صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
726. (493) بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ أَلْفِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ،
رات میں ایک ہزار آیات تلاوت کرنے کی فضیلت کا بیان،
حدیث نمبر: Q1144
فَإِنِّي لَا أَعْرِفُ أَبَا سَوِيَّةَ بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ
اگر اس بارے میں مروی روایت صحیح ہو، کیونکہ مجھے ابو سویہ کی تعدیل یا جرح معلوم نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: Q1144]
حدیث نمبر: 1144
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا سَوِيَّةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنَ قَرَأَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِينَ"
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے قیام اللّیل میں دس آیات تلاوت کیں وہ غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، اور جس نے سو آیات تلاوت کر کے قیام کیا وہ فرنبرداروں میں لکھا جاتا ہے اور جس نے ایک ہزار آیات پڑھ کر نماز پڑھی تو وہ عظیم خیر و برکت حاصل کرنے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1144]
تخریج الحدیث: «اسناده جيد، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1144، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2572، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1398، والطبراني فى(الكبير) برقم: 14727»
727. (494) بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقَبْلَ السُّدُسِ الْآخِرِ
رات کے آخری چھٹے حصّے سے پہلے نماز تہجّد پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1145
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعَتْهُ مِنْ عَمْرٍو مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُخْبِرُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحَبُّ الصَّلاةِ إِلَى اللَّهِ صَلاةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا"
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب نماز داوٗد علیہ السلام کی نماز ہے، وہ آدھی رات سوتے تھے، اور تہائی رات نماز ادا کرتے اور رات کا (آخری) چھٹا حصّہ سو جاتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن روزہ افطار کرتے تھے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1145]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، 2105، 2106، 2109، 2110، 2121، 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588»
728. (495) بَابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ فِي نِصْفِ اللَّيْلِ الْآخِرِ رَجَاءَ الْإِجَابَةِ
قبولیت کی امید کے ساتھ رات کے آخری نصف حصّے میں دعا مانگنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1146
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَغَرِّ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَيَنْزِلُ، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ هَلْ مِنْ تَائِبٍ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ مِنْ ذَنْبٍ؟"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ مہلت دیتے ہیں، حتیٰ کہ رات کا ایک تہائی حصّہ گزر جاتا ہے۔ پھر وہ (آسمان دنیا پر) نازل ہوتا ہے اور فرماتا ہے: ”کیا کوئی سوال کرنے والا ہے؟ کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی گناہوں سے بخشش مانگنے والا ہے؟“ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو کیا یہ (رحمت و برکات کا) سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1146]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1145، 6321، 7494، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 758، ومالك فى (الموطأ) برقم: 724، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1146، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 919، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1315، والترمذي فى (جامعه) برقم: 446، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1366، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4726، 4727، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7625»
حدیث نمبر: 1147
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى وَهُوَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ ، وَأَبُو طَلْحَةَ هُوَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَنْبَسَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِعُكَاظَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَهَلْ مِنْ دَعْوَةٍ أَقْرَبُ مِنْ أُخْرَى، أَوْ سَاعَةٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِنَّ أَقْرَبَ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللَّهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ"
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ (کے بازار) میں تشریف فرما تھے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، کیا کوئی دعا دوسری دعا سے یا کوئی گھڑی دوسری گھڑی سے قبولیت میں زیادہ قریب ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، بلاشبہ رات کے آخری (نصف) حصّے کے وسط میں رب تعالیٰ بندے کے بہت زیادہ قریب ہوتا ہے لہٰذا اگر تم اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں میں شامل ہونے کی طاقت رکھو تو اُن میں شامل ہو جاؤ۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1147]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 832، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 165، 260، 1147، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 453، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 147، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1277، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3579، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 283، 1251، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 382، والدارقطني فى (سننه) برقم: 378، 379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17288»
729. (496) بَابُ فَضْلِ إِيقَاظِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَالْمَرْأَةِ زَوْجَهَا لِصَلَاةِ اللَّيْلِ
نماز تہجّد کے لئے خاوند کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا اپنے خاوند کو جگانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1148
نَا أَبُو قُدَامَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، وَقَالَ أَبُو قُدَامَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اُس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اُٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی (تہجّد کے لئے) جگا دیتا ہے۔ اگر وہ انکار کرتی ہے تو اُس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے اور اللہ اُس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو جاگتی ہے، تو نماز پڑھتی ہے اور اپنے خاوند کو بھی جگاتی ہے۔ اگر وہ (اُٹھنے سے) انکار کرے تو اُس کے چہرے پر پانی چھڑک دیتی ہے۔ (تاکہ وہ اُٹھ جائے)“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1148]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1148، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1168، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1609، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1335، 1336، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4718، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7486»
730. (497) بَابُ التَّسَوُّكِ عِنْدَ الْقِيَامِ لِصَلَاةِ اللَّيْلِ
نماز تہجّد کے لئے اُٹھ کر مسواک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1149
نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ عَلِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَصِينٌ ، وَقَالَ هَارُونُ، عَنْ حَصِينٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حَصِينِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ، حَدَّثَنَا حَصِينٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِلتَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ" . وَقَالَ هَارُونُ، وَأَبُو حَصِينٍ: إِذَا قَامَ يَتَهَجَّدُ
سیدہ حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تہجّد کے لئے جب بیدار ہوتے تو اپنا منہ مبارک مسواک کے ساتھ صاف کرتے۔ جناب ہارون اور ابوحصین نے اپنی روایت میں یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر تہجّد ادا کرتے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1149]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 245، 889، 1136، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 255، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 136، 1149، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1072، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2، وأبو داود فى (سننه) برقم: 55، والدارمي فى (مسنده) برقم: 712، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 286، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 164، 165، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23714»
731. (498) بَابُ افْتِتَاحِ صَلَاةِ اللَّيْلِ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
تہجّد کی نماز کی ابتداء دو ہلکی اور مختصر رکعات سے کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1150
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص رات کے وقت نماز تہجّد کے لئے اُٹھے تو اُسے چاہیے کہ اپنی نماز کا آغاز دو ہلکی اور مختصر رکعات سے کرے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1150]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 768، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1150، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2606، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1323، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4745، 4746، 4747، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7297، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1015»
732. (499) بَابُ التَّحْمِيدِ وَالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ وَالدُّعَاءِ عِنْدَ افْتِتَاحِ صَلَاةِ اللَّيْلِ
نماز تہجّد کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور دعا مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 1151
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ، قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَوَعِيدُكَ حَقٌّ، وَعَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، وَالْقُبُورُ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ، اللَّهُمَّ بِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدَّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ" وَزَادَ عَبْدُ الْكَرِيمِ:" لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت تہجّد کے لئے اُٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَبِكَ آمَنْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ ـ أَوْ ـ لاَ إِلَهَ غَيْرُكَ » ۔ ” اے اللہ، سب تعریفیں تیرے لئے ہیں، تُو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نور ہے۔ اور تیرے ہی لئے تمام تعریفیں ہیں، تُو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے، سب کا نگہبان اور قائم رکھنے والا ہے، سب تعریفیں تیرے ہی لائق ہیں، تُو آسمانوں، زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے، سب کا مالک ہے، تمام تعریفوں کا حق دار تُو ہی ہے، تُو حق ہے، اور تیری ملاقات حق ہے تیری وعید و سزا حق ہے، اور عذاب قبر حق ہے - جنّت حق ہے، جہنّم بھی حق ہے، قیامت سچ ہے، قبریں حق ہیں، اور محمد حق اور سچ ہیں۔ اے اللہ، میں تجھ پر ایمان لایا، میں تیرا ہی فرمانبردار ہوا، میں نے تجھ پر ہی توکّل کیا، اور میں نے تیری طرف ہی رجوع کیا، اور میں تیری توفیق اور براہین ہی کے ساتھ (تیرے مخالفین سے) جھگڑا کرتا ہوں، اور میں تجھ ہی سے فیصلہ چاہتا ہوں، لہٰذا تو میرے اگلے پچھلے گناہ، اور میرے خفیہ اور اعلانیہ سارے گناہ معاف فرما، تُو ہی مقدم کرنے والا اور تُو ہی مؤخر کرنے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور نہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق ہے۔ جناب عبدالکریم نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں، ”تیرے سوا سچا معبود نہیں اور اللہ کی تو فیق و مدد کے سا تھ ہی ساری قوت وطاقت ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1151]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1120، 6317، 7385، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 769، ومالك فى (الموطأ) برقم: 728، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1151، 1152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2597، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3418، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1527، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1355، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4739، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2754، والحميدي فى (مسنده) برقم: 503»
733. (500) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَ يَحْمَدُ بِهَذَا التَّحْمِيدِ وَيَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ لِافْتِتَاحِ صَلَاةِ اللَّيْلِ بَعْدَ التَّكْبِيرِ لَا قَبْلُ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجّد کا آغاز کے لئے حمد و ثناء اور دعا تکبیر کہنے کے بعد پڑھتے تھے، تکبیر سے پہلے نہیں
حدیث نمبر: 1152
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ وَهُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ، قَالَ بَعْدَمَا يُكَبِّرُ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قِيَامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز تہجّد کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہنے کے بعد یہ (حمد و ثناء اور دعا) پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قِيَامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَ وَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِیْرُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلٰھِیْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ» ”اے اللہ، سب تعریفیں تیرے لئے ہیں، تُو آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اور تمام تعریفات کے لائق تُو ہی ہے تُو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے اور سنبھالنے والا ہے، اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں، تُو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب کا پروردگار ہے، تُو حق ہے، تیرا فرمان سچ ہے، اور تیرا وعدہ برحق اور تیری ملاقات سچ ہے اور جنّت حق ہے، اور جہنّم برحق ہے اور قیامت بھی سچ ہے۔ اے اللہ میں تیرا فرمانبردار ہوں، اور تجھ پر ایمان لایا ہوں، میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں اور تیری ہی طرف لوٹتا ہوں، اور میں تیری ہی عدالت سے فیصلہ چاہتا ہوں اور تیری ہی توفیق سے جھگڑتا ہوں، اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اے اللہ، میرے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما، میرے پوشیدہ اور علانیہ گناہوں کو بخش دے تُو میرا الہٰ ہے، تیرے سوا کوئی سچا الہٰ نہیں ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1152]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1120، 6317، 7385، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 769، ومالك فى (الموطأ) برقم: 728، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1151، 1152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2597، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3418، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1527، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1355، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4739، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2754، والحميدي فى (مسنده) برقم: 503»