🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1101. (150) بَابُ إِبَاحَةِ تَرْكِ الْجَمَاعَةِ فِي السَّفَرِ،
سفر کے دوران نماز باجماعت ترک کرنا جائز ہے۔ گزشتہ باب میں مذکور حدیث جیسی حدیث کے ساتھ، تھوڑی اور غیر تکلیف دہ بارش میں نماز گھروں اور ٹھکانوں پر پڑھنے کا حُکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1657
نا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ إِلَى الْمَسْجِدِ صَلاةَ الْعِشَاءِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اسْتَفْتَحْتُ، فَقَالَ أَبِي : مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُو مَلِيحٍ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَصَابَتْنَا سَمَاءٌ لَمْ تَبُلَّ أَسْفَلَ نِعَالِنَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ"
جناب ابوملیح بیان کرتے ہیں کہ میں ایک اندھیری رات میں عشاء کی نماز کے لئے گھر سے نکلا - پھر جب میں واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوانے کے لئے دستک دی تو میرے والد گرامی نے پوچھا کہ کون ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ میں ابو ملیح ہوں - (اس پر اُن کے والد گرامی نے) فرمایا کہ میں نے حدیبیہ والے دن اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں دیکھا کہ ہم پر بارش ہوئی جس سے ہمارے جوتوں کے تلوے بھی نہ بھیگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے اعلان کر دیا کہ تم نماز اپنے ٹھکانوں اور خیموں میں ادا کرلو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة/حدیث: 1657]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1657، 1658، 1863، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2079، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1089، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 853، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1057، 1059، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 936، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5102، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20605»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1102. (151) بَابُ إِبَاحَةِ الصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ، وَتَرْكِ الْجَمَاعَةِ فِي الْيَوْمِ الْمَطِيرِ فِي السَّفَرِ مِثْلِ اللَّفْظَةِ الَّتِي ذَكَرْتُ قَبْلُ،
گز شتہ روایت جیسی روایت کے ساتھ دوران سفر بارش والے دن نماز باجماعت ترک کرنے اور ٹھکانوں پر نماز پڑھنے کی رخصت واباحت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1658
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ حُكْمَ النَّهَارِ فِي إِبَاحَةِ تَرْكِ الصَّلَاةِ فِي الْجَمَاعَةِ فِي الْمَطَرِ كَحُكْمِ اللَّيْلِ سَوَاءٌ.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1658
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نا أَبُو بَحْرٍ ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عُرْوَةَ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّلاةُ فِي الرِّحَالِ" . هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ. وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ مَرَّةً أُخْرَى: أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ
حضرت ابوملیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حنین والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہم پر بارش برسی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز ٹھکانوں اور خیموں میں ادا کی جا ئے گی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة/حدیث: 1658]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1657، 1658، 1863، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2079، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1089، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 853، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1057، 1059، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 936، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5102، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20605»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1103. (152) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُتَقَصِّي لِلَّفْظَةِ الْمُخْتَصَرَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ،
ٹھکانوں اور خیموں میں نماز پڑھنے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کے بارے میں، میں نے جو مختصر روایت بیان کی تھی، اس کی تفصیلی روایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1659
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ أَمْرُ إِبَاحَةٍ لَا أَمْرُ عَزْمٍ، يَكُونُ مُتَعَدِّيهِ عَاصِيًا إِنْ شَهِدَ الصَّلَاةَ جَمَاعَةً فِي الْمَطَرِ.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1659
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَبُو نُعَيْمٍ ، نا زُهَيْرٌ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا سِنَانٌ يَعْنِي ابْنَ مُطَاهِرٍ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمُطِرْنَا، فَقَالَ:" لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو ہم پر بارش ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص چاہے وہ اپنے خیمے میں نمازپڑھ لے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 697، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1659، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2082، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1065، والترمذي فى (جامعه) برقم: 409، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5101، 5593، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14570»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1104. (153) بَابُ إِتْيَانِ الْمَسَاجِدِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ الْمُظْلِمَةِ،
اندھیری اور بارش والی رات میں نماز کے لئے مسجد میں آنے کا بیان اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ اس قسم کی رات میں خیموں میں نماز پڑھنے کا حُکم اباحت و جواز کے لئے ہے، واجب نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1660
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي مِثْلِ تِلْكَ اللَّيْلَةِ أَمْرُ إِبَاحَةٍ لَهُ لَا حَتْمٌ.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1660
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: نا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ، قُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَأَتَيْتُهُ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلا فِي قِصَّةِ الْعَرَاجِينَ، قَالَ: ثُمَّ هَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكِ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلاةِ الْعِشَاءِ بَرَقَتْ بَرْقَةٌ، فَرَأَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ، فَقَالَ: " مَا السُّرَى يَا قَتَادَةُ؟"، فَقَالَ: عَلِمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ شَاهِدَ الصَّلاةِ اللَّيْلَةَ قَلِيلٌ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَهَا. قَالَ:" فَإِذَا صَلَّيْتَ فَاثْبُتْ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ"، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَعْطَاهُ الْعُرْجُونَ، فَقَالَ:" خُذْ هَذَا، فَسَيُضِيءُ لَكَ أَمَامَكَ عَشْرًا، وَخَلْفَكَ عَشْرًا، فَإِذَا دَخَلْتَ بَيْتَكَ فَرَأَيْتَ سَوَادًا فِي زَاوِيَةِ الْبَيْتِ، فَاضْرِبْهُ قَبْلَ أَنْ تَكَلَّمَ ؛ فَإِنَّهُ الشَّيْطَانُ" قَالَ: فَفَعَلَ، فَنَحْنُ نُحِبُّ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ لِذَلِكَ
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمان رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے تو میں نے (دل میں) کہا کہ اللہ کی قسم، اگر میں سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں (حصول علم کے لئے) حاضر ہو جاؤں تو بہت بہتر ہو گا۔ لہٰذا میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پھر اُنہوں نے عراجین کھجور کی شاخوں کے قصّے کے بارے میں ایک طویل حدیث بیان کی۔ اُنہوں نے فرمایا، پھر اُس رات بادل خوب امنڈ آیا (اور خوب بارش برسی)۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے لئے باہر تشریف لائے تو بجلی چمکی، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو پوچھا: اے قتادہ، ایسی رات میں کیسے چل کر آئے؟ اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، مجھے معلوم تھا کہ آج رات نمازی کم ہوں گے اس لئے میں نے پسند کیا کہ میں نماز جماعت کے ساتھ ادا کروں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ لو تو ٹھہرے رہنا حتّیٰ کہ میں تمہیں جانے کی اجازت دے دوں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمّل کرلی تو سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کو کجھور کی ایک شاخ عنایت کی اور فرمایا: یہ شاخ لے لو، تمہارے آگے اور پیچھے دس دس (ہاتھ) روشن کر دے گی۔ پھر جب تم اپنے گھر داخل ہو جاؤ اور گھر کے ایک کونے میں سایہ دیکھو تو گفتگو کرنے سے پہلے اُسے مارنا کیونکہ وہ شیطان ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ تو اُنہوں نے ایسے ہی کیا - اس لئے ہم بھی اُن شاخوں کو پسند کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة/حدیث: 1660]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 408، 410، 414، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 548، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 874، 875، 880، 881، 926، 1660، 1741، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2268، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 949، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 724، وأبو داود فى (سننه) برقم: 480، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 761، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3658، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11182»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1105. (154) بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ لِآكِلِ الثُّومِ.
لہسن کھانے والے شخص کو نماز باجماعت میں شریک ہونا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1661
نا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ فَلا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ" . وَقَالَ بُنْدَارٌ: قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، وَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلا يَقْرَبَنَّ الْمَسَاجِدَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا: جس شخص نے اس پودے یعنی لہسن سے کھایا ہو تو وہ مسجد میں ہر گز نہ آئے - جناب عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اس پودے سے کھایا ہو وہ مسجدوں کے قریب ہرگز نہ جائے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة/حدیث: 1661]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 853، 4215، 4217، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 561، وابن الجارود فى "المنتقى"، 951، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1661، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2088، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3825، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1016، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5129، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4709»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1662
نا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ الْخَزَّازُ ، نا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ فَلا يُؤْذِينَا بِهَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا"
حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس سبزی میں سے کھا لے تو وہ ہمیں ہماری اس مسجد میں اس (کی بُو) کے ساتھ اذیت نہ دے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة/حدیث: 1662]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1662، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 334، 336، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 6607، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1106. (155) بَابُ تَوْقِيتِ النَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ لِآكِلِ الثُّومِ.
لہسن کھانے والے شخص کے لئے نماز باجماعت میں شرکت کی ممانعت کی تعیین و تحدید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1663
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتَفْلَتُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَمَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ، فَلا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا"
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے قبلہ رخ تُھوکا تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اُس کا تُھوک اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوگا اور جس شخص نے اس بدبُو دار سبزی میں سے کھایا ہو تو وہ تین دن تک ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة/حدیث: 1663]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 925، 1314، 1663، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1639، 1643، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3824، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5135، والبزار فى (مسنده) برقم: 2905، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7534، 24969»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں