مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1165
حدیث نمبر: 1165
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً، يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامِ لا يَقْطَعُهَا، فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَظِلٍّ مَمْدُودٍ سورة الواقعة آية 30" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت میں ایک درخت ہے، جس کے سائے میں ایک سوار ایک سو سال تک بھی چلتا رہے گا، تو بھی اسے پار نہیں کر سکے گا، اگر تم چاہو، تو یہ آیت تلاوت کر لو۔ «وَظِلٍّ مَمْدُودٍ» (56-الواقعة:30) ”اور پھیلے ہوئے سائے۔““ [مسند الحميدي/حدیث: 1165]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2793، 3252، 4881، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2826، 2826، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6158، 7411، 7412، 7417، 7418، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3189، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11019، 11500، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2523، 3013، 3292، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2862، 2880، 2881، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4335، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7614، 8283، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5853، 6316»
حدیث نمبر 1166
حدیث نمبر: 1166
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگوں میں سب سے زیادہ برا دوغلے شخص کو پاؤ گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1166]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3493، 3495، 6058، 7179، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1818، 2526، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 92، 5754، 5755، 5757، 6264، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4872، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2025، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5378، 16627، 16759، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7426، 7459، 7612، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6070، 6264، 6265، 6439»
حدیث نمبر 1167
حدیث نمبر: 1167
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 17" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیز تیار کی ہے، جسے کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہے، کسی کان نے (اس کے بارے میں) سنا نہیں ہے اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آیا۔“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا) اگر تم لوگ چاہو، تو یہ آیت تلاوت کر لو۔ «فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» (32-السجدة:17) ”کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز تیار کی گئی ہے؟ یہ اس چیز کی جزا ہے، جو وہ لوگ عمل کیا کرتے تھے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1167]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3244، 4779، 4780، 7498، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2824، 2824، 2824، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 369، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11019، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3197، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2870، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4328، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8259، 9780، 10155، 10156، 10567، 10727،وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6276، والبزار فى «مسنده» برقم: 9143، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20874، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 35128، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 200، والطبراني فى «الصغير» برقم: 51»
حدیث نمبر 1168
حدیث نمبر: 1168
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقْتَسِمْ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدُ نَفَقَةَ أَهْلِي، وَمَؤُنَةُ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلا تَقْتَسِمْ وَرَثَتِي دِينَارًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میرے ورثاء دینار تقسیم نہیں کریں گے میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے اہل کاروں کی تنخواہوں کے بعد جو چھوڑ کر جاؤں گا وہ صدقہ ہوگا، میرے ورثاء دینار تقسیم نہیں کریں گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1168]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2776، 3096، 6729، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1760، 1760، 1761، ومالك فى «الموطأ» برقم:، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2488، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6609، 6610، 6612، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2974، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12854، 12863، 13531، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7423، 9014، 10110، 10119، والبزار فى «مسنده» برقم: 8832، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 2965، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 983، 984، والترمذي فى «الشمائل» برقم: 403»
حدیث نمبر 1169
حدیث نمبر: 1169
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلا يَمِشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَلا خُفٍّ وَاحِدٍ حَتَّى يُصْلِحَ الآخَرَ، وَإِذَا انْتَعَلَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ، وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُسْرَى، وَلَتْكُنِ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تَنْعَلُ وَآخَرَهُمَا تُحْفِي" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسی شخص کا تسمہ ٹوٹ جائے، تو وہ ایک جوتا پہن کر نہ چلے اور ایک موزہ پہن کر نہ چلے جب تک وہ دوسرے کو ٹھیک نہیں کروا لیتا جب کوئی شخص جوتا پہننے لگے، تو پہلے دائیں پاؤں میں پہنے اور جب اتارنے لگے، تو پہلے بائیں سے اتارے، دایاں پاؤں پہنتے ہوئے پہلے ہونا چاہئے اور اتارتے ہوئے بعد میں ہونا چاہئے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1169]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2098، 2098، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5459، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5384، 5385، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9711، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7466، 8267، 9846، 10329، 10363، 10992، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1169، والبزار فى «مسنده» برقم: 9687، 9902، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20216، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 25422، 25425، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 7643»
حدیث نمبر 1170
حدیث نمبر: 1170
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلا تَعْجَبُوا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ، وَلَعْنَهُمْ يَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا، وَأنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا تم لوگ اس بات پر حیران نہیں ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قریش کے برا کہنے اور ان کے برا کرنے کو کیسے پھیر دیا ہے؟ وہ لوگ برا کہتے ہوئے مذمت کرتے ہیں، لعنت کرتے ہوئے مذمت کرتے ہیں جبکہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں (یعنی جس کی تعریف کی گئی ہے)“ [مسند الحميدي/حدیث: 1170]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3533، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6503، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3438، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5602، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17240، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7449، 8594، 8947، والبزار فى «مسنده» برقم: 8861»
حدیث نمبر 1171
حدیث نمبر: 1171
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتْ هَذِهِ: يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ، وَالْمُتَكَبِّرُونَ، وَقَالَتْ هَذهِ: يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ: أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءَ، وَقَالَ لِهَذِهِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ" , قَالَ سُفْيَانُ: وَأَرَى فِيهِ: وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت اور جہنم کے درمیان بحث ہو گئی تو اس نے کہا: مجھے سرکش اور متکبر لوگ داخل ہوں گے، تو دوسری نے (یعنی جنت نے) کہا: مجھ میں کمزور اور غریب لوگ داخل ہوں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ”تم میرا عذاب ہو تمہارے ذریعے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا، اور اس سے فرمایا: تم میری رحمت ہو تمہارے ذریعے میں جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا۔“ سفیان کہتے ہیں: میرے خیال میں روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ”تم میں سے ہر ایک بھر جائے گی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1171]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4849، 4850، 7449، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2846، 2847، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7447، 7476، 7477، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7693، 11458، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2561، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2891، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7833، 8280، 9951، 10738، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6290»
حدیث نمبر 1172
حدیث نمبر: 1172
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى يَدَيَّ فِي الطَّوَافِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْءِ، فَقُلِّصَ عَنْهُ حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ، فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص سائے میں ہوا اور وہ سایہ اس سے کچھ کھسک جائے یہاں تک کہ اس شخص کا کچھ حصہ دھوپ میں آ جائے اور کچھ سائے میں ہو، تو اسے وہاں سے ہٹ جانا چاہئے (یعنی مکمل دھوپ یا پھر مکمل سائے میں آنا چاہئے۔)“ [مسند الحميدي/حدیث: 1172]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه جهالة، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 4821، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6002، 6004، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9098، والبزار فى «مسنده» برقم: 8809، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19799»
حدیث نمبر 1173
حدیث نمبر: 1173
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَثَاءبَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَكْظِمْ، أَوْ لِيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کسی شخص کو جمائی آئے، تو وہ اسے روکنے کی کوشش کرے ورنہ اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1173]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3289، 6223، 6224، 6226، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2994، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 920، 921، 922، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 598، 602، 2357، 2358، 2359، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7778، 7781، 7782، 7784، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9971، 9972، 9973، 9974، 9989، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5028، 5033، والترمذي فى «جامعه» برقم: 370، 2746، 2747، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 968، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3632، 3633، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7414، 7714، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6456، 6592، 6627، 6628، 6679»
حدیث نمبر 1174
حدیث نمبر: 1174
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ رَجُلا مَرَّ بِغُصْنٍ مِنْ شَوْكٍ فَرَفَعَهُ عَنِ الطَّرِيقِ، فَغُفِرَ لَهُ" , وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: ایک مرتبہ ایک شخص کانٹوں کی شاخ کے پاس سے گزرا اس نے اسے راستے سے ہٹا دیا، تو اس شخص کی مغفرت ہو گئی۔ سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کئے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت کر دی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1174]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 652، 2472، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1914، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 536، 537، 538، 539، 540، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5245، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1958، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3682، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7956، 8154، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6051، 6424، 6485»