مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1033
حدیث نمبر: 1033
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ:" ارْكَبْهَا، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبَنَّهَا وَيْلَكَ، أَوْ وَيْحَكَ ارْكَبْهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس گزرے جو اپنے قربانی کے جانوروں کو ساتھ لے کر جا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر سوار ہو جاؤ!“ اس نے عرض کی: یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے عرض کی: یہ قربانی کا جانور ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر سوار ہو جاؤ۔ تم برباد ہو جاؤ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تمہارا ستیاناس ہو! تم اس پر سوار ہو جاؤ۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1033]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1689، 1706، 2755، 6160، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1322، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1398، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4014، 4016، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2798، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3767، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1760، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3103، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10314، 10315، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7467، 7571، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6307، 6667»
حدیث نمبر 1034
حدیث نمبر: 1034
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ حَتَّى يَرْجِعَ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدْتُهُ أُمُّهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اس کا گھر کا حج کرے گا اور اس دوران کوئی فحش گوئی اور نافرمانی گھر لوٹنے تک نہ کرے اور واپس آنے تک اس پر عمل کرے، تو وہ یوں ہوتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1034]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1521، 1819، 1820، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1350، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2514، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3694، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2626، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3593، والترمذي فى «جامعه» برقم: 811، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1837، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2889، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9260، 10494، 10495، 10496، والدارقطني فى «سننه» برقم: 2714، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7257، 7498، 9435»
حدیث نمبر 1035
حدیث نمبر: 1035
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَنْظَلَةُ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيْهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا، أَوْ مُعْتَمِرًا، أَوْ لَيُثْنِينهِمَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ”فج روحاء“ سے حج یا عمرے کا تلبیہ ضرور پڑھیں گے یا پھر وہ ان دونوں کو جمع کر لیں گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1035]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1252، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6820، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 4184، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8893، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7393، 7796، 10811، 11130»
حدیث نمبر 1036
حدیث نمبر: 1036
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلاثٍ إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی عورت تین دن سے زیادہ سفر نہ کرے مگر یہ کہ اس کا کوئی محرم اس کے ساتھ ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1036]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل إبن عجلان، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1088، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1339، ومالك فى «الموطأ» برقم: 806، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2523، 2524، 2525، 2526، 2527، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2721، 2725، 2726، 2727، 2728، 2732، 3758، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1621، 1622، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1723، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1170، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2899، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5492، 5493، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7342، 7532، 8605»
حدیث نمبر 1037
حدیث نمبر: 1037
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت کرتے ہوئے، رمضان کے روزے رکھتا ہے اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ اور جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت کرتے ہوئے، شب قدر میں نوافل ادا کرتا ہے اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 35، 37، 38، 1901، 2008، 2009، 2014، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 759، 759، 760، 760، ومالك فى «الموطأ» برقم: 376، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1894، 2199، 2201، 2203، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2546، 3432، 3682، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1601، 1602، 2103، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1371، 1372، والترمذي فى «جامعه» برقم: 683، 808، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1817، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1326، 1328، 1641، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4669، 4670، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1682، 1710»
حدیث نمبر 1038
حدیث نمبر: 1038
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكْتُ، قَالَ:" وَمَا شَأْنُكَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَسْتَطيعُ أَنْ تَعْتِقَ رَقَبَةً؟" قَالَ: لا، قَالَ:" تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لا، لا أَجِدُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْلِسْ"، فَجَلَسَ، فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ إِذْ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهَذَا، فَقَالَ: يَا رَسُولِ اللَّهِ، عَلَى أَفْقَرَ مِنَّا؟ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ" , وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: نَوَاجِذُهُ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ فَأَطْعِمْهِ عِيَالَكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ اس نے عرض کی: میں نے رمضان (میں روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ میں اس کی بھی گنجائش نہیں پاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ وہ شخص بیٹھ گیا۔ ابھی وہ شخص بیٹھا ہوا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کا ٹوکرا پیش کیا گیا۔ لفظ ”عرق“ کا مطلب بڑا برتن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ”جاؤ اور اسے صدقہ کر دو۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سے زیادہ غریب شخص کو صدقہ کروں؟ اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ پورے شہر میں ہم سے زیادہ غریب گھرانہ اور کوئی نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت بھی نظر آنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جاؤ اور اپنے گھر والوں کو یہ کھلا دو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1936، 1937، 2600، 5368، 6087، 6164، 6709، 6710، 6711، 6821، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1111، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1943، 1944، 1945، 1949، 1950، 1951، 1954، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3523، 3524، 3525، 3526، 3527، 3529، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2390، 2392، والترمذي فى «جامعه» برقم: 724، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1757، 1758، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1671، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8136، 8137، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7063، 7410»
حدیث نمبر 1039
حدیث نمبر: 1039
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تُوَاصِلُوا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّكَ تُواصِلُ؟ قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگ صوم وصال نہ رکھو!“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ بھی تو صوم وصال رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری مانند نہیں ہوں میرا پروردگار مجھے کھلا اور پلا دیتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1039]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1965، 1966، 6851، 7242، 7299، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1103، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1060، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2068، 2071، 2072، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3575، 3576، 6413، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3251، 3252، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1745، 1748، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4240، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8462، 8463، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7283، 7349، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6088»
حدیث نمبر 1040
حدیث نمبر: 1040
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ هُوَ لَهُ، إِلا الصِّيَامُ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے، ماسوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزا دوں گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1040]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1894، 1904، 5927، 7492، 7538، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1151، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1890، 1896، 1997، 1898، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3416، 3422، 3423، 3424، 3427، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2213، 2214، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2363، والترمذي فى «جامعه» برقم: 764، 766، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1810، 1811، 1812، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1638، 1691، 3823، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8206، 8398، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7295، 7315، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1005، 5947، 6020، 6266»
حدیث نمبر 1041
حدیث نمبر: 1041
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1041]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر الحديث السابق»
حدیث نمبر 1042
حدیث نمبر: 1042
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ" ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسی شخص کو کھانے کی دعوت دی جائے اور اس نے روزہ رکھا ہوا ہو، تو وہ یہ کہہ دے: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1042]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1150، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3256، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2461، والترمذي فى «جامعه» برقم: 781، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1778، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1750، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7424، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1043، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6280، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7456، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 9531»