🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کرنے والی روایت کی مفسر روایت کا بیان اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ ممانعت اس وقت ہے جب اکیلے جمعہ کے دن کا روزہ رکھا جائے اور اس سے پہلے یا بعد میں روزہ نہ رکھا جائے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2158
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُمَيْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلا وَقَبْلَهُ يَوْمٌ، أَوْ بَعْدَهُ يَوْمٌ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھو اِلاّ یہ کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2158]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1985، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1144، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2158، 2161، 2166، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3614، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1601، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2769، 2770، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2420، والترمذي فى (جامعه) برقم: 743، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1723، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8580، 8581، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8140»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2159
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِيهِ
امام بخاری رحمه الله نے یہ روایت عمر بن حفص کی سند سے بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2159]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، 0»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2160
وَمُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ
امام مسلم رحمه الله نے یہ روایت ابوبکر بن ابی شیبہ اور یحییٰ بن یحییٰ کی سند سے روایت کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2160]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، 0»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ کا دن عید کا دن ہے اور جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت اس کے عید ہونے کی وجہ سے ہے اور جمعہ اور عیدین، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ میں فرق یہ ہے کہ ان دو دنوں میں روزے کی ممانعت اس طرح آئی ہے کہ ان سے ایک دن پہلے یا بعد میں بھی روزہ رکھ کر ان کا روزہ نہیں رکھا جاسکتا (جبکہ جمعہ کا روزہ اس طریقے سے رکھا جاسکتا ہے)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2161
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَوْمُ عِيدٍ، فَلا تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكُمْ يَوْمَ صِيَامِكُمْ، إِلا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو بِشْرٍ هَذَا شَامِيٌّ، لَيْسَ بِأَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ صَاحِبِ شُعْبَةَ، وَهُشَيْمٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ”بیشک جمعہ کا دن عید کا دن ہے۔ لہٰذا تم اپنے عید والے دن روزہ مت رکھو الاّ یہ کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد بھی روزہ رکھو۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ ابوبشر شامی ہے اور یہ ابوبشر جعفر بن ابی حشیہ نہیں ہے جو کہ امام شعبہ اور ہشیم کے ساتھی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2161]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1985، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1144، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2158، 2161، 2166، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3614، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1601، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2769، 2770، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2420، والترمذي فى (جامعه) برقم: 743، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1723، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8580، 8581، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8140»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اکیلے جمعہ کا روزہ رکھنے والے کو دن کا کچھ حصّہ گزر جانے کے بعد روزہ کھولنے کا حُکم دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2162
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ صَائِمَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ:" أَصُمْتِ أَمْسِ؟" قَالَتْ: لا. قَالَ:" فَتَصُومِينَ غَدًا؟" قَالَتْ: لا. قَالَ:" فَأَفْطِرِي" . وَقَالَ هَارُونُ:" أَتُرِيدِينَ الصِّيَامَ غَدًا؟"
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سیدہ جویریہ بنتِ حارثہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے جبکہ اُنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟“ اُنہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا صبح روزہ رکھو گی؟“ اُنہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر روزہ کھول دو۔“ جناب ہارون کی روایت میں ہے کہ ”کیا تم کل صبح روزہ رکھنا چاہتی ہو؟“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2162]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2162، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3611، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2766، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6889، والبزار فى (مسنده) برقم: 2350، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 7804، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9333، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3305»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ایک مجمل غیر مفسر روایت جس کے الفاظ عام ہیں اور مراد خاص ہے، اس کے ذکر کے ساتھ اکیلے ہفتے کے دن کا نفل روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2163
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أُخْتِهِ وَهِيَ الصَّمَّاءُ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ، إِلا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلا عُودَ عِنَبَةٍ، أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهَا"
جناب عبداللہ بن بسر اپنی بہن صماء سے روایت کرتے ہیں کہ اُس نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف ہفتے کے دن کا روزہ نہ رکھو سوائے اس ہفتے کے جو تم پر فرض روزوں میں آجائے اور اگر تم میں سے کسی شخص کو صرف انگور کی ٹہنی یا کسی درخت کی چھال ہی ملے تو وہ اُسے چبالے (اور روزہ کھول دے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2163]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2163، 2164، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3615، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1597، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2421، والترمذي فى (جامعه) برقم: 744، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1790، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1726، 1726 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8585، 8586، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17962»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2164
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّتِهِ الصَّمَّاءِ أُخْتِ بُسْرٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ، وَيَقُولُ:" إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلا عُودًا أَخْضَرَ فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَالَفَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ثَوْرَ بْنَ يَزِيدَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ، فَقَالَ ثَوْرٌ: عَنْ أُخْتِهِ، يُرِيدُ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ مُعَاوِيَةُ: عَنْ عَمَّتِهِ الصَّمَّاءِ أُخْتِ بُسْرٍ، عَمَّةِ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، لا أُخْتَ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
حضرت صماء بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفتے کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی شخص کو صرف سبز ٹہنی ہی ملے تو وہ اسی سے روزہ کھول لے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب معاویہ بن صالح نے اس سند میں ثوربن یزید کی مخالفت کی ہے۔ ثور نے روایت کرتے ہوئے صما ء کو حضرت عبداللہ بن بسر کی بہن قرار دیا ہے۔ جبکہ جناب معاویہ نے حضرت صماء کو بسر کی بہن اور حضرت عبداللہ کی پھوپھی قرار دیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2164]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2163، 2164، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3615، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1597، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2421، والترمذي فى (جامعه) برقم: 744، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1790، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1726، 1726 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8585، 8586، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17962»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں