🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
991. (40) بَابُ الزَّجْرِ عَنْ إِمَامَةِ الْمَرْءِ مَنْ يَكْرَهُ إِمَامَتَهُ
جس شخص کی امامت کو ناپسند کیا جاتا ہو، اُس کے لئے امامت کرانا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1518
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثَةٌ لا تُقْبَلُ مِنْهُمْ صَلاةٌ، وَلا تَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ، وَلا تُجَاوِزُ رُءُوسَهُمْ: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَرَجُلٌ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَلَمْ يُؤْمَرْ، وَامْرَأَةٌ دَعَاهَا زَوْجُهَا مِنَ اللَّيْلِ فَأَبَتْ عَلَيْهِ"
عطاء بن دینار ہذلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین افراد کی نماز قبول نہیں ہوتی، نہ آسمان کی طرف چڑھتی ہے اور نہ وہ ان کے سروں سے اوپر اُٹھتی ہے۔ وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کرائی حالانکہ وہ اُسے ناپسند کرتے ہوں۔ وہ شخص جو کہے بغیر جنازہ پڑھاتا ہے۔ وہ عورت جسے اُس کا شوہر رات کو بلاتا ہے تو وہ انکار کر دیتی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1518، وانفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1519
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، يَرْفَعُهُ يَعْنِي: مِثْلَ هَذَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمْلَيْتُ الْجُزْءَ الأَوَّلَ وَهُوَ مُرْسَلٌ ؛ لأَنَّ حَدِيثَ أَنَسٍ الَّذِي بَعْدَهُ حَدَّثَنَاهُ عِيسَى فِي عَقِبِهِ، يَعْنِي بِمِثْلِهِ، لَوْلا هَذَا لَمَا كُنْتُ أُخَرِّجُ الْخَبَرَ الْمُرْسَلَ فِي هَذَا الْكِتَابِ
عمرو بن ولید سیدنا انس بن مالک رضی االلہ عنہ سے مذکورہ بالا جیسی روایت بیان کرتے ہیں جسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے حدیث کا پہلا حصہ لکھوا دیا ہے حالانکہ وہ مرسل ہے کیونکہ اس کے بعد آنے والی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث اسی کے مثل ہے جو ہمیں عیسٰی نے بیان کی ہے، اگر یہ روایت موجود نہ ہوتی تو میں اپنی اس کتاب میں مرسل روایت بیان نہ کرتا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1519]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1519، والترمذي فى (جامعه) برقم: 358، والبزار فى (مسنده) برقم: 6707»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
992. (41) بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِمَامَةِ الزَّائِرِ
ملاقات کے لئے آنے والے شخص کی امامت ممنوع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1520
أنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ رَجُلٌ مِنَّا، وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارِ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا عَطِيَّةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ، قَالَ: أَتَانَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَقِيلَ لَهُ: تَقَدَّمْ، قَالَ: لِيَؤُمَّكُمْ رَجُلٌ مِنْكُمْ، فَلَمَّا صَلَّوْا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا زَارَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلا يَؤُمَّهُمْ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ" . وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ:" لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُكُمْ، حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لا أَتَقَدَّمُ"
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو نماز کا وقت ہو گیا۔ اُن سے عرض کی گئی کہ آگے بڑھیں (اور جماعت کرا دیں)۔ اُنہوں نے فرمایا کہ تم ہی میں سے کسی شخص کو جماعت کرانی چاہیے۔ جب اُنہوں نے نماز ادا کر لی تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص کسی قوم کی ملاقات کے لئے جائے تو وہ اُنہیں امامت نہ کرائے، اُن ہی میں سے کسی شخص کو اُن کی امامت کرانی چاہئے۔“ جناب وکیع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص آگے بڑھے (اور جماعت کرائے) میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1520]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1520، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 786، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 864، وأبو داود فى (سننه) برقم: 596، والترمذي فى (جامعه) برقم: 356، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5407، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15842»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
993. (42) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي قِيَامِ الْإِمَامِ عَلَى مَكَانٍ أَرْفَعَ مِنْ مَكَانِ الْمَأْمُومِينَ لِتَعْلِيمِ النَّاسِ الصَّلَاةَ
مقتدیوں کو نماز سکھانے کے لئے امام کا مقتدیوں سے بلند جگہ پر کھڑے ہونا درست ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1521
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ سَهْلٍ أَنَّهُ جَاءَهُ نَفَرٌ يَتَمَارَوْنَ فِي الْمِنْبَرِ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ؟ وَمَنْ عَمِلَهُ؟ فَقَالَ سَهْلٌ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ، وَمَنْ عَمِلَهُ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ قَامَ عَلَيْهِ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلانَةَ، قَالَ: إِنَّهُ لَيُسَمِّيهَا يَوْمَئِذٍ، وَنَسِيتُ اسْمَهَا:" أَنْ مُرِي غُلامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلْ لِي أَعْوَادًا أُكَلِّمِ النَّاسَ عَلَيْهَا"، فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلاثَ الدَّرَجَاتِ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَيْهِ، فَكَبَّرَ، فَكَبَّرَ النَّاسُ خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعَ، وَرَكَعَ النَّاسُ، ثُمَّ رَفَعَ، وَنَزَلَ الْقَهْقَرِيَّ، ثُمَّ سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلاتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:" إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَتَعَلَّمُوا صَلاتِي"
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُن کے پاس کچھ لوگ آئے جو اس بات میں جھگڑ رہے تھے کہ منبر نبوی کس لکڑی سے بنا ہے؟ اور اسے کس شخص نے بنایا تھا؟ تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آگاہ رہو، اللہ کی قسم! مجھے خوب علم ہے کہ یہ کس لکڑی سے بنا ہے اور اسے کس نے بنایا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے دن اس پر کھڑے ہوئے دیکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کی طرف پیغام بھیجا۔ ابوحازم کہتے ہیں کہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے اُس دن اُس عورت کا نام ذکر کیا تھا مگر میں بھول گیا ہوں کہ وہ اپنے بڑھئی غلام کو حکم دے کہ وہ میرے لئے سیڑھیوں والا منبر بنا دے تاکہ میں اُس پر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کروں۔ اُس نے غابہ مقام کے جھاؤ کی لکڑی سے یہ تین سیڑھیاں بنا دیں۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر کھڑے ہوئے اور اللہ اکبر کہا: (اور نماز شروع کر دی) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (صفیں بنا کر) تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (منبر ہی پر) رکوع کیا اور لوگوں نے بھی رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور الٹے پاؤں نیچے اُتر آئے، پھر منبر کی جڑ میں سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ منبر پر چڑھے حتّیٰ کہ آپ نے اپنی نماز مکمل کی۔ پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”میں نے یہ عمل اس لئے کیا ہے تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز (کا طریقہ) سیکھ لو۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1521]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 377، 448، 917، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 544، وابن الجارود فى "المنتقى"، 342، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1521، 1522، 1779، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2142، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 738، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1080، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1416، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5310، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23263، والحميدي فى (مسنده) برقم: 955»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1522
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَقُلْ:" إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَتَعَلَّمُوا صَلاتِي"
حضرت ابوحازم نے مکمل حدیث بیان کی اور یہ الفاظ روایت نہیں کیے: ”بیشک میں نے یہ عمل اس لئے کیا ہے کہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 377، 448، 917، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 544، وابن الجارود فى "المنتقى"، 342، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1521، 1522، 1779، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2142، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 738، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1080، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1416، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5310، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23263، والحميدي فى (مسنده) برقم: 955»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
994. (43) بَابُ النَّهْيِ عَنْ قِيَامِ الْإِمَامِ عَلَى مَكَانٍ أَرْفَعَ مِنَ الْمَأْمُومِينَ إِذَا لَمْ يُرِدْ تَعْلِيمَ النَّاسِ
جب مقتدیوں کو نماز کی تعلیم دینا مقصود نہ ہو تو امام کا مقتدیوں سے بلند مقام پر کھڑے ہونا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1523
نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، عَنِ الشَّافِعِيِّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا حُذَيْفَةُ عَلَى دُكَّانٍ مُرْتَفِعٍ، فَسَجَدَ عَلَيْهِ، فَجَبَذَهُ أَبُو مَسْعُودٍ، فَتَابَعَهُ حُذَيْفَةُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ:" أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا؟" فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ:" أَلَمْ تَرَنِي قَدْ تَابَعْتُكَ؟"
ہمام بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک بلند چبوترے (دکان) پر ہمیں نماز پڑھائی (جبکہ لوگ نیچے کھڑے تھے) اُنہوں نے اُس پر سجدہ کیا، تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے اُنہیں (کپڑے سے پکڑ کر) کھینچ لیا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی اُن کی بات مانتے ہوئے نیچے آ گئے۔ پھر جب نماز مکمل کی تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا اس طرح کرنے سے منع نہیں کیا گیا؟ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا کہ کیا آپ نے مجھے دیکھا نہیں کہ میں نے آپ کی بات مان لی تھی (اور نیچے اُتر کر سجدہ کیا تھا)؟ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1523]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 343، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1523، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2143، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 765، وأبو داود فى (سننه) برقم: 597، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5314، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 6586»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
995. (44) بَابُ إِيذَانِ الْمُؤَذِّنِ الْإِمَامَ بِالصَّلَاةِ
مؤذّن کا امام کو نماز کے وقت کی اطلاع دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1524
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَصَلَّى يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى" . هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات کو سویا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تہجد پڑھی، جس قدر اللہ نے چاہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور سو گئے حتّیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے۔ پھر مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی نماز کی اطلاع کرنے کے لئے آیا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی۔ یہ عبدالجبار کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1524]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، 697، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، 884، 1093، 1094، 1103، 1119، 1121، 1524، 1533، 1534، 1675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 315، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
996. (45) بَابُ انْتِظَارِ الْمُؤَذِّنِ الْإِمَامَ بِالْإِقَامَةِ
مؤذّن کا اقامت کہنے کے لئے امام کا انتظار کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1525
أنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ، ثُمَّ يُمْهِلُ، فَإِذَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَقْبَلَ، أَخَذَ فِي الإِقَامَةِ"
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذن اذان کہتا پھر انتظار کرتا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریف لاتے ہوئے دیکھ لیتا تو اقامت کہنا شروع کر دیتا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1525]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 606، 618، 643، وابن الجارود فى "المنتقى"، 325، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 531، 1447، 1448، 1525، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1823، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 728، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1414، وأبو داود فى (سننه) برقم: 403، 537، 806، والترمذي فى (جامعه) برقم: 202، 507، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 673، 713، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1837، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3044»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
997. (46) بَابُ النَّهْيِ عَنْ قِيَامِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ رُؤْيَتِهِمْ إِمَامَهُمْ
امام کو دیکھنے سے پہلے لوگوں کا نماز کے لئے کھڑا ہونا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1526
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُثْمَانَ الصَّوَّافَ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حَبِيبٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أبي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَلا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي" . وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ: قَالَ:" إِذَا أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِي الأَذَانِ، فَلا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي"
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب نماز کی اقامت کہی جائے تو تم مجھے دیکھے بغیر کھڑے نہ ہونا۔ جناب احمد بن سنان کی روایت میں ہے کہ ”جب مؤذن اقامت کہنی شروع کر دے، تو تم مجھے دیکھے بغیر کھڑے نہ ہوا کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1526]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 635، 637، 638، 909، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 603، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1526، 1644، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1755، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 686، وأبو داود فى (سننه) برقم: 539، والترمذي فى (جامعه) برقم: 592، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22969»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
998. (47) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي كَلَامِ الْإِمَامِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْإِقَامَةِ، وَالْحَاجَةِ تَبْدُو لِبَعْضِ النَّاسِ
اقامت سے فارغ ہونے کے بعد امام بات چیت کرسکتا ہے جبکہ کسی شخص کو ضرورت پیش آجائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1527
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَرَجُلٌ يُنَاجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى" . وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ:" أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ بِرَجُلٍ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ حَتَّى نَامَ بَعْضُ الْقَوْمِ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کی اقامت کہہ دی گئی اور ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے لگا، حتّیٰ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔ جناب الدورقی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نماز کی اقامت ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے کونے میں ایک شخص کے ساتھ آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اُس وقت کھڑے ہوئے جبکہ کچھ لوگ سو چکے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1527]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 642، 643، 6292، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 376، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1527، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2035، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 790، وأبو داود فى (سننه) برقم: 201، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 598، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12169»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں