🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1175
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1175
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ ، قَالَ: أَلا أُخْبِرُكُمْ بِأَشْيَاءَ قِصَارٍ سَمِعْنَاهَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ مشکیزہ کے منہ سے (منہ لگا کر) پانی پیا جائے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1175]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5627، 5628، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1609، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 515، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7306، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3634، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1353، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2164، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2335، 3420، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11491، 11492، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7274، 7275، 7398، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6249، 6309»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1176
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1176
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: يَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ الْمُوعِدِ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَصْحَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَلْءِ بَطْنِي، وَكَانَتِ الأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْواقِ، وَإِنِّي شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا وَهُوَ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ: " مَنْ يَبْسُطُ رِدَاءَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي، ثُمَّ يَقْبِضَهُ إِلَيْهِ، فَلا يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي"، فَبَسَطْتُ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيَّ حَتَّى إِذَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَبَضَّتُهَا إِلَيَّ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدُ سَمِعْتُهُ مِنْهُ , قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ الْمَسْعُودِيُّ: وَقَامَ آخَرُ فَبَسَطَ رِدَاءَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبَقَكَ بِهَا الْغُلامُ الدَّوْسِيُّ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لوگ یہ کہتے ہیں: کہ ابوہریرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بکثرت احادیث نقل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے، میں ایک غریب شخص تھا میں اپنے پیٹ میں (ضروری) خوراک ڈال کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتا تھا جبکہ انصار اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے مہاجرین بازار، میں سودے اور لین دین کیا کرتے تھے ایک مرتبہ میں ایک محفل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کون شخص میری گفتگو ختم کرنے تک اپنی چادر کو بچھائے گا اور پھر اسے سمیٹ لے گا، تو وہ میری زبانی جو بھی بات سنے گا اسے کبھی نہیں بھولے گا، تو میں نے اپنے جسم پر موجود چادر کو بچھا دیا یہاں تک کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات مکمل کی، تو میں نے اسے سمیٹ لیا اس ذات کی قسم! جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ معبوث کیا ہے اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی کوئی بات کبھی نہیں بھولا۔ سفیان کہتے ہیں: مسعود نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے بھی اپنی چادر کو بچھایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دوس کا رہنے والا جوان تم پر سبقت لے گیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1176]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 118، 119، 2047، 2350، 3648، 7354، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2492، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7153، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3092، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5835، 5836، 5837، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3834، 3835، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 262، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7395، 7396، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6219، 6229، 6248»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1177
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1177
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: اخْتَلَفَ الرِّجَالُ فِي الرِّجَالِ، وَالنِّسَاءِ، أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ؟ فَأَتَوْا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَضْوَأِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: دُرِّئٍ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقَيْهُمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ، وَمَا فِي الْجَنَّةِ عَزَبٌ" .
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں کے درمیان اس بارے میں بحث ہو گئی کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا خواتین۔ وہ لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: میری امت کا جو پہلا گروہ جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے پھر اس کے بعد والے لوگ اس طرح ہوں گے جیسے آسمان میں موجود سب سے زیادہ چمکدار ستارہ ہوتا ہے۔ یہاں سفیان نامی راوی نے ایک روایت کے ایک لفظ کو نقل کرنے میں شک کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی، جن کی پنڈلیوں کے گوشت کے اندر سے ہڈی کا مغز بھی نظر آئے گا، اور جنت میں مجرد زندگی نہیں ہوگی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1177]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3245، 3246، 3254، 3327، 5811، 6542، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 216، 2834، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7244، 7420، 7436، 7437، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5042، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2537، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2849، 2865، 2874، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4333، 4333 م، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20547، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7273، 7286، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6084، 6437»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1178
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1178
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میرے نام کے مطابق نام رکھ لو لیکن میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1178]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 110، 3539، 6188، 6197، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2134، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5812، 5814، 5815، 5817، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 4209، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4965، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2841، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2735، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3735، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19381، 19382، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7494، 7495، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6063، 6102»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1179
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1179
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَلا يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی شخص کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا نہ لگے، تو وہ دو رکعت ادا کر لے اور اس خواب کے بارے میں کسی کو نہ بتائے تو وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1179]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6988، 6990، 7017، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2263، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6040، 6044، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8266، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7607، 10673، 10674، 10680، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5019، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2270، 2280، 2291، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2189، 2190، 2193، 2206، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3894، 3906، 3917، 3926، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7304، 7757، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6706»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1180
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1180
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: حبشہ سے تعلق رکھنے والا ذو السویقتین خانہ کعبہ کو ڈھا دے گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1180]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1591، 1596، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2909 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6751، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2904، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3873، 11087، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8790، 8791، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8209، 9529»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1181
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1181
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوشِكُ أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ آبَاطَ الْمَطِيِّ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَلا يَجِدُونَ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِينَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: عنقریب وہ وقت آئے گا جب لوگ علم کے حصول کے لیے اونٹوں کے جگر پگھلا دیں گے لیکن انہیں کوئی ایسا عالم نہیں ملے گا جو مدینہ کے عالم سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1181]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3736، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 306، 307، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4277، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2680، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1842، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8095، والبزار فى «مسنده» برقم: 8925، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 4016، 4017، 4018»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1182
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1182
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ السَّهْمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّ كُلَّ مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ كَفَّارَةٌ لَهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا وَالنَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔ «مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ» (4-النساء:123) جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ مل جائے گا۔ تو یہ بات مسلمانوں کے لیے بڑی پریشانی کا باعث بنی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ تفریق سے بچو اور ٹھیک رہو اور یہ خوشخبری حاصل کرو کہ بندہ مومن کو جو بھی پریشانی لاحق ہوتی ہے وہ اس کے لیے کفارہ بن جاتی ہے یہاں تک کہ اسے جو کانٹا چبھتا ہے یا جو مشکل درپیش ہوتی ہے، تو (یہ بھی اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔) [مسند الحميدي/حدیث: 1182]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2574، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11057، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3038، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6631، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7503، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10908»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1183
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1183
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي وَالْعِزَّةُ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي النَّارَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: کبریائی میری چادر ہے، عزت میرا ازار ہے، جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں میرے ساتھ مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1183]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2620، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 328، 5671، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 203، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4090، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4174، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7499، 9016، 9483، 9639، 9834، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2509»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1184
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1184
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَعْدٌ الطَّائِيُّ أَبُو مُجَاهِدٍ : سَمِعْتُهُ مِنْهُ وَأَنَا غُلامٌ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ كَانَتْ قُلُوبُنَا عَلَى حَالٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ كَانَتْ عَلَى غَيْرِ تِلْكَ الْحَالِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُمْ إِذَا خَرَجَتُمْ مِنْ عِنْدِي مِثْلَكُمْ إِذَا كُنْتُمْ عِنْدِي، لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلائِكَةُ" . قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِنَاءُ الْجَنَّةِ لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، وَمِلاطُهَا الْمِسْكُ الأَذْفَرُ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالزَّبَرْجَدُ وَالْيَاقُوتُ" , وَذَكَرَ حَدِيثًا فِيهِ طُولٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ!جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود ہوتے ہیں، تو ہمارے دلوں کی کیفیت مختلف ہوتی ہے لیکن جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں، تو ہماری حالت تبدیل ہو جاتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم لوگ میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہو اس وقت بھی اگر تمہاری حالت اسی کی مانند ہو جس طرح اس وقت ہوتی ہے جب تم میرے پاس موجود ہوتے ہو، تو فرشتے تمہارے ساتھ مصافحہ کرنا شروع کر دیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جنت کی تعمیر کی گئی ہے کہ ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی ہے اور اس کا گارا مشک ازفر کا ہے اور اس کی کنکریاں لؤلؤ، زبرجد اور یاقوت کی ہیں۔ اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1184]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2570، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1901، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 874، 3428، 7387، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7717، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2526، 3598، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2863، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1752، 4248، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6484، 16745، 20220، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8158، 8159»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں