🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ:
باب: بستی کے گدھوں کا گوشت حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1938 ترقیم شاملہ: -- 5012
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يقولان: " أَصَبْنَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْفَئُوا الْقُدُورَ ".
عدی بن ثابت نے کہا: میں نے حضرت براء اور حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا، دونوں کہتے تھے کہ ہم نے گدھے پکڑے۔ ان کو پکانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کر دیا کہ (ان) ہانڈیوں کو الٹ دو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5012]
حضرت براء اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، ہم نے گدھے پکڑ کر انہیں پکایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کر دیا، ہنڈیاں الٹ دو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5012]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1938 ترقیم شاملہ: -- 5013
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ الْبَرَاءُ : " أَصَبْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرًا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ ".
ابواسحاق نے کہا: حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کے دن ہم نے گدھے پکڑ لیے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کر دیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5013]
حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے خیبر کے دن گدھے پکڑے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کر دیا، ہانڈیاں الٹ دو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5013]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1938 ترقیم شاملہ: -- 5014
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: " نُهِينَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّة ".
ثابت بن عبید نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں پالتو گدھوں کے گوشت (کھانے) سے منع کر دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5014]
حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ہمیں گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5014]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1938 ترقیم شاملہ: -- 5015
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُلْقِيَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ نِيئَةً وَنَضِيجَةً ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِأَكْلِهِ ".
جریر نے عاصم سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے براء بن عاذب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پالتو گدھوں کا گوشت پھینک دیں، کچا ہو یا پکا ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہمیں ان کو کھانے کی اجازت نہیں دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5015]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گدھوں کے کچے اور پکے گوشت کو پھینکنے کا حکم دیا، پھر ہمیں اس کے کھانے کا حکم نہیں دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5015]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1938 ترقیم شاملہ: -- 5016
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
حفص بن غیاث نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5016]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5016]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1939 ترقیم شاملہ: -- 5017
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَا أَدْرِي إِنَّمَا " نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: مجھے پتہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (پالتو گدھوں کا گوشت کھانے) سے اس بنا پر منع فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کے بوجھ اٹھانے والے ہیں اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا بوجھ اٹھانے کا ذریعہ ختم ہو جائے یا آپ نے (ویسے ہی) جنگ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دیا۔ (یعنی ایسی کسی خاص مناسبت کے بغیر، جب دیکھا کہ لوگ اسے کھانا چاہتے ہیں تو اس کی حرمت کا اعلان کر دیا۔) [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5017]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، مجھے معلوم نہیں، (میرے خیال میں یا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس لیے ان سے روکا تھا، کیونکہ وہ لوگوں کا بوجھ اٹھاتے تھے، آپ نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ ان کے بار برداری کے جانور ختم ہو جائیں گے، یا خیبر کے دن آپ نے گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5017]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1802 ترقیم شاملہ: -- 5018
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْماعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ الْيَوْمَ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ؟ "، قَالُوا: عَلَى لَحْمٍ، قَالَ: " عَلَى أَيِّ لَحْمٍ؟ "، قَالُوا: عَلَى لَحْمِ حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا "، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا، قَالَ: أَوْ ذَاكَ.
حاتم بن اسماعیل نے یزید بن ابی عبید سے، انہوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے دن نکلے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے خیبر فتح کر دیا۔ جس دن فتح ہوئی اس کی شام کو لوگوں نے بہت آگ جلائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیسی آگ (جل رہی) ہے؟ تم کس چیز پر (کیا پکانے کے لیے) آگ جلا رہے ہو؟ لوگوں نے کہا: گوشت پر۔ آپ نے پوچھا: کون سے گوشت پر؟ لوگوں نے کہا: پالتو گدھوں کے گوشت پر۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہانڈیاں الٹ دو اور ان کو توڑ دو۔ ایک شخص نے عرض کی: (آپ اجازت دیں تو) ہم ہانڈیاں انڈیل دیں اور انہیں دھو لیں؟ آپ نے فرمایا: یا اس طرح کر لو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5018]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے لیے نکلے، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مسلمانوں کے لیے فتح کر دیا، جب فتح کے دن کی شام ہوئی تو لوگوں نے بہت سی آگیں روشن کیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، یہ آگیں کیسی ہیں، کس لیے انہیں جلایا گیا ہے؟ لوگوں نے کہا، گوشت کی خاطر، آپ نے فرمایا: کس گوشت کے لیے؟ لوگوں نے کہا، پالتو گدھوں کے گوشت کی خاطر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں بہا دو اور انہیں توڑ دو۔ ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یا انہیں بہا دیں اور انہیں دھو لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا ایسے کر لو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5018]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1802
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1802 ترقیم شاملہ: -- 5019
حماد بن مسعدہ، صفوان بن عیسیٰ اور ابوعاصم نبیل سب نے یزید بن ابی عبید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5019]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے، یزید بن ابی عبید کی مذکورہ بالا سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5019]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1802
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1940 ترقیم شاملہ: -- 5020
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ، فَطَبَخْنَا مِنْهَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَلَا إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْهَا، فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ، فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِمَا فِيهَا ".
ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا تو ہم نے بستی سے باہر نکلنے والے گدھے پکڑ لیے اور ان کا گوشت پکانے لگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کر دیا: سنو! اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ان (گدھوں کا گوشت پکانے، کھانے) سے منع کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ نجس ہے اور شیطان کا عمل ہے۔ پھر ہانڈیوں کو گوشت سمیت الٹ دیا گیا جبکہ وہ اس کے ساتھ ابل رہی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5020]
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا، ہم نے بستی سے نکلتے ہوئے گدھے پکڑ لیے اور ان میں سے کچھ کو پکانا شروع کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا، خبردار! اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ان سے منع کرتے ہیں، کیونکہ یہ پلید شیطانی کام ہے، تو ہانڈیوں کے اندر جو کچھ تھا، الٹ دیا گیا اور وہ اس سے جوش مار رہی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5020]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1940
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1940 ترقیم شاملہ: -- 5021
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ جَاءَ جَاءٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُكِلَتِ الْحُمُرُ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَلْحَةَ، فَنَادَى " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ أَوْ نَجِسٌ، قَالَ: فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا ".
ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جس دن خیبر کی جنگ ہوئی ایک آنے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اللہ کے رسول! گدھے کھا لیے گئے، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور کہا: اللہ کے رسول! گدھے ختم کر دیے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تم کو پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ پلید ہیں یا (فرمایا) ناپاک ہیں۔ کہا: پھر ہانڈیاں اس سب کچھ سمیت جو ان میں تھا الٹ دی گئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5021]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب خیبر فتح ہوا، تو آپ کے پاس ایک آدنے والا آیا اور کہنے لگا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گدھے (سب) کھا لیے گئے، پھر دوسرا آ کر کہنے لگا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گدھے ختم کر ڈالے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اعلان کیا، اللہ اور اس کا رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے روکتے ہیں، کیونکہ وہ گندے یا پلید ہیں، تو ہانڈیوں کو جو کچھ ان میں تھا، اس سمیت الٹ دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5021]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1940
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں