🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
813. (580) بَابُ ذِكْرِ بِنَاءِ أَوَّلِ مَسْجِدٍ بُنِيَ فِي الْأَرْضِ وَالثَّانِي وَذِكْرِ الْقَدْرِ الَّذِي بَيْنَ أَوَّلِ بِنَاءِ مَسْجِدٍ وَالثَّانِي
زمین پر تعمیر کی گئی پہلی اور دوسری مسجد کی تعمیر کا بیان اور پہلی اور دوسری مسجد کی تعمیر کی درمیانی مدت اور وقفے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1290
نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَبِي نَجْلِسُ فِي الطَّرِيقِ فَيَعْرِضُ عَلَيَّ الْقُرْآنَ، وَأَعْرِضُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَرَأَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ:" مَسْجِدُ الْحَرَامِ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" ثُمَّ الْمَسْجِدُ الأَقْصَى"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" ثُمَّ الْمَسْجِدُ الأَقْصَى"، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ:" أَرْبَعُونَ سَنَةً"، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاةَ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ"
جناب ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے والد بزرگوار راستے میں بیٹھ کر قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے، کہتے ہیں کہ (ایک دفعہ) اُنہوں نے سجدہ والی آیت تلاوت کی تو سجدہ بھی کیا۔ میں نے اُن سے عرض کی، کیا آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں، میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، روئے زمین پر سب سے پہلے کونسی مسجد بنائی گئی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام (بیت اللہ)۔ میں نے پوچھا کہ پھر کونسی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مسجد اقصٰی میں نے دریافت کیا، ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں جہاں نماز کا وقت ہو جائے (وہیں) تم نماز پڑھ لو، وہی مسجد ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1290]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3366، 3425، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 520، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 787، 1290، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1598، 6228، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 689، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 753، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4331، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21728»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
814. (581) بَابُ فَضْلِ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ إِذَا كَانَ الْبَانِي يَبْنِي الْمَسْجِدَ لِلَّهِ لَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً
مساجد بنانے کی فضیلت کا بیان جبکہ مسجد بنانے والا اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے تعمیر کرے، ریاکاری اور شہرت کا حصول اس کے پیش نظر نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1291
نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ"
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنّت میں گھر بنائے گا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1291]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 450، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 533، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1291، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1609، والترمذي فى (جامعه) برقم: 318، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1432، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 736، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4357، وأحمد فى (مسنده) برقم: 441»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
815. (582) بَابٌ فِي فَضْلِ الْمَسْجِدِ وَإِنْ صَغُرَ الْمَسْجِدُ وَضَاقَ
مسجد (بنانے کی) فضیلت کا بیان اگرچہ چھوٹی اور تنگ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1292
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَفَرَ مَاءً لَمْ يَشْرَبْ مِنْهُ كَبِدٌ حَرِيٌّ مِنْ جِنٍّ وَلا إِنْسٍ وَلا طَائِرٍ إِلا آجَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ بَنَى مَسْجِدًا كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ أَوْ أَصْغَرَ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ" قَالَ يُونُسُ: مِنْ سَبْعٍ وَلا طَائِرٍ، وَقَالَ: كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے پانی کا کنواں کُھدوایا، جس سے جاندار جن، انسان اور پرندے پیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اُسے اجر و ثواب عطا کرے گا۔ اور جس شخص نے چڑیا کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد بنائی، تو اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنّت میں گھر بنائے گا۔ جناب یونس کے الفاظ یہ ہیں کہ جو درندہ یا پرندہ بھی پیئے گا ـ اور کہا کہ چڑیا کے گھونسلے جتنی مسجد [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1292]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 738، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1557»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
816. (583) بَابُ فَضْلِ الْمَسَاجِدِ إِذْ هِيَ أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللَّهِ
مساجد کی فضیلت کا بیان کیونکہ وہ اللہ تعالی کے نزدیک پسندیدہ ترین جگہیں ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1293
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مِكْتَلٍ ، وَأَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحَبُّ الْبِلادِ إِلَى اللَّهِ مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ الْبِلادِ إِلَى اللَّهِ أَسْوَاقُهَا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہروں میں پسندیدہ ترین جگہیں اس کی مساجد ہیں۔ اور اللہ کے نزدیک بد ترین جگہیں بازار ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1293]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 671، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1293، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1600، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5063، والبزار فى (مسنده) برقم: 8839»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
817. (584) بَابُ الْأَمْرِ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ
محلّوں میں مساجد تعمیر کرنے کا حُکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1294
نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، نَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ فِي الدُّورِ"
سیدہ عا ئشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محلّوں میں مساجد تعمر کرنے کا حُکم دیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1294]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1294، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1634، وأبو داود فى (سننه) برقم: 455، والترمذي فى (جامعه) برقم: 594، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 758، 759، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4377، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27028»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
818. (585) بَابُ تَطْيِيبِ الْمَسَاجِدِ
مساجد کو خوشبو سے معطر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1295
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَتَّهَا بِيَدِهِ، يَعْنِي النُّخَامَةَ أَوِ الْبُزَاقَ، ثُمَّ لَطَّخَهَا بِالزَّعْفَرَانِ، دَعَا بِهِ" . قَالَ: فَلِذَلِكَ صُنِعَ الزَّعْفَرَانُ فِي الْمَسَاجِدِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے بلغم یا تُھوک کو رگڑ کر صاف کر دیا پھر اُس پر زعفران منگوا کر اُس کی لیپ کردی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، اس لئے مساجد میں زعفران لگایا جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1295]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 406، 753، 1213، 6111، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 547، ومالك فى (الموطأ) برقم: 663، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 923، 1295، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 723، وأبو داود فى (سننه) برقم: 479، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 763، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3659، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4597»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1296
نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا، فَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحْسَنَ هَذَا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ رخ ناک کی ریزش لگی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک (غصّے کی وجہ سے) سرخ ہوگیا، تو ایک انصاری عورت آئی، اُس نے اس گندگی کو کھرچ کر صاف کردیا، اور اس کی جگہ پر زعفران سے بنی خوشبو لگا دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا بہترین کام ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ حدیث نہایت غریب ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1296]
تخریج الحدیث: «اسناده جيد، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 405، 412، 413، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 551، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2267، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 727، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 762، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12245»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
819. (586) بَابُ فَضْلِ إِخْرَاجِ الْقَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ
مسجد سے کوڑا کرکٹ صاف کرنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297
نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْحَكَمِ ، نَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا هُوَ أَعْظَمُ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر میری اُمّت کے اجر و ثواب پیش کیے گئے حتیٰ کہ وہ تنکا بھی جسے کوئی آدمی مسجد سے نکال دیتا ہے۔ اور مجھ پر میری اُمّت کے گناہ پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن مجید کی کوئی سورت یا آیت دی گئی (اُس نے یاد کی) پھر اُس نے اُسے بھلا دیا (اسے یاد رکھا نہ اس پر عمل کیا۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1297]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1297، وأبو داود فى (سننه) برقم: 461، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2916، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4381، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4265، والبزار فى (مسنده) برقم: 6219، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 5977، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 6489، والطبراني فى (الصغير) برقم: 547»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
820. (587) بَابُ ذِكْرِ بَدْءِ تَحْصِيبِ الْمَسْجِدِ كَانَ
مسجد میں کنکریاں بچھانے کی ابتداء کا بیان،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1298
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمَسَاجِدَ إِنَّمَا تُحَصَّبُ حَتَّى لَا يُقَذِّرَ الطِّينُ وَالْبَلَلُ الثِّيَابَ إِذَا مُطِرُوا، إِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ مسجد میں کنکریاں اس لئے بچھائی جائیں گی تاکہ بارش کی وجہ سے کیچڑ اور تری (پانی) سے کپڑے خراب نہ ہوں۔ اگر اس سلسلے میں مروی حدیث صحیح ہو [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: Q1298]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1298
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، نَا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي قُشَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ: مَا بَدْءُ هَذَا الْحَصَا فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: مُطِرْنَا مِنَ اللَّيْلِ، فَجِئْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ لِلصَّلاةِ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَحْمِلُ فِي ثَوْبِهِ الْحَصَا، فَيُلْقِيَهُ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا؟" فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ:" نِعْمَ الْبِسَاطُ هَذَا" قَالَ: فَاتَّخَذَهُ النَّاسُ قَالَ: قُلْتُ: مَا كَانَ بَدْءُ هَذَا الزَّعْفَرَانِ؟ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلاةِ الصُّبْحِ، فَإِذَا هُوَ بِنُخَاعَةٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَكَّهَا، وَقَالَ:" مَا أَقْبَحَ هَذَا" قَالَ: فَجَاءَ الرَّجُلُ الَّذِي تَنَخَّعَ فَحَكَّهَا، ثُمَّ طَلَى عَلَيْهَا الزَّعْفَرَانَ، قَالَ:" إِنَّ هَذَا أَحْسَنُ مِنْ ذَلِكَ" قَالَ: قُلْتُ: مَا بَالُ أَحَدِنَا إِذَا قَضَى حَاجَتَهُ نَظَرَ إِلَيْهَا إِذَا قَامَ عَنْهَا؟ فَقَالَ:" إِنَّ الْمَلَكَ يَقُولُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا نَحَلْتَ بِهِ إِلَى مَا صَارَ"
جناب ابو الولید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ مسجد میں یہ کنکریاں بچھانے کی ابتدا کیسے ہوئی؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ایک رات ہم پر بارش ہوئی، تو ہم نماز پڑھنے کے لئے مسجد آئے، تو آدمی اپنے کپڑے میں کنکریاں اُٹھا کر لے آتا اُسے بچھا کر اس پر نماز پڑھ لیتا۔ پھر جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ تو صحابہ کرام نے صورت حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بہت اچھا بچھونا ہے۔ چنانچہ لوگوں نے کنکریاں بچھانا شروع کر دیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا، یہ زعفران لگانا کب شروع ہوا؟ اُنہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لئے تشریف لائے تو اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں ناک کی ریزش دیکھی - تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کُھرچ دیا اور فرمایا: یہ کتنی قبیح اور گندی حرکت ہے۔ چنانچہ جس شخص نے وہ ریزش پھینکی تھی وہ آیا اور اُس نے اُسے صاف کر دیا اور پھر اُس پر زغفران کا لیپ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس سے بہتر اور احسن حرکت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی، کیا وجہ ہے جب ہم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت (پیشاب، پاخانے) سے فارغ ہوتا ہے تو اُٹھتے وقت اُس کی طرف دیکھتا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ بیشک ایک فرشتہ کہتا ہے کہ جو چیز تم نے حاصل کی تھی اُسکے انجام کو دیکھ۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1298]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1298، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 235، وأبو داود فى (سننه) برقم: 458، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4382»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں