🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب الصَّيْدِ بِالْكِلاَبِ الْمُعَلَّمَةِ:
باب: سدہائے ہوئے کتوں سے شکار کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1929 ترقیم شاملہ: -- 4982
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ، قَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَ فَكُلْ، إِلَّا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ ".
عبداللہ بن مبارک نے کہا: ہمیں عاصم نے شعبی سے خبر دی، انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنا (شکاری) کتا چھوڑے، تو اللہ کا نام لے (کر چھوڑ) پھر اگر وہ تیرے شکار کو روک لے اور تو اس کو زندہ پائے، تو اس کو ذبح کر اور اگر مار ڈالے اور کھائے نہیں، تو تو اس کو کھا لے اور اگر تیرے کتے کے ساتھ دوسرا کتا ملے اور جانور مارا جا چکا ہو، تو اس کو مت کھا کیونکہ معلوم نہیں کس نے اس کو مارا۔ اور جو تو اللہ کا نام لے کر تیر مارے پھر اگر تیرا شکار (تیر کھا کر) ایک دن تک غائب رہے، اس کے بعد تو اس میں اپنے تیر کے سوا اور کسی مار کا نشان نہ پائے، تو اگر تیرا جی چاہے تو اسے کھا لے اور اگر تو اس کو پانی میں ڈوبا ہوا پائے تو مت کھا کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ وہ پانی سے مرا ہے یا تمہارے تیر سے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4982]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا تیر پھینکو تو اللہ کا نام لو، پھر اگر اسے قتل کیا ہوا پاؤ، تو کھا لو، الا یہ اسے پانی میں گرا ہوا پاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں، اسے پانی نے قتل کیا ہے یا تیر نے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4982]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1929
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1930 ترقیم شاملہ: -- 4983
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ أَوْ بِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ: " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ ".
ابن مبارک نے حیوہ بن شریح سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ربیعہ بن یزید دمشقی کو کہتے ہوئے سنا: مجھے ابوادریس عائذ اللہ نے خبر دی، کہا: میں نے حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب (یعنی یہود یا نصاریٰ) کے ملک میں رہتے ہیں، ان کے برتنوں میں کھانا کھاتے ہیں اور ہمارا ملک شکار کا ملک ہے، تو میں اپنی کمان سے، سکھائے ہوئے کتے اور اس کتے سے شکار کرتا ہوں جو سکھایا نہیں گیا، تو مجھ سے وہ طریقہ بیان کیجیے جو کہ حلال ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے جو کہا کہ اہل کتاب کے ملک میں ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں تو اگر تم کو اور برتن مل سکیں، تو ان کے برتنوں میں مت کھاؤ اور اگر اور برتن نہ ملیں تو ان کو دھو لو اور پھر ان میں کھاؤ۔ اور جو تو نے ذکر کیا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو پس جس کو تیر پہنچے اور تو اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑے، تو اسے کھا لے اور اگر تو اپنے شکاری کتے سے شکار کرے اور اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو تو کھا لے اور اگر ایسے کتے کا شکار ہو جو شکاری نہ ہو اور تو اسے زندہ پالے تو ذبح کر کے کھا لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4983]
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا، اے اللہ کے رسول! ہم ایسی سرزمین میں ہیں، جہاں اہل کتاب رہتے ہیں، ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور شکاری زمین ہے، میں اپنی کمان سے شکار کرتا ہوں اور اپنے سدھائے ہوئے کتے سے شکار کرتا ہوں اور اپنے ایسے کتے سے شکار کرتا ہوں، جو سدھایا ہوا نہیں، تو مجھے بتائیے اس میں سے کون سی چیز ہمارے لیے حلال ہے؟ آپ نے فرمایا:تم نے جو یہ بیان کیا ہے کہ تم ایک اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہو، ان کے برتنوں میں کھاتے ہو، تو اگر ان کے برتنوں کے علاوہ میسر ہوں تو ان میں نہ کھاؤ اور اگر نہ ملیں تو ان کو دھو لو، پھر ان میں کھا لو اور جو تم نے یہ بیان کیا ہے کہ تم شکار والی زمین میں ہو، تو جو شکار اپنی کمان سے اللہ کا نام لے کر کرو، تو کھا لو اور جو شکار اپنے سدھائے ہوئے کتے سے کرو، تو اس پر اللہ کا نام لو پھر کھا لو اور جو اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے سے کرو اور اسے ذبح کر سکو، تو کھا لو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4983]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1930
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1930 ترقیم شاملہ: -- 4984
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ كِلَاهُمَا، عَنْ حَيْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ وَهْبٍ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ صَيْدَ الْقَوْسِ.
زہیر بن وہب اور مقری دونوں نے حیوہ سے اسی سند کے ساتھ ابن مبارک کی حدیث کی طرح روایت کی، البتہ ابن وہب نے اپنی روایت میں کمان کے شکار کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4984]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں، مگر ابن وھب کی حدیث میں کمان کے شکار کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4984]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1930
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب إِذَا غَابَ عَنْهُ الصَّيْدُ ثُمَّ وَجَدَهُ:
باب: شکار کے غائب ہونے کے بعد پھر مل جانے کے حکم کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1931 ترقیم شاملہ: -- 4985
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَغَابَ عَنْكَ فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ ".
ابوعبداللہ حماد بن خالد خیاط نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے عبدالرحمان بن جبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: جب تم (شکار پر) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ تم سے غائب ہو جائے، پھر تم کو مل جائے تو کھا لو جب تک بدبودار نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4985]
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم اپنا تیر (شکار پر) پھینکو اور شکار تم سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اس کو پا لو، تو اسے کھا لو، بشرطیکہ وہ بدبودار نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4985]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1931
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1931 ترقیم شاملہ: -- 4986
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ ".
معن بن عیسیٰ نے کہا: مجھے معاویہ نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں، جسے تین دن کے بعد اپنا شکار ملے، روایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک بدبودار نہ ہو اسے کھا سکتے ہو۔ (سخت ٹھنڈے علاقوں میں دیر تک صحیح سلامت رہے گا۔) [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4986]
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شکاری کے بارے میں بیان کرتے ہیں، جو اپنے شکار کو تین دن کے بعد پا لیتا ہے، اس کو کھا لے بشرطیکہ اس میں بدبو نہ پیدا ہو چکی ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4986]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1931
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1931 ترقیم شاملہ: -- 4987
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فِي الصَّيْدِ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَأَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ الْعَلَاءِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ نُتُونَتَهُ، وَقَالَ فِي الْكَلْبِ: كُلْهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ إِلَّا أَنْ يُنْتِنَ فَدَعْهُ.
محمد بن حاتم نے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن مہدی نے معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے علاء سے، انہوں نے مکحول سے، انہوں نے ابوثعلبہ بن خشنی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں اپنی حدیث بیان کی، پھر ابن حاتم رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں ابن مہدی نے معاویہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمان بن جبیر اور ابوزاہریہ سے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے، انہوں نے ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے علاء کی حدیث کے مانند روایت کی، اور اس کی بدبو کا ذکر نہیں کیا اور کتے (کے شکار) کے بارے میں فرمایا: تین دن کے بعد بھی اس کو کھا سکتے ہو، لیکن اگر اس سے بدبو آئے تو اس کو چھوڑ دو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4987]
امام صاحب اپنے استاد محمد بن حاتم سے ابو ثعلبہ کی شکار کے بارے میں حدیث بیان کرتے ہیں،۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4987]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1931
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ:
باب: ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجہ سے کھانے والے پرندے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1932 ترقیم شاملہ: -- 4988
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، قَالَ: " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ "، زَادَ إِسْحَاقُ، وَابْنُ أَبِي عُمَر َ، فِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا حَتَّى قَدِمْنَا الشَّامَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان بن عینیہ نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوادریس سے، انہوں نے ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلیوں (نوک دار دانت) والے ہر درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے، اسحاق اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا۔ زہری نے کہا: شام میں آنے تک ہم نے یہ حدیث نہیں سنی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4988]
حضرت ابو ثعلبہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا، اسحاق اور ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں زہری کا قول نقل کیا ہے، کہ ہم نے یہ حدیث شام میں آ کر سنی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4988]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1932 ترقیم شاملہ: -- 4989
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ عُلَمَائِنَا بِالْحِجَازِ، حَتَّى حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ وَكَانَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الشَّامِ.
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوادریس خولانی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔ ابن شہاب زہری نے کہا: ہم نے حجاز میں اپنے علماء سے یہ حدیث نہیں سنی تھی۔ یہاں تک کہ ابوادریس نے، جو شام کے فقہاء میں سے ہیں، مجھے یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4989]
حضرت ابو ثعلبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندہ کے کھانے سے منع فرمایا۔ ابن شہاب کہتے ہیں میں نے اپنے علماء سے حجاز میں یہ روایت نہیں سنی یہاں تک ابو ادریس نے یہ روایت سنائی اور وہ شامی فقہاء میں سے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4989]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1932 ترقیم شاملہ: -- 4990
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ".
عمرو بن حارث نے کہا کہ ابن شہاب نے انہیں ابوادریس خولانی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4990]
ابو ثعلبہ خشنی بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندہ کے کھانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4990]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1932 ترقیم شاملہ: -- 4991
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُهُمْ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَر . ٍ ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ . ح وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ، وَعَمْرٍ وَكُلُّهُمْ ذَكَرَ الْأَكْلَ، إِلَّا صَالِحًا، وَيُوسُفَ، فَإِنَّ حَدِيثَهُمَا نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ.
امام مالک رحمہ اللہ بن انس، ابن ابی ذئب، عمرو بن حارث، یونس بن یزید وغیرہ نے اور معمر، یوسف بن ماجثون اور صالح سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس اور عمرو کی حدیث کی مانند روایت کی۔ سب نے کھانے کا ذکر کیا ہے۔ سوائے صالح اور یوسف کے۔ ان دونوں کی حدیث یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے (کو کھانے) سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4991]
امام صاحب نے اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے، زہری ہی کی مذکورہ بالا سند سے یہی روایت بیان کی ہے، صالح اور یوسف کے سوا سب نے کھانے کا ذکر کیا ہے، مگر ان دونوں کی حدیث میں ہے، ہر کچلی والے درندہ سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4991]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں