مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1013
حدیث نمبر: 1013
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ، إِمِّا الظُّهْرُ وَإِمَّا الْعَصْرُ، وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى جِذْعٍ فِي الْمَسْجِدِ فَاسْتَنَدَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُغْضَبٌ، وَخَرَجَ سُرْعَانُ النَّاسِ يَقُولُونَ: قُصِرَتِ الصَّلاةُ، قُصِرَتِ الصَّلاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ!، أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ"؟ فَقَالُوا: صَدَقَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ كَسُجُودِهِ، أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ" , قَالَ مُحَمَّدٌ : فَأُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: وَسَلَّمَ ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی دو نمازوں میں سے کوئی ایک نماز ہمیں پڑھائی شاید وہ ظہر کی نماز تھی یا شاید عصر کی نماز تھی، ویسے میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجود تنے کی طرف تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ٹیک لگا لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصے کے عالم میں تھے، جلد باز لوگ مسجد سے باہر نکل گئے وہ یہ کہہ رہے تھے: نماز مختصر ہو گئی ہے۔ نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، لیکن ان دونوں حضرات کی یہ جرأت نہ ہوئی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کریں۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عام سجدہ کی مانند سجدہ کیا یا شاید طویل سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہتے ہوئے سر اٹھا لیا۔ محمد بن سیرین نامی راوی کہتے ہیں: مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1013]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 482، 714، 715، 1227، 1228، 1229، 6051، 7250، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 573، ومالك فى «الموطأ» برقم: 309، 310، 311، 312، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 860، 1035، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1223، 1224، 1225، 1226، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1008، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1214، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3405، 3887 وأحمد فى «مسنده» برقم: 5046، 7321، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5860»
حدیث نمبر 1014
حدیث نمبر: 1014
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينًا وَشِمَالا، وَقَالَ: مَا يَقُولُ ذَوِ الْيَدَيْنِ؟.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف دیکھا اور دریافت کیا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ [مسند الحميدي/حدیث: 1014]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وانظر التعليق السابق»
حدیث نمبر 1015
حدیث نمبر: 1015
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَقَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ يَفْتَتِحُ بِهَا صَلاتَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص رات کے وقت بیدار ہو، تو اسے دو مختصر رکعات ادا کر لینی چاہئیں جس کے ذریعے وہ اپنی نماز کا آغاز کرے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1015]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 768، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1150، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2606، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1323، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4745، 4746، 4747، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7297، 7863، 9305، والبزار فى «مسنده» برقم: 9993، 10027، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 2562، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6683، 6685، والترمذي فى «الشمائل» برقم: 268»
حدیث نمبر 1016
حدیث نمبر: 1016
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لا يُوافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى فِيهَا خَيْرًا إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلَّلُهَا، وَقَبَضَ سُفْيَانُ، يَقُولُ: قَلِيلٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جمعے میں ایک مخصوص گھڑی ہے اس وقت جو بھی مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا ہو، تو اس وقت وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگے گا اللہ تعالیٰ وہ بھلائی اسے عطا کر دے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ بہت کم وقت ہوتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1016]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 935، 5294، 6400، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 852، ومالك فى «الموطأ» برقم: 363، 364، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1726، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2772، 2773، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1372، 1430، 1431، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1046، والترمذي فى «جامعه» برقم: 488، 491، 3339، 3339 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1610، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1137، 1139، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5644، 5645، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7272، 7590، 7803، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5925، 6055، 6286، 6668»
حدیث نمبر 1017
حدیث نمبر: 1017
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَوَالِيَّ قَرَابَةٌ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ " يَؤُمُّ النَّاسَ فَيْخَفِّفُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَكَذَا كَانَتْ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَوْجَزَ" .
اسماعیل بن ابوخالد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں مہمان ٹھہرا ان کے اور میرے موالی کے درمیان قرابت کا رشتہ تھا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے اور مختصر نماز پڑھاتے تھے۔ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نماز پڑھایا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی زیادہ مختصر نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1017]
تخریج الحدیث: «إسناده جید، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 703، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 467، ومالك فى «الموطأ» برقم: 442، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1760، 2136، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 822، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 899، وأبو داود فى «سننه» برقم: 794، 795، والترمذي فى «جامعه» برقم: 236، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2516، 5349، 5350، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7592، 7782، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6331، 6422»
حدیث نمبر 1018
حدیث نمبر: 1018
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ، فَإِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ، فَلا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلا يَسْتَدْبِرْهَا بِغَائِطٍ وَلا بَوْلٍ، وَأَمَرَ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِثلاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهَى عَنِ الرَّوَثِ وَالرِّمَّةِ، وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں تمہارے لیے باپ کی طرح ہوں۔ میں تمہاری تعلیم و تربیت کروں گا، جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے، تو وہ پاخانہ کرتے ہوئے اور پیشاب کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ نہ کرے اور اس کی طرف پیٹھ نہ کرے۔“ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت کی کہ ہم تین پتھروں کے ذریعے استنجاء کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مینگنی اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع کیا۔ اور اس بات سے بھی منع کیا کہ آدمی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1018]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 265، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 80، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1431، 1435، 1440، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 40، وأبو داود فى «سننه» برقم: 8، والدارمي فى «مسنده» برقم: 701، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 312، 313، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 434، 435، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7485، 7527»
حدیث نمبر 1019
حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُلَيْحَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" إِنَّ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَخْفِضُهُ قَبْلَ الإِمَامِ، فَإِنَّمَا نَاصِيتُهُ بِيَدِ شَيْطَانٍ" , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَقَدْ كَانَ سُفْيَانَ رُبَّمَا رَفَعَهُ وَرُبَّمَا لَمْ يَرْفَعْهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جو شخص امام سے پہلے اپنے سر کو اٹھاتا ہے یا جھکاتا ہے، تو اس کی پیشانی شیطان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
امام ابوبکر حمیدی بیان کرتے ہیں: سفیان بعض اوقات اس روایت کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں۔ بعض اوقات ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل نہیں کرتے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1019]
امام ابوبکر حمیدی بیان کرتے ہیں: سفیان بعض اوقات اس روایت کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں۔ بعض اوقات ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل نہیں کرتے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1019]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 691، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 437، أخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 306، وأخرجه البزار فى «مسنده» برقم: 9404، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 3753، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 7223، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 7692»
حدیث نمبر 1020
حدیث نمبر: 1020
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" فِي كُلِّ الصَّلاةِ اقْرَأَ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ، كُلُّ صَلاةٍ لا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ" , فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَرَأَتُ بِهَا وَحْدَهَا تُجْزِئُ عَنِّي؟ قَالَ: إِنِ انْتَهَيْتَ إِلَيْهَا أَجْزَأَتْ عَنْكَ، فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ أَحْسَنُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ہر نماز میں تلاوت کرتا ہوں، تاہم جن نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں تلاوت کرتے تھے ہم بھی تمہارے سامنے ان میں بلند آواز میں تلاوت کرتے ہیں اور جن نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پست آواز میں تلاوت کرتے تھے ان نمازوں میں ہم بھی تمہارے سامنے پست آواز میں تلاوت کرتے ہیں۔ ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ تلاوت نہ کی جائے، وہ نامکمل ہوتی ہے۔ ایک صاحب نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر میں صرف سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتا ہوں، تو کیا میرے لیے یہ جائز ہوگا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے: اگر تم صرف اس کی تلاوت کرتے ہو، تو یہ تمہارے لیے جائز ہوگا، لیکن اگر تم اس کے ساتھ مزید تلاوت کرو تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1020]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، فيه عنعنة ابن جريج، وقد ساق به حديثين: الأول متفق عليه، أخرجه البخاري فى «الأدان» 772، ومسلم فى «الصلاة» 396، وقد استوفينا تخرجه فى صحيح ابن حبان، برقم 1781 1853،. والثاني تقدم مرفوعة برقم 1015، وهناك خرجناه فعد إليه»
حدیث نمبر 1021
حدیث نمبر: 1021
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مَيْنَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، واقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ , قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ عَطَاءُ بْنُ مَيْنَاءَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ الْمُعْرُوفِينَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سورہ انشقاق اور سورہ العلق میں سجدہ تلاوت کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: عطاء بن میناء نامی راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے معروف شاگردوں میں سے ایک ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1021]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 766، 768، 1074، 1078، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 578، ومالك فى «الموطأ» برقم: 697، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 554، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2761، 2767، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 960 1، 961، 962، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1407، 1408، والترمذي فى «جامعه» برقم: 573، 574، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1509، 1510، 1511، 1512، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1058، 1059، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3783، 3784، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7261، 7488، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5950، 5996»
حدیث نمبر 1022
حدیث نمبر: 1022
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، و اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ" , قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قِيلَ لِسُفْيَانَ: فِيهِ وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سورہ انشقاق اور سورہ العلق میں سجدہ تلاوت کیا ہے۔
امام حمیدی کہتے ہیں: سفیان سے دریافت کیا گیا: کیا روایت میں سورہ العلق کا تذکرہ ہے، تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1022]
امام حمیدی کہتے ہیں: سفیان سے دریافت کیا گیا: کیا روایت میں سورہ العلق کا تذکرہ ہے، تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1022]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وانظر الحديث السابق»