مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1023
حدیث نمبر: 1023
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْعُذْرِيِّ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ عَصًا، فَلْيَخْطُطْ خَطًّا، ثُمَّ لا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرے، تو وہ سامنے کی طرف کوئی چیز رکھ لے، اگر اسے کوئی چیز نہیں ملتی، تو وہ لاٹھی کھڑی کر لے، اگر لاٹھی بھی نہیں ملتی، تو وہ لکیر کھینچ لے۔ پھر اس کی دوسری طرف سے جو بھی گزرے گا وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1023]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 811، 812، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2361، 2376، وأبو داود فى «سننه» برقم: 689، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 943، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3519، 3520، 3521، 3522، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7510، 7511، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2715، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 2286، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 8936»
حدیث نمبر 1024
حدیث نمبر: 1024
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سِنَامًا وَسِنَامُ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، فِيهَا آيَةٌ سَيِّدَةُ آيِ الْقُرْآنِ، لا تُقْرَأُ فِي بَيْتٍ فِيهِ شَيْطَانٌ إِلا خَرَجَ مِنْهُ: آيَةُ الْكُرْسِيِّ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر چیز کی ایک کوہان ہوتی ہے اور قرآن کی کوہان سورہ بقرہ ہے۔ اس میں ایک آیت ہے، جو قرآن کی تمام آیتوں کی سردار ہے۔ جس گھر میں شیطان موجود ہو اگر یہ وہاں تلاوت کی جائے، تو شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے وہ آیت الکرسی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1024]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، إسناده فيه حكيم بن جبير الأسدي «قال أحمد ضعيف الحديث مضطرب» وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 2065، 2066، 3044، 3045، 3048، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2878، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 424، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 6019»
حدیث نمبر 1025
حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَرَأَ أَحَدُكُمْ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَأَتَى عَلَى آخِرِهَا أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى سورة القيامة آية 40، فَلْيَقُلْ: بَلَى، وَإِذَا قَرَأَ وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا، فَأَتَى عَلَى آخِرِهَا فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ سورة المرسلات آية 50، فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللَّهِ، وَإِذَا قَرَأَ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ، فَأَتَى عَلَى آخِرِهَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ سورة التين آية 8، فَلْيَقُلْ: بَلَى" , وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: بَلَى، وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ , قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَاسْتَعَدْتُ الأَعْرَابِيَّ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَتَرَانِي لَمْ أَحْفَظْهُ؟ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حِجَّةً مَا مِنْهَا حِجَّةٌ إِلا وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص یہ آیت تلاوت کرے: «لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» (75-القيامة:1) ”میں قیامت کے دن کی قسم نہیں اٹھاتا۔“ یہاں تک کہ وہ اس کے آخر تک پہنچ جائے: «أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى» (75-القيامة:40) ”کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے؟“ تو آدمی کو چاہئے کہ اس وقت یہ کہے: جی ہاں۔ اور جب کوئی شخص یہ سورت تلاوت کرے: «وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا» (77-المرسلات:1) اور اسے آخر تک تلاوت کرے: «فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ» (77-المرسلات:50) ”اس کے بعد وہ کون سی حدیث پر ایمان رکھیں گے؟“ تو آدمی کو چاہئے کہ وہ یہ کہے: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور جب کوئی شخص سورہ تین «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» (95-التين:1) کی تلاوت کرے اور اس کے آخر تک پہنچے: «أَلَيْسَ اللهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» (95-التين:8) ”کیا اللہ تعالیٰ سب سے زبردست حاکم نہیں ہے؟“ تو آدمی کو چاہئے کہ یہ کہے: جی ہاں۔ سفیان نامی راوی بعض اوقات یہ الفاظ نقل کرتے ہیں: ”جی ہاں! اور میں بھی گواہی دینے والوں کے ساتھ ہوں۔“ سفیان کہتے ہیں: اسماعیل نے یہ بات بیان کی ہے میں نے اس دیہاتی سے دریافت کیا: تم یہ حدیث دوبارہ مجھے سناؤ! تو وہ بولا: اے میرے بھتیجے! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مجھے یہ حدیث یاد نہیں ہوگی۔ میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور مجھے ان میں سے ہر ایک حج کے بارے میں یہ یاد ہے کہ میں نے کون سے اونٹ پر بیٹھ کر وہ حج کیا تھا؟ [مسند الحميدي/حدیث: 1025]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه جهالة، وأخرجه ابن حاتم فى «علل الحديث» برقم: 1763 من طريق الحميدي هذا۔ وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 3904، وأبو داود فى «سننه» برقم: 887، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3347، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3755، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7509»
حدیث نمبر 1026
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ بِهِ جَنَابَةٌ فَلا يَنَمْ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس شخص کو جنابت لاحق ہو وہ اس وقت تک نہ سوئے جب تک وہ نماز کے وضو کی طرح وضو نہیں کر لیتا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1026]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه جهالة، وأخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 9216، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 770، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 8403»
حدیث نمبر 1027
حدیث نمبر: 1027
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا، وَقَاعِدًا، وَحَافِيًا، وَنَاعِلا، وَرَأَيْتُهُ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ" , قَالَ سُفْيَانُ: قَالُوا: هَذَا أَبُو الأَوْبَرِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر بھی اور بیٹھ کر بھی، ننگے پاؤں بھی اور جوتا پہن کر بھی، نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے بعد دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے بھی اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: اس روایت کا ایک راوی ابولادبر ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1027]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد،وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3610، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3669، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7501، 7502، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6672»
حدیث نمبر 1028
حدیث نمبر: 1028
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ الْمُحَارِبِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَرَأَى رَجُلا يَجْتَازُ الْمَسْجِدَ بَعْدَ الأَذَانِ، فَقَالَ:" أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
اشعث بن سلیم محاربی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف فرما تھے انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو اذان ہونے کے بعد مسجد سے باہر چلا گیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1028]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 655، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1506، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2062، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 682، 683، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1659، 1660، وأبو داود فى «سننه» برقم: 536، والترمذي فى «جامعه» برقم: 204، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1241، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 733، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5015، 5016، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9439، والطبراني فى «الصغير» برقم: 817»
حدیث نمبر 1029
حدیث نمبر: 1029
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذَّنِينَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: ”امام ضامن ہے اور مؤذن امانت دار ہے۔ اے اللہ! اماموں کی رہنمائی کر اور اذان دینے والوں کی مغفرت کر دے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1029]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1528، 1529، 1530، 1531، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1672، وأبو داود فى «سننه» برقم: 517، والترمذي فى «جامعه» برقم: 207، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2052، 2053، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7290، 7933، والطبراني فى «الصغير» برقم: 297، 595، 750، 796»
حدیث نمبر 1030
حدیث نمبر: 1030
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا" ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مردوں کی سب سے زیادہ بہتر ان کی پہلی صف ہوتی ہے اور سب سے کم بہتر آخری ہوتی ہے۔ جبکہ خواتین کی سب سے زیادہ بہتر آخری ہوتی ہے اور سب سے کم بہتر پہلی ہوتی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1030]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 440، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1561، 1693، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2179، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 819، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 896، وأبو داود فى «سننه» برقم: 678، والترمذي فى «جامعه» برقم: 224، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1304، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1000، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5209، 5210، 5248، 5249، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7479، 8544»
حدیث نمبر 1031
حدیث نمبر: 1031
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1031]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وانظر الحديث السابق»
حدیث نمبر 1032
حدیث نمبر: 1032
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُمَيٌّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلا الْجَنَّةُ، وَالْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مبرور حج کا بدلہ صرف جنت ہے اور ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیان گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1032]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1773، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1349، 1349، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1257، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2513، 3072، 3073، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3695، 3696، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2621، 2622، 2628، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3588، 3589، 3595، والترمذي فى «جامعه» برقم: 933، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1836، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2888، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8815، 10491، 10492، 10493، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7471، 10079، 10086، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2545، 2547، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6657، 6660، 6661»