🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نمازی کے آگے عورت سوئی ہوئی ہو یا لیٹی ہو تو نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 822
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي صَلاتَهُ بِاللَّيْلِ، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ" زَادَ الْمَخْزُومِيُّ مَرَّةً:" فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَخَّرَنِي بِرِجْلِهِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز (یعنی نماز تہجّد) اس حال میں ادا فرماتے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی۔ جناب مخزومی کی روایت میں یہ اضافہ ہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے قدم سے پیچھے کر دیتے ـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 822]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 382، 383، 384، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 512، ومالك فى (الموطأ) برقم: 386، وابن الجارود فى "المنتقى"، 188، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 822، 823، 824، 825، 826، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2341، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 166، وأبو داود فى (سننه) برقم: 710، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 956، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24722»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جناب محمد بن کعب کی اس حدیث ”سوئے ہوئے شخص اور گفتگو کرنے والوں کے پیچھے نماز مت پڑھو“ کے ضعیف ہونے کا بیان اور اس روایت کا کسی بھی قابل حجت راوی نے بیان نہیں کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 823
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا نَائِمَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا كَانَ الْوِتْرُ أَيْقَظَنِي" . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: قَالَ أَيُّوبُ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَتْ:" مُعْتَرِضَةٌ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان سوئی ہوتی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر پڑھتے تو مجھے بیدار کر دیتے۔ جناب احمد بن عبدہ کی روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان) جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 823]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 382، 383، 384، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 512، ومالك فى (الموطأ) برقم: 386، وابن الجارود فى "المنتقى"، 188، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 822، 823، 824، 825، 826، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2341، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 166، وأبو داود فى (سننه) برقم: 710، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 956، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24722»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر ادا کرتے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس لیے بیدار کردیتے تھے تاکہ وہ بھی وتر ادا کرلیں، (یہ مقصد نہیں تھا کہ) اُن کے سامنے لیٹے ہونے کی صورت میں وتر ادا کرنا مکروہ تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 824
نَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى، ح وثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا ابْنُ بِشْرٍ، قَالا: ثَنَا هِشَامٌ، ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادٍ، عَنْ هِشَامٍ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَابْنِ بِشْرٍ: " وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ" . وَفِي حَدِيثِ بُنْدَارٍ:" يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَفِرَاشُنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَقَامَنِي فَأَوَتَرَ"
جناب وکیع اور ابن بشر کی روایت میں ہے کہ (سیدہ عائشہ فرماتی ہیں) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے لگتے تو مجھے بیدار کر دیتے تومیں بھی وتر پڑھ لیتی۔، بندار کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے جبکہ ہمارا بستر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان میں ہوتا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر ادا کرنے لگتے تو مجھے اُٹھا دیتے تو میں بھی وتر ادا کر لیتی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 824]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 382، 383، 384، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 512، ومالك فى (الموطأ) برقم: 386، وابن الجارود فى "المنتقى"، 188، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 822، 823، 824، 825، 826، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2341، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 166، وأبو داود فى (سننه) برقم: 710، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 956، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24722»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عورت کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 825
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ؛ وَالأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ أَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيَّ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی، پھر جب میں اُٹھنا چاہتی تو میں اپنے قدموں کی جانب سے آہستہ سے نکل جاتی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 825]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 382، 383، 384، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 512، ومالك فى (الموطأ) برقم: 386، وابن الجارود فى "المنتقى"، 188، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 822، 823، 824، 825، 826، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2341، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 166، وأبو داود فى (سننه) برقم: 710، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 956، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24722»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 826
ناهُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رُبَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَسَطَ السَّرِيرِ، وَأَنَا عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، تَكُونُ لِي الْحَاجَةُ، فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ السَّرِيرِ كَرَاهَةَ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ بِوَجْهِي"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت چارپائی کے درمیان میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھتی جبکہ میں چارپائی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی، مجھے کوئی حاجت پیش آتی تو میں چارپائی کی پائنتی کی طرف سے کھسک جاتی، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں اپنا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کروں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 826]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 382، 383، 384، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 512، ومالك فى (الموطأ) برقم: 386، وابن الجارود فى "المنتقى"، 188، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 822، 823، 824، 825، 826، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2341، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 166، وأبو داود فى (سننه) برقم: 710، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 956، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24722»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نمازی کو اپنے آگے سے گزرنے والی بکری کو روکنے کے جواز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 827
أنا أَبُو طَاهِرٍ، نَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي فَمَرَّتْ شَاةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَاعَاهَا إِلَى الْقِبْلَةِ حَتَّى أَلْزَقَ بَطْنُهُ بِالْقِبْلَةِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے تو ایک بکری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبلہ کی طرف دوڑایا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیٹ قبلہ (کی دیوار یا سُترے) کے ساتھ چمٹا لیا۔ (تاکہ بکری گزر نہ سکے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 827]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 827، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2371، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 405، 406، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 940، والطبراني فى(الكبير) برقم: 11937»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نمازی کے آگے سے بلّی کے گزرنے کا بیان، اگر اس بارے میں مروی روایت مرفوعاً صحیح ہو کیونکہ اس کے مرفوع ہونے میں قلب ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 828
نَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْهِرَّةُ لا تَقْطَعُ الصَّلاةَ، إِنَّهَا مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلّی نماز نہیں کاٹتی، بیشک یہ تو گھر کے مال و متاع میں سے ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 828]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 61، وابن الجارود فى "المنتقى"، 67، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 103، 104، 828، 829، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1299، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 571، 941، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 68، وأبو داود فى (سننه) برقم: 75، والترمذي فى (جامعه) برقم: 92، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 367، 369، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1179، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22964، والحميدي فى (مسنده) برقم: 434»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 829
ناهُ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَوْقُوفًا غَيْرَ مَرْفُوعٍ. قَالَ أَبُو بَكْرِ: ابْنُ وَهْبٍ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ
امام صاحب اس حدیث کو اپنے استاد گرامی جناب ربیع بن سلیمان کی سند سے موقوف بیان کرتے ہیں۔ کہ (یعنی یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہے۔) امام ابوبکر‏ رحمه الله فرماتے ہیں کہ ابن وہب، عبید اللہ بن عبدالمجید کی نسبت اہلِ مدینہ کی حدیث کو زیادہ جانتا ہے۔ (یعنی موقوف سند کو ترجیح ہے۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 829]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 61، وابن الجارود فى "المنتقى"، 67، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 103، 104، 828، 829، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1299، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 571، 941، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 68، وأبو داود فى (سننه) برقم: 75، والترمذي فى (جامعه) برقم: 92، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 367، 369، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1179، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22964، والحميدي فى (مسنده) برقم: 434»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
534. (301) بَابُ التَّغْلِيظِ فِي مُرُورِ الْحِمَارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْكَلْبِ الْأَسْوَدِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي بِذِكْرِ أَخْبَارٍ مُجْمَلَةٍ،
مجمل احادیث کے ساتھ نمازی کے آگے سے گدھے، عورت اور سیاہ کُتّے کے گزرنے پر وعید کا بیان،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q830
قَدْ تَوَهَّمَ بَعْضُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرِ الْعِلْمَ أَنَّهُ خِلَافُ أَخْبَارِ عَائِشَةَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ
بعض کم علم لوگوں کو وہم ہوا ہے کہ یہ احادیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کے خلاف کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: Q830]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 830
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، نَا يُونُسُ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، وَمَنْصُورٌ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ ، وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، ح وَحَدَّثَنَا هِلالُ بْنُ بِشْرٍ ، نَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَسَدٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ , وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، وَحَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، نَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَالِمٍ وَهُوَ ابْنُ الزِّنَادِ ، كُلُّهُمْ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، نَا سَهْلُ بْنُ أَسْلَمَ يَعْنِي الْعَدَوِيَّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَقْطَعُ الصَّلاةَ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ: مَا بَالُ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ مِنَ الأَبْيَضِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَحْمَرِ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ:" الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ"
جناب عبداللہ بن صامت کا بیان ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گدھا، عورت اور سیاہ کُتّا نماز توڑ دیتے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ اے ابوذر سیاہ کُتّے کو سفید، زرد اور سرخ کُتّے سے کیا خصوصیت ہے؟ (کہ اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور دیگر کُتّے کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی)۔ اُنہوں نے فرمایا کہ میرے بھتیجے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا جیسے تم نے مجھ سے سوال کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”سیاہ کُتّا شیطان ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 830]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 510، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 806، 830، 831، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2383، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 749، وأبو داود فى (سننه) برقم: 702، والترمذي فى (جامعه) برقم: 338، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1454، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 952، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3537، 3538، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21718»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں