوسرا کپڑا کھونٹی پر لٹکا ہوا ہوتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 966]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 358، 365، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 515، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 758، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1714، 2295، 2296، 2298، 2303، 2306، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 762، وأبو داود فى «سننه» برقم: 625، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1410، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1047، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3326، 3328، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7270، 7371»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 967
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 967
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ كَمَا أَقُولُ لَكَ لا نَحْتَاجُ فِيهِ إِلَى أَحَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ، قَالَ: اللَّهُمُّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا"، فَمَا لَبِثَ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ سَجْلا مِنْ مَاءٍ، أَوْ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی مسجد میں داخل ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ اس نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس نے دعا مانگی: اے اللہ! مجھ پر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ اور کسی پر رحم نہ کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے۔ اس کے بعد وہ مسجد میں ہی پیشاب کرنے لگا، تو لوگ تیزی سے اس کی طرف لپکنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہیں آسانی فراہم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے تمہیں تنگی کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 967]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 220، 6010، 6128، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 297، 298، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 985، 987، 1399، 1400، 1402، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 56، 329، وأبو داود فى «سننه» برقم: 380، 882، والترمذي فى «جامعه» برقم: 147، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 529، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4306، 4307، 4308، 4309، وأحمد فى «مسنده» 7375، 7914»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 968
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 968
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمُّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں دوسری رکعت سے سر اٹھایا تو یہ پڑھا: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابوربیعہ اور مکہ میں موجود کمزور افراد کو نجات عطا کر۔ اے اللہ مضر قبیلے کے افراد پر اپنی سختی نازل کر دے اور ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی نازل کر دے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 968]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 797، 804، 1006، 2932، 3386، 4560، 4598، 6200، 6393، 6940، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 675، 676، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 615، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1969، 1972، 1981، 1983، 1986، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1072، 1073، 1074، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1440، 1442، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1636، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1244، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3135، 3136 وأحمد فى «مسنده» برقم: 7380، 7581، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5873، 5995»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 969
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 969
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میری اس مسجد میں نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کسی بھی مسجد میں ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ البتہ مسجد حرام کا حکم مختلف ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 969]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1190، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1394، ومالك فى «الموطأ» برقم: 670، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1621، 1625، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 693، 2899، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 775، 3868، والترمذي فى «جامعه» برقم: 325، 3916 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1458، 1460، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1404، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10374، 10385، 20194، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7373، 7533، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5857، 5875، 6165، 6166، 6167، 6525، 6554»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 970
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 970
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْمِنْبَرِ , يَقُولُ: " صَلاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ صَلاةٍ، فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ" , قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: فَيَرَوْنَ أَنَّ الصَّلاةَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلا مَسْجِدَ الرَّسُولِ، فَإِنَّمَا فَضْلُهُ عَلَيْهِ بِمِائَةِ صَلاةٍ".
سلیمان بن غتیق بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا: وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: مسجد حرام میں ایک نماز ادا کرنا اور کسی بھی مسجد میں ایک سو نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے۔
امام حمیدی کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے، علماء اس بات کے قائل ہیں: مسجد حرام میں نماز ادا کرنا اور کسی بھی مسجد میں ایک لاکھ نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے، البتہ مسجد نبوی کا حکم مختلف ہے۔ کیونکہ مسجد نبوی کے مقابلے میں مسجد حرام کو ایک سو گنا فضیلت حاصل ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 970]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وهو موقوف على عمر، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 7600، وأخرجه الطحاوي فى "شرح معاني الآثار"، برقم: 4801، وابن حبان فى ”صحيحه“: 1620»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 971
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 971
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ"،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب گرمی شدید ہو، تو نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 971]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 533، 536، 3260، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 615، 617، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 329، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1504، 1506، 1507، 1510، 7466، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 499، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1499، وأبو داود فى «سننه» برقم: 402، والترمذي فى «جامعه» برقم: 157، 2592، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1243، 2887، 2888، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 677، 678، 4319، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2089، 2090، 2091، 2092، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7251، 7366، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5871، 6074، 6314»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 972
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 972
وَقَالَ:" اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ، فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّهَا، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ فَمِنْ زَمْهَرِيرِهَا" .
(راوی بیان کرتے ہیں:) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: جہنم نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کی، اس نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی۔ ایک سانس سردی میں ہوتی ہے اور ایک سانس گرمی میں ہوتی ہے۔ تو جب تم شدید ترین گرمی پاتے ہو، تو وہ اس کی گرم سانس کا نتیجہ ہوتی ہے اور جب تم شدید ترین سردی پاتے ہو، تو وہ اس کی ٹھنڈی سانس کا نتیجہ ہوتی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 972]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 533، 536، 3260، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 615، 617، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 329، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1504، 1506، 1507، 1510، 7466، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 499، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1499، وأبو داود فى «سننه» برقم: 402، والترمذي فى «جامعه» برقم: 157، 2592، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1243، 2887، 2888، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 677، 678، 4319، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2089، 2090، 2091، 2092، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7251، 7366، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5871، 6074، 6314»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں