🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 983
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 983
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيَّ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلامُ الصَّلاةَ، قَالَ: " هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْكُمْ أَحَدٌ؟"، فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَقُولُ: مَا بَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟" , قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ قَالَ الزُّهْرِيُّ شَيْئًا لَمْ أَفْهَمْهُ، فَقَالَ لِي مَعْمَرٌ بَعْدُ: أَنَّهُ قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ، فِيمَا جَهَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَكَانَ سُفْيَانُ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَديثِ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً أَظُنُّهَا صَلاةَ الصُّبْحِ زَمَانًا مِنْ دَهْرِهِ، ثُمَّ قَالَ لَنَا سُفْيَانُ: نَظَرْتُ فِي كِتَابِي، فَإِذَا فِيهِ عِنْدِي: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو ارشاد فرمایا: کیا میرے ساتھ تم میں سے کسی ایک نے تلاوت کی ہے؟ تو ایک صاحب نے عرض کی: جی ہاں! میں نے کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: پھر زہری نے کوئی بات بیان کی جسے میں سمجھ نہیں سکا۔ بعد میں معمر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے یہ کہا تھا: اس کے بعد لوگ ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں قرأت کرتے تھے۔
امام حمیدی کہتے ہیں: سفیان اس روایت کو نقل کرتے ہوئے یہ الفاظ نقل کرتے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ سفیان کہتے ہیں: میرا خیال ہے وہ صبح کی نماز تھی۔ وہ ایک طویل عرصے تک اسی طرح بیان کرتے رہے، پھر سفیان نے ہمیں بتایا کہ میں نے اپنی تحریر کا جائزہ لیا ہے، تو اس میں یہ الفاظ موجود تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 983]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 286، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1843، 1849، 1850، 1851، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 918، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 993، وأبو داود فى «سننه» برقم: 826، والترمذي فى «جامعه» برقم: 312، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 848، 849، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2936، 2937، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7390، 7934»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 984
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 984
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحِنُ الآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ، بَايدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ" ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ہم (دنیا میں) آخر والے ہیں اور (قیامت کے دن) پہلے ہوں گے۔ وہ اس طرح کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور ہمیں ان کے بعد کتاب دی گئی ہے اور یہ (یعنی جمعہ کا دن) وہ دن ہے، جس کے بارے میں ان لوگوں نے اختلاف کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس دن کے بارے میں ہماری رہنمائی کی، تو اس دن کے حوالے سے لوگ ہمارے پیروکار ہیں۔ یہودیوں کا (مخصوص مذہبی دن) کل (یعنی ہفتہ) کا ہے۔ اور عیسائیوں کا مخصوص مذہبی دن پرسوں کا (یعنی اتوار ہے)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 984]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 238، 876، 896، 2956، 3486، 3487، 6624، 6887، 7036، 7495، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 849، 855، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1720، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1234، 2784، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1366، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1664، 1665، 1666، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1083، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1439، 1440، 5647، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7430، 7517»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 985
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: بَايِدْ أَنَّهُمْ، تَفْسِيرُهَا: مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمْ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں۔ راوی نے کہا: ہے کہ اس کی وضاحت کیوں کی گئی ہے: اس کی وجہ یہ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 985]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر التعليق السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 986
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 986
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُقِيمَ الصَّلاةَ صَلاةَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ آمُرَ فِتْيَانِي فَيْخَالِفُوا إِلَى بُيُوتِ أَقْوَامٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ صَلاةِ الْعِشَاءِ، فَيَحْرِقُونَ عَلَيْهِمْ بِحِزَمِ الْحَطَبِ، وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ، أَوْ عَظْمًا سَمِينًا لَشَهِدَ الصَّلاةَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں عشاء کی نماز باجماعت کی ہدایت کروں اور پھر میں نوجوانوں کو حکم دوں وہ ان لوگوں کے گھر جائیں جو عشاء کی نماز باجماعت میں شریک نہیں ہوئے ہیں اور ان پر لکڑیاں رکھ کر انہیں آگ لگا دیں۔ اگر ان لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ انہیں (باجماعت نماز میں شریک ہونے پر) دو عمدہ قسم کے پائے ملیں گے یا موٹی پر گوشت ہڈی ملے گی، تو وہ اس نماز میں ضرور شریک ہوں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 986]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 615، 644، 652، 657، 721، 2420، 2689، 7224، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 437، 439، 651 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 391 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1659، 2096، 2097، 2098، 2153، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 923، 1533، 1647، وأبو داود فى «سننه» برقم: 548، 549، والترمذي فى «جامعه» برقم: 217، 225، 226، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1248، 1309، 1310، برقم: وابن ماجه فى «سننه» 791، 797، 998، برقم: والبيهقي فى «سننه الكبير» 2045، 5008، 5009، 5010، 5011، 5012، 5014، 5273، 21450، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7346، 7446، 7853، 8137، 8265، 8918، 8994، 9012 والطبراني فى «الصغير» 931»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 987
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 987
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا، وَإِذَا اسْتَنْثَرَ فَلْيَسْتَنْثِرْ وِتْرًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کسی شخص نے ڈھیلے استعمال کرنے ہوں، تو طاق تعداد میں استعمال کرے اور جب کوئی شخص ناک صاف کرے، تو طاق تعداد میں کرے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 987]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 161، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 237، ومالك فى «الموطأ» برقم: 24، 46، 49، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 75، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1410، 1438، 1439، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 86، 88، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 95، 98، وأبو داود فى «سننه» برقم: 35، 140، والدارمي فى «مسنده» برقم: 689، 730، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 337، 338، 409، 3498، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 223، 235، 509، 511، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7341، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5905، 6255، 6328، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 280، 26152، والطبراني فى «الصغير» برقم: 127»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 988
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الإِمَامُ أَمِيرٌ، فَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: امام امیر ہے اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہے، تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو اگر وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے، تو تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 988]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 722، 734، 780، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 409، 410، 414، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 569، 570، 575، 1575، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1804، 1907، 1909، 1911، 2107، 2115، 4556 والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 920، 921، 924 والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 654، 995 وأبو داود فى «سننه» برقم: 603، 848، 935، 936، 2757، والترمذي فى «جامعه» برقم: 250، 267، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1281، 1282، 1350، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3، 846، 851، 852، 875، 960، 1239، 2859، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2314، 2473، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7265، 7308، 7364»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 989
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 989
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ:" لِلأَمِيرِ إِمَامَةٌ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امیر کے لیے امامت ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 989]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد أخرجه عبد الرزاق برقم: 4083، وأبو نعيم فى ذكر أخبار أصبهان 390/1 من طريق سفيان بهذا الإسناد، ولكن لفظه مثل لفظ الحديث السابق. فانظره لتمام التخريج»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 990
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 990
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلاثَ عُقَدٍ، يَضْرِبُ عَلَى مَكَانِ كُلِّ عُقْدَةٍ: عَلَيْكَ لَيْلا طَوِيلٌ، فَنَمْ، فَإِنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ، انْحَلَّتْ عُقْدَتَانِ، فَإِنْ صَلَّى، انْحَلَّتِ الْعُقَدُ كُلُّهَا، وَأَصْبَحَ طَيِّبَ النَّفْسِ نَشِيطًا، وَإِلا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلانَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: شیطان کسی شخص کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے وہ ہر گرہ لگاتے ہوئے یہ کہتا ہے: تم آرام کرو! ابھی رات لمبی ہے۔ تم سوئے رہو۔ اگر آدمی رات میں بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کر لے، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اگر وہ وضو کر لے، تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ نماز بھی ادا کر لے، تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں اور صبح کے وقت آدمی تازہ دم اور خوش و خرم ہوتا ہے ورنہ دوسری صورت میں آدمی کا دل اور سست ہوتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 990]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1142، 3269، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 776، ومالك فى «الموطأ» 605، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1131، 1132، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2553، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1606، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1303، وأبو داود فى «سننه» 1306، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1329، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4717، 4802، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7428، 7558، 10598، 10599، 10602، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6278، 6333، والبزار فى «مسنده» برقم: 7821، 9180، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 340، 341، 346»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 991
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 991
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَذِهِ؟ فَمَا يَخْفَى عَلَيَّ رُكُوعُكُمْ، وَلا خُشُوعُكُمْ، أَوْ رُكُوعُكُمْ، وَلا سُجُودُكُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تم یہ سمجھتے ہو کہ میں قبلہ کی طرف رخ کیے ہوئے ہوتا ہوں تمہارا رکوع کرنا اور تمہارا خشوع (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تمہارے رکوع اور تمہارے سجدے مجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 991]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 418، 741، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 423، 424، ومالك فى «الموطأ» برقم: 577، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 474، 664، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6337، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 867، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 871، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 947، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3640، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7451، 8139، 8892، 8999، 9049، 9930، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6335، والبزار فى «مسنده» برقم: 8424، 8868»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 992
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 992
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَابُورَ ، وَحُمَيْدٌ الأَعْرَجُ ، وَابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ سورة الشعراء آية 219، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَى مِنْ خَلْفِهِ فِي الصَّلاةِ كَمَا يَرَى مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ" .
مجاہد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں: «وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ» (26-الشعراء:219) اور تمہیں سجدہ کرنے والوں میں پھیرتا ہے۔ مجاہد بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھ لیتے تھے، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے کی طرف دیکھ لیتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 992]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح إلى مجاهد، وهو موقوف عليه، وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» 3676»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں