صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
432. (199) بَابُ إِتْمَامِ السُّجُودِ وَالزَّجْرِ عَنِ انْتِقَاصِهِ
سجدوں کو مکمل کرنے اور اس میں کمی کرنے پر سختی کا بیان،
حدیث نمبر: Q663
وَتَسْمِيَةِ الْمُنْتَقِصِ رُكُوعَهُ وَسُجُودَهُ سَارِقًا، أَوْ هُوَ سَارِقٌ مِنْ صَلَاتِهِ.
اپنے رکوع و سجود میں کمی کرنے والے کو چور کانام دینے یا وہ اپنی نماز کا چور ہے کا بیان [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q663]
حدیث نمبر: 663
نا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ ، نا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلاتَهُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَسْرِقُ صَلاتَهُ؟ قَالَ:" لا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلا سُجُودَهَا"
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں بد ترین چور وہ ہے جو اپنی نماز چوری کرتا ہے۔“ صاحبہ کرام نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، وہ اپنی نماز میں کیسے چوری کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُس کا رُکوع اور سجود پورا نہیں ہوتا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 663]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 663، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 841، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1367، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4064، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23083، 23084، والطبراني فى(الكبير) برقم: 3283، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8179»
حدیث نمبر: 664
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَبَصُرَ بِرَجُلٍ يُصَلِّي، فَقَالَ:" يَا فُلانُ اتَّقِ اللَّهَ، أَحْسِنْ صَلاتَكَ، أَتَرَوْنَ أَنِّي لا أَرَاكُمْ، إِنِّي لأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، أَحْسِنُوا صَلاتَكُمْ وَأَتِمُّوا رُكُوعَكُمْ وَسُجُودَكُمْ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے یں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، تو ایک شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلان، اللہ سے ڈرو، اپنی نمازکو عمدہ طریقے سے ادا کرو، تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تم کو دیکھتا نہیں ہوں، بیشک میں (تمہیں) اپنے پیچھے سے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے میں اپنے سامنے دیکھتا ہوں۔ اپنی نمازوں کو بہترین طریقے سے ادا کرو اور اپنے رُکوع و سجود کو مکمّل کیا کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 664]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 418، 741، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 423، 424، ومالك فى (الموطأ) برقم: 577، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 474، 664، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6337، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 867، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 871، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3640، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7451»
حدیث نمبر: 665
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَةُ بْنُ الأَحْنَفِ الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلامٍ الأَسْوَدُ ، نا أَبُو صَالِحٍ الأَشْعَرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَلَسَ فِي طَائِفَةٍ مِنْهُمْ، فَدَخَلَ رَجُلٌ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَجَعَلَ يَرْكَعُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَرَوْنَ هَذَا، مَنْ مَاتَ عَلَى هَذَا، مَاتَ عَلَى غَيْرِ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ، يَنْقُرُ صَلاتَهُ كَمَا يَنْقُرُ الْغُرَابُ الدَّمَ، إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَرْكَعُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ، كَالْجَائِعِ لا يَأْكُلُ إِلا التَّمْرَةَ وَالتَّمْرَتَيْنِ، فَمَاذَا تُغْنِيَانِ عَنْهُ، فَأَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ" . قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَقُلْتُ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيِّ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ؟ فَقَالَ: أُمَرَاءُ الأَجْنَادِ: عَمْرُو ابْنُ الْعَاصِ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ ، كُلُّ هَؤُلاءِ سَمِعُوهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوعبداللہ الاشعری بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی پھر اُن کی ایک جماعت میں بیٹھ گئے۔ اسی اثناء میں ایک شخص (مسجد میں) داخل ہوا تو اُس نے نماز پڑھی، تو اُس نے رُکوع کرنا شروع کیا اور اپنے سجدوں میں ٹھونگیں مارنے لگا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اُس شخص کو دیکھ رہے ہو، جو شخص اس حالت میں مرگیا تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملّت و دین پر نہیں مرے گا۔ یہ شخص نماز میں اس طرح ٹھونگیں مار رہا ہے جیسے کوّا خون کو ٹھونگیں مارتا ہے۔ بلاشبہ اُس شخص کی مثال جو رُکوع کرتا ہے اور اپنے سجدوں میں ٹھونگیں مارتا ہے، اس بُھوکے شخص کی سی ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھاتا ہے تو بھلا وہ اسے کیا فا ئدہ دیں گی؟ اس کے لئے مکمّل وضو کیا کرو (خشک رہ جانے والی) ایڑیوں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔ رُکوع اور سجود کو مکمّل کیا کرو۔ جناب ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ الاشعری سے پوچھا کہ آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ اُنہوں نے فرمایا (مجھے یہ حدیث) سپہ سالاروں سیدنا عمرو بن العاص، خالد بن الولید، یزید بن ابی سفیان اور شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم نے بیان کی ہے۔ ان سب نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 665]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 665، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 455، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2615، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7184، 7350، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 503، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 3840»
433. (200) بَابُ إِيجَابِ إِعَادَةِ الصَّلَاةِ الَّتِي لَا يُتِمُّ الْمُصَلِّي فِيهَا سُجُودَهُ،
جس نماز میں نمازی سجدے کو مکمل ادانہ کرے اسے دوبارہ پڑھنے کا بیان،
حدیث نمبر: Q666
إِذِ الصَّلَاةُ الَّتِي لَا يُتِمُّ الْمُصَلِّي رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا غَيْرُ مُجْزِئَةٍ عَنْهُ.
کیونکہ وہ نماز جس میں نمازی رکوع وسجود مکمل نہ کرے وہ اسے کافی نہیں ہوتی [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q666]
حدیث نمبر: 666
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نا ابْنُ إِدْرِيسَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ بنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وَحَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أنا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُجْزِئُ صَلاةٌ لا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ"
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نماز کافی نہیں ہوتی جس میں آدمی رُکوع وسجود میں اپنی کمر سیدھی اور برابر نہیں کرتا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 666]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 218، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 591، 592، 666، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1892، 1893، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1026، وأبو داود فى (سننه) برقم: 855، والترمذي فى (جامعه) برقم: 265، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1366، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 870، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2612، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1315، 1316، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17348»
حدیث نمبر: 667
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ وَكَانَ أَحَدَ الْوَفْدِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَحَ بِمُؤَخِّرِ عَيْنِهِ إِلَى رَجُلٍ لا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ، قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، إِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ" . هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ الْمِقْدَامِ
حضرت علی بن شیبان، جو کہ (خدمت نبوی میں حاضر ہونے والے) وفد کے رکن تھے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ترچھی آنکھوں سے ایک شخص کو دیکھا جو رُکوع و سجود میں اپنی کمر کو برابر نہیں کر رہا تھا، پھر جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمّل کی تو فرمایا: ”اے مسلمانوں کی جماعت بیشک اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو رُکوع و سجود میں اپنی کمر برابر نہیں کرتا“ یہ احمد بن المقدام کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 667]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 593، 667، 872، 1569، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1891، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 871، 1003، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5294، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16541»
434. (201) بَابُ التَّسْبِيحِ فِي السُّجُودِ.
سجدے میں تسبیح کا بیان
حدیث نمبر: 668
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ صِلَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ:" سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيمِ" ثَلاثًا، وَفِي سُجُودِهِ:" سُبْحَانَ رَبِّي الأَعْلَى" ثَلاثًا
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رُکوع میں تین بار «سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيمِ» اور اپنے سجدے میں تین بار «سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى » پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 668]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 772، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 542، 543، 603، 660، 668، 669، 684، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1897، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1008، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1007، وأبو داود فى (سننه) برقم: 871، 874، والترمذي فى (جامعه) برقم: 262، 263، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 888، 897، 1351، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2595، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1292، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23712»
حدیث نمبر: 669
نا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ فِي سُجُودِهِ:" سُبْحَانَ رَبِّي الأَعْلَى" . قَالَ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ: عَنِ الأَعْمَشِ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر بقیہ حدیث ذکر کی اور فرمایا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے سجدے میں یہ پڑھا «سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى » ”پاک ہے میرا رب بلند شان والا)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 669]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 772، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 542، 543، 603، 660، 668، 669، 684، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1897، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1008، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1007، وأبو داود فى (سننه) برقم: 871، 874، والترمذي فى (جامعه) برقم: 262، 263، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 888، 897، 1351، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2595، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1292، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23712»
حدیث نمبر: 670
نا أَبُو مُوسَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، نا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، قَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ" . نَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ:" لَنَا"
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» [ سورة الأعلى ] ”بلند شان والے اپنے رب کے نام کی تسبیح بیان کریں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”اسے اپنے سجدے میں پڑھا کرو۔“ امام صاحب کے استاد محمد بن عیسٰی کی سند سے مذکورہ بالا کی مانند ہی مروی ہے لیکن ان کی روایت میں «لنا» ”ہم سے فرمایا“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 670]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 600، 601، 670، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1898، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 822، وأبو داود فى (سننه) برقم: 869، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 887، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2596، 2597، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17686»