🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
537. (304) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ فِي مُرُورِ الْحِمَارِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي،
نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے کے بارے میں مروی حدیث کا بیان،
امام ابن خزیمہ ابن جریج کی سند سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں اور فضل گدھی پر سوار ہوکر آئے، تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے عرفات میں گزرے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز پڑھا رہے تھے، کوئی بھی چیز بطور سُترہ ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان حائل نہیں تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 838]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 76، 493، 861، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 504، ومالك فى (الموطأ) برقم: 531، وابن الجارود فى "المنتقى"، 187، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 833، 834، 835، 837، 838، 882، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2151، وأبو داود فى (سننه) برقم: 715، 716، والترمذي فى (جامعه) برقم: 337، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 947، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1916»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 839
وَقَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ، فَمَرَرْنَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ، لَيْسَ شَيْءٌ يَسْتُرُهُ، يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ" . ثناهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَغَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يُحْتَجَّ بِعَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَلَى الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ قَدْ رُوِيَتْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ خِلافَ هَذَا الْمَعْنَى
امام ابوبکر رحمه ﷲ فرماتے ہیں کہ عبدا لکریم کی مجاہد سے روایت کو امام زہری کی عبیداﷲ بن عبداﷲ کی روایت پر حجت و دلیل بنانا جائز اور درست نہیں ہے۔ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت اس معنی کے برعکس بھی بیان کی گئی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 839]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 839، وأخرجه مجمع الزوائد برقم: 3616»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 840
نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ ، نَا أَبِي ، ح وَحَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رُكِزَتِ الْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، فَصَلَّى إِلَيْهَا، وَالْحِمَارُ مِنْ وَرَاءِ الْعَنَزَةِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذَا الْخَبَرُ مُضَادُّ خَبَرِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ ؛ لأَنَّ فِي هَذَا الْخَبَرِ أَنَّ الْحِمَارَ إِنَّمَا كَانَ وَرَاءَ الْعَنَزَةِ، وَقَدْ رَكَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَنَزَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ بِعَرَفَةَ، فَصَلَّى إِلَيْهَا، وَفِي خَبَرِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: وَهُوَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ لَيْسَ شَيْءٌ يَسْتُرُهُ يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، وَخَبَرُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، وَخَبَرُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ قَرِيبٌ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ، لأَنَّ عَبْدَ الْكَرِيمِ قَدْ تَكَلَّمَ أَهْلُ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ فِي الاحْتِجَاجِ بِخَبَرِهِ، وَكَذَلِكَ خَبَرِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، غَيْرَ أَنَّ خَبَرَ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ تُؤَيِّدُهُ أَخْبَارٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِحَاحٌ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ وَخَبَرُ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ مُجَاهِدٍ يَدْفَعُهُ أَخْبَارٌ صِحَاحٌ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا الْفِعْلُ الَّذِي ذَكَرَهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَدْ زَجَرَ عَنْ مِثْلِ هَذَا الْفِعْلِ فِي خَبَرِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا، لا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلاتَهُ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے برچھی گاڑی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سُترہ بنا کر نماز ادا کی جبکہ گدھا برچھی کے پیچھے تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت عبدلکریم کی مجاہد سے بیان کردہ روایت کے مخالف ہے۔ کیونکہ اس روایت میں ہے کہ گدھا برچھی کے پیچھے تھا جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برچھی اپنے سامنے عرفات میں گاڑی تھی اور اُسے سُترہ بنا کر نماز پڑھی تھی۔ عبدالکریم کی مجاہد سے روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز پڑھا رہے تھے جبکہ ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان حائل ہونے والا سُترہ نہیں تھا۔ عبدالکریم اور حکم بن ابان کی روایات نقل کے اعتبار سے قریب قریب ہیں۔ کیونکہ محدثین نے عبدالکریم کی روایت کو دلیل اور حجت بنانے میں جرح کی ہے ـ اور حکم بن ابان کی روایت کا حال بھی ایسے ہی ہے ـ البتہ حکم بن ابان کی روایت کی تائید نقل کے اعتبار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث سے ہوتی ہے۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی صحیح احادیث عبد الکریم کی مجاہد سے روایت کو رد کرتی ہیں۔ اور یہ فعل جسے عبدالکریم نے مجاہد رحمه الله کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے تو اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت ثابت ہو چکی ہے۔ حضرت سہل بن ابی حثمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے سُترہ بنا کر نماز پڑھنی چاہیے، اور اسے سُترے کے قریب کھڑے ہونا چاہیے تو شیطان اس کی نماز کو کاٹ نہیں سکے گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 840]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 840، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2209، والطبراني فى(الكبير) برقم: 11620، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2701، 9344»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 841
وَفِي خَبَرِ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَكَزَ عَنَزَةً فَجَعَلَ يُصَلِّي إِلَيْهَا يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْكَلْبُ، وَالْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ" . ناهُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، وَفِي خَبَرِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَتَرُوا فِي صَلاتِكُمْ وَلَوْ بِسَهْمٍ" وَفِي خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذِهِ الأَخْبَارُ كُلُّهَا صِحَاحٌ، قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُصَلِّيَ أَنْ يَسْتَتِرَ فِي صَلاتِهِ وَزَعَمَ عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ، وَهُوَ فِي فَضَاءٍ ؛ لأَنَّ عَرَفَاتٍ لَمْ يَكُنْ بِهَا بِنَاءٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَتِرُ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ زَجَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمُصَلِّي إِلا إِلَى سُتْرَةٍ. وَفِي خَبَرِ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تُصَلُّوا إِلا إِلَى سُتْرَةٍ" وَقَدْ زَجَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمُصَلِّي إِلا إِلَى سُتْرَةٍ، فَكَيْفَ يَفْعَلُ مَا يَزْجُرُ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَفِي خَبَرِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، كَالدَّالِ عَلَى أَنَّ الْحِمَارَ إِذَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي وَلا سُتْرَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ضَرَّهُ مُرُورُ الْحِمَارِ بَيْنَ يَدَيْهِ
جناب عون بن ابی جحیفہ کی اپنے والد سے روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برچھی گاڑ کرنماز پڑھنی شروع کی جبکہ اس کے پیچھے سے کُتّا، عورت اور گدھا گزر رہا تھا۔ اور جناب ربیع بن سبرہ جہنی کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت میں ہے کہ ”اپنی نماز میں سُترہ بنایا کرو۔ خواہ ایک تیر ہی کے ساتھ ہو۔“ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت میں ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے سُترے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی چاہیے اور اُسے سُترے کے قریب ہو کر کھڑا ہونا چاہیے ـ“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ تمام روایات صحیح ہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کو اپنی نماز میں سُترہ بنانے کا حُکم دیا ہے - جبکہ عبدالکریم نے مجاہد کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے میدان میں بغیر سُترے کے نماز کی۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں عرفات میں کوئی ایسی عمارت نہیں تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سُترہ بناتے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کو بغیر سُترے کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور صدقہ بن یسار کی روایت میں ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سترہ بنائے بغیر نماز مت پڑھو ـ“ اور موسٰی بن طلحہ کی اپنے والد محترم سے روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب گدھا نمازی کے آگے سے گذرے اور اس کے سامنے سُترہ نہ ہو تو گدھے کا اس کے آگے سے گزرنا اسے نقصان دے گا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 841]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 187، 376، 495، 499، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 503، 2342، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 387، 388، 841، 2994، 2995، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1268، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 730، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 137، وأبو داود فى (سننه) برقم: 520، والترمذي فى (جامعه) برقم: 197، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19045»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 842
نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، نَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ، فَلا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ"
جناب موسیٰ بن طلحہ اپنے والد گرامی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم اس حال میں نماز پڑھا کرتے تھے کہ چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے رہتے تھے، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو آگے سے گزرنے والی چیز اُسے نقصان نہیں دے گی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 842]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 499، وابن الجارود فى "المنتقى"، 185، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 805، 842، 843، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2379، وأبو داود فى (سننه) برقم: 685، والترمذي فى (جامعه) برقم: 335، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 940، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3507، 3508، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1405»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 843
نَا أَبُو مُوسَى ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِيَجْعَلْ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ، ثُمَّ لا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَفِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ، ثُمَّ لا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" دَلالَةٌ وَاضِحَةٌ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ ضَرَّهُ مُرُورُ الدَّوَابِّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَالدَّوَابُّ الَّتِي تَضُرُّ مُرُورُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ هِيَ الدَّوَابُّ الَّتِي أَعْلَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا تَقْطَعُ الصَّلاةَ، وَهُوَ الْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ، عَلَى مَا أَعْلَمَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لا غَيْرَهُمَا مِنَ الدَّوَابِّ الَّتِي لا تَقْطَعُ الصَّلاةَ
جناب موسی بن طلحہ کے والد محترم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز (بطور سترہ) رکھلے، پھر اُسے اپنے آگے سے گزرنے والی چیزیں ضرر نہیں دیںگی ـ“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ” کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز جب تم میں سے کسی شخص کے سامنے ہوگی تو اسے اپنے آگے سے گزرنے والی چیز نقصان نہیں دے گی۔“ میں واضح دلیل ہے کہ جب اس کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر سُترہ نہیں ہو گا تو اُسے اپنے آگے سے گزرنے والے چوپائے نقصان دیںگے۔ اور وہ چوپائے جن کا اُس کے آگے سے گزرنا نقصان دہ ہے، وہ وہی چوپائے ہیں جن کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ وہ نماز توڑ دیتے ہیں، اور وہ گدھا اور سیاہ کُتّا ہیں، جیسا کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، ان کے علاوہ دیگر چوپائے مراد نہیں ہیں جو نماز نہیں کاٹتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 843]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 499، وابن الجارود فى "المنتقى"، 185، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 805، 842، 843، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2379، وأبو داود فى (سننه) برقم: 685، والترمذي فى (جامعه) برقم: 335، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 940، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3507، 3508، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1405»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز کے ناپسندیدہ ہونے کا بیان جبکہ نمازی کے سامنے تصاویر والے کپڑے ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 844
نَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودَةٌ إِلَى سَهْوَةٍ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ، فَقَالَ:" أَخِّرِيهِ عَنِّي، فَأَخَذَتْهُ، فَجَعَلَتْهُ وَسَائِدَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ اُن کے پاس تصویروں والا کپڑا تھا جو دریچے پر پھیلا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے سُترہ بنا کرنماز پڑھا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کپڑا مجھ سے دور کردو، لہٰذا میں نے اُسکے تکیے بنا لئے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 844]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2105، 2479، 3224، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2106، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3547، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 844، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5468، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 760، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2151، 3653، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14667، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24715»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں