🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ایام تشریق میں روزے رکھنے کی صریح ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2148
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: دَعَا أَعْرَابِيًّا إِلَى طَعَامِهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي: " يَنْهَى عَنْ صِيَامِ هَذِهِ الأَيَّامِ"
حضرت مطلب سے مروی ہے کہ اُنہوں نے عیدالاضحیٰ کے دن کے بعد ایک اعرابی کو کھانے کی دعوت دی اعرابی کہنے لگا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ تو حضرت مطلب نے فرمایا کہ بیشک میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دنوں کا روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں سوئے سنا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2148]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1994، 6705، 6706، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1139، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2148، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2846، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8348، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2349، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4535»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2149
أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، وَشُعَيْبًا أَخْبَرَاهُمْ، قَالا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عُقَيْلٍ، أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللَّهِ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَذَلِكَ الْغَدَ أَوْ بَعْدَ الْغَدِ مِنْ يَوْمِ الأَضْحَى، فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ عَمْرٌو طَعَامًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : أَفْطِرْ ؛ فَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُ بِفِطْرِهَا، وَيَنْهَى عَنْ صِيَامِهَا" . فَأَفْطَرَ عَبْدُ اللَّهِ، فَأَكَلَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ
حضرت عقیل کے آزاد کردہ غلام ابومرہ سے روایت ہے کہ وہ اور حضرت عبداللہ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عید الاضحٰی کے دوسرے یا تیسرے دن حاضر ہوئے، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اُنہیں کھانا پیش کیا تو حضرت عبداللہ نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا کہ روزہ کھول لو۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں میں روزہ نہ رکھنے کا حُکم دیتے تھے اور ان دنوں کا روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ اس پر حضرت عبداللہ نے روزہ کھول لیا اور کھانا کھالیا اور میں نے بھی اُن کے ساتھ کھانا کھایا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2149]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1395، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2149، 2961، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1594، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2912، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2418، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1808، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8350، 8552، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18045»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عمر بھر روزہ رکھنے کی ممانعت کی علت ذکر کیے بغیر اس کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ مَا صَامَ، وَمَا أَفْطَرَ، أَوْ لا صَامَ وَلا أَفْطَرَ"
جناب مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عمر بھر روزے رکھے اُس نے نہ روزے رکھے اور نہ روزے چھوڑے - یا اُس نے نہ روزے رکھے اور نہ روزے چھوڑے -“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2150]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2150، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3583، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1595، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2379، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1705، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16562»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2151
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فُلانًا لا يُفْطِرُ نَهَارَ الدَّهْرِ، قَالَ:" لا صَامَ، وَلا أَفْطَرَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: النَّهْيُ عَنِ الصَّلاةِ، قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ مَشْهُورٌ، وَأَمَّا فِي الصَّوْمِ، فَقَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ فَهُوَ غَرِيبٌ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ فلاں شخص ہمیشہ دن کو روزہ رکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُس نے روزے رکھے اور نہ روزے چھوڑے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کی سند سے حضرت ابوالعالیہ سے نماز کی ممانعت کے بارے میں روایت مشہور ہے لیکن روزوں کے بارے میں ممانعت کی روایت ان کی سند سے غریب ہے (مشہور نہیں ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2151]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2151، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3582، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1596، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2378، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20139»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس علت کا بیان جس کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمربھر کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2152
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ؟" قُلْتُ: إِنِّي لأَفْعَلُ. قَالَ:" وَلا تَفْعَلْ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنُكَ، وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ حَقًّا، وَلأَهْلِكَ حَقًّا، وَلِعَيْنِكَ حَقًّا، فَنَمْ وَقُمْ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ" ، مَعْنًى وَاحِدًا. هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ. وَلَمْ يَقُلِ الْمَخْزُومِيُّ:" وَلا تَفْعَلْ"
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم ساری رات نفل نماز پڑھتے ہو اور دن کو (روزانہ) روزہ رکھتے ہو؟“ میں نے جواب دیا کہ میں ایسے ہی کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے مت کرو، جب تم ایسے عمل کروگے تو تمہاری آنکھیں کمزور ہوکر دھنس جائیں گی اور تمھارا نفس تھکاوٹ و اکتاہٹ کا شکار ہوجائے گا اور بیشک تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے گھر والوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمھاری آنکھوں کا بھی حق ہے، اس لئے سویا بھی کرو اور نماز بھی پڑھ لیا کرو، روزے بھی رکھو اور ناغہ بھی کیا کرو۔“ یہ جناب عبدالجبار کی حدیث ہے اور جناب مخزومی کی روایت میں ”ایسے مت کرو“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2152]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، 2105، 2106، 2109، 2110، 2121، 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عمر بھر روزے رکھنے کی رخصت جبکہ آدمی ممنوعہ دنوں کے روزے نہ رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصُومُ وَلا أُفْطِرُ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسلسل روزے رکھا کرتا تھا تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، بیشک میں بغیر ناغہ کیے مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے اس روایت کے دیگر طرق ایک اور مقام پر بیان کیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2153]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1121، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1034، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2026، 2153، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1586، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2293، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2403، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8240، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2301، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16283»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عمر بھر روزوں کی فضیلت کا بیان جبکہ ممنوعہ دنوں کے روزے نہ رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنِ الأَشْعَرِيِّ يَعْنِي أَبَا مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا" وَعَقَدَ تِسْعِينَ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے عمر بھر کے روزے رکھے اُس پر جہنّم اس طرح تنگ کر دی جاتی ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کا عدد بناکر انگلی کو گرہ لگا کر دکھائی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2154]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2154، 2155، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3584، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8569، 8570، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20027»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2155
حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الَّذِي يَصُومُ الدَّهْرَ تُضَيَّقُ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ تَضَيُّقَ هَذِهِ" وَعَقَدَ تِسْعِينَ . قَالَ ابْنُ بَزِيعٍ فِي الَّذِي يَصُومُ الدَّهْرَ، وَقَالَ: وَعَقَدَ التِّسْعِينَ. سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى يَقُولُ: اسْمُ أَبِي تَمِيمَةَ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ، سَمِعَهُ مِنْ مَسْلَمَةَ بْنِ الصَّلْتِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَهْضَمٍ الْهُجَيْمِيِّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يُسْنِدْ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ قَتَادَةَ غَيْرُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَأَلْتُ الْمُزَنِيَّ عَنْ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ مَعْنَاهُ، أَيْ: ضُيِّقَتْ عَنْهُ جَهَنَّمُ، فَلا يَدْخُلُ جَهَنَّمَ، وَلا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ غَيْرَ هَذَا ؛ لأَنَّ مَنِ ازْدَادَ لِلَّهِ عَمَلا، وَطَاعَةً، ازْدَادَ عِنْدَ اللَّهِ رِفْعَةً، وَعَلَيْهِ كَرَامَةً، وَإِلَيْهِ قُرْبَةً. هَذَا مَعْنَى جَوَابِ الْمُزَنِيِّ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جو زمانہ بھر ہمیشہ روزہ رکھتا ہے تو اُس پر جہنّم اس طرح تنگ کردی جاتی ہے جس طرح یہ تنگ ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کا عدد بناتے ہوئے اُنگلیوں میں گرہ لگائی۔“ جناب ابن بزیع کی روایت میں ہے کہ اس شخص کے بارے میں جو زمانہ بھر روزے رکھتا ہے۔ اور کہا کہ نوے کی گرہ لگا کر دکھائی۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ میں نے ابوموسیٰ سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ ابوتمیمہ کا نام طریف بن مجالد ہے اور اس نے مسلمہ بن صلت اور جہضم الہجیمی سے روایات سنی ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت کو قتادہ سے صرف ابن ابی عدی نے سعید کے واسطے سے مسند بیان کیا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے امام مزنی رحمه الله سے اس حدیث کا معنی پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا کہ ممکن ہے اس کا معنی یہ ہو کہ اس شخص سے جہنّم تنگ کر دی جائے گی لہٰذا وہ جہنّم میں داخل نہیں ہوگا اور اس کے علاوہ اس کا کوئی معنی نہیں ہو سکتا کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے زیادہ عمل کرتا ہے اور اطاعت و فرمانبرداری میں آگے بڑھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقام و مرتبہ، عزّت وکرامت اور قرب میں بھی زیادہ ہوگا۔ یہ امام مزنی رحمه الله کے جواب کا معنی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2155]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2154، 2155، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3584، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8569، 8570، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20027»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2156
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ جَشِيبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ زُرْعَةَ بْنَ ثَوْبٍ ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، فَقَالَ:" كُنَّا نَعُدُّ أُولَئِكَ فِينَا مِنَ السَّابِقِينَ. قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ يَوْمٍ، وَفِطْرِ يَوْمٍ؟ فَقَالَ:" لَمْ يَدَعْ ذَلِكَ لِصَائِمٍ مَصَامًا"، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قَالَ:" صَامَ ذَلِكَ الدَّهْرَ وَأَفْطَرَهُ"
جناب زرعہ بن ثوب بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عمر بھر کے روزوں کے متعلق پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ہم ایسے لوگوں کو ہم میں سے نیک اعمال میں سبقت لے جانے والے شمار کرتے تھے۔ کہتے ہیں تو میں نے اُن سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن ناغہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا کہ اس نے روزے دار کے لئے کوئی روزہ چھوڑا ہی نہیں (گویا سارے ہی رکھ لیے ہیں) اور میں نے اُن سے ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے کہا کہ اس شخص نے عمر پھر روزے رکھ لئے اور ناغہ بھی کرلیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2156]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2156، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8574»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کے بارے میں مروی مجمل غیر مفسر روایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2157
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو الْقَارِئ ، يَقُولُ: أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ:" وَرَبِّ الْكَعْبَةِ مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ نَهَى عَنْهَا" . قَالَ سَعِيدٌ: عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِئِ، وَلَمْ يَقُلْ: وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ
جناب عبداللہ بن عمرو القاری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ رب کعبہ کی قسم، جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے میں نے منع نہیں کیا۔ رب کعبہ کی قسم، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ جناب سعید نے بھی یہ روایت یحییٰ بن جعدہ کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عمرو القاری سے بیان کی ہے۔ مگر یہ لفظ بیان نہیں کیے کہ جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2157]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2157، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3609، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2757، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1702، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7505، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1047»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں