🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1592. ‏(‏37‏)‏ بَابُ إِسْقَاطِ فَرْضِ الزَّكَاةِ عَمَّا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ
پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2293
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الورق/حدیث: 2293]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1405، 1447، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 979، ومالك فى (الموطأ) برقم: 832، وابن الجارود فى "المنتقى"، 375، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2263، 2293، 2294، 2295، 2301، 2302، 2303، 2305، 2310، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3268، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2444، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1558، والترمذي فى (جامعه) برقم: 626، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1793، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7343، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1899، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11187»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2294
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے اور پانچ سے کم اونٹوں میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے اور نہ پانچ وسق سے کم اناج میں زکوٰة ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الورق/حدیث: 2294]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1405، 1447، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 979، ومالك فى (الموطأ) برقم: 832، وابن الجارود فى "المنتقى"، 375، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2263، 2293، 2294، 2295، 2301، 2302، 2303، 2305، 2310، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3268، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2444، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1558، والترمذي فى (جامعه) برقم: 626، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1793، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7343، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1899، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11187»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1593. ‏(‏38‏)‏ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى ‏[‏أَنَّ‏]‏ الْخَمْسَةَ الْأَوَاقِ هِيَ مِائَتَا دِرْهَمٍ‏.‏
اس بات کی دلیل کا بیان کہ پانچ اوقیہ چاندی دو سو درہم ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2295
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَازِنِيُّ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَالأَوَاقُ مِائَتَا دِرْهَمٍ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلّے میں زکوٰۃ نہیں ہے اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ ہے اور (پانچ) اوقیہ دو سو درہم ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الورق/حدیث: 2295]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1405، 1447، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 979، ومالك فى (الموطأ) برقم: 832، وابن الجارود فى "المنتقى"، 375، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2263، 2293، 2294، 2295، 2301، 2302، 2303، 2305، 2310، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3268، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2444، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1558، والترمذي فى (جامعه) برقم: 626، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1793، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7343، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1899، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11187»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1594. ‏(‏39‏)‏ بَابُ ذِكْرِ مَبْلَغِ الزَّكَاةِ فِي الْوَرِقِ إِذَا بَلَغَ خَمْسَ أَوَاقٍ
جب چاندی پانچ اوقیہ ہوجائے تو اس میں زکوٰۃ کی مقدار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2296
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ حِينَ اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ"، فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ، وَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: " وَفِي الرِّقَّةِ رُبْعُ الْعُشْرِ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلا تِسْعِينَ وَمِائَةً، فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ، إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا" ، وَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَالٌ إِلا تِسْعِينَ وَمِائَةً
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقررہوئے تو انہوں نے میرے لئے یہ تحریر لکھوائی، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ یہ زکوٰۃ کے وہ فرائض ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیے ہیں اور جن کا حُکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا ہے۔ پھر راویوں نے مکمّل حدیث بیان کی اور یہ الفاظ روایت کیے چاندی میں چالیسواں حصّہ زکوٰۃ واجب ہے لیکن اگر صرف ایک سونوے درہم ہوں تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے الاّ یہ کہ چاندی کا مالک اپنی خوشی سے کچھ ادا کردے۔ جناب ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ اگر مال صرف ایک سونوے درہم ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الورق/حدیث: 2296]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1448، 1450، 1451، وابن الجارود فى "المنتقى"، 377، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2261، 2273، 2279، 2281، 2296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3266، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1445، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2446، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1567، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1800، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7346، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1984، 1985، وأحمد فى (مسنده) برقم: 73»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1595. ‏(‏40‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ الزَّكَاةَ وَاجِبَةٌ عَلَى مَا زَادَ عَلَى الْمِائَتَيْنِ مِنَ الْوَرِقِ
اس بات کا بیان کہ دو سو درہم سے زائد چاندی پر بھی زکوٰۃ واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2297
ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الزَّكَاةَ غَيْرُ وَاجِبَةٍ عَلَى مَا زَادَ عَلَى الْمِائَتَيْ دِرْهَمٍ حَتَّى تَبْلُغَ الزِّيَادَةُ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا‏.‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2297
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَاتُوا رُبْعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمِائَتَيْنِ شَيْءٌ، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، فَمَا زَادَ فَعَلَى ذَلِكِ الْحِسَابِ"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چالیس درہموں میں سے ایک درہم زکوٰۃ ادا کرو اور دو سو سے کم درہموں میں زکوٰۃ نہیں ہے پھر جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان میں پانچ درہم زکوٰۃ ہے اور جو اس سے زائد ہو تو اس پر بھی اسی حساب سے (چالیسواں حصّہ) زکوٰۃ واجب ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الورق/حدیث: 2297]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2262، 2270، 2284، 2297، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1458، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2476، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1572، والترمذي فى (جامعه) برقم: 620، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1790، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7360، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1892، وأحمد فى (مسنده) برقم: 722»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1596. ‏(‏41‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الزَّكَاةَ غَيْرُ وَاجِبَةٍ عَلَى الْحُلِيِّ، إِذِ اسْمُ الْوَرِقِ فِي لُغَةِ الْعَرَبِ الَّذِينَ خُوطِبْنَا بِلُغَتِهِمْ لَا يَقَعُ – عِلْمِي- عَلَى الْحُلِيِّ الَّذِي هُوَ مَتَاعٌ مَلْبُوسٌ‏.‏
اس بات کی دلیل کا بیان کہ چاندی کے زیورات میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے کیونکہ لغت عرب میں ورق (چاندی) کا اطلاق پہننے والے زیورات پر نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2298
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِيهِ عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح قَالَ: وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ" ، الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ،
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الورق/حدیث: 2298]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 980، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2298، 2299، 2304، 2305، 2306، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1457، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1794، 1833، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7516، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1901، 1906، 1922، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14379»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2299
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يُونُسُ:" يَعْنِي لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْحَدِيثُ فِي كِتَابِ ابْنِ وَهْبٍ فِي عَقِبِ خَبَرِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِي خَبَرِ عِيَاضٍ مِثْلَهُ يَعْنِي مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ سے کم اونٹوں میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم کھجوروں میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔ ابوبکر ابن خزیمہ کہتے ہیں یہ حدیث ابن وہب کی کتاب میں مالك عن محمد۔۔۔ عن ابي سعيد عن النبي کے بعد ہے۔ عیاض والی حدیث بھی ابوسعید کی حدیث کے مثل ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الورق/حدیث: 2299]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 980، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2298، 2299، 2304، 2305، 2306، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1457، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1794، 1833، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7516، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1901، 1906، 1922، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14379»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں