🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
962. (11) بَابُ ذِكْرِ أَثْقَلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَتَخَوُّفِ النِّفَاقِ عَلَى تَارِكِ شُهُودِ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي الْجَمَاعَةِ
منافقین پر سب سے بھاری نماز کا بیان، اور نماز عشاء اور نماز صبح باجماعت نہ پڑھنے والے نفاق کے خدشے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1485
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ:" كُنَّا إِذَا فَقَدْنَا الإِنْسَانَ فِي صَلاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ وَالصُّبْحِ أَسَأْنَا بِهِ الظَّنَّ"
سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب ہم کسی شخص کو نماز عشاءاور فجر میں موجود نہ پاتے توہم اس کے بارے میں بُرا گمان کرتے (کہ وہ منافق ہوگیا ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1485]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1485، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2099، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 769، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5032، والبزار فى (مسنده) برقم: 5847، 5848، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 3372، والطبراني فى(الكبير) برقم: 13085»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
963. (12) بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ فِي الْقُرَى وَالْبَوَادِي وَاسْتِحْوَاذِ الشَّيْطَانِ عَلَى تَارِكِهَا
بستیوں اور دیہاتوں میں نماز باجماعت ترک کرنے میں سختی کا بیان، اور نماز باجماعت ترک کرنے والے پر شیطان کے غلبے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1486
نَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ حُبَيْشٍ الْكَلاعِيِّ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، نَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، نَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلاعِيُّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَيْنَ مَسْكَنُكَ؟ قُلْتُ: قَرْيَةٌ دُونَ حِمْصَ، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ ثَلاثَةِ نَفَرٍ فِي قَرْيَةٍ، وَلا بَدْوٍ، فَلا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلاةُ إِلا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ" ، وَقَالَ الْمَسْرُوقِيُّ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِنَّ الذِّئْبَ يَأْخُذُ الْقَاصِيَةَ"
جناب معدان بن ابی طلحہ یعمری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تمہارا گھر کہاں ہے؟ میں نے جواب دیا کہ حمص سے پہلے ایک بستی میں ہے۔ سیدنا ابودراء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس بستی اور گاؤں میں بھی تین شخص موجود ہوں پھر وہاں نماز (باجماعت) قائم نہ کی جائے تو شیطان ان پر غالب آجاتا ہے۔ لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑ لو۔ کیونکہ بھیڑیا دُور تنہا ہونے والی بھیڑ کو کھا جاتا ہے۔ جناب مسروقی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک بھیڑیا دُور اور تنہا ہونے والی بھیڑ (بکری) کو پکڑ لیتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1486]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1486، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2101، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 770، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 846، وأبو داود فى (سننه) برقم: 547، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5007، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22124»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
964. (13) بَابُ صَلَاةِ الْمَرِيضِ فِي مَنْزِلِهِ جَمَاعَةً إِذَا لَمْ يُمْكِنْهُ شُهُودُهَا فِي الْمَسْجِدِ لِعِلَّةٍ حَادِثَةٍ
بیمار شخص کا اپنے گھر میں نماز باجماعت پڑھنے کا بیان، جبکہ کسی علت کی وجہ سے وہ مسجد میں حاضر نہ ہوسکتا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1487
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: وُثِبتْ رِجْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَوَجَدْنَاهُ جَالِسًا فِي حُجْرَةٍ لَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ غُرْفَةٌ، قَالَ: فَصَلَّى جَالِسًا، فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّيْنَا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ، قَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا، وَإِذَا صَلَّيْتُ قَائِمًا صَلُّوا قِيَامًا، وَلا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ فَارِسُ لِجَبَّارِيهَا وَمُلُوكِهَا"
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹانگ (تکلیف یا درد کی وجہ سے چلنے پھرنے سے) رک گئی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (تیمار داری کے لئے) گئے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بالا خانے کے سامنے آپ کے حجرہ مبارک میں بیٹھے ہوئے پایا۔ فرماتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمّل کی تو فرمایا: جب میں بیٹھ کر نماز پڑھاؤں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کرو، اور جب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھاؤں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو، اور تم (میرے گرد) اس طرح کھڑے نہ ہوا کرو جس طرح فارسی لوگ اپنے سرداروں اور بادشاہوں کے لئے (دست بستہ) کھڑے ہوتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1487]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1487، 1615، 2660، 2661، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2112، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2848، وأبو داود فى (سننه) برقم: 602، 3863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3082، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5154، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1562، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14425»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
965. (14) بَابُ الرُّخْصَةِ لِلْمَرِيضِ فِي تَرْكِ شُهُودِ الْجَمَاعَةِ
بیمار شخص کے لئے نماز با جماعت ادانہ کرنے کی رخصت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1488
نَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا، فَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلَّى بِالنَّاسِ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ فَمَا رَأَيْنَا مَنْظَرًا أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْهُ، حَيْثُ وَضَحَ لَنَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ تَقَدَّمْ، وَأَرْخَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ فَلَمْ نُوَصَّلْ إِلَيْهِ حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي كُنْتُ أَعْلَمْتُ أَنَّ الإِشَارَةَ الْمَفْهُومَةَ مِنَ النَّاطِقِ قَدْ تَقُومُ مَقَامَ الْمَنْطِقِ إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْهَمَ الصِّدِّيقَ بِالإِشَارَةِ إِلَيْهِ أَنَّهُ أَمَرَهُ بِالإِمَامَةِ فَاكْتَفَى بِالإِشَارَةِ إِلَيْهِ عِنْدَ النُّطْقِ بِأَمْرِهِ بِالإِقَامَةِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین روز تک (نماز پڑھانے کے لئے) ہمارے پاس تشریف نہ لائے، پھر نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے (اسی دوران میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے نظر آنے والے منظر سے زیادہ پسند یدہ منظر ہم نے نہیں دیکھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ آگے بڑھو (اور نماز پڑھاؤ) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ لٹکایا اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کے پاس نہیں پہنچ سکے۔ امام ابوبکر رحمه االله فرماتے ہیں کہ یہ روایت اس قسم سے تعلق رکھتی ہے جسے میں نے بیان کیا ہے کہ سمجھا جانے والا اشارہ کبھی کلام کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اشارے سے سمجھا دیا کہ آپ انہیں امامت کرانے کا حُکم دے رہے ہیں۔ لہٰذ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بول کر نماز پڑھانے کا حُکم دینے کی بجائے صر ف اشارے کو کافی سمجھا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1488]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 680، 681، 754، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 419، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 867، 1488، 1650، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2065، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1830، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1624، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5125، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12255، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1222»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
966. (15) بَابُ فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الْجَمَاعَةِ مُتَوَضِّيًا وَمَا يُرْجَى فِيهِ مِنَ الْمَغْفِرَةِ
جماعت کے لئے وضو کر کے جانے کی فضیلت اور اس میں گناہوں کی مغفرت کی اُمید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1489
نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، نَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا أَبِي ، وَشُعَيْبٌ ، قَالا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ مَشَى إِلَى صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَصَلاهَا مَعَ الإِمَامِ، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ"
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے مکمّل وضو کیا پھر وہ فرض نماز ادا کرنے کے لئے گیا اور اُسے امام کے ساتھ (باجماعت) ادا کرے تو اُس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1489]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 226، وابن الجارود فى "المنتقى"، 74، 79، 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2، 3، 151، 152، 158، 167، 1489، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 360، 1041، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 529، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 84، وأبو داود فى (سننه) برقم: 106، والترمذي فى (جامعه) برقم: 31، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 285، 285 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 271، وأحمد فى (مسنده) برقم: 407»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
967. (16) بَابُ ذِكْرِ حَطِّ الْخَطَايَا وَرَفْعِ الدَّرَجَاتِ بِالْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ مُتَوَضِّيًا
نماز کے لئے با وضو ہوکر جانے سے گناہوں کی بخشش اور درجات کی بلندی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1490
نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، ح وَحَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: ثنا الأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، نَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلاةُ أَحَدِكُمْ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاتِهِ وَحْدَهُ فِي بَيْتِهِ وَفِي سُوقِهِ بِبِضْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ لا يُرِيدُ غَيْرَهَا، لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً" ، هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ، وَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَوْ حَطَّ عَنْهُ، وَقَالَ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، وَالدَّوْرَقِيُّ: وَحَطَّ عَنْهُ، وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ: حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کی جماعت کے ساتھ نماز، اس کی اپنے گھر یا بازار میں اکیلے کی نماز سے پچیس سے زائد درجے فضیلت رکھتی ہے۔ اور یہ اس لئے کہ تم میں سے کوئی شخص جب وضو کرتا ہے تو بہترین وضو کرتا ہے۔ پھر وہ صرف نماز کے لئے گھر سے نکلتا ہے، وہ جو قدم بھی اُٹھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اُس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ یہ بندار کی حدیث ہے ابوموسیٰ کی روایت میں ہے کہ یا اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ جناب بشر بن خالد، مسلم بن جنادہ اور الدورقی کی روایت میں ہے کہ اور اُس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ کے الفاظ روایت کیے ہیں۔ جناب الدورقی کی روایت میں ہے کہ حتّیٰ کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتاہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1490]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 647، 2119، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 666، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1490، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1622، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 794، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 704، والترمذي فى (جامعه) برقم: 603، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 281، 774، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5046، 5047، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7916»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
968. (17) بَابُ ذِكْرِ فَرَحِ الرَّبِّ تَعَالَى بِمَشْيِ عَبْدِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ مُتَوَضِّيًا
مسجد کی طرف وضو کر کے آنے سے رب تعالیٰ کے خوش ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1491
نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَتَوَضَّأُ أَحَدُكُمْ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ وَيُسْبِغُهُ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ لا يُرِيدُ إِلا الصَّلاةَ فِيهِ، إِلا تَبَشْبَشَ اللَّهُ إِلَيْهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِطَلْعَتِهِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص بہترین مکمّل وضو کرتا ہے، پھر وہ مسجد میں صرف نماز پڑھنے کے لئے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس (کی آمد) سے اسی طرح خوش ہوتا ہے جس طرح غائب (سفر وغیرہ پر گئے ہوئے) شخص کے گھر والے اُس کی آمد پر خوش ہوتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1491]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1491، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8180، 8603»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
969. (18) بَابُ ذِكْرِ كَتَبَةِ الْحَسَنَاتِ بِالْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ
نماز کی طرف چل کر جانے سے نیکیوں کے لکھے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1492
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ، ثُمَّ مَرَّ إِلَى الْمَسْجِدِ يَرْعَى الصَّلاةَ، كَتَبَ لَهُ كَاتِبُهُ، أَوْ كَاتِبَاهُ، بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَالْقَاعِدُ يَرْعَى لِلصَّلاةِ كَالْقَانِتِ، وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينَ، مِنْ حَيْثُ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ"
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی وضو کرکے نماز کا اہتمام کرتے ہوئے مسجد کی طرف جاتا ہے تو اُس کی نیکیاں لکھنے والا کاتب اُس کے مسجد کی طرف بڑھنے والے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ اور بیٹھ کر نماز کا انتظار اور اہتمام کرنے والا شخص خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت کرنے والے کی طرح ہے۔ اُسے گھر سے نکلنے کے وقت سے لیکر واپس لوٹنے تک نمازیوں میں لکھا جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1492]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1492، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2038، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 771، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5053، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17712»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
970. (19) بَابُ ذِكْرِ كَتَبَةِ الصَّدَقَةِ بِالْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ
نماز کی طرف چل کر جانے کو صدقہ لکھا جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1493
نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ الْمِصْرِيُّ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ وَهُوَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ نَفْسٍ كُتِبَ عَلَيْهَا الصَّدَقَةُ كُلَّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ، فَمِنْ ذَلِكَ: أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَ الاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَأَنْ تُعِينَ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ وَتَحْمِلَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَتُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَمِنْ ذَلِكَ أَنْ تُعِينَ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ وَتَحْمِلَهُ عَلَيْهَا، وَتُرْفَعَ مَتَاعَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِي بِهَا إِلَى الصَّلاةِ صَدَقَةٌ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام نفوس پر ہر اس دن میں صدقہ فرض کر دیا گیا جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ اور اس میں ایک یہ بھی ہے کہ تم دو افراد کے درمیان عدل و انصاف کرو یہ صدقہ ہے۔ اور تم آدمی کو اُس کی سواری پر سوار ہونے میں مدد دو تو یہ بھی صدقہ ہوگا تم راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹادو تو یہ بھی صدقہ ہوگا۔ اس میں سے یہ بھی ہے کہ تم کسی آدمی کو اُس کی سواری پر سوار کرنے اور اُس کا سامان اُس پر لادنے میں مدد دو تو یہ بھی صد قہ ہو گا۔ پاکیزہ بول بولنا بھی صدقہ ہے۔ اور نماز کے لئے چل کر جانے والے تیرا ہر قدم صدقہ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1493]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2707، 2891، 2989، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1009، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1493، 1494، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 472، 3381، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5956، 7914، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8226»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1494
نَا الْحُسَيْنُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلاةِ صَدَقَةٌ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاکیزہ بول بھی صد قہ ہے اور ہر وہ قدم جو تم چل کر نماز کے لئے جاتے ہو وہ بھی صدقہ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2707، 2891، 2989، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1009، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1493، 1494، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 472، 3381، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5956، 7914، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8226»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں