صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1137. (186) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي إِمَامَةِ الْمَمَالِيكِ الْأَحْرَارِ إِذَا كَانَ الْمَمَالِيكُ أَقْرَأَ مِنَ الْأَحْرَارِ.
غلام شخص کا آزاد لوگوں کو امامت کرانا درست ہے جبکہ غلام آزاد لوگوں سے زیادہ بڑا قاری اور عالم دین ہو
حدیث نمبر: 1701
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اجْتَمَعَ ثَلاثَةٌ أَمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ، وَخَبَرِ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَخَبَرِ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ الْعَبِيدَ إِذَا كَانُوا أَقْرَأَ مِنَ الأَحْرَارِ كَانُوا أَحَقَّ بِالإِمَامَةِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَثْنِ فِي الْخَبَرِ حُرًّا دُونَ مَمْلُوكٍ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین افراد جمع ہو جائیں تو اُن میں سے ایک ان کی امامت کرائے، اور اُن میں امامت کا زیادہ حقدار اُن میں سے بڑا قاری اور عالم دین ہے -“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اور قتادہ سیدنا ابو قتادہ رضی الله عنہ کی سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت اور سیدنا اوس رضی اللہ عنہ کی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ غلام جب آزاد لوگوں سے زیادہ قرآن مجید جانتے ہوں تو وہ امامت کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں آزاد شخص کو غلام سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ (بلکہ سب کا حُکم ایک ہی ہے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1701]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 672، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1508، 1701، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2132، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 781، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2608، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5206، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11360»
1138. (187) بَابُ الصَّلَاةِ جَمَاعَةً فِي الْأَسْفَارِ
سفر میں نماز باجماعت کا بیان
حدیث نمبر: 1702
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى أَكْثَرَ مَا كُنَّا وَآمَنَهُ رَكْعَتَيْنِ"
حضرت حارثہ بن وہب خزاعی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں دو رکعت نماز باجماعت پڑھائی حالانکہ ہماری تعداد بھی بہت زیادہ تھی اور ہم خوب امن و امان کی حالت میں تھے (دشمن کا خوف بالکل نہ تھا)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1702]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1083، 1656، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 696، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2756، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1444، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1965، والترمذي فى (جامعه) برقم: 882، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5463، 5464، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19029»
1139. (188) بَابُ الصَّلَاةِ جَمَاعَةً بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِهَا.
نماز کا وقت گزرنے کے بعد اسے باجماعت ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1703
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ عمر ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلاةِ، حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ بِهَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ، حَتَّى كُفِينَا، وَذَلِكَ قَوْلُهُ: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا سورة الأحزاب آية 25" فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلالا، فَأَقَامَ الصَّلاةَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، كَأَحْسَنِ مَا كَانَ يُصَلِّيهَا، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ كَذَلِكَ" ، قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ صَلاةُ الْخَوْفِ فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا سورة البقرة آية 239. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ إِمَامَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ لَيْلَةَ نَامُوا عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فِيمَا مَضَى مِنْ هَذَا الْكِتَابِ، وَهُوَ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خندق والے دن ہمیں نماز سے روک دیا گیا حتّیٰ کہ جب مغرب کے بعد رات کا کچھ حصّہ گزر گیا تو ہماری کفایت کی گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا» [ سورة الأحزاب: 25 ] ” اور (اس) لڑائی میں اللہ مؤمنوں کو کافی ہوگیا اور اللہ طاقتور اور غلبے والا ہے۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا تو اُنہوں نے اقامت کہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر ادا فرمائی، اپنے بہترین طریقے کے مطابق جیسا کہ آپ ادا کیا کرتے تھے۔ پھر اُنہوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی انداز سے عصر کی نماز ادا کی۔ پھر اُنہوں نے اقامت پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب بھی اسی طریقے سے ادا کی۔ پھر اقامت کہی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز عشاء ادا کی اور یہ واقعہ نماز خوف کے متعلق حُکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے یعنی «فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا» [ سورة البقرة: 39 ] ”پیدل چلتے ہوئے یا سوار ہوکر نماز ادا کرلو -“ اس حُکم کے نازل ہونے سے پہلے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں اسی کتاب کے گزشتہ اوراق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سورج طلوع ہونے کے بعد نماز فجر کی امامت کروانے کے بارے میں روایت بیان کر چکا ہوں، جس رات (دورانِ سفر آپ سمیت) تمام صحابہ کرام طلوع آفتاب تک سوئے رہ گئے تھے ـ اس حدیث کا تعلق بھی اس باب سے بھی ہے ـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1703]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 996، 1703، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2890، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 660 /، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1922، 6086، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11368»
1140. (189) بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْجَمَاعَةِ فِي السَّفَرِ.
سفر میں دو نمازوں کو جمع کرکے باجماعت ادا کرنا
حدیث نمبر: 1704
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ، خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ"، قَالَ:" فَأَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا" . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا معاذ جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک والے سال نکلے تو (دوران سفر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر اور عصر اور نماز مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا فرماتے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز کو مؤخر کردیا، پھر آپ خیمے سے باہر تشریف لائے تو نماز ظہر اور عصر کو جمع کر کے ادا فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے، پھر آپ باہر آئے اور نماز مغرب اور عشاء کو جمع کرکے ادا فرمایا۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1704]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 706، ومالك فى (الموطأ) برقم: 478، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 966، 968، 1704، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1458، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 586، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1206، والترمذي فى (جامعه) برقم: 553، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1070، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1846، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1462، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22419»
1141. (190) بَابُ الْأَمْرِ بِالْفَصْلِ بَيْنَ الْفَرِيضَةِ وَالتَّطَوُّعِ بِالْكَلَامِ أَوِ الْخُرُوجِ.
فرض اور نفل نماز کے درمیان بات چیت یا جگہ تبدیل کرکے فرق کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 1705
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، نا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَسْأَلُهُ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: نَعَمْ صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ مَعَ مُعَاوِيَةَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ أُصَلِّي، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: " إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلا تَصِلْهَا بِصَلاةٍ، إِلا أَنْ تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ" . وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَمَرَ بِذَلِكَ أَلا تُوصِلَ صَلاةٌ بِصَلاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ هَذَا ثِقَةٌ، وَالآخَرُ هُوَ عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ، تَكَلَّمَ أَصْحَابُنَا فِي حَدِيثِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ، قَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْهُمَا جَمِيعًا
جناب عمر بن عطاء کہتے ہیں کہ مجھے نافع بن جبیر نے حضرت سائب بن یزید کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا۔ میں نے اُن سے دریافت کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سا تھ محراب میں جمعہ ادا کیا جب اُنہوں نے سلام پھیرا تو میں نے کھڑے ہوکر نماز پڑھنی شروع کردی، اُنہوں نے مجھے بلانے کے لئے ایک شخص کو بھیجا۔ لہٰذا میں ان کے پاس حاضر ہوا تو اُنہوں نے فرمایا کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ لو تو گفتگوکرنے یا وہاں نکلنے سے پہلے اس کے ساتھ کوئی دوسری نماز نہ ملاؤ کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا حُکم دیا ہے۔ جناب ابن رافع اور عبدالرحمان کی روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ اس بات کا حُکم دیا گیا ہے کہ ایک نماز کے ساتھ دوسری نماز کو نہ ملایا جائے حتّیٰ کہ تم گفتگو کرلو یا وہاں سے نکل جاؤ۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عطا بن ابی الخوار ثقہ راوی ہے۔ جبکہ دوسرے عمر بن عطاء کے بارے میں ہمارے اصحاب محدثین نے اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس کی احادیث میں جرح کی ہے اور جناب ابن جریج نے ان دونوں سے روایات بیان کی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1705]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 883، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1705، 1867، 1868، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1129، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3098، 3099، 6025، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17141»
1142. (191) بَابُ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالتَّكْبِيرِ وَالذِّكْرِ عِنْدَ قَضَاءِ الْإِمَامِ الصَّلَاةَ.
امام کے نماز ختم کرنے پر اللہ اَکُبَر،، اور ذکر الہٰی بلند آواز سے کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1706
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، نا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ"
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اختتام کو اللہ اکبر کی آواز سے پہچانتا تھا -“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1706]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 842، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 583، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1706، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2232، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1334، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1002، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3062، 3063، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1958، والحميدي فى (مسنده) برقم: 486»
حدیث نمبر: 1707
نا الْحَسَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يُنْصَرَفُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرض نماز سے فارغ ہونے پر بلند آواز سے ذکر کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں موجود تھا ـ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ نماز سے فارغ ہو کر بلند آواز سے ذکر کرتے تو میں اس سے (نماز کی تکمیل اور اختتام کو) پہچان لیتا ـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1707]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 841، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 583، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1707، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1003، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3547، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 3225، والطبراني فى(الكبير) برقم: 12212»
1143. (192) بَابُ نِيَّةِ الْمُصَلِّي بِالسَّلَامِ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ إِذَا سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ، وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ إِذَا سَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ.
نمازی جب اپنی دائیں طرف سلام پھیرے تو اس کی نیت دائیں طرف والے (نمازیوں) کو سلام کرنے کی ہو اور جب اپنی بائیں طرف سلام پھیرے تو اس کی نیت اپنے بائیں جانب والوں کو سلام کرنے کی ہو
حدیث نمبر: 1708
نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَارَ أَحَدُنَا إِلَى أَخِيهِ بِيَدِهِ , عَنْ يَمِينِهِ , وَعَنْ شِمَالِهِ , فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَفْعَلُ هَذَا كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ؟! إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ أَلا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا؟" وَوضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى , وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ , ثُمَّ سَلَّمَ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَنِ يَمِينِهِ , وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم سے ایک شخص اپنی دائیں اور بائیں جانب (سلام پھیرتے وقت) اپنے بھائی کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: ”کیا بات ہے کہ تم میں سے ایک شخص اس طرح اشارہ کر تا ہے گویا کہ وہ سرکش گھوڑے کی دُمیں ہوں؟ یقیناً تم میں سے کسی شخص کو صرف اتنا ہی کافی ہے، یا (کہا کہ) کیا تم میں سے کسی شخص کو اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ اس طر ح کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اپنی دائیں ران پر رکھا اور اُنگلی کے ساتھ اشارہ کیا پھر وہ اپنی دائیں اور بائیں جانب والے کو سلام کہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1708]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 430، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 733، 1544، 1708، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1878، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 815، وأبو داود فى (سننه) برقم: 661، 998، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 992، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3009، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21138»
1144. (193) بَابُ سَلَّامِ الْمَأْمُومِ مِنَ الصَّلَاةِ عِنْدَ سَلَّامِ الْإِمَامِ.
امام کے سلام پھیرنے کے بعد مقتدی کو نماز سے سلام پھیرنا چاہیے
حدیث نمبر: 1709
أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ عَقِلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَقِلَ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْو مِنْ بِئْرٍ كَانَتْ فِي دَارِهِمْ فِي وَجْهِهِ , فَزَعَمَ مَحْمُودٌ أَنَّهُ سَمِعَ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كُنْتُ أُصَلِّي لِقَوْمِي بَنِي سَالِمٍ , فَكَانَ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَادٍ إِذَا جَاءَتِ الأَمْطَارُ , قَالَ: فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أَجْتَازَهُ قِبَلَ مَسْجِدِهِمْ , فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ مِنْ بَصَرِي , وَإِنَّ الْوَادِيَ الَّذِي يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ قَوْمِي يَسِيلُ إِذَا جَاءَتِ الأَمْطَارُ , فَيَشُقُّ عَلَيَّ أَنْ أَجْتَازَهُ , فَوَدِدْتُ أَنَّكَ تَأْتِيَنِي،" فَتُصَلِّي مِنْ بَيْتِي مُصَلًّى أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى" , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَأَفْعَلُ" , فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَ مَا امْتَدَّ النَّهَارُ , فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ , فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ فِي بَيْتِكَ؟" , فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ , وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ سَلَّمَ , وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ
امام ابن شہاب رحمه ﷲ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اﷲ عنہ نے بتایا کہ اُنہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب یاد رکھا ہے اور انہیں وہ کُلّی بھی یاد ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر کے کنویں سے ڈول میں پانی لیکر اُن کے مُنہ پر کی تھی۔ لہٰذا سیدنا محمود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے سیدنا عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھاتا تھا اور جب بارشیں نازل ہوتیں تو میرے اور میری قوم کے درمیان ایک وادی (سیلابی پانی کی وجہ سے) حائل ہو جاتی - اس لئے میرے لئے بڑا مشکل ہو جاتا ہے کہ میں اسے عبور کرکے اُن کی مسجد میں پہنچتا۔ اس لئے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، بلا شبہ میری نظر کمزور ہوچکی ہے اور جب بارش آتی ہے تو میرے اور میری قوم کے درمیان وادی بہنے لگتی ہے اور میرے لئے اسے عبور کرنا مشکل ہو جاتا ہے لہٰذا میری خواہش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں اور میرے گھر میں میری نماز گاہ میں نماز ادا کریں جسے میں نماز گاہ بنا سکوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میں تمہاری خواہش پوری کردوں گا۔“ چنانچہ اگلے دن سورج بلند ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (گھر میں داخلے کی) مجھ سے اجازت چاہی تو میں نے اجازت دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بغیر فرمایا: ”تم اپنے گھر میں کس جگہ پر مجھ سے نماز پڑھانا پسند کرتے ہو؟ تو میں نے اُس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھانا پسند کرتا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور تکبیر کہی تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بندی کی۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر سلام پھیر دیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کے بعد سلام پھیر دیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1709]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 77، 189، 424، 425، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 33، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1653، 1654، 1673، 1709، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 223، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6560، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 787، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 660، 754، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3047، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12579»
1145. (194) بَابُ رَدِّ الْمَأْمُومِ عَلَى الْإِمَامِ إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ عِنْدَ انْقِضَاءِ الصَّلَاةِ.
جب نماز کے اختتام پر امام سلام پھیرے گا تو مقتدی کو امام کے سلام کا جواب دینا چاہیے
حدیث نمبر: 1710
نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْبَصْرِيُّ ، نا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو بِشْرٍ صَاحِبُ اللُّؤْلُؤِ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الأَسْفَاطِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ الْقَاسِمِ ، نا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَلِّمَ عَلَى أَيْمَانِنَا , وَأَنْ يَرُدَّ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ" . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ: وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ. زَادَ إِبْرَاهِيمُ: قَالَ هَمَّامٌ: يَعْنِي فِي الصَّلاةِ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا کہ ہم اپنی دائیں جانب والوں کو سلام کریں اور ہم ایک دوسرے کے سلام کا جواب دیں۔ جناب محمد بن یزید کی روایت میں ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سلام کہیں۔ جناب ابراہیم کی روایت میں اضافہ ہے کہ جناب ہمام کہتے ہیں کہ یعنی نماز میں (سلام پھیرتے وقت سلام کہیں)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1710]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1710، 1711، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1000، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1001، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 921، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3043، 3044، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1357»