صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب قَضِيَّةِ هِنْدٍ:
باب: ہند رضی اللہ عنہا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بی بی کا فیصلہ۔
ترقیم عبدالباقی: 1714 ترقیم شاملہ: -- 4480
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: " جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ خِبَاءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، وَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ خِبَاءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ مِنْ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا؟، فَقَالَ لَهَا: لَا إِلَّا بِالْمَعْرُوفِ ".
زہری کے بھتیجے نے ہمیں اپنے چچا سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہند بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! روئے زمین پر آپ کے گھرانے سے بڑھ کر کسی گھرانے کے بارے میں مجھے زیادہ محبوب نہیں تھا کہ وہ ذلیل ہو اور آج روئے زمین پر آپ کے گھرانے سے بڑھ کر کوئی گھرانہ مجھے محبوب نہیں کہ وہ باعزت ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اور بھی (اس محبت میں اضافہ ہو گا۔)“ پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہیں تو کیا (اس بات میں) مجھ پر کوئی حرج ہے کہ میں، جو کچھ اس کا ہے، اس میں سے اپنے بچوں (گھر والوں) کو کھلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”نہیں، مگر دستور کے مطابق کھلاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4480]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ہند بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا آئی اور کہنے لگی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی خاندان نہ تھا، جس کی ذلت و رسوائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کی ذلت سے مجھے زیادہ پسندیدہ ہو اور اب کوئی گھرانہ ایسا نہیں ہے، جس کی عزت، آپ کے اہل خانہ کی عزت سے زیادہ مجھے محبوب ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں اور اضافہ ہو گا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔“ پھر کہنے لگی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوسفیان کنجوس آدمی ہے تو کیا مجھ پر اس میں گناہ ہے کہ میں اس کے مال سے اپنے بچوں کو کھلاؤں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر خرچہ دستور کے مطابق ہو یا خرچ رسم و رواج کے مطابق کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4480]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1714
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
5. باب النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتٍ وَهُوَ الاِمْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ أَوْ طَلَبُ مَا لاَ يَسْتَحِقُّهُ:
باب: بہت پوچھنے سے اور مال کو تباہ کرنے سے ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 1715 ترقیم شاملہ: -- 4481
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا وَيَكْرَهُ لَكُمْ ثَلَاثًا، فَيَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا، وَلَا تَفَرَّقُوا، وَيَكْرَهُ لَكُمْ قِيلَ، وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ "،
جریر نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تمہارے لیے تین چیزیں پسند کرتا ہے اور تین ناپسند کرتا ہے، وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو۔ اور وہ تمہارے لیے قیل و قال (فضول باتوں)، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4481]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتوں کو پسند کرتا ہے اور تمہاری تین باتوں کو ناپسند فرماتا ہے، وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کہ تم اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن، دین) کو مضبوطی سے پکڑو اور گروہ گروہ نہ بنو اور تمہارے لیے ناپسند کرتا ہے: بلامقصد قیل و قال (بحث و تمحیص) کرو، بکثرت سوال کرو اور مال ضائع کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4481]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1715 ترقیم شاملہ: -- 4482
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا وَلَمْ يَذْكُرْ وَلَا تَفَرَّقُوا.
ابوعوانہ نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، مگر انہوں نے (ناپسند کرتا ہے کی جگہ) ”ناراض رہتا ہے“ کہا اور انہوں نے ”فرقوں میں نہ بٹو“ (کا جملہ) بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4482]
امام صاحب ایک اور استاد سے سہیل کی مذکورہ بالا سند سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ اس میں استاد نے «يَكْرَهُ» کی جگہ «يَسْخَطُ» کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4482]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 4483
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ، عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنْعًا وَهَاتِ، وَكَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ، وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ "،
جریر نے منصور سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام وراد سے، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ عزوجل نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور ’روکنا، لاؤ‘ (دوسرے کے حقوق دبانے اور جو اپنا نہیں اسے حاصل کرنے) کو حرام کیا ہے اور تمہارے لیے قیل و قال، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4483]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، بچیوں کو زندہ درگور کرنا، حقوق ادا نہ کرنا اور ناحق مطالبہ کرنا حرام ٹھہرایا ہے اور تمہاری تین باتوں کو ناپسند فرمایا ہے: قیل و قال، کثرتِ سوال اور مال کا ضیاع۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4483]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 4484
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ.
شیبان نے منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر حرام کی ہیں“ اور انہوں نے یہ نہیں کہا: ”بلاشبہ اللہ نے تم پر حرام کی ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4484]
امام صاحب سے یہی روایت ایک اور استاد کی سند سے، منصور کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں، مگر اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، یہ نہیں کہا: ”اللہ نے تم پر حرام ٹھہرایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4484]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 4485
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ ، اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ، وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ".
شعبی سے روایت ہے، کہا: مجھے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا: مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ تو انہوں نے ان کو لکھا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”بلاشبہ اللہ نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے: قیل و قال، مال کا ضیاع اور کثرتِ سوال۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4485]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب (منشی، سیکرٹری) بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ بھیجو جو تم نے براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے ان کی طرف لکھا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے: قیل و قال، مال کا ضیاع اور بکثرت سوال کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4485]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 593 ترقیم شاملہ: -- 4486
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ وَرَّادٍ ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ إِلَى مُعَاوِيَةَ: سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ثَلَاثًا، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ، حَرَّمَ عُقُوقَ الْوَالِدِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَلَا وَهَاتِ، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ قِيلَ، وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ ".
محمد بن عبیداللہ ثفقی نے ہمیں وراد سے خبر دی، انہوں نے کہا: حضرت مغیرہ (بن شعبہ رضی اللہ عنہ) نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا: آپ پر سلامتی ہو۔ اس کے بعد! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”بلاشبہ اللہ نے تین حرام کی ہیں اور تین چیزوں سے منع فرمایا ہے: اس نے والد کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور نہ دو اور لاؤ (اپنے ذمے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے اور ناجائز حقوق کا مطالبہ کرنے) کو حرام کیا ہے۔ اور تین باتوں سے منع کیا ہے: قیل و قال (فضول باتوں) سے، کثرتِ سوال سے، اور مال ضائع کرنے سے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4486]
وراد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: سلامت رہو، اس کے بعد واضح ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے والدین کی نافرمانی، بچیوں کو زندہ دفن کرنا، دوسروں کا حق رد کرنا اور ان سے ناجائز مطالبہ کرنا حرام قرار دیا ہے اور تین چیزوں سے روکا ہے: فضول بحث و مباحثہ، بکثرت مانگنا اور مال ضائع کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4486]
ترقیم فوادعبدالباقی: 593
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
6. باب بَيَانِ أَجْرِ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ:
باب: جب حاکم فیصلہ کرے اگرچہ غلط ہو اس کا ثواب۔
ترقیم عبدالباقی: 1716 ترقیم شاملہ: -- 4487
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ، ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ، ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ "،
مجھے یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالعزیز بن محمد نے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد سے خبر دی، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے بسر بن سعید سے، انہوں نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابوقیس سے اور انہوں نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”جب کوئی حاکم فیصلہ کرے اور اجتہاد (حقیقت کو سمجھنے کی بھرپور کوشش) کرے، پھر وہ حق بجانب ہو تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب وہ فیصلہ کرے اور اجتہاد کرے، پھر وہ (فیصلے میں) غلطی کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4487]
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب حاکم فیصلہ محنت و کوشش سے کرے، پھر فیصلہ صحیح ہو تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور جب محنت و کوشش سے فیصلہ کرے، پھر غلطی کر جائے تو اس کو ایک اجر ملے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4487]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1716
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1716 ترقیم شاملہ: -- 4488
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي عَقِبِ الْحَدِيثِ، قَالَ يَزِيدُ: فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،
اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن ابی عمر دونوں نے عبدالعزیز بن محمد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور حدیث کے آخر میں اضافہ کیا: ”یزید نے کہا: میں نے یہ حدیث ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کو سنائی تو انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح حدیث بیان کی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4488]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے عبدالعزیز بن محمد کی مذکورہ بالا سند سے یہی حدیث نقل کرتے ہیں، جس کے آخر میں یہ ہے کہ یزید بن عبداللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کو سنائی تو انہوں نے مجھے اس طرح حدیث ابوسلمہ رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4488]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1716
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1716 ترقیم شاملہ: -- 4489
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيُّ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ مِثْلَ رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا.
لیث بن سعد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد نے (اپنی) دونوں سندوں سے یہی حدیث عبدالعزیز بن محمد کی روایت کے مانند بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4489]
امام صاحب نے اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4489]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1716
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة