موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّعَفُّفِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ
سوال سے بچنے کا بیان
حدیث نمبر: 1842
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ: " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ، وَالسُّفْلَى هِيَ السَّائِلَةُ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر ذکر کرتے صدقے کا اور سوال سے بچنے کا -: ”اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے۔ اور اوپر والا خرچ کرنیوالا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1842]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1429، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1033، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3361، 3364، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2534، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2324، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1648، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1692، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7974، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5344، فواد عبدالباقي نمبر: 58 - كِتَابُ الصَّدَقَةِ-ح: 8»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1843
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، بِعَطَاءٍ فَرَدَّهُ عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِمَ رَدَدْتَهُ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ خَيْرًا لِأَحَدِنَا أَنْ لَا يَأْخُذَ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ، فَأَمَّا مَا كَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ يَرْزُقُكَهُ اللَّهُ"، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا، وَلَا يَأْتِينِي شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ إِلَّا أَخَذْتُهُ
حضرت عطار بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ مال بھیجا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو پھیر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے کیوں پھیر دیا؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے بہتر وہ شخص ہے جو کسی سے کچھ نہ لے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ مانگ کر کچھ نہ لے، اور جو بن مانگے ملے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اب کسی سے کچھ نہ مانگوں گا، اور جو بن مانگے میرے پاس آئے گا اس کو لے لوں گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1843]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1473، 7163، 7164، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1045، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2364، 2365، 2366، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3405، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2605، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2396، 2397، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1647، 2944، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1687، 1688، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7982، وأحمد فى «مسنده» برقم: 136، والحميدي فى «مسنده» برقم: 21، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 167، فواد عبدالباقي نمبر: 58 - كِتَابُ الصَّدَقَةِ-ح: 9»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1844
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَعْطَاهُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ایک تم میں سے اپنی رسی میں لکڑی کا گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر لادے تو وہ بہتر ہے اس سے کہ وہ ایسے شخص کے پاس آئے جس کو اللہ نے مال دیا ہے اور اس سے مانگے، وہ دے یا نہ دے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1844]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1470، 1480، 2074، 2374، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1042، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1040، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3387، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2590، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3994، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7315، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1087، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6027، فواد عبدالباقي نمبر: 58 - كِتَابُ الصَّدَقَةِ-ح: 10»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1845
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، أَنَّهُ قَالَ: نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَقَالَ لِي أَهْلِي: اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْأَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ وَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ، فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ"، فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ، وَهُوَ يَقُولُ: لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ، مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا" . قَالَ الْأَسَدِيُّ: فَقُلْتُ: لَلَقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، قَالَ مَالِك: وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا. قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَقُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِشَعِيرٍ وَزَبِيبٍ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ، حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ایک شخص سے روایت ہے جو بنی اسد میں سے تھا کہ میں اور میرے گھر کے لوگ بقیع الغرقد (مدینہ منورہ کے مقبرے کا نام ہے) میں اُترے۔ میری بی بی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا اور کھانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ اور اپنی محتاجی بیان کر۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ پاس گیا، اور دیکھا کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر رہا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میرے پاس نہیں ہے جو میں تجھ کو دوں۔“ وہ شخص غصّے میں پیٹھ موڑ کر چلا اور کہتا جاتا تھا: قسم اپنی عمر کی! تم اسی کو دیتے ہو جس کو چاہتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو وہ غصّہ ہوتا ہے اس بات پر کہ میرے پاس نہیں ہے جو میں اس کو دوں، جو شخص تم میں سے سوال کرے اور اس کے پاس چالیس درہم ہوں، یا اتنا مال ہو، تو اس نے لپٹ کر سوال کیا۔“ میں نے کہا: ایک اونٹ ہم کو بہتر ہے چالیس درہم سے۔ پھر میں لوٹ آیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوال نہیں کیا۔ بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جَو اور خشک انگور آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بھی اس میں سے حصّہ دیا، یہاں تک کہ اللہ نے غنی کر دیا ہم کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1845]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 1627، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2597، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2388، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13332، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16525، فواد عبدالباقي نمبر: 58 - كِتَابُ الصَّدَقَةِ-ح: 11»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1846
وَعَنْ مَالِكُ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ عَبْدٌ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ" . قَالَ مَالِك: لَا أَدْرِي أَيُرْفَعُ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا؟
حضرت علاء بن عبد الرحمٰن کہتے ہیں کہ صدقہ دینے سے کسی مال میں کمی و نقصان نہیں ہوا، اور جو بندہ معاف کرتا رہتا ہے اس کی عزت زیادہ ہوتی ہے، اور جو تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ اور بلند کر دیتا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھ کو معلوم نہیں یہ حدیث مرفوع ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک یا نہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1846]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھ کو معلوم نہیں یہ حدیث مرفوع ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک یا نہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1846]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2588، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2029، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7205، والدارمي فى «سننه» برقم: 1676، فواد عبدالباقي نمبر: 58 - كِتَابُ الصَّدَقَةِ-ح: 12»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
85. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الصَّدَقَةِ
جو صدقہ مکروہ ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1847
حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ"
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درست نہیں ہے صدقہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل کو، کیونکہ یہ میل ہے لوگوں کا۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1072، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2985، والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 2610، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17659، فواد عبدالباقي نمبر: 58 - كِتَابُ الصَّدَقَةِ-ح: 13»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1848
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا قَدِمَ سَأَلَهُ إِبِلًا مِنَ الصَّدَقَةِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، وَكَانَ مِمَّا يُعْرَفُ بِهِ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ أَنْ تَحْمَرَّ عَيْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُنِي مَا لَا يَصْلُحُ لِي وَلَا لَهُ، فَإِنْ مَنَعْتُهُ كَرِهْتُ الْمَنْعَ، وَإِنْ أَعْطَيْتُهُ أَعْطَيْتُهُ مَا لَا يَصْلُحُ لِي وَلَا لَهُ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَسْأَلُكَ مِنْهَا شَيْئًا أَبَدًا
حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو عامل کیا بنی عبد اشہل میں سے صدقہ لینے پر۔ جب لوٹ کر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقے کا اونٹ مانگا (اپنی اجرت کے سوا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصّے ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر غصّہ معلوم ہوا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصّے کی نشانی یہ تھی کہ آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرخ ہو جاتیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض آدمی مانگتا ہے مجھ سے جو لائق نہیں دینا اس کو نہ مجھ کو، اگر میں نہ دوں تو مجھے بھی بُرا معلوم ہوتا ہے (کیونکہ سخاوت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعتِ خلقی تھی)، اور جو اسے دوں تو وہ چیز دیتا ہوں جو اس کو دینی درست نہیں۔“ وہ شخص بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب میں کوئی چیز اس میں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ مانگوں گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1848]
تخریج الحدیث: «مرفوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 58 - كِتَابُ الصَّدَقَةِ-ح: 14»
الحكم على الحديث:
مرفوع ضعيف
حدیث نمبر: 1849
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ:" ادْلُلْنِي عَلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَطَايَا أَسْتَحْمِلُ عَلَيْهِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، جَمَلًا مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ:" أَتُحِبُّ أَنَّ رَجُلًا بَادِنًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ غَسَلَ لَكَ مَا تَحْتَ إِزَارِهِ وَرُفْغَيْهِ ثُمَّ أَعْطَاكَهُ فَشَرِبْتَهُ؟" قَالَ: فَغَضِبْتُ، وَقُلْتُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَتَقُولُ لِي مِثْلَ هَذَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ :" إِنَّمَا الصَّدَقَةُ أَوْسَاخُ النَّاسِ يَغْسِلُونَهَا عَنْهُمْ"
حضرت اسلم عدوی سے عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ مجھے ایک اونٹ بتا دے سواری کا، میں اس کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہہ کر اپنی سواری کے لیے لے لوں گا۔ میں نے کہا: اچھا ایک اونٹ ہے صدقے کا۔ عبداللہ بن ارقم نے کہا: تمہیں یہ پسند ہے کہ ایک موٹا شخص گرمی کے دنوں میں اپنی شرمگاہ اور چڈے دھو کر تمہیں وہ پانی دے اور تو اس کو پی لے؟ اسلم کہتے ہیں کہ مجھے غصّہ آگیا اور میں نے کہا کہ اللہ تمہیں بخشے، تم مجھ سے ایسی بات کہتے ہو۔ عبداللہ بن ارقم نے کہا: صدقہ بھی لوگوں کا میل ہے اور ان کا دھوون ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1849]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق
شیخ سلیم ہلالی کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں اور شیخ احمد علی سلیمان نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔، فواد عبدالباقي نمبر: 58 - كِتَابُ الصَّدَقَةِ-ح: 15»
شیخ سلیم ہلالی کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں اور شیخ احمد علی سلیمان نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔، فواد عبدالباقي نمبر: 58 - كِتَابُ الصَّدَقَةِ-ح: 15»
الحكم على الحديث:
موقوف صحيح
86. بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ
علم حاصل کر نے کا بیان
حدیث نمبر: 1850
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ ”أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ أَوْصَى ابْنَهُ فَقَالَ: يَا بُنَيَّ جَالِسِ الْعُلَمَاءَ، وَزَاحِمْهُمْ بِرُكْبَتَيْكَ، فَإِنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْقُلُوبَ بِنُورِ الْحِكْمَةِ، كَمَا يُحْيِي اللَّهُ الْأَرْضَ الْمَيْتَةَ بِوَابِلِ السَّمَاءِ“۔
حضرت لقمان حکیم فرماتے تھے اپنے بیٹے سے مرتے وقت (اس بیٹے کا نام شکور تھا یا اسلم) کہ: اے میرے بیٹے! عالموں کے پاس بیٹھا کر، اور اپنے گھٹنے ان سے ملا دے، کیونکہ اللہ جل جلالہُ جِلاتا (آباد کرتا) ہے دلوں کو حکمت کے نور سے، جیسے جِلاتا (آباد کرتا) ہے مری ہوئی زمین کو بارش سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1850]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى المدخل: 445/297، وابن عبدالبر فى جامع بيان العلم و فضله: 676، قاضي عياض فى الغنية، فواد عبدالباقي نمبر: 59 - كِتَابُ الْعِلْمِ-ح: 1»
الحكم على الحديث:
[مقطوع ضعيف
87. بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ
مظلوم کی بددعاء سے بچنے کا بیان
حدیث نمبر: 1851
حَدَّثَنِي، عَنْ حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُدْعَى هُنَيًّا عَلَى الْحِمَى، فَقَالَ: يَا هُنَيُّ " اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ النَّاسِ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُجَابَةٌ، وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ، وَإِيَّايَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ، وَنَعَمَ وَابْنِ عَوْفٍ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَا إِلَى زَرْعٍ وَنَخْلٍ، وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرب الْغُنَيْمَةِ إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُما يَأْتِنِي بِبَنِيهِ، فَيَقُولُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَنَا لَا أَبَا لَكَ فَالْمَاءُ وَالْكَلَأُ أَيْسَرُ عَلَيَّ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ إِنَّهَا لَبِلَادُهُمْ وَمِيَاهُهُمْ، قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الْإِسْلَامِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا حَمَيْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ بِلَادِهِمْ شِبْرًا"
حضرت اسلم عدوی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے مولیٰ کو جس کا نام ہنی تھا عامل مقرر کیا حمیٰ پر (حمیٰ وہ احاطہ ہے جہاں صدقے کے جانور جمع ہوتے ہیں)، اور کہا کہ اے ہنی! اپنا بازو روکے رہ لوگوں سے (ظلم مت کر)، کیونکہ مظلوم کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے، اور جس کے پاس تیس اونٹ ہیں، یا چالیس بکریاں، اُن کو چرانے سے مت روک، اور بچا رہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جانوروں پر رعایت کر نے سے، کیونکہ اگر ان کے جانور تباہ ہو جائیں گے تو وہ اپنے باغات اور کھتیوں میں چلے آئیں گے، اور تیس اونٹ والا اور چالیس بکریوں والا اگر تباہ ہو جائے گا تو وہ اپنی اولاد کو لے کر میرے پاس آئے گا اور کہے گا: اے امیرالمؤمنین! اے امیرالمؤمنین! پھر کیا میں ان کو چھوڑ دوں گا؟ (ان کی خبر گیری نہ کروں گا؟)، تیرا باپ نہ ہو (یہ ایک بد دعا ہے عرب کے محاورے میں)، پانی اور گھاس دینا آسان ہے مجھ پر سونا چاندی دینے سے، قسم اللہ کی! وہ جانتے ہیں میں نے ان پر ظلم کیا، حالانکہ وہ ان کی زمین ہے اور انہی کا پانی ہے، جس پر لڑے زمانۂ جاہلیت میں۔ پھر مسلمان ہوئے اسی زمین اور پانی پر۔ قسم اللہ کی! اگر یہ صدقہ کے جانور نہ ہوتے جو انہی کے کام میں آتے ہیں اللہ کی راہ میں، تو میں ان کی زمین سے ایک بالشت بھر بھی نہ لیتا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1851]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3059، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11927، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4576، والبزار فى «مسنده» برقم: 272، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19751، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33595، فواد عبدالباقي نمبر: 60 - كِتَابُ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ-ح: 1»
الحكم على الحديث:
[موقوف صحيح