🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اس بات کی دلیل کا بیان کہ شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأُوَلَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا قِطْعَةٌ مِنْ حَصِيرٍ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ. فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ، فَكَلَّمَ النَّاسَ، فَدَنَوْا مِنْهُ، فَقَالَ: " إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأُوَلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْوَسَطَ، ثُمَّ أَتَيْتُ، فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ". فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ، قَالَ:" وَإِنِّي أُرِيتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ، وَإِنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتِهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ"، فَأَصْبَحَ فِي لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ، فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ، فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ، وَجَبْهَتُهُ وَأَنْفُهُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ، وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ . هَذَا حَدِيثٌ شَرِيفٌ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے پہلے دس دن اعتکاف کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا عشرہ بھی ایک ترکی قبے میں اعتکاف کیا، جس کے دروازے پر ایک چٹائی لٹکائی گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے وہ چٹائی پکڑی اور اُسے ہٹا کر قبے کے کونے میں رکھ دیا۔ پھر اپنا سر مبارک باہر نکالا اور لوگوں سے بات چیت کی تو وہ آپ کے قریب آگئے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں نے شب قدر کی تلاش میں پہلا عشرہ اعتکاف کیا پھر میں نے درمیانے عشرے میں بھی اعتکاف کیا۔ پھر خواب میں میرے پاس فرشتہ آیا تو مجھے بتایا گیا کہ شبِ قدر آخری عشرے میں ہے۔ لہٰذا جو شخص تم میں سے پسند کرے کہ وہ اعتکاف کرے“ چنانچہ لوگوں نے آپ کے ساتھ (آخری عشرے کا) اعتکاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مجھے وہ طاق راتوں میں دکھائی گئی ہے اور اس کی صبح کو میں نے کیچڑ میں سجدہ کیا ہے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کی صبح کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح تک نفل نماز ادا کی تھی تو بارش ہوگئی جس سے مسجد کی چھت ٹپکنے لگی۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو میں نے کیچڑ دیکھا۔ پھر جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہوکر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ لگا ہوا تھا اور وہ آخری عشرے میں اکیسویں رات تھی۔ یہ حدیث نہایت بلند مرتبہ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2171]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 669، 813، 836، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1167، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 223، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2171، 2176، 2219، 2220، 2238، 2243، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3661، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1038، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1094، وأبو داود فى (سننه) برقم: 894، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1766، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11191»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شب قدر کو تلاش کرنے اور اسے رمضان کے آخری عشرے میں طلب کرنے کے حُکم کا بیان مجمل غیر مفسر الفاظ کے ساتھ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2172
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَدْعُونِي مَعَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ لِي: لا تَكَلَّمْ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا. قَالَ: فَدَعَاهُمْ فَسَأَلَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ" ، أَيُّ لَيْلَةٍ تَرَوْنَهَا؟ قَالَ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْلَةُ إِحْدَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْلَةُ ثَلاثٍ، وَقَالَ آخَرُ: خَمْسٍ، وَأَنَا سَاكِتٌ. قَالَ: فَقَالَ: مَا لَكَ لا تَتَكَلَّمُ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنْ أَذِنَتْ لِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ تَكَلَّمْتُ. قَالَ: فَقَالَ: مَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكَ إِلا لِتَتَكَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أُحَدِّثَكُمْ بِرَأْيِي؟ قَالَ: عَنْ ذَلِكَ نَسْأَلُكَ. قَالَ: فَقُلْتُ: السَّبْعُ. رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ذَكَرَ سَبْعَ سَمَوَاتٍ، وَمِنَ الأَرْضِ سَبْعًا، وَخَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ سَبْعٍ، وَنَبْتُ الأَرْضِ سَبْعٌ، قَالَ: فَقَالَ: هَذَا أَخْبَرْتَنِي مَا أَعْلَمُ، أَرَأَيْتَ مَا لا أَعْلَمُ؟ مَا هُوَ قَوْلُكَ: نَبْتُ الأَرْضِ سَبْعٌ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: ثُمَّ شَقَقْنَا الأَرْضَ شَقًّا فَأَنْبَتْنَا سورة عبس آية 26 - 27، إِلَى قَوْلِهِ وَفَاكِهَةً وَأَبًّا سورة عبس آية 31، وَالأَبُّ نَبْتُ الأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُهُ الدَّوَابُّ، وَلا يَأْكُلُهُ النَّاسُ. قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ هَذَا الْغُلامُ الَّذِي لَمْ تَجْتَمِعْ شُئُونُ رَأْسِهِ بَعْدُ؟ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَرَى الْقَوْلَ إِلا كَمَا قُلْتَ. وَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَمَرْتُكَ أَنْ لا تَكَلَّمَ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا، وَإِنِّي آمُرُكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ مَعَهُمْ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے ساتھ بلاتے تھے اور مجھے حُکم دیا کہ اُس وقت تک بات نہ کرنا جب تک صحابہ کرام بات چیت نہ کرلیں۔ کہتے ہیں کہ اُنہوں نے صحابہ کرام کو بلایا اور اُن سے شب قدر کے بارے میں سوال کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو۔ مجھے بتاؤ کہ تمہارے خیال میں یہ کون سی رات ہے۔ تو بعض نے کہا کہ یہ اکیسویں رات ہے۔ کچھ نے کہا کہ تیسویں رات ہے اور بعض نے پچیسویں رات قرار دی۔ اس دوران میں خاموش رہا۔ پھر اُنہوں نے مجھے کہا کہ تم کیوں نہیں بتاتے؟ میں نے عرض کی کہ اے امیر المؤمنین، اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں بتاتا ہوں تو اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے تمہیں گفتگو کرنے کے لئے ہی بلایا ہے۔ تو میں نے کہا تو کیا میں تمہیں اپنی رائے سے بیان کروں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے تمہاری رائے ہی پوچھی ہے۔ تو میں نے عرض کی کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔ میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان، اور سات زمینیں ذکر کی ہیں۔ انسان کو سات سے پیدا کیا گیا ہے اور زمینی نباتات بھی سات قسم کی ہیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے مجھے وہ چیزیں بتائی ہیں جو میں جانتا ہوں۔ مجھے وہ چیز بتاؤ جو میں نہیں جانتا۔ زمینی نباتات سات قسم کی ہیں، اس سے تمہاری کیا مراد ہے؟ میں نے عرض کیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «‏‏‏‏ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا۔۔۔ وَفَاكِهَةً وَأَبًّا» ‏‏‏‏ [ سورة عبس: 31۔ 26 ] ”پھرہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑا۔ پھر ہم نے اس میں اناج اگایا اور انگور اور سبزیاں اور زیتون اور کھجوریں اور گھنے باغات اور میوے اور چارا۔“ اور ”أَبًّ“ سے مراد وہ چارا ہے جو جانور کھاتے ہیں اور انسان نہیں کھاتے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا توکیا تم اس بچّے کی طرح بتانے سے بھی عاجز رہے، جس کی ابھی تک عقل بھی پوری نہیں ہوئی۔ اللہ کی قسم، میری رائے بھی تمہاری رائے کے موافق ہے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حُکم دیا تھا کہ ان صحابہ کرام کے گفتگو کر لینے تک تم بات نہ کرنا اور میں اب تمہیں حُکم دیتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ ہی گفتگو کیا کرو۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2172]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2172، 2173، 2174، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1603، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8650، 8651، وأحمد فى (مسنده) برقم: 86»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2173
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ الأَكَابِرِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَقُولُ: لا تَكَلَّمْ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا. فَسَأَلَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اطْلُبُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ وِتْرًا" ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَ عُمَرَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مجھ سے مشورہ لیا کرتے تھے اور مجھ سے فرماتے تھے کہ جب تک بزرگ صحابہ کرام بات چیت نہ کرلیں تم گفتگونہ کرنا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُن سے شب قدر کے بارے میں پوچھا تو کہا، یقیناً تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“ پھر اُنہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قصّہ بیان کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2173]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2172، 2173، 2174، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1603، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8650، 8651، وأحمد فى (مسنده) برقم: 86»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2174
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ:" الأَبُّ: مِمَّا أَنْبَتَتِ الأَرْضُ مِمَّا لا يَأْكُلُهُ النَّاسُ، وَتَأْكُلُهُ الأَنْعَامُ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا کی مثل مروی ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں ”الأب“ اس گھاس اور چارے کو کہتے ہیں جو چوپائے کھاتے ہیں اور انسان نہیں کھاتے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2174]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2172، 2173، 2174، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1603، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8650، 8651، وأحمد فى (مسنده) برقم: 86»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ شب قدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حُکم ہے۔ گزشتہ وتر راتوں میں تلاش کرنے کا حُکم نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2175
