🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب كَرَاهَةِ قَضَاءِ الْقَاضِي وَهُوَ غَضْبَانُ:
باب: غصہ کی حالت میں فیصلہ کرنا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1717 ترقیم شاملہ: -- 4490
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: كَتَبَ أَبِي وَكَتَبْتُ لَهُ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضٍ بِسِجِسْتَانَ، أَنْ لَا تَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ "،
ابوعوانہ نے ہمیں عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے والد نے سجستان کے قاضی عبیداللہ بن ابی بکرہ کو خط لکھوایا۔۔ اور میں نے لکھا۔۔ کہ جب تم غصے کی حالت میں ہو، تو دو آدمیوں کے مابین فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کوئی شخص جب وہ غصے کی حالت میں ہو دو (انسانوں/فریقوں) کے مابین فیصلہ نہ کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4490]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن سے سجستان کے قاضی عبیداللہ بن ابی بکرہ کو لکھوایا کہ دو فریقوں کے درمیان فیصلہ غصہ کی حالت میں نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: تم میں سے کوئی دو فریقوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4490]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1717
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1717 ترقیم شاملہ: -- 4491
وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ. ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.
ہشیم، حماد بن سلمہ، سفیان، محمد بن جعفر، شعبہ اور زائدہ سب نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جس طرح ابوعوانہ کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4491]
امام صاحب چھ مزید سندوں سے یہ روایت بیان کرتے ہیں، جو مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4491]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1717
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب نَقْضِ الأَحْكَامِ الْبَاطِلَةِ وَرَدِّ مُحْدَثَاتِ الأُمُورِ:
باب: غلط باتوں اور نئی باتوں کے ابطال کا بیان جو دین میں نکالی جائیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1718 ترقیم شاملہ: -- 4492
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ جميعا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ ".
ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمان بن عوف نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے اس امر (دین) میں کوئی ایسی نئی بات شروع کی جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4492]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے اس دین میں ایسی بات نکالی جس کی اس میں دلیل نہیں ہے، وہ مردود ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4492]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1718
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1718 ترقیم شاملہ: -- 4493
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا، عَنْ أَبِي عَامِرٍ، قَالَ عَبْدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، " قَالَ سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَجُلٍ لَهُ ثَلَاثَةُ مَسَاكِنَ، فَأَوْصَى بِثُلُثِ كُلِّ مَسْكَنٍ مِنْهَا، قَالَ: يُجْمَعُ ذَلِكَ كُلُّهُ فِي مَسْكَنٍ وَاحِدٍ؟، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ ".
عبداللہ بن جعفر زہری نے ہمیں سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قاسم بن محمد سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے تین گھر ہیں اور اس نے ان میں سے ہر گھر کے ایک تہائی حصے کی وصیت کی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: اس کے تہائی کو ایک گھر کی صورت میں جمع کر دیا جائے گا۔ پھر انہوں نے کہا: مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا عمل کیا، ہمارا دین جس کے مطابق نہیں تو وہ مردود ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4493]
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں، میں نے قاسم بن محمد سے اس انسان کے بارے میں پوچھا، جس کے تین مکان ہیں تو اس نے ہر مکان میں سے تہائی حصے کے بارے میں وصیت کی، انہوں نے جواب دیا، اس کی وصیت کو ایک مکان میں جمع کر دیا جائے گا، پھر انہوں نے مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا عمل کیا جو ہمارے دین میں نہیں ہے، وہ مردود ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4493]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1718
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب بَيَانِ خَيْرِ الشُّهُودِ:
باب: اچھے گواہوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1719 ترقیم شاملہ: -- 4494
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا؟ ".
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں بہترین گواہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہی جو شہادت طلب کیے جانے سے پہلے اپنی گواہی پیش کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4494]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بہترین گواہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ وہ ہے جو اپنی گواہی اس کی درخواست سے پہلے ہی دے دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4494]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1719
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب بَيَانِ اخْتِلاَفِ الْمُجْتَهِدِينَ:
باب: مجتہدوں کا اختلاف۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1720 ترقیم شاملہ: -- 4495
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ، فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ هَذِهِ لِصَاحِبَتِهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ أَنْتِ، وَقَالَتِ الْأُخْرَى: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَام، فَأَخْبَرَتَاهُ فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى "، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ مَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ "،
ورقاء نے مجھے ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: دو عورتیں تھیں، دونوں کے بیٹے ان کے ساتھ تھے (اتنے میں) بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کا بیٹا لے گیا تو اس نے (جو بڑی تھی) اپنی ساتھی عورت سے کہا: وہ تمہارا بیٹا لے گیا ہے اور دوسری نے کہا: وہ تمہارا بیٹا لے گیا ہے۔ چنانچہ وہ دونوں فیصلے کے لیے حضرت داود علیہ السلام کے پاس آئیں تو انہوں نے بڑی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اس کے بعد وہ دونوں نکل کر حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام کے سامنے آئیں اور انہیں (اپنے معاملے سے) آگاہ کیا تو انہوں نے کہا: میرے پاس چھری لاؤ، میں تم دونوں کے مابین آدھا آدھا کر دیتا ہوں۔ اس پر چھوٹی نے کہا: نہیں، اللہ آپ پر رحم کرے! وہ اسی کا بیٹا ہے۔ تو انہوں نے چھوٹی عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس دن سے پہلے (چھری کے لیے) سِکین کا لفظ نہیں سنا تھا۔ ہم مدیہ ہی کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4495]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبکہ دو عورتیں اپنے بیٹوں کے ساتھ جا رہی تھیں، بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کے بچے کو لے گیا تو اس نے اپنی ساتھی عورت سے کہا، بھیڑیا تو تیرا بچہ ہی لے گیا ہے، اس نے جواباً کہا، تیرے بچے (بیٹے) کو ہی لے کر گیا ہے، تو وہ دونوں فیصلہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس لائیں، انہوں نے بڑی کے حق میں فیصلہ کر دیا تو وہ نکل کر حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے پاس آئیں اور انہیں بتایا (فیصلہ سے آگاہ کیا) تو انہوں نے کہا، «السِّكِّينُ» چھری لاؤ میں دونوں کو آدھا آدھا دے دیتا ہوں تو چھوٹی بول اٹھی، نہیں، اللہ آپ پر رحم فرمائے وہ اس کا بیٹا ہے تو سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ چھوٹی کے حق میں کر دیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اللہ کی قسم، میں نے «السِّكِّينُ» کا لفظ اسی دن سنا تھا، ہم تو اسے «الْمُدْيَةُ» ہی کہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4495]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1720
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1720 ترقیم شاملہ: -- 4496
وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ وَرْقَاءَ.
موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن عجلان نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ ورقاء کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4496]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی حدیث اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے، ابوالزناد رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند ہی سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4496]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1720
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب اسْتِحْبَابِ إِصْلاَحِ الْحَاكِمِ بَيْنَ الْخَصْمَيْنِ:
باب: حاکم کو دونوں فریق میں صلح کرا دینا بہتر ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1721 ترقیم شاملہ: -- 4497
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ، فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ: خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ، فَقَالَ الَّذِي شَرَى الْأَرْضَ: إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا، قَالَ: فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ: أَلَكُمَا وَلَدٌ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لِي غُلَامٌ، وَقَالَ الْآخَرُ: لِي جَارِيَةٌ، قَالَ: أَنْكِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ، وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِكُمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے چند احادیث بیان کیں، ان میں یہ بھی تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے اس کی زمین خریدی تو اس آدمی کو، جس نے زمین خریدی تھی، اپنی زمین میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا۔ جس نے زمین خریدی تھی، اس نے اس (بیچنے والے) سے کہا: اپنا سونا مجھ سے لے لو، میں نے تم سے زمین خریدی تھی، سونا نہیں خریدا تھا۔ اس پر زمین بیچنے والے نے کہا: میں نے تو زمین اور اس میں جو کچھ تھا تمہیں بیچ دیا تھا۔ کہا: وہ دونوں جھگڑا لے کر ایک شخص کے پاس گئے، تو جس کے پاس وہ جھگڑا لے کر گئے تھے اس نے کہا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا: میری ایک لڑکی ہے۔ تو اس نے کہا: (اس سونے کے ذریعے سے) لڑکے کا لڑکی سے نکاح کر دو اور اس میں سے اپنے اوپر بھی خرچ کرو اور صدقہ بھی کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4497]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہمام بن منبہ بہت سی روایات بیان کرتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک انسان نے دوسرے انسان سے اس کی جاگیر (زمین) خریدی تو جس آدمی نے جائیداد (زمین) خریدی تھی، اسے اس کی زمین سے ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا، تو زمین خریدنے والے نے مالک سے کہا: مجھ سے اپنا سونا لے لیجیے، کیونکہ میں نے تم سے صرف زمین خریدی ہے، تجھ سے سونا نہیں خریدا، تو زمین بیچنے والے نے کہا: میں نے تمہیں زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب ہی بیچ دیا ہے، تو انہوں نے ایک آدمی کو فیصل مان لیا، تو جس کے پاس دونوں مقدمہ لے کر گئے تھے، اس نے پوچھا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ تو ان میں سے ایک نے کہا: میرا بیٹا ہے اور دوسرے نے کہا: میری بیٹی ہے، فیصلہ کرنے والے نے کہا: بچے کی بچی سے شادی کر دو اور اپنے اوپر بھی خرچ کرو اور صدقہ بھی کر دو۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4497]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1721
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں