مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1205
حدیث نمبر: 1205
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى إِلَيْهَا الأَغْنِيَاءُ، وَيُمْنَعُهَا الْمَسَاكِينَ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سب سے برا کھانا ولیمے کا کھانا ہے، ”جس میں امیروں کو بلایا جاتا ہے اور غریبوں کو روک دیا جاتا ہے، جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1205]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وهو مكرر سابقه ووأخرجه الطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 3016»
حدیث نمبر 1206
حدیث نمبر: 1206
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ الْيَشْكُرِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ نِسَاءِ الأَنْصَارِ شَيْئًا" , قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: يَعْنِي الصَّغَرَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے کسی انصاری خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے دیکھ لو، کیونکہ انصار کی خواتین کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔“
امام حمیدی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: یعنی وہ کچھ چھوٹی ہوتی ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1206]
امام حمیدی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: یعنی وہ کچھ چھوٹی ہوتی ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1206]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1424، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4041، 4044، 4094، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2745، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3234، 3246، 3247، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5327، 5329، 5330، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13616، 14468، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3624، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7957، 8094، 8100، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6186»
حدیث نمبر 1207
حدیث نمبر: 1207
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا وَسْوَسَتْ فِي صُدُورِهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ، أَوْ تَكَلَّمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان وسوسوں سے درگزر کیا ہے، جو ان کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک وہ اس پر عمل نہیں کرتے یا اس کے بارے میں بات چیت نہیں کرتے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1207]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2528، 5269، 6664، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 127، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 898، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4334، 4335، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3433، برقم: 3434، 3435، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5597، 5598، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2209، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1183، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2040، 2044، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3940، 14307، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7588، 9231، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6389، 6390»
حدیث نمبر 1208
حدیث نمبر: 1208
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَلَفَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، فَقَالَ: لأُطِيفَنَّ اللَّيْلَةَ بِسَبْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ تَجِيءُ بِغُلامٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ، أَوْ قَالَ لَهُ الْمَلَكُ: قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَنَسِيَ فَأَطَافَ بِسَبْعِينَ امْرَأَةً، فَلَمْ تَجِئْ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ بِشَيْءٍ إِلا وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ غُلامٍ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمَا حَنَثَ، وَلَكَانَ دَرَكًا فِي حَاجَتِهِ" ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سیدنا سلیمان علیہ السلام نے قسم اٹھاتے ہوئے یہ کہا: آج رات میں اپنی ستر (70) بیویوں کے ساتھ صحبت کروں گا اور وہ سب لڑکوں کو جنم دیں گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے ان کے ساتھی نے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) فرشتے نے ان سے کہا: آپ ان شاء اللہ کہہ دیجئے! لیکن انہیں خیال نہیں رہا اور انہوں نے اپنی ستر (70) بیویوں کے ساتھ صحبت کی، تو ان میں صرف ایک کے ہاں بچہ پیدا ہوا، جو نا مکمل تھا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ان شاء اللہ کہہ دیتے تو ان کی قسم نہ ٹوٹتی اور وہ اپنا مقصد بھی حاصل کر لیتے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1208]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3424، 5242، 6639، 6720، 7469، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1654، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4337، 4338، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3840، 3865، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4754، 8983، 11239، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19968، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7258، 7830، 10730، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1209، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6244، 6347»
حدیث نمبر 1209
حدیث نمبر: 1209
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حُجَيْرٍ التَّيْمِيُّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1209]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر الحديث السابق»
حدیث نمبر 1210
حدیث نمبر: 1210
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيد ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ فَقَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" أَنْتَ أَعْلَمُ" , قَالَ سَعِيدٌ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، يَقُولُ وَلَدُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ تَقُولُ زَوْجَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، يَقُولُ خَادِمُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک دینار موجود ہے (میں اس کا کیا کروں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے اوپر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کی: میرے پاس ایک اور بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اپنی اولاد پر خرچ کرو!“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اپنی بیوی پر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک اور بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اپنے خادم پر خرچ کرو!“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس اور بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم زیادہ بہتر جانتے ہو گے (کہ اسے کس پر خرچ کیا جائے؟)۔“ سعید نامی راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کر لیتے تھے، تو یہ فرمایا کرتے تھے: تمہارا بچہ کہے گا مجھ پر خرچ کرو، مجھے کس کے سپرد کر رہے ہو، تمہاری بیوی کہے گی: مجھ پر خرچ کرو، ورنہ مجھے طلاق دے دو، تمہارا خادم کہے گا: مجھ پر خرچ کرو یا پھر مجھے فروخت کر دو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1210]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3337، 4233، 4235، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1519، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2534، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2327، 9137، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1691، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15792، 15793، 15835، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7537، 10225، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6616»
حدیث نمبر 1211
حدیث نمبر: 1211
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ ظَبْيَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَتَعْرِفُ رَجَّالا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " ضِرْسُهُ فِي النَّارِ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ" ، فَكَانَ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِمُسَيْلَمَةَ، وَقَالَ: كَبْشَانَ انْتَطَحَا وَأَحَبُّهُمَا إِلَيَّ أَنْ يَغْلِبَ كَبْشِي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم رجال (بن غفوۃ) کو جانتے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جہنم میں اس کی داڑھ احد پہاڑ سے بڑی ہوگی۔“ (راوی کہتے ہیں:) یہ شخص پہلے مسلمان ہوا تھا پھر مرتد ہو گیا اور مسیلمہ سے جا کر مل گیا اس نے یہ کہا تھا: دو مینڈھے سینگ لڑا رہے ہیں اور ان میں سے میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے، میرا والا مینڈھا غالب آ جائے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1211]
تخریج الحدیث: «إسناده فى علتان: ضعف عمران وجهالة شيخه،وأخرجه الحميدي فى «مسنده» برقم: 1211، وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» برقم: 1844»
حدیث نمبر 1212
حدیث نمبر: 1212
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ:" هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟ قَالُوا: لا، قَالَ: فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ؟ قَالُوا: لا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، فَيْلَقَى الْعَبْدَ، فَيَقُولُ: أَيْ فُلُ، أَلَمْ أُكَرِّمْكَ وَأُسَوِّدْكَ، وَأُزَوِّجْكَ، وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ، وَتَرْبَعُ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: بَلَى أَيْ رَبَّ، قَالَ: فَيَقُولُ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاقِيَّ؟ فَيَقُولُ: لا، فَيَقُولُ: فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي، ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِي، فَيَقُولَ: أَيْ فُلُ! أَلَمْ أُكَرِّمْكَ وَأُسَوِّدْكَ، وَأُزَوِّجْكَ، وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ، وَتَرْبَعُ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: بَلَى أَيْ رَبَّ، قَالَ: فَيَقُولُ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاقِيَّ؟ فَيَقُولُ: لا، فَيَقُولُ: فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي، ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ، فَيَقُولُ: آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ، وَبِرَسُولِكَ، وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ، وَتَصَدَّقْتُ، وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ، قَالَ: فَيَقُولُ: فَهَهُنَا إِذَا قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَلا نَبْعَثُ شَاهِدَنَا عَلَيْكَ؟ فَيْفُكِّرُ فِي نَفْسِهِ مَنِ الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ؟ فَيَخْتَمُ عَلَى فِيهِ وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ: انْطِقِي فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحِمُهُ وَعِظَامُهُ، بِعَمَلِهِ مَا كَانَ، وَذَلِكَ لِيُعْذَرَ مِنْ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ، وَذَلِكَ الَّذِي يَسْخَطُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: أَلا لِتَتْبَعْ كُلُّ أُمَّةٌ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَتَبْعُ الشَّيَاطِينَ وَالصُّلُبَ أَوْلِيَاؤُهُمْ إِلَى جَهَنَّمَ، قَالَ: وَبَقِينَا أَيُّهَا الْمُؤْمِنِينَ، فَيَأْتِيَنَا رَبُّنَا وَهُوَ رَبُّنَا، وَهُوَ يُثِيبُنَا، فَيَقُولُ: عَلامَ هَؤُلاءِ؟ فَيَقُولُونَ: نَحِنُ عِبَادُ اللَّهِ الْمُؤْمِنِينَ، آمَنَّا بِاللَّهِ، لا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَهَذَا مُقَامُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، وَهُوَ رَبُّنَا، وَهُوَ يُثِيبُنَا، قَالَ: ثُمَّ يَنْطَلِقُ حَتَّى يَأْتِيَ الْجِسْرَ وَعَلَيْهِ كَلالِيبُ مِنْ نَارٍ تَخْطِفُ النَّاسَ، فَعِنْدَ ذَلِكَ حَلَّتِ الشَّفَاعَةُ: أَيِ اللَّهُمَّ سَلِّمْ، أَيِ اللَّهُمَّ سَلِّمْ، فَإِذَا جَاوَزُوا الْجِسْرَ فَكُلُّ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ مِنَ الْمَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَكُلُّ خَزَنَةِ الْجَنَّةِ يَدْعُوهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ يَا مُسْلِمُ هَذَا خَيْرٌ، فَتَعَالَ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَّ هَذَا الْعَبْدَ لا تَوَى عَلَيْهِ، يَدَعُ بَابًا وَيَلِجُ مِنْ آخَرَ، قَالَ: فَضَرَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دوپہر کے وقت جب بادل موجود نہ ہوں، تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں کچھ مشکل محسوس ہوتی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودھویں رات میں جب بادل موجود نہ ہوں، تو کیا تمہیں چاند کو دیکھنے میں مشکل ہوتی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں کوئی رکاوٹ اسی طرح نہیں ہوگی، جس طرح تمہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں رکاوٹ نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے ملاقات کرے گا اور ارشاد فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں عزت عطا نہیں کی؟ تمہاری شادی نہیں کی؟ تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا اور تمہیں ہر طرح کا موقع فراہم نہیں کیا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ بندہ عرض کرے گا: جی ہاں! اے میرے پروردگار۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا، کیا تمہیں یہ گمان تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہوگے؟“ تو بندہ عرض کرے گا: جی نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”پھر میں بھی تمہیں اسی طرح بھول جاتا ہوں، جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔“ پھر اللہ تعالیٰ دوسرے بندے سے ملاقات کرے گا اور فرمائے گا: ”اے فلاں! کیا میں نے تمہیں عزت عطا نہیں کی، میں نے تمہیں سیادت عطا نہیں کی، میں نے تمہاری شادی نہیں کی، میں نے تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا اور میں نے تمہیں ہر طرح کا موقع فراہم نہیں کیا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ بندہ عرض کرے گا: جی ہاں! اے میرے پروردگار!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہیں یہ گمان تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہوگے؟ تو وہ بندہ عرض کرے گا: جی نہیں، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہیں اسی طرح بھول رہا ہوں، جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔“ پھر اللہ تعالیٰ تیسرے بندے سے ملاقات کرے گا، تو وہ عرض کرے گا: میں تجھ پر تیری کتابوں پر تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا، میں نے نماز ادا کی۔ میں نے روزہ رکھا، میں نے صدقہ کیا اور جہاں تک میری استطاعت تھی میں نے نیکی کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ تو ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا ہم تمہارے خلاف گواہ کو نہ لے کر آئیں، تو وہ بندہ اپنے ذہن میں سوچے گا، میرے خلاف کون گواہی دے سکتا ہے؟ تو اس شخص کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے زانوں سے کہا جائے گا: تم بولو! تو اس کا زانو بولے گا: اس کا گوشت اس کی ہڈیاں بولیں گی اس کے ان اعمال کے بارے میں، جو وہ کرتا رہا تھا، ایسا اس وجہ سے ہوگا تاکہ وہ اپنی طرف سے کوئی عذر پیش نہ کر سکے اور یہ منافق شخص ہوگا اور یہ وہ شخص ہوگا، جس پر اللہ تعالیٰ ناراضگی ظاہر کرے گا۔ پھر ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا: خبردار! ہر گروہ اس کے پیچھے چلا جائے، جس کی وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتا تھا، تو شیاطین اور صلیب کی پیروی کرنے والے ان کے پیچھے جہنم کی طرف جائیں گے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اے اہل ایمان! پھر ہم لوگ باقی رہ جائیں گے ہمارا پروردگار ہمارے پاس تشریف لائے گا وہ ہمارا پروردگار ہوگا وہ ہمیں ثواب عطا کرے گا وہ فرمائے گا: یہ لوگ کون سے مذہب پر ہیں، تو وہ کہیں گے، ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، ہم مؤمن ہیں، ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں، ہم کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتے، ہم یہیں ٹھہرے رہیں گے، جب تک ہمارا پروردگار نہیں آ جاتا، جو ہمارا پروردگار ہے اور وہ ہمیں ثواب عطا کرے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر بندہ چلتا ہوا پل صراط تک آئے گا، جس پر آگ سے بنے ہوئے آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے جو لوگوں کو اچک رہے ہوں گے اس وقت شفاعت حلال ہوگی (اور بندہ دعا کرے گا) اے اللہ تو سلامتی عطا کر۔ اے اللہ تو سلامتی عطا کر۔ جب لوگ پل صراط پر گزر جائیں گے، تو ہر وہ شخص جس نے اپنا مال میں سے اللہ کی راہ میں کسی بھی چیز کا جوڑا دیا ہوگا، تو جنت کا ہر دربان اسے بلائے گا: اے اللہ کے بندے! اے مسلمان یہ زیادہ بہتر ہے تم ادھر آؤ۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسے بندے کو تو کوئی خسارہ نہیں ہوگا کہ وہ ایک دروازے کو چھوڑ کر دوسرے سے اندر چلا جائے؟ راوی کہتے ہیں: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان پر مارا اور فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، مجھے یہ امید ہے، تم ان افراد میں سے ایک ہوگے (جسے جنت کے تمام دروازوں کے دربان بلائیں گے)۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1212]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 806، 2841، 3216، 3666، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 182، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7429، 7445، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6360، 6361»
حدیث نمبر 1213
حدیث نمبر: 1213
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرَّجُلانِ يَتَبَايَعَانِ الثَّوْبَ لا يَتَبَايَعَانِهِ، وَلا يَطْوِيَانِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب قیامت قائم ہوگی اس وقت دو افراد کسی کپڑے کا سودا کر رہے ہوں گے، نہ تو وہ سودا مکمل کر سکیں گے اور نہ ہی اسے لپیٹ سکیں گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1213]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 85، 1036، 1412، 3608، 3609 م، 4635، 4636، 6037، 6506، 6935، 7061، 7121، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2954، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6651، 6680، 6681، 6700، 6711، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4255، 4312، 4333، 4334، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2218، 3072، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4047، 4052، 4068، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16806، 18688، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7282، 7307، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5945، 6085، 6170، [والحميدي فى «مسنده» برقم: 1134، 1135»
حدیث نمبر 1214
حدیث نمبر: 1214
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لا يَقْطَعُهَا، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَظِلٍّ مَمْدُودٍ سورة الواقعة آية 30، وَصَلاةُ الْفَجْرِ يَحْضُرُهَا مَلائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَلائِكَةُ النَّهَارِ، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَقُرْءَانَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت میں ایک درخت ہے، جس کے سائے میں کوئی سوار ایک سو سال تک چلتا رہے، تو پھر بھی وہ اسے پار نہیں کر سکتا اگر تم چاہو تو یہ آیت تلاوت کر سکتے ہو۔“ «وَظِلٍّ مَمْدُودٍ» (56-الواقعة:30) ”اور پھیلے ہوئے سائے۔“ اور فجر کی نماز میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے شریک ہوتے ہیں، اگر تم چاہو تو یہ آیت تلاوت کر سکتے ہو۔ «وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا» (17-الإسراء:78) ”اور فجر کی تلاوت، بے شک فجر کی تلاوت میں حاضر ہوتی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1214]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه جهالة، غير أن الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2793، 3252، 4881، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2826، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6158، 7411، 7412، 7417، 7418، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3189، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11019، 11500، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2523، 3013، 3292، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2862، 2880، 2881، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4335، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7614، 8283، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1165، 1214، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5853، 6316»