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ذَكَرْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِطَالِبِهَا إِلا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ بَعْدَ حَدِيثٍ سَمِعَتْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي سَمِعَتْهُ، يَقُولُ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، فِي تِسْعٍ بَقِينَ، أَوْ فِي سَبْعٍ بَقِينَ، أَوْ فِي خَمْسٍ بَقِينَ، أَوْ فِي ثَلاثٍ بَقِينَ، أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ" ، فَكَانَ لا يُصَلِّي فِي الْعِشْرِينَ إِلا كَصَلاتِهِ فِي سَائِرِ السَّنَةِ، فَإِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ اجْتَهَدَ
حضرت عبدالرحمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے پاس شب قدر کا تذکرہ کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سننے کے بعد میں تو اسے صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا۔ میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”شبِ قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو جب نو راتیں رہ جائیں یا جب سات باقی رہ جائیں یا پانچ رہ جائیں یا تین باقی رہ جائیں یا آخری رات میں تلاش کرو“ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ پہلی بیس راتوں میں اپنے سارے سال کے معمول کے مطابق نماز پڑھتے تھے، پھر جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو خوب محنت و ریاضت شروع کر دیتے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2175]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2175، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3686، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1604، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3389، والترمذي فى (جامعه) برقم: 794، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20703»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس دلیل کی تفسیر کرنے والی روایت کا بیان جو میں نے بیان کی ہے کہ شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا جائے گا نہ پہلے (دو عشروں کی) طاق راتوں میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2176
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَشْرِ الأَوْسَطِ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ يَتَبَيَّنَ لَهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ، فَنُقِضَ، فَأُبِينَتْ لَهُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُعِيدَ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" إِنَّهَا أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَإِنِّي خَرَجْتُ لأُبَيِّنَهَا لَكُمْ، فَتَلاحَى رَجُلانِ، فَنَسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ" . قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، فَأَيُّ لَيْلَةٍ التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ؟ قَالَ: أَجَلْ، وَنَحْنُ أَحَقُّ بِذَاكَ. إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، فَالَّتِي تَلِيهَا هِيَ التَّاسِعَةُ، ثُمَّ دَعْ لَيْلَةً، ثُمَّ الَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، ثُمَّ دَعْ لَيْلَةً، ثُمَّ الَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ، أَبَا سَعِيدٍ، الَّتِي تُسَمُّونَهَا أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، وَسِتًّا وَعِشْرِينَ، وَاثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا اور آپ شب قدر کو تلاش کر رہے تھے جبکہ ابھی آپ کے لئے معاملے کی وضاحت نہیں ہوئی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمیے اُکھاڑنے کا حُکم دیا تو وہ اُکھاڑ دیئے گئے۔ پھر آپ کے لئے آخری عشرے میں اس کی نشاندہی کی گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا اور خیمے دوبارہ لگا دیئے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”صورت حال یہ ہے کہ مجھے شب قدر کی نشاندہی کی گئی اور میں تمہیں بتانے کے لئے نکلا تو دو آدمی جھگڑ رہے تھے تو مجھے شب قدر بھلادی گئی۔ لہٰذا تم اسے نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔“ جناب ابونضرہ کہتے ہیں، میں نے کہا کہ اے ابوسعید رضی اللہ عنہ بیشک آپ ہم سے زیادہ بہتر طور پر گنتی جانتے ہیں، تو نویں، ساتویں اور پانچویں رات کون سی بنتی ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں، اور ہم ہی اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ جب اکیسویں رات ہو تو اس کے ساتھ والی رات نویں ہے۔ پھر ایک رات چھوڑ دو، پھر اس کے ساتھ والی ساتویں ہے۔ پھر ایک رات چھوڑ دو، تو اس کے بعد والی پانچویں ہے۔ جنہیں تم چوبیس چھبیس اور بائیس کا نام دیتے ہو۔ (انہیں چھوڑ دو)۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2176]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 669، 813، 836، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1167، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 223، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2171، 2176، 2219، 2220، 2238، 2243، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3661، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1038، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1094، وأبو داود فى (سننه) برقم: 894، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1766، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11191»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2177
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ الثَّالِثَةَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مذکورہ بالا کی طرح روایت کی اور تیسری رات کا اضافہ بیان کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2177]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ بقیہ آخری عشرے کی طاق رات کبھی گزشتہ راتوں کے حساب سے بھی طاق ہو جاتی ہے - کیونکہ مہینہ کبھی اُنتیس دنوں کا ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2178
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ ، قَالَ: لَمَّا اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ فِي غَرْفَةٍ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ"
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے (ایک مہینہ کی) علیحدگی اختیار کی۔ تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، آپ بالاخانے میں اُنتیس دن رہے ہیں۔ (ابھی مہینہ مکمّل نہیں ہوا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2178]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 89، 2468، 4913، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1479، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1921، 2178، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3453، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7164، 7953، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2131، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2461، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4153، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13391، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4013، 4014، وأحمد فى (مسنده) برقم: 227»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جو دلیل میں ذکر کی ہے اس کی تفسیر کرنے والی روایت کا بیان کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کو مہینے کے گزر جانے والے دنوں کے حساب سے تئیسویں رات کو تلاش کرنے کا حُکم دیا تھ جبکہ باقی ماندہ دنوں کے اعتبار سے وہ ساتویں رات تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2179
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: ذَكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟" قُلْنَا: مَضَى اثْنَانِ وَعِشْرُونَ، وَبَقِيَ ثَمَانٍ. قَالَ:" لا، بَلْ بَقِيَ سَبْعٌ". قَالُوا: لا، بَلْ بَقِيَ ثَمَانٍ، قَالَ:" لا، بَلْ بَقِيَ سَبْعٌ". قَالُوا: لا، بَلْ بَقِيَ ثَمَانٍ، قَالَ:" لا، بَلْ بَقِيَ سَبْعٌ، الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ". ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ، حَتَّى عَدَّ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، ثُمَّ قَالَ:" الْتَمِسُوهَا اللَّيْلَةَ" . خَبَرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ:" الْتَمِسُوهَا اللَّيْلَةَ"، وَذَلِكَ لَيْلَةَ ثَلاثٍ وَعِشْرِينَ. خَبَرُ أَبِي سَعِيدٍ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَإِنَّ جَبِينَهُ وَأَرْنَبَةَ أَنْفِهِ لَفِي الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ هَذَا الْجِنْسِ ؛ لأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ أَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ رَأَى أَنَّهُ يَسْجُدُ صَبِيحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَكَانَتْ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ الْوِتْرَ مِمَّا مَضَى مِنَ الشَّهْرِ، فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ رَمَضَانُ فِي تِلْكِ السَّنَةِ كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَكَانَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ التَّاسِعَةُ مِمَّا بَقِيَ مِنَ الشَّهْرِ، الْحَادِيَةَ وَالْعِشْرِينَ مِمَّا مَضَى مِنْهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شب قدر کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینے کے کتنے دن گزر گئے ہیں؟“ ہم نے عرض کی کہ بائیس دن گزرگئے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سات دن باقی ہیں۔“ صحابہ نے عرض کی کہ نہیں، بلکہ آٹھ دن باقی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سات دن باقی ہیں، مہینہ اُنتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے۔ پھرآپ نے اپنے دست مبارک سے اُنتیس دن شمار کیے پھر فرمایا: ”شب قدر کو آج رات تلاش کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2179]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2179، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2548، 3450، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1656، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8631، 8632، 8633، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7541، والبزار فى (مسنده) برقم: 9126، 9127، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9695»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں