🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1185
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1185
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَضَى اللَّهُ الأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا، خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سَلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانَ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: الَّذِي قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُوا السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُوا السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ، وَوَصَفَ سُفْيَانُ بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ، قَالَ: فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ، فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا الآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكُهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ، فَيْكَذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذِبَةٍ، فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا؟ لِلْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ، فَيَصْدُقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ سناتا ہے، تو فرشتے اس کے حکم کے سامنے سر کو جھکاتے ہوئے اپنے پر مارتے ہیں یوں جیسے زنجیر پتھر پر ماری جاتی ہے جب ان کے دلوں سے خوف کم ہوتا ہے، تو وہ دریافت کرتے ہیں: تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے، تو دوسرے جواب دیتے ہیں: جو اس نے فرمایا ہے وہ حق ہے، بلند و برتر ہے، پھر چوری چھپے سننے والے اس میں سے کوئی بات سن لیتے ہیں اور چوری چھپے سننے والے اس طرح ہوتے ہیں جس طرح وہ ایک دوسرے کے اوپر نیچے۔ سفیان نے کر کے دکھایا کہ وہ ایسے ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ شخص ان میں سے کوئی بات سن لیتا ہے، جسے وہ اپنے سے نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے پھر وہ اپنے سے نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے پھر وہ کسی جادوگر یا کاہن کی زبانی بات بیان کرتا ہے بعض اوقات شہاب ثاقب اس تک پہنچ جاتا ہے اس سے پہلے کہ وہ بات اپنے سے نیچے والے تک منتقل کرے اور بعض اوقات شہاب ثاقب کے اس تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ بات اگلے شخص تک منتقل کر دیتا ہے وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ بھی ملا دیتا ہے، تو یہ کہا جاتا ہے اس شخص نے فلاں دن جو ہم سے کہا تھا: کیا ایسا نہیں ہوا؟ اس نے فلاں، فلاں بات کہی تھی، یہ وہی بات ہوتی ہے، جو اس نے آسمان سے سنی ہوتی ہے، تو تصدیق اس بات کی کی جاتی ہے، جو آسمان سے کی گئی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1185]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4701، 4800، 7481، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 36، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2997، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3989، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3223، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 194»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1186
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1186
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُبَابِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ: يَثْرِبُ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: مجھے ایک بستی کے بارے میں حکم دیا گیا کہ وہ باقی بستیوں کو کھا جائے گی لوگ یہ کہتے ہیں: یہ یثرب ہے، حالانکہ یہ مدینہ ہے، جو لوگوں کو یوں باہر نکال دے گا، جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو صاف کر دیتی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1186]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1871، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1378، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3723، 3733، 3734، 3739، 3740، 6775، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4247، 11335، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3924، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7352، 7487، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5868، 5943، 6374، 6487»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1187
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1187
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللَّهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ قَالَ: فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللَّهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: لوگ ایک دوسرے سے مسلسل سوالات کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ یہ کہیں گے اللہ تعالیٰ نے، تو ہر چیز کو پیدا کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب یہ صورتحال درپیش ہو، تو آدمی یہ کہے: میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1187]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3276، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 134، 134، 135، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6722، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 10422، 10423، 10424، 10425، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4721، 4722، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7905، 8324، 8492، 9149، 11113، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1187، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6056»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1188
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1188
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلا طَيِّبًا، وَلا يَصَعْدُ إِلَى السَّمَاءِ إِلا طَيَّبٌ، فَيْضَعَهَا فِي حَقٍّ، إِلا كَانَ كَأَنَّمَا يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ، فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فُلَوَّهُ، أَوْ فَصِيلَهُ، حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ أَوِ التَّمْرَةَ لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ، وَقَرَأَ: وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو بھی شخص پاکیزہ کمائی میں سے صدقہ کرتا ہے ویسے اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے، تو وہ چیز پاکیزہ ہونے کی حالت میں ہی آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے اور وہ حق کی جگہ پر رکھی جاتی ہے اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ پروردگار اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھ لیتا ہے پھر وہ اسے بڑھانا شروع کرتا ہے، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے یہاں تک کہ ایک لقمہ یا ایک کھجور جب قیامت کے دن آئیں گے، تو وہ بڑے پہاڑ کی مانند ہوں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت تلاوت کی) «وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ» (9-التوبة:104) وہی وہ ذات ہے، جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات وصول (یعنی قبول) کرتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1188]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل إبن عجلان، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1410، 7430، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1014، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2425، 2426، 2427، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 270، 3316، 3318، 3319، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3302، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2524، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2316، 7687، والترمذي فى «جامعه» برقم: 661، 662، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1717، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1842، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7840، 7932، 7933، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7749، 8497، 9083، والطبراني فى «الصغير» برقم: 329»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1189
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1189
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ، وَلا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلا مَا يَطِيقُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: غلام کو خوراک اور لباس فراہم کیا جائے گا، اور اسے ایسے کام کا پابند نہیں کیا جائے گا، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1189]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل محمد بن عجلان، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1662، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4313، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15873، 15874، 15884، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7481، 7482، 8627»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1190
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1190
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ، وَمَنْ تَرَكَ مِنْهُنَّ شَيْئًا خِيفَةً فَلَيْسَ مِنِّي" , يَعْنِي الْحَيَّاتِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ہم نے ان سے لڑائی شروع کی ہے ہم نے ان کے ساتھ صلح نہیں کی ہے اور جو شخص ان سے ڈرتے ہوئے ان میں سے کسی ایک شخص کو چھوڑ دے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سانپ تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1190]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5644، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5248، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7483، 9719، 10892، والبزار فى «مسنده» برقم: 8372، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 1338، 2929، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2113، 6223»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1191
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1191
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَطِسَ خَمَّرَ وَجْهَهُ، وَأَخْفَى عَطْسَتَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب چھینکتے تھے، تو اپنے چہرے کو ڈھانپ لیتے تھے اور چھینکنے کی آواز کو پست کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1191]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 7891، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5029، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2745، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3636، 3637، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9793، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6663، والبزار فى «مسنده» برقم: 8950، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1849، والطبراني فى «الصغير» برقم: 109»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1192
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1192
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يَجْلِسُونَ مَجْلِسًا لا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ إِلا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: جب کچھ لوگ کسی محفل میں بیٹھے ہوئے ہوں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ کریں، تو یہ چیز ان کے لیے (قیامت کے دن) حسرت کا باعث ہوگی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1192]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 590، 591، 592، 853، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1814، 1815، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4855، 4856، 5059، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3380، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5853، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9174، 9713»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1193
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1193
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْغُضُ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ هُوَ الظُّلُمَاتُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحُّ، فَإِنَّهُ دَعَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ إِلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهَمْ، وَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: فحش باتیں کرنے سے بچو! کیونکہ اللہ تعالیٰ فحاشی کرنے والے اور فحش گفتگو کرنے والے کو ناپسند کرتا ہے اور ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کی شکل میں ہوگا، اور بخل سے بچو! کیونکہ اسی بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو خون بہانے، قطع رحمی کرنے اور حرام چیزوں کو حلال کرنے کی ترغیب دی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1193]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5177، 6248، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 28، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9699، 9701، والبزار فى «مسنده» برقم: 8481، 8486»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1194
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1194
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الْعَزِيزِ مُوسَى بْنَ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيَّ يُحَدَّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لأَخِيهِ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی شخص اپنے بھائی سے یہ کہے: اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے، تو اس نے تعریف میں مبالغہ کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1194]
تخریج الحدیث: «إسناده فى علتان، موسى بن عبيدة الربذي ضعيف، وأخرجه عبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 1418، والبزار فى «مسنده» برقم: 9413، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 3118، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 27049، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1184، 1185»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں