🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
جو دلیل میں ذکر کی ہے اس کی تفسیر کرنے والی روایت کا بیان کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کو مہینے کے گزر جانے والے دنوں کے حساب سے تئیسویں رات کو تلاش کرنے کا حُکم دیا تھ جبکہ باقی ماندہ دنوں کے اعتبار سے وہ ساتویں رات تھی
حضرت عبداللہ بن انیس کی روایت اسی مسئلے کے متعلق ہے۔ ”شب قدر کو آج رات تلاش کرو، اور یہ تئیسویں رات تھی۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2180]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی اسی مسئلے کے بارے میں ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیسویں رات کی صبح کو دیکھا تو آپ کی پیشانی اور ناک کی نوک پر کیچڑ لگا ہوا تھا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بتایا تھا کہ آپ نے شبِ قدر میں خود کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے تو اکیسویں رات گزر جانے والے مہینے کے دنوں کے اعتبار سے طاق رات تھی۔ ممکن ہے اس سال رمضان المبارک اُنتیس دنوں کا ہو۔ اس طرح وہ رات باقی ماندہ دنوں کے اعتبار سے نویں رات تھی۔ جبکہ گزرجانے والے دنوں کے اعتبار سے اکیسویں رات تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2181]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آخری سات راتوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کے بارے میں نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس روایت کا بیان جس میں اس علت کا ذکر موجود نہیں جس کی بنا پر آپ نے دس دنوں کی بجائے صرف سات دنوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کا حُکم دیا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2182
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَرَوْنَ الرُّؤْيَا، فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ عَلَى السَّبْعِ الأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ يَحْتَمِلُ مَعْنَيَيْنِ , أَحَدُهُمَا: فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا عَلِمَ تَوَاطُؤَ رُؤْيَا الصَّحَابَةِ أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الأَخِيرِ فِي تِلْكَ السَّنَةِ، أَمَرَهُمْ تِلْكَ السَّنَةَ بِتَحَرِّيهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ , وَالْمَعْنَى الثَّانِي: أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَهُمْ بِتَحَرِّيهَا وَطَلَبِهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ إِذَا ضَعُفُوا وَعَجَزُوا عَنْ طَلَبِهَا فِي الْعَشْرِ كُلِّهِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگ خواب دیکھتے تو اُنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں میں متفق ہوگئے ہیں۔ پس جو شخص جستجو اور تلاش کرنا چاہے تو وہ آخری سات راتوں میں شب قدر کو تلاش کرے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت کے دو معنی ہوسکتے ہیں (1) آخری سات راتوں میں تلاش کرنے کے بارے میں ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوگیا کہ ان صحابہ کرام کے خواب اس سال آخری سات راتوں کے بارے میں متفق ہوگئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں اس سال آخری سات راتوں میں شب قدر تلاش کرنے کا حُکم دے دیا۔ (2) دوسرا معنی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں آخری سات راتوں میں شب قدر کی جستجو اور تلاش کا حُکم اُس وقت دیا جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آخری مکمّل دس راتوں میں شب قدر تلاش کرنے سے عاجز آگئے اور اُنہوں نے کمزروی کا اظہار کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2182]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1156، 2015، 6991، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1165، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1141، وابن الجارود فى "المنتقى"، 445، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2182، 2183، 2222، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3675، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1385، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4586»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس حدیث کا بیان جو دوسرے معنی کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کرنے کا حُکم اس وقت دیا جب شب قدر کا متلاشی اسے آخری مکمّل عشرے میں تلاش کرنے سے عاجز اور کمزور ہوگیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2183
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ، أَوْ عَجَزَ، فَلا يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو، پھر اگر تم میں سے کوئی شخص کمزور ہو جائے یا عاجز آجائے تو پھر وہ باقی سات راتوں میں ہر گز مغلوب و لاچار نہ ہو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2183]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1156، 2015، 6991، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1165، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1141، وابن الجارود فى "المنتقى"، 445، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2182، 2183، 2222، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3675، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1385، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4586»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں