🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1003
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1003
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: حَمِدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3، قَالَ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، أَوْ مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4، قَالَ: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5، فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ {6} صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 7، فَهَذِهِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے، جب میرا بندہ پڑھتا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے۔ جب بندہ یہ پڑھتا ہے: وہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے، یا میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔ جب بندہ پڑھتا ہے: وہ روز جزا کا مالک ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے مجھے تفویض کر دیا ہے۔ جب بندہ یہ پڑھتا ہے: ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ تو یہ حصہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ اور میرا بندہ جو مانگ رہا ہے وہ اسے ملے گا۔ جب بندہ یہ پڑھتا ہے: تو سیدھے راستے کی طرف ہمیں ہدایت نصیب کر! ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، نہ کہ ان لوگوں کا راستہ، جن پر غضب کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے۔ (تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) یہ چیز میرے بندے کو ملے گی۔ میرا بندہ جو مانگے گا وہ اسے ملے گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1003]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 395، ومالك فى «الموطأ» برقم: 278، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 489، 490، 502، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 776، 1784، 1788، 1789، 1794، 1795، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 875، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 908، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 983، 7958، 7959، 10915، وأبو داود فى «سننه» برقم: 821، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2953، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 838، 3784، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 168، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2403، 2404 وأحمد فى «مسنده» برقم: 7411، 7524، 7951، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6454، 6522»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1004
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1004
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، وَابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ صَلاةٍ لا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ" , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لأَبِي هُرَيْرَةَ: فَإِنِّي أَسْمَعُ قِرَاءَةَ الإِمَامِ، فَغَمَزَنِي بِيَدِهِ، فَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ، أَوْ قَالَ: يَا ابْنَ الْفَارِسِيِّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہوتی ہے۔ وہ نامکمل ہوتی ہے۔ وہ نامکمل ہوتی ہے۔ عبدالرحمٰن نامی راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: بعض اوقات میں امام کی تلاوت سن رہا ہوتا ہوں (اس وقت میں کیا کروں؟) تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے ٹھوکا دے کر ارشاد فرمایا: اے فارسی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ابن فارسی! تم دل میں اسے پڑھا لیا کرو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1004]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 395 ومالك فى «الموطأ» برقم: 278، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 489، 490، 502، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 776، 1784، 1788، 1789، 1794، 1795، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 875، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 908، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 983، 7958، وأبو داود فى «سننه» برقم: 821، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2953، 2953 م 1، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 838، 3784، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 168، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2403، 2404، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7411، 7524، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6454، 6522»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1005
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1005
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ مَرَّةً، قَالَ: " تُعْرَضُ الأَعْمَالُ فِي كُلَّ يَوْمٍ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمَيْنِ لِكُلِّ امْرِئٍ لا يُشْركُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلا امْرَأَ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں: ہر پیر اور جمعرات کے دن اعمال (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) پیش کئے جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان دنوں میں ہر ایسے شخص کی مغفرت کر دیتا ہے، جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، ماسوائے اس شخص کے، جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی ہو، تو حکم ہوتا ہے ان دونوں کو اس وقت تک رہنے دو، جب تک یہ دونوں صلح نہیں کر لیتے۔ ان دونوں کو اس وقت تک رہنے دو، جب تک یہ دونوں صلح نہیں کر لیتے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2565، ومالك فى «الموطأ» برقم: 695، 696، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2120، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3644، 5661، 5663، 5666، 5667، 5668، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4916، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2023، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6487، 6488، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7754، 9175، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6684»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1006
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1006
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ بَعْدَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا" قَالَ سُفْيَانُ وَقَالَ غَيْرِي: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةٍ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا" وَهَذَا أَحْسَنُ، وَأَمَّا الَّذِي حَفِظْتُ أَنَا الأَوَّلُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم جمعے کے بعد چار رکعات ادا کریں۔ سفیان کہتے ہیں: دیگر راویوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: تم میں سے جس شخص نے جمعے کے بعد نماز ادا کرنی ہو، تو اسے چاہئے کہ چار رکعات ادا کرے۔ (راوی کہتے ہیں) یہ روایت زیادہ بہتر ہے، جو الفاظ میں نے یاد کئے ہیں وہ پہلے والے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 881، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1873، 1874، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2477، 2478، 2479، 2480، 2481، 2485، 2486، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1425، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 501، 1755، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1131، والترمذي فى «جامعه» برقم: 523، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1616، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1132، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6019، 6020، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7518، 9830، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 5416»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1007
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1007
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لأَبِي هُرَيْرَةَ : إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعْرِ، وَلا يَكْفِينِي ثَلاثُ حَثَيَاتٍ؟ فَقَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْكَ شَعْرًا، وَأَطْيَبَ مِنْكَ، وَكَانَ يُحْثِي عَلَى رَأْسِهِ ثَلاثًا" .
سعید مقبری بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں ایک ایسا شخص ہوں، جس کے بال زیادہ ہیں، دونوں ہاتھوں میں تین مرتبہ بھر کے پانی ڈالنا میرے لیے کافی نہیں ہوگا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال اس سے بھی زیادہ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے بھی زیادہ پاکیزہ تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر صرف تین مرتبہ پانی ڈال لیتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان، وأخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم: 578، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7536، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6538، والبزار فى «مسنده» برقم: 8491، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 701»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1008
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1008
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرُو بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلا يَخْرُجْنَ إِلا وَهُنَّ تَفِلاتٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ کی کنیزوں کو اللہ تعالیٰ کی مساجد میں جانے سے نہ روکو اور خواتین ایسی حالت میں نہ نکلیں کہ ان سے خوشبو پھوٹ رہی ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1008]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن عمره بن علقمة، وقد أخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1679 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2214 وأبو داود فى «سننه» برقم: 565، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1315 1316 والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5460 وأحمد فى «مسنده» برقم: 9776 10287 10989 وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5915 5933 والبزار فى «مسنده» برقم: 8569 9262 وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5121 وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 7691 والطبراني فى «الأوسط» برقم: 568»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1009
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1009
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْصَبِّحُ الْقَوْمَ بِالنِّعْمَةِ وَيُمَسِّهِمْ، فَيُصْبِحُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا، وَكَذَا" , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْنَا هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ عُمَرَ يَسْتَسْقي بِالنَّاسِ، فَقَالَ: يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ كَمْ بَقِيَ مِنْ نَوْءِ الثُّرَيَّا؟ قَالَ الْعُلَمَاءُ: بِهَا يَزْعُمُونَ أَنَّهَا تَعْتَرِضُ بَعْدَ سُقُوطِهَا فِي الأُفُقِ سَبْعًا، قَالَ: فَمَا مَضَتْ سَابِعَةٌ حَتَّى مُطِرْنَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: بے شک اللہ تعالیٰ صبح کے وقت یا شام کے وقت کسی قوم کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے، تو ان میں سے کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: ہم پر فلاں، فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے۔ محمد بن ابراہیم نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت سعید بن مسیب کو سنائی تو انہوں نے بتایا: انہوں نے یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ تاہم ان صاحب نے ہمیں یہ بتایا ہے، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے لوگوں کے لیے بارش کی دعا مانگی تھی۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا: اے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا! فلاں ستارے کا کتنا حصہ باقی رہ گیا ہے؟ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: اس علم کے ماہرین کا یہ کہنا ہے، یہ گرنے کے بعد افق میں سات دن تک چوڑائی کی سمت میں رہے گا۔ راوی کہتے ہیں: سات دن گزرنے سے پہلے ہی ہم پر بارش ہو گئی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1009]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، فيه عنعنة إبن إسحاق، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 72، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1523، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1848، 10693، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6545، 6547، 6548، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8860، 8933، 9579، 10954، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 5219»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1010
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1010
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ" ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ سے اللہ کے عذاب کی پناہ مانگو، اللہ تعالیٰ سے موت کے فتنے سے پناہ مانگو، اللہ تعالیٰ سے قبر کے عذاب سے پناہ مانگو۔ اللہ تعالیٰ سے دجال کے فتنے سے پناہ مانگو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1010]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1377، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 585، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 721، بدون ترقيم، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1002، 1018، 1019، 1967، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1016، 1961، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1309، 2059، 2060، وأبو داود فى «سننه» برقم: 983، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3604، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1383، 1384، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 909، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2926، 2927، وأحمد فى «مسنده» برقم: 2378، 7357، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6133، 6279»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1011
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ ,
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1011]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه مسلم كما تقدم فى التعليق السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1012
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1012
ثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1012]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6279 من طريق سفيان بهذا الإسناد، وهناك استوفينا تخرجه، وانظر التعلقين السابقين»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں