🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1126. (175) بَابُ اخْتِيَارِ صَلَاةِ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا عَلَى صَلَاتِهَا فِي الْمَسْجِدِ، إِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ،
عورت کی مسجد میں نماز سے، اُس کی اپنے گھر میں نماز بہتر ہے اگر اس سلسلے میں مروی حدیث ثابت ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1684
نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ، وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ" . فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: بَلَى وَاللَّهِ، لَنَمْنَعُهُنَّ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَسْمَعُنِي أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ مَا تَقُولُ؟! جَمِيعَهُمَا لَفْظًا وَاحِدًا. وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بِهَذَا الإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی عورتوں کو مساجد میں آنے سے منع نہ کرو اور اُن کے گھر اُن کے لئے بہتر ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے (بلال) نے کہا کہ کیوں نہیں۔ اللہ کی قسم، ہم انہیں ضرور منع کریں گے - اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم سن رہے ہو کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کر رہا ہوں اور تم آگے سے یہ کٹ حجتی کر رہے ہو؟ دونوں راویوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1684]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 865، 873، 899، 900، 5238، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 442، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1677، 1678، 1684، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2208، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 760، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 705، وأبو داود فى (سننه) برقم: 566، والترمذي فى (جامعه) برقم: 570، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 16، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4610»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1685
نا أَبُو مُوسَى ، نا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ، وَأَقْرَبُ مَا تَكُونُ مِنْ وَجْهِ رَبِّهَا وَهِيَ فِي قَعْرِ بَيْتِهَا"
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک عورت چھپانے کی چیز ہے لہٰذا جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اُسے گھورتا ہے (اور لوگوں کو خوب مزیّن کرکے دکھاتا ہے) اور عورت اپنے رب کی رضا اور خوشنودی کے قریب اُس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندرہوتی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1685، 1686، 1687، 1688، 1690، 1691، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5598، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 762، وأبو داود فى (سننه) برقم: 570، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5444، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7696»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1686
نا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ، وَإِنَّهَا إِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ، وَإِنَّهَا لا تَكُونُ إِلَى وَجْهِ اللَّهِ أَقْرَبَ مِنْهَا فِي قَعْرِ بَيْتِهَا" ، أَوْ كَمَا قَالَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت پردہ ہے اور بیشک جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اُسے جھانکتا ہے اور بلاشبہ وہ اپنے رب کی رضا کے زیادہ قریب اُس وقت ہوتی ہے جب اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے - یا جیسا آپ نے فرمایا - [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1686]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1685، 1686، 1687، 1688، 1690، 1691، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5598، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 762، وأبو داود فى (سننه) برقم: 570، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5444، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7696»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1687
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي الدِّمَشْقِيَّ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَإِنَّمَا قُلْتُ: وَلا، هَلْ سَمِعَ قَتَادَةُ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، لِرِوَايَةِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ؛ لأَنَّهُ أَسْقَطَ مُوَرِّقًا مِنَ الإِسْنَادِ، وَهَمَّامٌ، وَسَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ أَدْخَلا فِي الإِسْنَادِ مُوَرِّقًا، وَإِنَّمَا شَكَكْتُ أَيْضًا فِي صِحَّتِهِ لأَنِّي لا أَقِفُ عَلَى سَمَاعِ قَتَادَةَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ مُوَرِّقٍ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت کی مثل بیان کرتے ہیں - امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں بلاشبہ میں نے کہا تھا کہ مجھے یہ بھی علم نہیں کہ کیا قتادہ نے یہ حدیث ابوالاحوص سے سنی ہے یا نہیں؟ میں نے یہ بات سلیمان تیمی کی اس روایت کی بنا پر کی تھی جس کو قتادۃ ابوالاحوص سے بیان کرتے ہیں لیکن سند سے مورق کا واسطہ گرا دیتے ہیں جبکہ ہمام اور سعید بن بشیر نے سند میں (قتادہ اور ابوالاحوص کے درمیان) مورق کا واسطہ ذکر کیا ہے۔ بلا شبہ مجھے اس حدیث کے صحیح ہو نے میں اس لئے بھی شک ہے کیونکہ معلوم نہیں کہ قتادہ نے یہ حدیث مورق سے سنی ہے یا نہیں؟ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1687]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1685، 1686، 1687، 1688، 1690، 1691، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5598، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 762، وأبو داود فى (سننه) برقم: 570، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5444، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7696»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1127. (176) بَابُ اخْتِيَارِ صَلَاةِ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا عَلَى صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا، إِنْ كَانَ قَتَادَةُ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ مُوَرِّقٍ.
عورت کا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا اپنے حجرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ اگر قتادہ نے یہ روایت مورق سے سنی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1688
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَعْظَمُ مِنْ صَلاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا"
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کی اپنے اندرونی کمرے میں نماز زیادہ اجر و ثواب والی ہے، اُس کی اپنے حجرے (بیرونی کمرے، برآمدے) میں پڑھی گئی نمازسے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1688]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1685، 1686، 1687، 1688، 1690، 1691، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5598، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 762، وأبو داود فى (سننه) برقم: 570، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5444، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7696»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1128. (177) بَابُ اخْتِيَارِ صَلَاةِ الْمَرْأَةِ فِي حُجْرَتِهَا عَلَى صَلَاتِهَا فِي دَارِهَا،
عورت کی اپنے حجرے میں ادا کی گئی نماز اس کے گھر (صحن) میں ادا کی گئی نماز سے بہتر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1689
وَصَلَاتِهَا فِي مَسْجِدِ قَوْمِهَا عَلَى صَلَاتِهَا فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَانَتْ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْدِلُ أَلْفَ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهَا مِنَ الْمَسَاجِدِ، وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، أَرَادَ بِهِ صَلَاةَ الرِّجَالِ دُونَ صَلَاةِ النِّسَاءِ.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1689
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمَّتِهِ امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي أُحِبُّ الصَّلاةَ مَعَكَ، فَقَالَ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلاةَ مَعِي، وَصَلاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ، وَصَلاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي دَارِكِ، وَصَلاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ، وَصَلاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي مَسْجِدِي". فَأَمَرَتْ، فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنْ بَيْتِهَا وَأَظْلَمِهِ، فَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عبد اللہ بن سوید انصاری اپنی پھوپھی جو کہ سیدنا ابوحمیدی الساعدی رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ہیں، اُن سے روایت کر تے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میں آپ کے ساتھ نماز (باجماعت) ادا کرنا پسند کرتی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز (باجماعت) ادا کرنا پسند کرتی ہو، حالانکہ تمھاری اپنے چھوٹے کمرے میں نماز، تمھاری اپنے بڑے کمرے (یا باہر والے کمرے) میں ادا کی گئی نماز سے بہتر ہے - اور تمھاری اپنے بڑے کمرے میں نماز تمھاری اپنے صحن میں نماز سے بہتر ہے اور تمھاری اپنے صحن میں نماز تمہاری اپنی قوم کی مسجد میں نماز سے بہتر ہے اور تمہاری اپنی قوم کی مسجد میں نماز کی ادائیگی میری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے لہٰذا اُن کے حُکم پر اُن کے لئے ان کے گھر کے آخری اور اندھیرے حصّے میں مسجد بنادی گئی تو وہ اُس مسجد میں نماز پڑھتی تھیں حتّیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملیں۔ (فوت ہوگئیں)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1689]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1689، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2217، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5454، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27732، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7702، والطبراني فى(الكبير) برقم: 356»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1129. (178) بَابُ اخْتِيَارِ صَلَاةِ الْمَرْأَةِ فِي مَخْدَعِهَا عَلَى صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا.
عورت کا اپنے کمرے کی بجائے اپنی چھوٹی کوٹھری میں نماز ادا کرنا زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1690
نا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلاةُ الْمَرْأَةِ فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلاتِهَا فِي بَيْتِهَا، وَصَلاتُهَا فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا"
سیدنا عبداللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کا اپنی کوٹھری میں نماز ادا کرنا، اُس کے اپنے کمرے میں نماز پڑھنے سے افضل و بہتر ہے۔ اور اُس کا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا اُس کے اپنے بیرونی کمرے (یا برآمدے) میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1690]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1685، 1686، 1687، 1688، 1690، 1691، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5598، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 762، وأبو داود فى (سننه) برقم: 570، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5444، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7696»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1130. (179) بَابُ اخْتِيَارِ صَلَاةِ الْمَرْأَةِ فِي أَشَدِّ مَكَانٍ مِنْ بَيْتِهَا ظُلْمَةً.
عورت کا اپنے گھر میں سخت اندھیری جگہ پر نماز پڑھنا زیادہ پسندیدہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1691
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَحَبَّ صَلاةٍ تُصَلِّيهَا الْمَرْأَةُ إِلَى اللَّهِ فِي أَشَدِّ مَكَانٍ فِي بَيْتِهَا ظُلْمَةً"
سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک عورت کی محبوب ترین نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر کے شدید اندھیرے والے حصّے میں پڑھتی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1691]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1685، 1686، 1687، 1688، 1690، 1691، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5598، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 762، وأبو داود فى (سننه) برقم: 570، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5444، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7696»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1692
وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَفِي الْقَلْبِ مِنْهُ رَحِمَهُ اللَّهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَبَّ صَلاةٍ تُصَلِّيهَا الْمَرْأَةُ إِلَى اللَّهِ أَنْ تُصَلِّيَ فِي أَشَدِّ مَكَانٍ مِنْ بَيْتِهَا ظُلْمَةً" . حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو عورت کی وہ نماز سب سے زیادہ محبوب ہے جو وہ اپنے گھر کے سخت اندھیرے والے حصّے میں ادا کرتی ہے - [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1692]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1692، وانفرد به المصنف من هذا الطريق» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں