🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
834. (601) بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُرُورِ بِالسِّهَامِ فِي الْمَسَاجِدِ مِنْ غَيْرِ قَبْضٍ عَلَى نُصُولِهَا
مساجد سے تیروں کی پیکان تھامے بغیر گزرنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1316
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنَ دِينَارٍ : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مَرَّ بِأَسْهُمٍ فِي الْمَسْجِدِ:" أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا" قَالَ: نَعَمْ، هَذَا حَدِيثُ الْمَخْزُومِيِّ
ابن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا، کیا تم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا جو کہ مسجد سے تیر لیکرگز رہا تھا۔ ”ان کی پیکانوں کو پکڑ لو۔“ عمرو بن دینار نے کہا کہ ہاں (میں نے یہ حدیث سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔) یہ حدیث مخزومی کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1316]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 451، 7073، 7074، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2614، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1316، 1317، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1647، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 717، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2586، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3777، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15977، 15978، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14531، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1289»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1317
نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا شُعَيْبٌ ، نَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلا كَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ أَلا يَمُرَّ بِهَا إِلا وَهُوَ آخِذٌ بِنِصَالِهَا"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حُکم دیا، جو کہ مسجد میں تیر تقسیم کررہا تھا کہ وہ تیروں کے پیکان پکڑ کر مسجد سے گزرے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1317]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 451، 7073، 7074، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2614، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1316، 1317، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1647، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 717، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2586، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3777، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15977، 15978، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14531، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1289»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
835. (602) بَابُ ذِكْرِ الْعِلَّةِ الَّتِي لَهَا أَمَرَ بِالْإِمْسَاكِ عَلَى نِصَالِ السَّهْمِ إِذَا مَرَّ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ
اس علت کا بیان جس کی وجہ سے مسجد میں تیروں کے پیکان پکڑ کر گزرنے کا حُکم دیا گیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1318
نَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا شَيْءٌ"، أَوْ قَالَ:" فَلْيَقْبِضْ عَلَى نُصُولِهَا"
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں سے تیرلیکر گزرے تو اُسے چاہیے کہ وہ ان کے پھل اپنے ہاتھ میں پکڑلے، تاکہ کسی مسلمان کو ان سے تکلیف نہ پہنچے۔“ یا فرمایا کہ ”ان کے پھلوں کو پکڑلے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1318]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 452، 7075، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2615، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1318، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1649، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2587، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3778، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15976، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19797»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
836. (603) بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِيطَانِ الرَّجُلِ الْمَكَانَ مِنَ الْمَسْجِدِ،
کسی آدمی کو مسجد میں اپنے لئے جگہ مخصوص کرنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1319
وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْمَسْجِدَ لِمَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ، لَيْسَ أَحَدٌ أَحَقَّ بِمَوْضِعٍ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ غَيْرِهِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ (الْجِنِّ: 18) .
اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ مسجد پر اسی کا حق ہے جو اس میں پہلے آتا ہے۔ کسی شخص کو مسجد کے کسی حصّے پر دوسرے کی نسبت زیادہ حق حاصل نہیں ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: «‏‏‏‏وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ» ‏‏‏‏ [ سورة الجن: 18 ] ”بیشک مساجد اللہ کے لئے ہیں“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: Q1319]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1319
نَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَأَبُو عَاصِمٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَافْتِرَاشِ السَّبْعِ، وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ أَوِ الْمَقَامَ كَمَا يُوَطِّنُهُ الْبَعِيرُ" يَعْنِي فِي الْمَسْجِدِ
سیدنا عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز میں) کوّے کی طرح ٹھونگیں مارنے، درندے کی طرح (بازو) پھیلانے اور مسجد میں کسی آدمی کو اس طرح اپنے لئے مخصوص جگہ یا مقام مقرر کرنے سے منع فرمایا ہے جس طرح اُونٹ اپنے بیٹھنے کے لئے جگہ مخصوص کرتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1319]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 662، 1319، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2277، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 839، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1111، وأبو داود فى (سننه) برقم: 862، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1362، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1429، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2773، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15772»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
837. (604) بَابُ الْأَمْرِ بِتَوْسِعَةِ الْمَسَاجِدِ إِذَا بُنِيَتْ
کشادہ اور وسیع مساجد بنانے کے حُکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1320
نَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، نَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ دِرْهَمٍ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْنُونَ مَسْجِدًا، فَقَالَ لَهُمْ:" أَوْسِعُوهُ تَمْلَئُوهُ"
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ایک قوم کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ مسجد بنا رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں حُکم دیا: ”اسے کشادہ بناؤ تم اسے (اپنی تعداد سے) بھر دوگے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1320]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1320، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4374، 4375، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 639، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 347»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
838. (605) بَابُ كَرَاهَةِ التَّبَاهِي فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ وَتَرْكِ عِمَارَتِهَا بِالْعِبَادَةِ فِيهَا
مساجد کی تعمیر میں فخر و مباہات اور انہیں عبادت کے ساتھ آباد نہ کرنا مکروہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1321
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ بِبَغْدَادَ وَأَصْلُهُ بَصْرِيٌّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ، قَالَ أَبُو قِلابَةَ الْجَرْمِيُّ : انْطَلَقْنَا مَعَ أَنَسٍ نُرِيدُ الزَّاوِيَةَ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِمَسْجِدٍ فَحَضَرَتْ صَلاةُ الصُّبْحِ، فَقَالَ أَنَسٌ : لَوْ صَلَّيْنَا فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، فَإِنَّ بَعْضَ الْقَوْمِ يَأْتِي الْمَسْجِدَ الآخَرَ، قَالُوا: أَيُّ مَسْجِدٍ؟ فَذَكَرْنَا مَسْجِدًا، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَتَبَاهَوْنَ بِالْمَسَاجِدِ لا يَعْمُرُونَهَا إِلا قَلِيلا، أَوْ قَالَ: يَعْمُرُونَهَا قَلِيلا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الزَّاوِيَةُ قَصْرٌ مِنَ الْبَصْرَةِ عَلَى شَبَهٍ مِنْ فَرْسَخَيْنِ
حضرت ابوقلابہ جرمی بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ زاویہ مقام کی طرف جارہے تھے تو ہم ایک مسجد کے پاس سے گزرے جبکہ صبح کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ چنانچہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اگر ہم اس مسجد میں نماز پڑھ لیں (تو بہتر ہے) کیونکہ کچھ لوگ تو دوسری مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ اُنہوں نے پوچھا کہ کونسی مسجد؟ تو ہم نے ایک مسجد کا ذکر کیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک وقت آئے گا کہ وہ مساجد پر فخر کا اظہار کریں گے۔ وہ اسے آباد نہیں کریں گے مگر بہت تھوڑا۔ یا فرمایا کہ ”وہ اسے بہت کم آباد کریں گے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ”زاويہ“ بصرہ سے دو فرسخ کے فاصلے پر ایک محل ہے (جہاں پر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زمین اور گھر تھا۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1321، 1322، 1323، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1613، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 449، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1448، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 739، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4367، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12574»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
839. (606) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ التَّبَاهِيَ فِي الْمَسَاجِدِ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ مساجد کے بارے میں فخر و مباہات کا اظہار کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1322
نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَبَاهَى النَّاسُ بِالْمَسَاجِدِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ لوگ مساجد کے بارے میں فخر و مباہات کا اظہار کریں گے ـ“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1322]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1321، 1322، 1323، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1613، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 449، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1448، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 739، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4367، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12574»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1323
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، نَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہوگی حتّیٰ کہ لوگ مساجد (کی تعمیر و تزئین) میں فخر و مباہات کرنے لگیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1323]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1321، 1322، 1323، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1613، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 449، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1448، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 739، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4367، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12574»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
840. (607) بَابُ صِفَةِ بِنَاءِ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ عَلَى عَهْدِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1324
أنا أنا أبو طاهر، نا أبو بكر، نا محمد بن يحيى، نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، ح وثنا علي بن سعيد النسوي، نا يعقوب، - يعني ابن إبراهيم، ثنا أبي، عن صالح، أخبرنا نافع، أن عبد الله أخبره: أن المسجد كان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مبنيا باللبن وسقفه الجريد وعمده خشب النخل، فلم يزد فيه أبو بكر شيئا وزاد فيه عمر، وبناه على بنيانه في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم باللبن والجريد، وأعاد عمده خشبا، ثم غيره عثمان، فزاد فيه زيادة كثيرة، وبنى جداره بالحجارة المنقوشة والقصة، وجعل عمده حجارة منقوشة، وسقفه بالساج . قال محمد بن يحيى: وعمده خشب النخل، ولم يذكر القصة.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اینٹوں سے بنی ہوئی تھی، اس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں سے ڈالی گئی تھی اور اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (اپنے عہد میں) اس میں کچھ اضافہ نہیں کیا۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ (کرکے اسے کشادہ اور وسیع) کیا۔ اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کی بنیادوں پر اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے تعمیر کیا اور اس کے ستون لکڑی سے دوبارہ بنوائے پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس میں تبدیلی کی اور کافی اضافہ کیا۔ اُنہوں نے اس کی دیواریں منقّش پتھروں اور چونے سے بنوائیں، اور اس کے ستون بھی منقّش پتھروں سے تعمیر کرائے، اور اس کی چھت ساگوان کی عمدہ لکڑی سے ڈالی۔ محمد بن یحییٰ کی روایت میں الفاظ اس طرح ہیں کہ ”اور اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے بنوائے۔ اور اُنہوں نے چونے کا ذ کر نہیں کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1324]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 446، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1324، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1601، وأبو داود فى (سننه) برقم: 451، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4362، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6248، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 5129»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں