صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
427. (194) بَابُ ضَمِّ الْعَقِبَيْنِ فِي السُّجُودِ.
سجدے میں دونوں ایڑیوں کو ملانے کا بیان
حدیث نمبر: 654
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ ، سَكَنَ الْفُسْطَاطَ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجِ النَّبِيِّ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَعِي عَلَى فِرَاشِي، فَوَجَدْتُهُ سَاجِدًا رَاصًّا عَقِبَيْهِ، مُسْتَقْبِلا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَ، فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ:" أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَبِكَ مِنْكَ، أُثْنِيَ عَلَيْكَ لا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيكَ" فَلَمَّا انْصَرَفَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَخَذَكِ شَيْطَانُكِ؟"، فَقَالَتْ: أَمَا لَكَ شَيْطَانٌ؟ قَالَ: " مَا مِنْ آدَمَيٍّ إِلا لَهُ شَيْطَانٌ"، فَقُلْتُ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَأَنَا، وَلَكِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ"
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (ایک رات) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موجود نہ پایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ میرے بستر پر تشریف فرما تھے۔ (میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا تو) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے کی حالت میں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایڑیاں خوب ملائی ہوئی تھیں اور انگلیوں کے کناروں کو قبلہ رُخ کیا ہوا تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگ رہے تھے: «أَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْسَخَطِكَ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ، وبِكَ مِنْكَ، أَثْنٰي عَلَيْكَ، لَا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيْكَ» ”اے اللہ، میں تیرے غصّے اور ناراضگی سے تیری خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں، میں تیرے عذاب سے تیری بخشش کی پناہ میں آتا ہوں، میں تجھ سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں۔ میں تیری تمام خوبیوں کی حمدوثنا کر نے سے قاصر ہوں۔“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے عائشہ تجھے تیرے شیطان نے پریشان کر دیا تھا۔“ تو انہوں نے دریافت کیا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شیطان نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر انسان کا ایک شیطان ہے۔“ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی شیطان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میرا بھی ہے لیکن میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو وہ اطاعت گزار اور فرماں بردار ہو گیا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 654]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 485، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 654، 655، 671، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1932، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 812، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 169، وأبو داود فى (سننه) برقم: 879، والترمذي فى (جامعه) برقم: 739، 3493، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1389، 3841، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 620، والدارقطني فى (سننه) برقم: 513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24950»
428. (195) بَابُ نَصْبِ الْقَدَمَيْنِ فِي السُّجُودِ،
سجدے میں پاؤں کھڑے کرنے کابیان
حدیث نمبر: Q655
فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ: فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَاطِنِ قَدَمَيْهِ وَهُمَا مُنْتَصِبَتَانِ.
، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوے پر پڑا جبکہ آپ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q655]
حدیث نمبر: 655
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَ عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي الْفِرَاشِ، فَجَعَلْتُ أَطْلُبُهُ بِيَدِي، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَاطِنِ قَدَمَيْهِ وَهُمَا مُنْتَصِبَتَانِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لا أَحْصِي مَدْحَكَ، وَلا ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر موجود نہ پایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھ کے ساتھ ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ تو میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوے پر پڑا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں کھڑے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا، «اللَّهُمَّ إني أَعُوذ بِرِضَاك من سَخَطِك، وبِمُعَافَاتِكَ من عُقُوبَتِكَ، وأعُوذ بِك مِنْك، لا أُحْصِي ثَناءً عليك أنت كما أَثْنَيْتَ على نفسك» ”اے اللہ، میں تیرے غصّے اور ناراضگی سے تیری رضا اور خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں۔ میں تیری سزا اور عذاب سے تیری معافی اور بخشش کی پناہ مانگتا ہوں۔ میں تجھ سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں۔ میں تیری حمد و ثنا کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ تیری تعریف و تو صیف ویسے ہی ہے جیسی تو نے اپنے لئے خود بیان فرمائی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 655]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 485، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 654، 655، 671، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1932، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 812، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 169، وأبو داود فى (سننه) برقم: 879، والترمذي فى (جامعه) برقم: 739، 3493، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1389، 3841، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 620، والدارقطني فى (سننه) برقم: 513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24950»
429. (196) بَابُ وَضْعِ الْكَفَّيْنِ عَلَى الْأَرْضِ وَرَفْعِ الْمِرْفَقَيْنِ فِي السُّجُودِ.
سجدے میں دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھنے اور دونوں کہنیوں کو زمین سے اٹھانے کا بیان
حدیث نمبر: 656
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ، وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ"
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سجدہ کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو (زمین پر) رکھو اور اپنی دونوں کہنیوں کو اوپر اُٹھا کر رکھو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 656]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 494، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 656، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1916، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2744، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18783»
حدیث نمبر: 657
نا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أَخِي يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا سَجَدَ، لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ مِنْ تَحْتِ يَدِهِ مَرَّتْ". وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ، وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا سَجَدَ جَافَى يَدَيْهِ، حَتَّى لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ تَحْتَهَا مَرَّتْ"
سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اگر بکری کا میمنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازوؤں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔ حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن الاصم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازؤں کو پہلوؤں سے دور رکھتے حتیٰ کہ اگر کوئی میمنا اُن کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر سکتا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 657]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 496، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 657، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 837، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1108، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 701، وأبو داود فى (سننه) برقم: 898، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1370، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 880، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2750، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27451»
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ، وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلائِكَةِ"، قَالُوا: وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَإِيَّايَ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ، فَلا يَأْمُرُنِي إِلا بِخَيْرٍ"
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک جنّ ساتھی اور ایک فرشتہ ساتھی مقرر کیا گیا ہے۔“ صحابہ کرام نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی مقرر کیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ بھی مقرر کیا گیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس کے خلاف میرے مدد فرمائی ہے، حتیٰ کہ وہ فرمانبردار اور مطیع ہوگیا ہے لہٰذا وہ مجھے خیر و بھلائی کا ہی مشورہ دیتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 658]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2814، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 658، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6417، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2776، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3722»
430. (197) بَابُ طُولِ السَّجْدَةِ وَالتَّسْوِيَةِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ الْقِيَامِ بَعْدَ رَفْعِ الرَّأْسِ مِنَ الرُّكُوعِ.
طویل سجدے، سجدے اور رکوع اور رکوع سے سراٹھانے کے بعد قیام کے درمیان برابری کا بیان
حدیث نمبر: 659
نا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" كَانَ رُكُوعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفْعُ رَأْسِهِ بَعْدَ الرُّكُوعِ، وَسُجُودُهُ وَجُلُوسُهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ"
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رُکوع، رُکوع کے بعد سر اُٹھانا (اور قیام کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر ہوتا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 659]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 792، 801، 820، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 471، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 610، 659، 661، 683، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1884، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1064، وأبو داود فى (سننه) برقم: 852، والترمذي فى (جامعه) برقم: 279، 280، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2669، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18761»
حدیث نمبر: 660
نا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي رَكْعَةٍ الْبَقَرَةَ، وَالنِّسَاءَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَكَانَ رُكُوعُهُ مِثْلَ قِيَامِهِ، ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُهُ مِثْلَ رُكُوعِهِ"
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر بقیہ حدیث بیان کی اور بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں «سورۃ البقره» اور «سورۃ النساء» پڑھی، پھر رُکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رُکوع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی طرح (طویل) تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رُکوع کی طرح (طویل) تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 660]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 772، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 542، 543، 603، 660، 668، 669، 684، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1897، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1008، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1007، وأبو داود فى (سننه) برقم: 871، 874، والترمذي فى (جامعه) برقم: 262، 263، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 888، 897، 1351، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2595، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1292، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23712»
حدیث نمبر: 661
نا عُبَيْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" كَانَ قِيَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُكُوعُهُ، وَسُجُودُهُ، وَجُلُوسُهُ، لا يُدْرَى أَيَّهُ أَفْضَلُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يُرِيدُ أَفْضَلَ: أَطْوَلُ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رُکوع، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قعدے میں کون سی چیز طویل ہوتی تھی یہ معلوم نہیں ہوتا تھا۔ امام ابوبکر رحمہ الله فرماتے ہیں کہ افضل سے اطول (طویل ترین) مراد ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 661]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 792، 801، 820، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 471، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 610، 659، 661، 683، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1884، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1064، وأبو داود فى (سننه) برقم: 852، والترمذي فى (جامعه) برقم: 279، 280، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2669، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18761»
431. (198) بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ فِي السُّجُودِ.
سجدوں میں کوّے کی طرح ٹھونگیں مارنا منع ہے
حدیث نمبر: 662
نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى ، وَأَبُو عَاصِمٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ. ح وَحَدَّثَنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ قَالَ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ: فِي الْفَرَائِضِ، وَقَالا جَمِيعًا:، وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ، كَمَا يُوَطِّنَهُ الْبَعِيرُ"
حضرت عبدالحمید بن جعفر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوّے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے منع کیا ہے۔ جناب سلم بن جنادہ کہتے ہیں کہ فرض نمازوں میں (ٹھونگیں مارنا منع ہے) امام صاحب کے دونوں اساتذہ کرام جناب سلم بن جنادہ اور بندار نے کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) درندے کی طرح (بازو) بچھا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے، اور اونٹ کی طرح ایک ہی جگہ مقرر کرنے سے آدمی کو روکا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 662]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 662، 1319، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2277، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 839، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1111، وأبو داود فى (سننه) برقم: 862، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1362، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1429، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2773، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15772»