🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس بات کا بیان کہ جمعہ تمام دنوں سے افضل و اعلیٰ دن ہے۔ اس دن جنّوں اور انسانوں کے سوا تمام مخلوقات خوف زدہ اور ڈرتی ہیں اس سلسلے میں ایک مختصر غیر مفصل روایت کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1727
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نا الْعَلاءُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ الْمَدَنِيَّ ، نا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ بُنْدَارٌ: عَنِ الْعَلاءِ، وَقَالَ أَبُو مُوسَى: قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلاءَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيغٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، نا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ بِيَوْمٍ، وَلا تَغْرُبُ أَفْضَلَ أَوْ أَعْظَمَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ , وَمَا مِنْ دَابَّةٍ لا تَفْزَعُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلا هَذَيْنِ الثَّقَلَيْنِ: الْجِنَّ وَالإِنْسَ" . قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , وَابْنُ بَزِيعٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ:" عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ" , وَلَمْ يَشُكُّوا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج کسی ایسے دن میں نہ طلوع ہوتا ہے نہ غروب کہ جو دن جمعہ کے دن سے افضل یا اعظم ہو۔ اور جنّوں اور انسانوں کے سوا ہر جانور جمعہ کے دن خوفزدہ ہوتا ہے اور ڈرتا ہے۔ جناب علی بن حجر، ابن بزیع اور محمد بن ولید کی روایت میں ہے کہ کسی افضل دن پر اور انہوں نے افضل یا اعظم کے الفاظ میں شک نہیں کیا۔ (بلکہ صرف افضل کا لفظ بیان کیا ہے۔) [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1727]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 929، 3211، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 850، وابن الجارود فى "المنتقى"، 315، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1727، 1768، 1769، 1770، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2770، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1092، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5941، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7378»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس مختصر روایت کی تفصیل بیان کرنے والی روایت کا ذکر جسے میں نے گزشتہ باب میں بیان کیا ہے اور اس دلیل کا بیان کہ جمعہ کے دن مخلوقات کے ڈرنے کی وجہ اُن کا یہ خوف ہے کہ اس دن قیامت قائم نہ ہوجائے کیونکہ قیامت جمعہ کے دن قائم ہوگی

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1728
أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيِّدُ الأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ , وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ , وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا , وَلا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلا يَوْمَ الْجُمُعَةِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: غَلَطْنَا فِي إِخْرَاجِ الْحَدِيثِ ؛ لأَنَّ هَذَا مُرْسَلٌ مُوسَى بْنُ أَبِي عُثْمَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَبُوهُ أَبُو عُثْمَانَ التَّبَّانُ، رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَارًا سَمِعَهَا مِنْهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن باقی تمام دنوں کا سردار ہے - اس دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اس دن جنّت میں داخل کیے گئے اور اسی دن جنّت سے نکالے گئے اور قیامت بھی جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو روایت کرنے میں ہم سے غلطی ہوئی ہے کیونکہ یہ مرسل روایت ہے جناب موسیٰ بن ابی عثمان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایات نہیں سنیں۔ جبکہ ان کے والد گرامی جناب ابوعثمان تبان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہوئی روایات بیان کی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1728]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 935، 5294، 6400، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 852، ومالك فى (الموطأ) برقم: 363، وابن الجارود فى "المنتقى"، 311، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1726، 1728، 1729، 1735، 1737، 1738، 1740، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2772، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1031، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1046، والترمذي فى (جامعه) برقم: 488، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1137، 1139، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5644، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7272»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1729
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ يَعْنِي الْقُرْقُسَائِيَّ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ , وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ , وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا , وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدِ اخْتَلَفُوا فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ فِي قَوْلِهِ:" فِيهِ خُلِقَ آدَمُ" إِلَى قَوْلِهِ:" وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ" , أَهُوَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ كَعْبِ الأَحْبَارِ؟ قَدْ خَرَّجْتُ هَذِهِ الأَخْبَارَ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ مَنْ جَعَلَ هَذَا الْكَلامَ رِوَايَةً مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَنْ جَعَلَهُ عَنْ كَعْبِ الأَحْبَارِ , وَالْقَلْبُ إِلَى رِوَايَةِ مَنْ جَعَلَ هَذَا الْكَلامَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ كَعْبٍ أَمْيَلُ ؛ لأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى حَدَّثَنَا، قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , ثنا الأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ , وَفِيهِ أُسْكِنَ الْجَنَّةَ , وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا , وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ , قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلْ شَيْءٌ حَدَّثَنَاهُ كَعْبٌ. وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ , وَشَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَأَمَّا قَوْلُهُ:" خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ" , فَهُوَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا شَكَّ وَلا مِرْيَةَ فِيهِ , وَالزِّيَادَةُ الَّتِي بَعْدَهَا:" فِيهِ خُلِقَ آدَمُ" إِلَى آخِرِهِ. هَذَا الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ كَعْبٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن وہ بہترین دن ہے جس میں سورج طلوع ہوا ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور اسی دن اُنہیں جنّت میں داخل کیا گیا اور اسی دن اُنہیں جنّت سے نکالا گیا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت کے الفاظ اسی دن آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا سے لیکر اسی دن قیامت قائم ہوگی تک کے الفاظ میں علمائے کرام کا اختلاف ہے کہ کیا یہ الفاظ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیے ہیں یا جناب کعب الاحبار رحمه الله سے روایت کیے ہیں؟ میں نے کتاب الکبیر میں یہ روایات بیان کردی ہیں کہ کن راویوں نے یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور کن راویوں نے اسے جناب کعب الا حبار کا کلام بنا کر روایت کیا ہے جبکہ میرا دل ان راویوں کی روایت کی طرف زیادہ مائل ہے جنہوں نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے جناب کعب رضی اللہ عنہ کے کلام کے طور پر بیان کیا ہے۔ کیونکہ ہمیں جناب محمد بن یحییٰ نے اپنی سند سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوا ہے وہ جمعہ کا دن ہے اسی دن حضرت آدم عليه السلام پیدا ہوئے اور اسی دن اُنہیں جنّت میں بسایا گیا اور اسی دن انہیں وہاں سے نکالا گیا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ جناب ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا آپ نے یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ (نہیں) بلکہ یہ چیز ہمیں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے۔ اسی طرح یہ روایت جناب ابان بن یزید عطار اور شیبان بن عبدالرحمان نحوی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ حدیث کے یہ الفاظ جمعہ کا دن وہ بہترین دن ہے جس میں سورج طلوع ہوا ہے ـ تو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ الفاظ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیے ہیں اور اس کے بعد والے الفاظ اسی دن حضرت آدم عليه السلام پیدا کیے گئے سے لیکر آخر تک ـ تو ان میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ کچھ کے نزدیک یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں اور بعض دوسرے علماء کے نزدیک یہ جناب سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1729]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 935، 5294، 6400، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 852، ومالك فى (الموطأ) برقم: 363، وابن الجارود فى "المنتقى"، 311، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1726، 1728، 1729، 1735، 1737، 1738، 1740، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2772، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1031، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1046، والترمذي فى (جامعه) برقم: 488، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1137، 1139، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5644، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7272»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جب قیامت کے دن لوگ اُٹھائے جائیں گے تو جمعہ اور جمعہ ادا کرنے والے افراد کی صف کا بیان اگر روایت صحیح ہو کیونکہ اس سند کے بارے میں میرا دل مطمئن نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1730
نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ السِّمَّانِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ . ح وَحَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ وَهُوَ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ الأَيَّامَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى هَيْئَتِهَا , وَيَبْعَثُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ زَهْرَاءَ مُنِيرَةً، أَهْلُهَا يَحُفُّونَ بِهَا كَالْعَرُوسِ تُهْدَى إِلَى كَرِيمِهَا , تُضِيءُ لَهُمْ , يَمْشُونَ فِي ضَوْئِهَا , أَلْوَانُهُمْ كَالثَّلْجِ بَيَاضًا , وَرِيحُهُمْ يَسْطَعُ كَالْمِسْكِ , يَخُوضُونَ فِي جِبَالِ الْكَافُورِ , يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ الثَّقَلانِ , مَا يُطْرِقُونَ تَعَجُّبًا، حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ , لا يُخَالِطُهُمُ أَحَدٌ إِلا الْمُؤَذِّنُونَ الْمُحْتَسِبُونَ" . هَذَا حَدِيثُ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن، دنوں کو ان کی اصلی حالت پر اُٹھائے گا ـ اور جمعہ کا دن جگمگاتا ہوا روشن بناکر اُٹھایا جائے گا۔ جمعہ والے لوگ اسے اس طرح گھیرے ہوں گے جیسے دلہن (عزیز و اقارب کے جھرمٹ میں) دولہا کے سپرد کی جاتی ہے۔ جمعہ اُن کے لئے روشنی کرے گا اور وہ اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے۔ ان کے رنگ برف کی طرح سفید ہوں گے، ان کی خوشبو اور مہک کستوری کی طرح پھیل رہی ہوگی۔ وہ کافور کے پہاڑوں میں داخل ہو رہے ہوں گے - انہیں جنّ اور انسان دیکھ رہے ہوں گے (ان کے بلند مقام و مرتبے پر) تعجب و حیرت کی وجہ سے وہ اپنی نظریں نہیں جھکائیں گے ـ حتّیٰ کہ وہ جنّت میں داخل ہو جائیں گے۔ ان کے ساتھ کوئی اور شخص شریک نہیں ہوگا، صرف اجر و ثواب کی نیت سے اذانیں دینے والے مؤذن ان کے ساتھ شریک ہوں گے۔ یہ جناب زکریا یحییٰ کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1730]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1730، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1032»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس گھڑی کا بیان جس میں اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو جمعہ والے دن پیدا کیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1731
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، وَجَمَاعَةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي , فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ , وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الأَحَدِ , وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الاثْنَيْنِ , وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلاثَاءِ , وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ , وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ , وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، آخِرَ خَلْقٍ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتے کے روز پیدا فرمایا ـ اور اس میں پہاڑ اتوار والے دن بنائے ـ اور درخت سوموار والے دن پیدا کیے اور منگل والے دن ناپسندیدہ اشیاء کو پیدا کیا۔ بدھ والے دن نور پیدا کیا۔ اور زمین پر جانور جمعرات والے دن پھیلائے اور آدم عليه السلام کو جمعہ والے دن عصر کے بعد پیدا کیا ـ یہ آخری مخلوق تھی جو جمعہ والے دن آخری گھڑی میں پیدا کی ـ عصر اور رات کے درمیانی حصّے میں ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1731]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2789، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1731، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6161، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10943، 11328، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17778، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8456»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس علت و سبب کا بیان جس کی وجہ سے میرے خیال کے مطابق جمعے کو جمعہ کہا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1732
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنِ الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: وَكَانَ الْقَرْثَعُ مِنْ قُرَّاءِ الأَوَّلِينَ , عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا سَلْمَانُ , مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" يَا سَلْمَانُ مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" يَا سَلْمَانُ مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" يَا سَلْمَانُ , يَوْمُ الْجُمُعَةِ بِهِ جُمِعَ أَبُوكَ أَوْ أَبُوكُمْ , أَنَا أُحَدِّثُكَ عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ , مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرْتُمْ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَيَقْعُدَ، فَيُنْصِتَ حَتَّى يَقْضِيَ صَلاتَهُ، إِلا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ"
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: اے سلمان، جمعہ کے دن کی کیا کیفیت و اہمیت ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول یہ خوب جانتے ہیں ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے سلمان جمعہ کا دن کیا ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بہتر جاتنے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سلمان، جمعہ کا دن کیسا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بخوبی جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سلمان، جمعہ کے دن تمہارے باپ یا تم سب کے باپ (آدم کی تخلیق) کو جمع کیا گیا ـ میں تمہیں جمعہ کے دن کی اہمیت و فضیلت بتاتا ہوں ـ جو شخص بھی جمعہ کے دن طہارت و پاکیزگی حاصل کرتا ہے جیسا کہ تمہیں حُکم دیا گیا ہے، اپنے گھر سے نکل کر جمعہ کے لئے (مسجد) آجاتا ہے ـ پھر بیٹھ کر خاموش (ہو کر خطبہ سُنتا) رہتا ہے ـ حتّیٰ کہ اپنی نماز ادا کر لیتا ہے تو یہ عمل پہلے جمعہ تک کے گنا ہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1732]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1732، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1033، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1402، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1676، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24215»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1733
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ الْجُعْفِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ , وَفِيهِ قُبِضَ , وَفِيهِ النَّفْخَةُ , وَفِيهِ الصَّعْقَةُ , فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلاةِ فِيهِ , فَإِنَّ صَلاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ". قَالُوا: وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟! فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ"
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تمہارے افضل و اعلیٰ دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے ـ اسی دن حضرت آدم عليه السلام پیدا کیے گئے اور اسی دن فوت کیے گئے اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن (لوگوں پر) بیہوشی طاری ہوگی۔ تو تم اس دن میں مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جا تا ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ کا جسم مبارک تو بوسیدہ ہوچکا ہوگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیائے کرام کے اجسام کھائے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1733]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1733، 1734، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 910، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1034، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1373، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1047، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1085، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6075، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16413»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1734
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ , وَقَالَ: يَعْنُونَ: قَدْ بَلِيتَ
امام صاحب اپنے استاد محمد بن رافع کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مطلب یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک تو مٹی میں فنا ہو چکا ہو گا - [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1734]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1733، 1734، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 910، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1034، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1373، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1047، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1085، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6075، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16413»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں