🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
985. (34) بَابُ إِبَاحَةِ إِمَامَةِ غَيْرِ الْمُدْرِكِ الْبَالِغِينَ إِذَا كَانَ غَيْرُ الْمُدْرِكِ أَكْثَرَ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ مِنَ الْبَالِغِينَ.
غیر بالغ لڑکے کی امامت جائز ہے، جبکہ غیر بالغ لڑکے کو بالغوں سے قرآن مجید زیادی یاد ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1512
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، نا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: كُنَّا عَلَى حَاضِرٍ، فَكَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا رَاجِعِينَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْنُو مِنْهُمْ، فَأَسْمَعُ حَتَّى حَفِظْتُ قُرْآنًا. قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ بِإِسْلامِهِمْ فَتْحَ مَكَّةَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ، جَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِيهِ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا وَافِدُ بَنِي فُلانٍ، وَجِئْتُكَ بِإِسْلامِهِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلامِ قَوْمِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا". قَالَ: فَنَظَرُوا وَأَنَا لَعَلَى حُوَّاءٍ، قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: حُوَّاءٍ عَظِيمٍ، وَقَالَ أَبُو هَاشِمٍ: حُوَّاءٍ، وَقَالا: فَمَا وَجَدُوا فِيهِمْ أَحَدًا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلامٌ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ، وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي، فَكُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ فَتَبْدُو عَوْرَتِي، فَلَمَّا صَلَّيْنَا تَقُولُ لَنَا عَجُوزٌ دَهْرِيَّةٌ: غَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ. قَالَ: فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا. قَالَ: أَحْسَبُهُ. قَالَ: مِنْ مَعْقِدِ النَّحْرَيْنِ، فَذَكَرَ أَنَّهُ فَرِحَ بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا . قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: قَالَ:" لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا"
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک ایسی جگہ رہائش پذیر تھے جہاں لوگ آتے جاتے رہتے تھے۔ لہٰذا قافلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے واپسی پر ہمارے پاس سے گزرے، تو میں اُن کے قریب ہو کر اُن سے (قرآن مجید) سنتا رہا۔ حتّیٰ کہ میں نے کافی سارا قرآن حفظ کر لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے فتح مکہ کے منتظر تھے۔ جب مکہ فتح ہو گیا تو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ ایک آدمی آ کر کہتا کہ اے اللہ کے رسول! میں فلاں قبیلے کا قاصد ہوں اور آپ کی خدمت میں ان کے اسلام قبول کرنے کی خبر لے کر حاضر ہوا ہوں۔ لہٰذا میرے والد گرامی بھی اپنی قوم کے اسلام لانے کی خبر لے کر گئے، پھر جب واپس آئے تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ تم اُس شخص کو اپنا امام بناؤ، جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔ کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس بارے میں غور و فکر اور مشورہ کیا (کہ کسے امام بنایا جائے) جبکہ میں بستی میں تھا۔ دورقی کی روایت میں ہے کہ میں ایک عظیم بستی میں تھا۔ تو لوگوں کو مجھ سے زیادہ قرآن یاد کرنے والا کوئی شخص نہ ملا۔ لہٰذا اُنہوں نے مجھے اپنا امام بنا لیا حالانکہ میں نابالغ لڑکا تھا۔ تو میں نے اُنہیں نماز پڑھائی۔ میں نے اپنی ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ جب میں رکوع یا سجدہ کرتا تو میری شرم گاہ ننگی ہو جاتی۔ جب ہم نے نماز مکمل کی تو ایک طویل العمر بڑھیا نے کہا کہ اپنے قاری کی شرم گاہ کو ہم سے ڈھانپو۔ وہ کہتے ہیں کہ اُنہوں نے مجھے ایک قمیص بنا کر دی۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اُنہوں نے کہا تھا کہ بحرین کے بنے ہوئے ازار بند کی قمیص بنا کر دی۔ یہ بھی بیان کیا کہ وہ قمیص ملنے پر بےحد خوش ہوئے تھے۔ دورقی کی روایت میں ہے: تم میں سے زیادہ قرآن جاننے والے کو تمہاری امامت کرانی چاہیے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1512]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4302، وابن الجارود فى "المنتقى"، 339، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1512، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4389، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 635، وأبو داود فى (سننه) برقم: 585، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5217، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1705، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16147»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
986. (35) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى ضِدِّ قَوْلِ مَنْ كَرِهَ لِلِابْنِ إِمَامَةَ أَبِيهِ.
اُن لوگوں کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جو بیٹے کی باپ کے لئے امامت کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1513
 قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ»
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس مسئلے کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے کہ لوگوں کی امامت ان میں سے وہ شخص کرائے جسے قرآن زیادہ یاد ہو (خواہ وہ بیٹا ہو یا آزاد کردہ غلام۔) [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: Q1513]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
987. (36) بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى الْأَئِمَّةِ فِي تَرْكِهِمْ إِتْمَامَ الصَّلَاةِ، وَتَأْخِيرِهِمُ الصَّلَاةَ
اُن ائمہ کے بارے میں سخت وعید کا بیان جو نماز مکمّل نہیں پڑھاتے اور نمازوں کو تاخیر سے (آخری وقت پر) پڑھاتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1513
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ صَلَاةَ الْإِمَامِ قَدْ تَكُونُ نَاقِصَةً، وَصَلَاةَ الْمَأْمُومِ تَامَّةٌ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ صَلَاةَ الْمَأْمُومِ مُتَّصِلَةٌ بِصَلَاةِ الْإِمَامِ، إِذَا فَسَدَتْ صَلَاةُ الْإِمَامِ، فَسَدَتْ صَلَاةِ الْمَأْمُومِ، زَعَمَ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1513
أنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، نا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ، وَأَتَمَّ الصَّلاةَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكِ شَيْئًا، فَعَلَيْهِ وَلا عَلَيْهِمْ" . هَذَا حَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ، وَمَعْنَى أَحَادِيثِهِمْ سَوَاءٌ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے لوگوں کو صحیح (اول) وقت پر امامت کرائی اور مکمل نماز پڑھائی، تو اسے اور مقتدیوں کو بھی اجر و ثواب ملے گا اور جس شخص نے اس میں کوئی کمی و کوتاہی کی تو اس کا گناہ امام ہی کو ہو گا، مقتدیوں کو نہیں۔ یہ ابن وہب کی روایت ہے۔ تمام راویوں کی حدیث کے معنی ایک ہی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1513]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1513، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2221، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 764، وأبو داود فى (سننه) برقم: 580، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 983، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5414، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17578»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
988. (37) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ انْتِظَارِ الْإِمَامِ إِذَا أَبْطَأَ، وَأَمْرِ الْمَأْمُومِينَ أَحَدَهُمْ بِالْإِمَامَةِ.
جب امام (زیادہ) تاخیر کردے تو اُس کا انتظار نہ کرنے کی رخصت اور مقتدیوں کا کسی ایک مقتدی کو امامت کرانے کا حُکم دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1514
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرٌ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَخَلَّفَ، فَتَخَلَّفَ مَعَهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ: قَالَ: فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ وَقَدْ صَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِجِيئَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ،" فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلِّ"، فَلَمَّا قَضَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ الصَّلاةَ وَسَلَّمَ،" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُغِيرَةُ فَأَكْمَلا مَا سَبَقَهُمَا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ قَدْ يَغْلَطُ فِيهَا مَنْ لا يَتَدَبَّرُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ، وَلا يَفْهَمُ الْعِلْمَ وَالْفِقْهَ، زَعَمَ بَعْضُ مَنْ يَقُولُ بِمَذْهَبِ الْعِرَاقِيِّينَ أَنَّ مَا أَدْرَكَ مَعَ الإِمَامِ آخِرَ صَلاتِهِ، أَنَّ فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمُغِيرَةَ إِنَّمَا قَضَيَا الرَّكْعَةَ الأُولَى ؛ لأَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِنَّمَا سَبَقَهُمَا بِالأُولَى، لا بِالثَّانِيَةِ، وَكَذَلِكَ ادَّعُوا فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا"، فَزَعَمُوا أَنَّ فِيهَ دَلالَةً عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا يَقْضِي أَوَّلَ صَلاتِهِ لا آخِرَهَا، وَهَذَا التَّأْوِيلُ مَنْ تَدَبَّرَ الْفِقْهَ، عَلِمَ أَنَّ هَذَا التَّأْوِيلَ خِلافُ قَوْلِ أَهْلِ الصَّلاةِ جَمِيعًا، إِذْ لَوْ كَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُغِيرَةُ بَعْدَ سَلامِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَضَيَا الرَّكْعَةَ الأُولَى الَّتِي فَاتَتْهُمَا، لَكَانَا قَدْ قَضَيَا رَكْعَةً بِلا جِلْسَةٍ وَلا تَشَهُّدٍ، إِذِ الرَّكْعَةُ الَّتِي فَاتَتْهُمَا، وَكَانَتْ أَوَّلَ صَلاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، كَانَتْ رَكْعَةً بِلا جِلْسَةٍ، وَلا تَشَهُّدٍ. وَفِي اتِّفَاقِ أَهْلِ الصَّلاةِ أَنَّ الْمُدْرِكَ مَعَ الإِمَامِ رَكْعَةً مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ يَقْضِي رَكْعَةً بِجِلْسَةٍ وَتَشَهُّدٍ وَسَلامٍ، مَا بَانَ وَصَحَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْضِ الرَّكْعَةَ الأُولَى الَّتِي لا جُلُوسَ فِيهَا، وَلا تَشَهُّدَ، وَلا سَلامَ، وَإِنَّهُ قَضَى الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ الَّتِي فِيهَا جُلُوسٌ وَتَشَهُّدٌ وَسَلامٌ، وَلَوْ كَانَ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا"، مَعْنَاهُ: أَنِ اقْضُوا مَا فَاتَكُمْ، كَمَا ادَّعَاهُ مَنْ خَالَفَنَا فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، كَانَ عَلَى مَنْ فَاتَتْهُ رَكْعَةٌ مِنَ الصَّلاةِ مَعَ الإِمَامِ أَنْ يَقْضِيَ رَكْعَةً بِقِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسَجْدَتَيْنِ بِغَيْرِ جُلُوسٍ وَلا تَشَهُّدٍ وَلا سَلامٍ. وَفِي اتِّفَاقِهِمْ مَعَنَا أَنَّهُ يَقْضِي رَكْعَةً بِجُلُوسٍ وَتَشَهُّدٍ مَا بَانَ وَثَبَتَ أَنَّ الْجُلُوسَ وَالتَّشَهُّدَ وَالسَّلامَ مِنْ حُكْمِ الرَّكْعَةِ الأَخِيرَةِ، لا مِنْ حُكْمِ الأُولَى، فَمَنْ فَهِمَ الْعِلْمَ وَعَقَلَهُ، وَلَمْ يُكَابِرْ عَلِمَ أَنْ لا تَشَهُّدَ وَلا جُلُوسَ لِلتَّشَهُّدِ، وَلا سَلامَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنَ الصَّلاةِ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (قافلے سے) پیچھے رہ گئے اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ پیچھے رہ گئے۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی۔ وہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ اُنہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ جب اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کو محسو س کیا تو پیچھے ہٹنا چاہا، لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں اشارہ کیا کہ تم ہی نماز پڑھاؤ، پھر جب سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی اور سلام پھیرا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور اُنہوں نے وہ رکعت مکمل کی جو سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ (اُن کے آنے سے) پہلے پڑھا چکے تھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں اُن لوگوں نے غلطی کی ہے جو اس میں تدبّر و تفکرنہیں کر سکے اور نہ وہ علم و دانش سے کام لیتے ہیں۔ اہل عراق کا مذہب اختیار کرنے والے بعض افراد کا یہ دعویٰ ہے کہ نمازی جو حصہ امام کے ساتھ پائے گا وہ اس کی آخری نماز ہو گی اور (وہ یہ کہتے ہیں کہ) اس روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے پہلی رکعت مکمل کی تھی۔ کیونکہ سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ اُن کے آنے سے پہلے پہلی رکعت پڑھا چکے تھے، دوسری رکعت نہیں۔ اسی طرح انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان اور تمہاری جو نماز امام کے ساتھ فوت ہو جائے اس کی قضاء دے لو۔ میں بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نمازی ابتدائی نماز کی قضاء دے گا، آخری حصے کی قضاء نہیں دے گا۔ علمی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہر شخص جان لے گا کہ یہ تاویل تمام مسلمانوں کے قول کے خلاف ہے۔ کیونکہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ کے سلام پھیرنے کے بعد پہلی رکعت کی قضا دی ہوتی جو اُن سے فوت ہو گئی تھی، تو وہ یہ رکعت بغیر جلسہ اور تشہد کے پوری کرتے، کیونکہ ان کی جو رکعت رہ گئی تھی وہ سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ کی پہلی رکعت تھی وہ بغیر جلسہ اور تشہد کے تھی۔ تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ جس شخص کو امام کے ساتھ نماز فجر کی ایک رکعت مل جائے وہ دوسری رکعت جلسہ، تشہد اور سلام کے ساتھ مکمل کرے گا۔ اس سے اس بات کی وضاحت اور تصحیح ہو گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رکعت کی قضا نہیں دی کہ جس میں جلسہ، تشہد اور سلام نہیں ہوتا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت کی قضا دی ہے، جس میں جلسہ، تشہد اور سلام پھیرنا ہوتا ہے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان تمہاری جو نماز فوت ہو جائے اُسے پورا کر لو۔ کا معنی یہ ہوتا کہ تم فوت شدہ نماز کی قضا دے لو جیسا کہ اس مسئلہ میں ہمارے مخالفین کا موقف ہے تو پھر اس شخص کے لئے جس کی امام کے ساتھ ایک رکعت فوت ہو جائے، ضروری ہے کہ وہ ایک رکعت قیام، رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ ادا کرے اور اس میں جلسہ، تشہد اور سلام نہ پھیرے۔ حالانکہ اہل عراق کا ہمارے ساتھ اتفاق ہے کہ وہ رکعت جلسہ اور تشہد کے ساتھ ادا کرے گا۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جلسہ، تشہد اور سلام پھیرنا یہ آخری رکعت کے احکام ہیں، پہلے رکعت کے نہیں۔ لہٰذا جو شخص علمی فہم و فراست رکھتا ہو اور عناد و ہٹ دھری اس کا شیوہ نہ ہو وہ جانتا ہے کہ تشہد کے لئے بیٹھنا اور سلام پھیرنا نماز کی پہلی رکعت نہیں ہے (بلکہ یہ دوسری رکعت کے احکام ہیں)۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1514]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 182، 203، 206، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 274، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 50، 190، 191، 203، 1064، 1514، 1515، 1642، 1645، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1326، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 489، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1، 149، 150، 151، والترمذي فى (جامعه) برقم: 20، 98، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 331، 389، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 267، والدارقطني فى (سننه) برقم: 737، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18421»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
989. (38) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي صَلَاةِ الْإِمَامِ الْأَعْظَمِ خَلْفَ مَنْ أَمَّ النَّاسَ مِنْ رَعِيَّتِهِ، وَإِنْ كَانَ الْإِمَامُ مِنَ الرَّعِيَّةِ يَؤُمُّ النَّاسَ بِغَيْرِ إِذْنِ الْإِمَامِ الْأَعْظَمِ
امامِ اعظم (حکمران، امیر، بادشاہ) کا اپنی رعایا میں سے کسی شخص کی امامت میں نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1515Q
وَإِنْ كَانَ الْإِمَامُ مِنَ الرَّعِيَّةِ يَؤُمُّ النَّاسَ بِغَيْرِ إِذَنِ الْإِمَامِ الْأَعْظَمِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ فِي إِمَامَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ
اگرچہ رعایا میں سے لوگوں کی امامت کرانے والے امام نے امام اعظم سے اجازت نہ لی ہو۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس مسئلے کی دلیل سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کی امامت کے بارے میں مروی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1515Q]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1515
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى لَهُمْ، فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الأَخِيرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلاتَهُ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ"، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ:" أَحْسَنْتُمْ" ، أَوْ قَالَ:" أَصَبْتُمْ"، يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلُّوا الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْخَبَرِ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ الصَّلاةَ إِذَا حَضَرَتْ وَكَانَ الإِمَامُ الأَعْظَمُ غَائِبًا عَنِ النَّاسِ، أَوْ مُتَخَلِّفًا عَنْهُمْ فِي سَفَرٍ، فَجَائِزٌ لِلرَّعِيَّةِ أَنْ يُقَدِّمُوا رَجُلا مِنْهُمْ يَؤُمُّهُمْ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَسَّنَ فِعْلَ الْقَوْمِ أَوْ صَوَّبَهُ، إِذْ صَلُّوا الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا بِتَقْدِيمِهِمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ لِيَؤُمَّهُمْ، وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ بِانْتِظَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَمَّا إِذَا كَانَ الإِمَامُ الأَعْظَمُ حَاضِرًا، فَغَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ أَحَدٌ بِغَيْرِ إِذْنِهِ ؛ لأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ" زَجَرَ عَنْ أَنْ يُؤَمَّ السُّلْطَانُ بِغَيْرِ أَمْرِهِ"
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ تبوک میں شرکت کی۔ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ آیا حتّیٰ کہ ہم نے دیکھا کہ لو گوں نے سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھایا ہوا ہے اور وہ اُنہیں نماز پڑھا رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پا لی اور آخری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی، پھر جب سیدنا عبد الرحمان رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز مکمل کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اس سے مسلمان پریشان ہو گئے اور اُنہوں نے بکثرت سبحان اللہ پڑھنا شروع کر دیا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور پھر فرمایا: تم نے بہت اچھا کام کیا ہے، یا فرمایا: تم نے درست کام کیا ہے۔ آپ اُن پر رشک کر رہے تھے کہ اُنہوں نے نماز کو اُس کے وقت پر ادا کیا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب نماز کا وقت ہو جائے اور امام اعظم لوگوں میں موجود نہ ہو یا وہ سفر میں ان کے پیچھے رہ گیا ہو تو رعایا کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی آدمی کا اپنا امام بنا لیں جو اُنہیں نماز پڑھائے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی االلہ عنہم کے فعل کی تحسین فرمائی ہے یا اسے درست قرار دیا ہے۔ جبکہ انہوں نے سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت کے لئے آگے بڑھا لیا تھا اور نماز کو اس کے وقت پر ادا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں اپنا انتظار کرنے کا حکم نہیں دیا۔ مگر جب امام اعظم موجود ہو تو پھر اُس کی اجازت کے بغیر کسی شخص کے لئے امامت کرانا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمران و امیر کی اجازت کے بغیر اُس کی امامت کرانے سے منع کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1515]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 182، 203، 206، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 274، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 50، 190، 191، 203، 1064، 1514، 1515، 1642، 1645، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1326، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 489، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1، 149، 150، 151، والترمذي فى (جامعه) برقم: 20، 98، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 331، 389، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 267، والدارقطني فى (سننه) برقم: 737، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18421»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1516
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَلا تَؤُمَّنَّ رَجُلا فِي سُلْطَانِهِ وَلا فِي أَهْلِهِ، وَلا تَجْلِسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ" , أَوْ قَالَ:" يَأْذَنُ لَكَ"
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کسی شخص کو اس کی سلطنت و حکومت اور اس کے گھر میں امامت نہ کراؤ اور نہ اُس کی خصوصی مسند پر بیٹھو مگر اُس کی اجازت کے ساتھ۔ یا فرمایا: الّا یہ کہ وہ تمہیں اجازت دے دے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1516]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 673، وابن الجارود فى "المنتقى"، 338، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1507، 1516، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2127، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 893، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 779، وأبو داود فى (سننه) برقم: 582، والترمذي فى (جامعه) برقم: 235، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 980، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5212، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17337، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1086»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
990. (39) بَابُ إِمَامَةِ الْمَرْءِ السُّلْطَانَ بِأَمْرِهِ،
آدمی کا امیر و حکمران کے حُکم سے امامت کرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1517Q
وَاسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ رَجُلًا مِنَ الرَّعِيَّةِ إِذَا غَابَ عَنْ حَضْرَةِ الْمَسْجِدِ الَّذِي يَؤُمُّ النَّاسَ فِيهِ فَتَكُونُ الْإِمَامَةُ بِأَمْرِهِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1517
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، نا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ قَالَ لِبِلالٍ:" يَا بِلالُ، إِذَا حَضَرَتِ الْعَصْرُ، وَلَمْ آتِ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَذَكَرَ فِي الْخَبَرِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ، فَقَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَوْمَأَ إِلَيْهِ:" امْضِ فِي صَلاتِكَ"
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف کے لوگوں کا باہمی جھگڑا ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اُن کی صلح کرانے کے لئے اُن کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بلال! جب نماز عصر کا وقت ہو جائے اور میں واپس نہ آؤں تو تم ابوبکر سے عرض کرنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ پھر مکمل حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ بھی بیان کیا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے دوران میں ہی) تشریف لے آئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی نماز جاری رکھو۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1517]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 684، 1201، 1204، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 421، ومالك فى (الموطأ) برقم: 565، وابن الجارود فى "المنتقى"، 234، 341، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 853، 854، 1517، 1574، 1623، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2260، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4485، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 783، وأبو داود فى (سننه) برقم: 940، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1035، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3380،، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23264، والحميدي فى (مسنده) برقم: 956»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں